Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 11
وہ تقریب کے بعد عباس کے کہنے پہ کمرے میں آ چکی تھی کھانا اس نے عباس کے ساتھ ہی کھایا تھا ہنوز سجے سنورے روپ میں بیڈ پہ بیٹھی وہ عباس کا انتظار کر رہی تھی بس دل کر رہا تھا عباس جلدی سے کمرے میں آ جائے تا کہ وہ اسے جلد از جلد خوشخبری دے
تھکاوٹ کے باعث بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کر ٹانگے دراز کیے وہ آنکھیں موندے بیٹھ گئی جب اسے نورے کی نم آنکھیں بند آنکھوں کو کھولنے پر مجبور کر گئی تھوڑی دیر پہلے اسے تقریب میں نورے نظر آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کا درد دیکھ کر حُرّہ نے بے چینی سے پہلو بدلہ تھا اور آنکھیں وا کر لیں
اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور عباس بازو پر کوٹ لٹکائے کمرے میں داخل ہوا دروازہ لاکڈ کر کے اس نے ایک مسکراتی نگاہ حُرّہ کے دلکش سجے سنورے وجود پر ڈالی اور کوٹ صوفے پر رکھا اور حُرّہ کی سمت بڑھا
” تھینک یو ۔۔ !”
حُرّہ کے قریب بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے عباس نے اس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑا
” فار وٹ ۔۔؟”
حُرّہ نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا
” میرا ویٹ کرنے کے لیے ۔۔ ورنہ میں سمجھ رہا تھا کہ آپ کافی تھکی ہوئی لگ رہیں تھیں تو چینج کر کے ریسٹ کر رہی ہوں گی ۔۔ “
عباس نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک ڈبی نکالتے ہوئے حُرّہ کو جواب دیا اور
ڈبی میں سے ایک خوبصورت سی چین نکال کر حُرّہ کی گردن میں پہلے سے موجود نیکلس اتار کر وہ چین حُرّہ کی نازک و خوبصورت گردن میں پہنائی
” یہ منہ دکھائی ہے آپ کی ۔۔ اسے ہمیشہ پہنے رکھیے گا یہ تو ہوا محض ایک تحفہ مگر ہاں ایک اہم بات جو میں آپ کو آج کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حُرّہ میں بہت بڑے بڑے دعوے نہیں کروں گا مگر میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں ہمیشہ ہر حال میں آپ کا ساتھ دوں گا ۔۔ میری ذات کبھی آپ کی تکلیف کا باعث نہیں بنے گی ۔۔ “
عباس حُرّہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر مضبوط انداز میں بولا تھا اس کی آنکھیں اس کی بات کی سچائی کی عکاسی کر رہیں تھی
حُرّہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری اور تشکر بھری نگاہوں سے عباس کو دیکھنے لگی وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ کیا وہ واقعی اتنی خوش قسمت ہو سکتی ہے جو ایسے شخص کی بیوی ہے جو اس قدر بلند ظرف رکھتا تھا کہ سب کی مخالفت کے باوجود اپنی بہن کے خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کے تمام حقوق پورے کر رہا تھا اور ہمیشہ اس کے ساتھ کس قدر حسن سلوک کا مظاہرہ کرتا تھا
نورے نے ٹھیک کہا تھا بیشک وہ بہت بڑی آزمائشوں سے گزر رہی ہے مگر عباس اس کی ہر آزمائش کا مداوا تھا خزاں میں بہار کی طرح تھا زندگی میں اتنے دکھوں کے بعد جہاں عباس کی صورت میں یہ خوشیاں ملیں تھیں تو وہ کیوں کر کفران نعمت کرتی عباس جیسے جیون ساتھی کو پا کر کیوں کر وہ اس سے منہ موڑ سکتی تھی جو ساری دنیا حتٰی کہ اپنے ماں باپ سے بھی اس کے حق کی خاطر لڑ رہا تھا
اگر اس معاملے میں نورے اسے خود غرض بھی کہتی تو وہ خاموشی سے یہ الزام برداشت کر لیتی مگر عباس کو کبھی نہیں چھوڑ سکتی تھی چاہے کیسے بھی حالات کا سامنا اسے کرنا پڑتا مگر اس مہربان کے سائے سے دور نہیں جائے گی
” کیا سوچ رہیں ہیں جانم ۔۔؟ کیا ذیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں آج ۔۔ ؟”
حُرّہ کو بے خودی سے اپنی جانب تکتا پا کر عباس نے آنکھوں میں شرارت لیے پوچھا تو اس کی آواز پر حُرّہ یکدم چونکی مزید عباس کی بات نے اسے سر جھکانے پر مجبور کر دیا
” چلیں میں ہی کہہ دیتا ہوں ۔۔ آپ اتنی پیاری لگ رہیں ہیں کہ بس نہیں چل رہا خود پہ کہ روکوں خود کو ۔۔”
حُرّہ کا دلکش سراپا عباس کو بار بار بہکا رہا تھا اور اس کی قربت پر مچل رہا تھا تبھی گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے عباس نے ذومعنی انداز میں کہا اور حُرّہ کے چہرے پر جھکا اس سے پہلے وہ کوئی شرارت کرتا حُرّہ نے گھبرا کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھا
” وو وہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔ !”
حُرّہ چہرہ موڑے بولی جبکہ دونوں ہاتھ ہنوز عباس کے سینے پر تھے
” جی بولیں ۔۔؟”
عباس نے اس کی جھکی پلکوں کو تکتے ہوئے کہا
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک تہیہ دل میں کرتی اس نے عباس کو دیکھا جو اسی کے بولنے کا منتظر تھا
” وہ مجھے اا ایک بات پوچھنی ہے آپ سے ۔۔ ؟”
عباس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ مدھم آواز میں بولی انداز میں خوف تھا جیسے اگر عباس کا جواب اس کے دل کی دعا سے برعکس ہوا تو کیا وہ واقعی خوش قسمت ہوتی یا پھر
” جی جی جان پوچھیں ۔۔؟”
پہلی بار خود سے حُرّہ اس سے کچھ پوچھنا چاہتی تھی پھر وہ کیوں کر انکار کر سکتا تھا فوراً اس کو اجازت دیتا اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا
” وو وہ آپ اور نورے ۔۔ ۔۔۔ میرا مطلب نورے کے ساتھ آپ کا رشتہ !! ۔۔ مم مجھے لگتا ہے میں نے ان کی جگہ لے لی ہے ۔۔!”
حُرّہ نے آنکھیں اور سر جھکاتے ہوئے ندامت سے کہا تو اس کی بات سن کر عباس نے ایک گہرا سانس لیا یہ وہ معاملہ تھا جس کے بارے میں اگر عباس سوچتا تھا تو اس کی سوچیں مفلوج ہو جاتیں تھی وہ جانتا تھا نورے محبت کی راہ کی مسافر تھی اور اس میں اس کا قصور نہیں تھا وہ بچپن سے اس کے نام کے ساتھ جڑا ہوا تھا
عباس کی خاموشی پر حُرّہ نے سر اٹھا کر اس کا بے تاثر چہرہ دیکھا تو خودبخود اس کی آنکھیں بھیگنے لگی حُرّہ کے سسکنے پر عباس چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا
” حُرّہ میری جان ۔۔ میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں ۔۔ نورے اور میرے درمیان محرم رشتہ نہیں ہے ۔۔ اس لیے آپ یقین کریں میں نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سوچا ۔۔ ہاں میرا شریعی رشتہ آپ کے ساتھ ہے ۔۔ اس لیے میں آپ کے بارے میں سوچتا ہوں ۔۔ آپ بے فکر ہو جائیں نورے کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں ہوگی ۔۔ مگر آپ پلیز اس میں خود کو بلیم نہیں کریں کیونکہ کوئی کسی کی جگہ نہیں لے سکتا ۔۔ اور میں نے سمجھایا تھا نا آپ کو کہ یہ سب تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں ۔۔ کون کس کے نصیب میں آتا ہے یہ خدا کا فیصلہ ہے ۔۔ سو پلیز آئندہ آپ اس بارے میں بات مت کیجئے گا ۔۔ “
وہ حُرّہ کے دونوں ہاتھوں پر دباؤ ڈالتا نرمی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا سمجھا رہا تھا مگر آخر میں اس کا انداز تنبہی تھا جسے حُرّہ باخوبی سمجھ گئی کہ وہ آئندہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا
“جج جی ۔۔!”
حُرّہ نے سر ہلاتے ہوئے یک لفظی جواب دیا
” کیا ہوا کچھ اور بھی کہنا چاہتی ہیں ۔۔؟”
حُرّہ کو دوبارہ لب وا کرتے پھر جھجھک کر لبوں کو کاٹتے دیکھ کر عباس نے پھر پوچھا
” جج جی مجھے آپ کو کک کچھ بتانا ہے ۔۔!”
حُرّہ نے لبوں کو حرکت دی
” جی جی جانم ۔۔ بولیں ۔۔؟ کیا بات کرنی ہے میری جان کو ۔۔؟”
وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ بات کرتے ہوئے اس کے لب حُرّہ کے رخسار کو چھو رہے تھے مگر حُرّہ کس طرح بات کرتی وہ ایک تو اس کی قربت مسلسل اس کو کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی مزید بات بھی ایسی تھی کہ بتاتے ہوئے اس کی جھجھک درمیان میں آ رہی تھی
” وو وہ ۔۔ آپ ۔۔ “
کپکپاتے لبوں میں جنبش ہوئی مگر پھر زبان دانتوں تلے دبا لی عباس دلچسپی سے حُرّہ کے سرخ چہرے کو دیکھ رہا تھا
” ہوں ۔۔ بولیں حُرّہ ۔۔!”
اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے حُرّہ کے لبوں کو چھوتے ہوئے عباس نے نرمی سے پوچھا
” وو وہ سرکار ۔۔ وہ آ آپ ۔۔ “
حُرّہ عباس کی آنکھوں میں دیکھتی ایک بار پھر جھجھک کر رکی تو عباس نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکائیں
” وو وہ آ آپ ۔۔ و وہ مم میں ۔۔ مم میرا مطلب ۔۔ وہ ۔۔”
بولتے بولتے ایک مرتبہ پھر وہ خاموش ہو گئی اور اب تو اسے رونا آنے لگا تھا وہ کیسے عباس کو بتائے گی یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا اور اب شرم کی وجہ سے الفاظ ہی ترتیب نہیں دے پا رہی تھی
جبکہ حُرّہ کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ کر عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری
” کیا ہوا ہے حُرّہ ۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے آپ سے ۔۔؟ رو کیوں رہیں ہیں ۔۔ ؟”
حُرّہ کے چہرے پر موتی اپنے لبوں سے چنتے ہوئے عباس نے نہایت فکر مندی سے پوچھا
” نن نہیں ۔۔ کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔”
حُرّہ یکدم آنسو صاف کرتی سٹپٹا کر گویا ہوئی تو عباس نے سکھ کا سانس لیا
” پھر کیا بات ہے جانم ۔۔ ؟”
عباس نے ہنوز نرم انداز میں اس کے رخسار سہلاتے ہوئے پوچھا
” وہ میری طبیعت ۔۔ “
ابھی اتنے ہی الفاظ حُرّہ کی زبان سے نکلے تھے کہ عباس نے اس کے ماتھے کو چھوا
” کیا ہوا حُرّہ ؟ ۔۔”
لہجے میں فکر مندی واضح تھی
” میری طبیعت بلکل ٹھیک ہے ۔۔ وہ سرکار آپ ” وہ ” بننے والے ہیں ۔۔!”
حُرّہ نے اس بار اپنی طرف سے بھرپور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلدی سے بات مکمل کی اور عباس کے چہرے کو دیکھنے لگی جس پر ناسمجھی کے اثرات تھے
” کیا بننے والا ہوں۔ ۔۔؟”
عباس نے ماتھے پر ناسمجھی سے بل ڈالے پوچھا تو حُرّہ نے عباس کے نا سمجھنے پر مایوسی سے سر جھکا لیا
” کیا کہنا چاہ رہی ہیں حُرّہ ۔۔ ؟”
عباس نے اس کی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا چہرہ ذرا سا بلند کیا اور پوچھا
” آپ ” وہ ” بننے والے ہیں ۔۔”
حُرّہ نے جھکی آنکھوں سے پھر سے وہی جملہ دوہرایا جبکہ عباس حقیقتاً حُرّہ جی بے ربط بات سمجھنے میں ناکام تھا
” کھل کر بات کریں جانم ۔۔ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔۔؟”
عباس پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ہوئے پوچھا رہا تھا
” آپ سمجھ جائیں نا ۔۔ !”
اس بار حُرّہ نے جھنجھلا کر کہا کیونکہ وہ کتنی دیر سے اسے ایک ہی بات سمجھا رہی تھی آخر وہ خود سے کیوں نہیں سمجھ رہا تھا جبکہ عباس کے تو وہم و گمان میں بھی وہ بات نہیں تھی جو حُرّہ اسے اتنی دیر سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ایک مرتبہ پھر عباس نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکائیں تو حُرّہ کو پہلی بار عباس پر غصہ آیا
” آپ بابا بننے والے ہیں ۔۔ اتنی سی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی آپ کو ۔۔ کب سے سمجھا رہی ہوں ۔۔”
حُرّہ خاصی جھنجھلا کر بلند آواز میں بولی تھی جبکہ عباس کے کانوں میں تو جیسے حُرّہ کا پہلا جملہ ہی گونج رہا تھا آگے وہ جانے کیا بولی تھی عباس نے سنا کہاں تھا بے یقینی اور خوشگوار حیرت سے وہ اب حُرّہ کو دیکھ رہا تھا
” حُرّہ آپ سچ کہہ رہی ہیں ۔۔؟”
حُرّہ کے دونوں کاندھوں کو اپنے ہاتھوں سے تھام کر وہ یقین دہانی چاہ رہا تھا دل تھا کہ خوشی کے مارے جھوم اٹھا تھا جبکہ حُرّہ نے اب کے ہلکا سا مسکرا کر اثبات میں سر ہلا کر اپنی ہی بات کی تصدیق کی تو عباس نے فوراً اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا کئی پل جب وہ اسے یوں ہی سینے سے لگائے بیٹھا رہا تو حُرّہ چند لمحوں بعد اس سے جدا ہوئی اور عباس کی آنکھوں میں تیرتی نمی جو وہ اب حُرّہ کے پیچھے ہونے پر فوراً صاف کر رہا تھا دیکھنے لگی
” بلاشبہ آپ نے مجھے خوبصورت زندگی جینے کی نوید سنائی ہے حُرّہ ۔۔ آپ نہیں جانتی یہ خبر جو آپ نے مجھے ابھی دی ہے ہر خوشی سے بڑی خوشی ہے میرے لیے ۔۔ تھینک یو جانم ۔۔ “
عباس محبت سے چور انداز میں کہتے ہوئے حُرّہ کے چہرے پر جھکا اور اس کے چہرے پر والہانہ لمس چھوڑنے لگا جبکہ عباس کی آنکھوں اور لہجے سے جھلکتی خوشی دیکھ کر حُرّہ کی خوشی دوگنی ہو گئی تھی
کئی لمحے کمرے میں معنی خیز خاموشی چھائی رہی چند لمحوں بعد حُرّہ اپنا تنفس بہتر کرتی عباس کے سینے پر ہاتھ رکھے سر بھی شرم و حیا کے باعث عباس کے سینے پر ٹکا چکی تھی
///////////////////////
” حُرّہ صحیح سے کھانا کھائیں ۔۔ “
اگلی صبح وہ احتیاطً ناشتے کے بعد حُرّہ کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر گیا تھا اور ڈاکٹر نے اسے حُرّہ کا بہت خیال رکھنے کی تائید کی تھی اور اب رات کے کھانے کے وقت میز پر حویلی کے تمام مکین موجود تھے حُرّہ جو کہ ہمیشہ کی طرح حویلی کے تمام مکینوں کی موجودگی میں سہمی ہوئی تھی بمشکل چند لقمے حلق سے اتار پائی تھی اور اب دوسری مرتبہ عباس اسے نوٹ کرتا ٹوک رہا تھا جبکہ وہاں موجود ہر شخص کو عباس کا حُرّہ کی اس قدر فکر کرتے دیکھ کر کچھ خاص اچھا نہیں لگ رہا تھا سردار بی بی مسلسل حُرّہ کو خونخوار اور حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہیں تھیں ، ناعمہ بھی ناگواری سے حُرّہ کو دیکھ رہیں تھیں ان میں سردار شیر دل اور نورے تھے جو اپنی پلیٹ پر جھکے ہوئے تھے مگر نورے کی آنکھوں کی اداسی ہر ایک باآسانی دیکھ سکتا تھا
” عباس تم شہر کب جا رہے ہو ۔۔ ؟”
سردار بی بی نے اپنا موڈ بہتر کرنے کی غرض سے عباس کا دھیان حُرّہ سے بٹانا چاہا تھا
” ابھی کچھ دن یہیں پر ہوں ماں جی ۔۔ “
عباس نے سرسری انداز میں جواب دیا
” کیا جادو کیا ہے اس ونی نے تم پر ۔۔ پہلے تو تم یہاں کم آتے تھے۔۔ اور اب تو لمبا قیام چاہتے ہو ۔۔”
حُرّہ کو دیکھتے ہوئے وہ طنزیہ جملوں سے بولی تو عباس نے ناشتے سے ہاتھ روک لیا
” ماں جی ونی جیسا لفظ آئندہ میں حُرّہ کے لئے نہ سنو ۔۔ کیونکہ میں حُرّہ کی حیثیت اور مقام دنیا پر واضح کر چکا ہوں ۔۔ آئندہ یہ فضول خطاب میرے کانوں تک نہ پہنچے ۔۔!”
لہجے نرم اور تنبیہی تھا جبکہ اس کے الفاظ سردار بی بی نے بمشکل ضبط کیے
باقی سب خاموش تماشائی بنے ان ماں بیٹے کی گفتگو سن رہے تھے
” میں کبھی دشمن کے خاندان کی لڑکی کو قبول نہیں کروں گی ۔۔!”
جواباً سردار بی بی ترخ کر بولیں تھی
” آپ محض یہ یاد رکھیں کہ حُرّہ میری بیوی اور میرے ہونے والے بچے کی ماں ہے ۔۔ !”
عباس نے بلند آواز میں مضبوط انداز میں کہا جبکہ اس نے سب کو حُرّہ کے امید سے ہونے کی خبر سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا مگر اس کے اتنے بڑی خبر اس طرح عام سے انداز میں کہنے پر حویلی کے تمام مکینوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا وہ سب ہونق بنے عباس کو دیکھ رہے تھے یقیناً عباس کے چہرے پر سنجیدگی تھی وہ مذاق نہیں کر رہا تھا
نورے پتھرائی آنکھوں سمیت عباس کو دیکھ رہی تھی جس کی خود کی نگاہیں اب حُرّہ کے چہرے پر تھیں
” کیا کہہ رہے ہو عباس تم ۔۔ ؟؟”
سب سے پہلے سردار شیر دل کا سکتہ ٹوٹا تو وہ دبے دبے غصے سے بولے
” بابا جان آپ دادا بننے والے ہیں ۔۔ “
عباس نے سر جھکائے بیٹھی حُرّہ کو دیکھتے ہوئے سردار شیر دل کو ان کی بات کا جواب دیا
“” ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔یی یہ سب ۔۔ نہیں نہیں ۔۔ عباس یہ بد کردار لڑکی ہے ۔۔ یہ تم سے جھوٹ بول رہی ہے۔۔ یہ تمہارا بچہ نہیں ہے ۔۔ یہ بے وقوف بنا رہی ہے تمہیں۔۔ یہ پیچھے سے لائی ہو گی۔۔ “
سردار بی بی ہتک آمیز انداز میں غرائیں جبکہ عباس زور سے میز پر ہاتھ مارتا کھڑا ہوا اس کا چہرہ اور آنکھیں غصے کے باعث سرخ ہو رہیں تھیں باقی سب بھی ڈر کر اپنی جگہ سے اٹھے جبکہ حُرّہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی تھی سردار بی بی کے الفاظ عباس کا دل چیر گئے تھے حُرّہ نے سہمی نگاہوں سے عباس کو دیکھا
” آپ نے میری اولاد کو گالی دی ہے ماں اور یہ میں بلکل برداشت نہیں کروں گا ۔۔ “
صبر و ضبط کی انتہا کو چھوتا وہ بولا زندگی میں پہلی بار اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر سردار بی بی بے چین ہوئیں یقیناً وہ اپنے بہت نرم دل اور صابر بیٹے کو اپنے الفاظ سے توڑ رہیں تھیں جن کا انہیں احساس بھی تھا
” عباس میرے شیر ۔۔ کیا حماقت ہے یہ ؟؟ اب یہ معمولی لڑکی ہماری نسل آگے بڑھائے گی ۔۔۔؟”
اس مرتبہ وہ دھیمے مگر کاٹ دار انداز میں بولی تھیں
” آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہیں ماں جی یہ میری بیوی ہے اور یہی اس کی حیثیت ہے اور اب تو یہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے ۔۔ اس لیے ہر کوئی سن لے حُرّہ کو حویلی میں اگر کسی طرح کا مسئلہ ہوا تو میں حُرّہ کو لے کر یہاں سے چلا جاؤں گا اور واپسی کی امید مت رکھئے گا مجھ سے ۔۔”
عباس تنک کر بولا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے انہیں پہلے آگاہ کر رہا تھا
” تم ایسے کیسے کر سکتے ہو عباس ۔۔ تم اس لڑکی کے لیے ہمیں چھوڑ دو گے ۔۔؟؟”
عباس کی بات سن کر وہ صدمے میں بولیں تھیں
” میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا ۔۔ مگر آپ مجھے اپنے رویے سے مجبور کر رہیں ہیں ۔۔ !”
سردار بی بی کے چہرے پر بے چینی دیکھ کر عباس نے دھیمے لہجے میں کہا
” میں نہیں برداشت کر سکتی اس لڑکی کو ۔۔!”
حُرّہ کو دیکھ کر وہ چیخیں تھیں
” نکاح کروانے سے پہلے یہ بات سوچنی چاہیے تھی آپ کو ۔۔ اب تو حُرّہ میری بیوی ہے ۔۔ اور ہر صورت یہ برداشت کرنا ہو گا آپ کو ۔۔ کیونکہ میں زیادتی نہ خود کر سکتا ہوں اپنی بیوی کے ساتھ نا کسی اور کو اجازت دے سکتا ہوں “
سردار شیر دل کو دیکھتا اس بار وہ جتاتے ہوئے انداز میں بول رہا تھا
” بس کر جاؤ اب تم ۔۔ عباس ہمارا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کی اولاد ہی ہماری وارث ہے ۔۔ “
عباس کی نگاہوں کا شکوہ سمجھتے ہوئے سردار شیر دل سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے دھاڑے تھے جبکہ باقی سب نے سردار شیر دل کو حیرت انگیز تاثرات لیے دیکھا
” میں کبھی نہیں قبول کروں گی ۔۔ نا اس لڑکی کو اور نہ اس لڑکی کی اولاد کو ۔۔ “
سردار بی بی اس مرتبہ شوہر کو دیکھتی دبی دبی آواز میں بولیں تھیں
” ماں یہ میری اولاد ہے ۔۔ “
سردار بی بی کی بات پر عباس نے خود پر ضبط کرتے ہوئے کرب سے کہا تھا اس کے لہجے کا کرب سردار بی بی سمیت حویلی کے تمام مکینوں نے محسوس کیا تھا
” مجھے افسوس ہے ماں آپ صرف حُرّہ سے نفرت کی وجہ سے یہ سب بول رہیں ہیں ۔۔ ورنہ آپ میری ماں ہیں مجھے معلوم ہے آپ اتنی سنگدل نہیں ہو سکتیں ۔۔ آخر کیا قصور ہے حُرّہ کا ۔۔؟ کیوں قابل نفرت لگتی ہیں حُرّہ آپ کو ۔۔ ؟؟”
عباس نے انہیں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا جبکہ اس کے لہجے میں دکھ تھا
” کیونکہ یہ میری بیٹی کے قاتل کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس لیے نفرت ہے مجھے اس سے ۔۔ اور میرے بیٹے کی اولاد اس لڑکی سے پیدا ہو میں ہرگز نہیں چاہوں گی یہ عباس ۔۔”
سردار بی بی مسلسل سر جھکائی کھڑی حُرّہ کو حقارت سے دیکھتی بول رہیں تھی
” یہ بات سن لیں ماں جی اگر حُرّہ اور میرے بچے کو کوئی نقصان پہنچا تو میں اتنے صبر کا مظاہرہ ہرگز نہیں کروں گا جتنا ابھی کر رہا ہوں ۔۔ اور آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں اپنی بات کا کتنا پکا ہوں ۔۔ بیشک ماں سے زیادہ اولاد کو کوئی نہیں جان سکتا ۔۔ “
عباس نے ماں کا تقدس قائم رکھتے ہوئے اپنی حتمی بات کہتے ہوئے سردار بی بی کو بہت کچھ باور کروایا اور سختی سے بھینچی ہوئی مٹھیوں کو کھولا اور حُرّہ کا ہاتھ تھام کر وہاں سے نکل گیا
عباس کے نکلنے کے بعد سردار شیر دل نے کاٹ دار نگاہوں سے سردار بی بی کو دیکھا
” بار بار اس لڑکی کے لیے اپنی نفرت کا اظہار کرکے تم اپنے بیٹے کو خود سے بدگمان کر رہی ہو بے وقوف عورت ۔۔ “
وہ انہیں سخت نگاہوں سے دیکھتے غرائے تھے
” میں منافقت نہیں کر سکتی ۔۔ مجھے اس لڑکی سے نفرت ہے تو اظہار بھی نفرت کا ہی کروں گی ۔۔!”
وہ سردار شیر دل کو بہت کچھ جتاتے ہوئے بولیں
” میں منافقت نہیں کر رہا ۔۔ مجھے بھی نفرت ہے اس لڑکی سے مگر مت بھولو کہ ہمارا بیٹا اسے بیوی کا درجہ دے چکا ہے اور جلد ہی وہ ہمیں وارث دینے والی ہے ۔۔ اور خبردار اب تم نے کوئی بکواس کی ۔۔ تمہیں قبول کرنا ہو گا ہر حال میں اس لڑکی کو ۔۔ “
سردار بی بی کے دوبارہ لب کھلتے دیکھ کر سردار شیر دل ہاتھ کے اشارے سے انہیں بولنے سے روک گئے اور تنبیہی نگاہوں سے دیکھتے بولے
” میری بیٹی کا کیا ہو گا سردار جی ۔۔ ظلم کیا ہے آپ سب نے مل کر میری بیٹی کے ساتھ ۔۔ “
سردار شیر دل کی باتیں سن کر کب سے خاموش کھڑی ناعمہ نے جیٹھ کو دیکھتیں خاصی بلند آواز میں بولیں
” نورے ہماری بیٹی ہے ناعمہ ۔۔ اس کی ذمہ داری میری ہے ۔۔ میں اب کسی بھی تاخیر کے بغیر جلد ہی عباس اور نورے کا نکاح کرواؤں گا ۔۔”
سردار شیر دل نے سر جھکائے کھڑی نورے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
” ابھی آپ نے حکم دیا کہ اس لڑکی کو عباس کی بیوی کے طور پر قبول کر لیں کیونکہ وہ عباس کے بچے کی ماں بننے والی ہے ۔۔ اور اب آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ میں ابھی بھی عباس سے امید رکھوں کہ وہ میری بیٹی کو اپنائے گا ۔۔؟؟”
ناعمہ ، دھیمی آواز میں بولیں تھیں
” تو کیا چاہتی ہو تم ۔۔؟ ختم کرنا چاہتی ہو رشتہ ۔۔؟ کیا تم یہ نہیں جانتی کہ جب ہمارے خاندان کی لڑکی کا ایک بار جس شخص سے رشتہ طے ہو جائے پھر چاہے کچھ بھی ہو جائے۔۔ رشتہ ختم نہیں کر سکتے ۔۔ بیشک ساری زندگی بھی وہ مرد اس لڑکی کو نہ اپنائے مگر اس لڑکی کی ساری زندگی اسی کے نام پر کٹتی ہے ۔۔ “
سردار شیر دل نے انہیں اپنے خاندان کے سخت اصول یاد کروائے جنہیں وہ پہلے سے جانتی تھیں
” آپ لوگوں نے میری یتیم بچی کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔۔ “
وہ گم صم کھڑی نورے کو دیکھتی روتی ہوئی بولیں
” نہیں ہوگا ظلم نورے کے ساتھ ۔۔ اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تو کیا ہو گیا اگر ہم عباس کی دوسری شادی نورے سے کر دیں ۔۔ تم جانتی ہو ۔۔ عباس جب اس دشمن کے خاندان کی لڑکی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکا اور اسے اس کے سارے حقوق دیے تو کیا وہ نورے کے ساتھ کوئی زیادتی کر سکتا ہے بھلا۔۔ ؟”
سردار شیر دل کہتے ہوئے آخر میں ناعمہ سے سوال کر گئے تو وہ ان کی یقین دلانے پر خاموش ہو گئیں
/////////////////////////
وہ کمرے میں آ کر بیڈ پر ٹک گئی تھی مگر وقفے وقفے سے عباس کے غصے میں تلملائے چہرے کو دیکھ لیتی تھی جو صوفے پر بیٹھا انگوٹھے اور ایک انگلی سے اپنے سر کو دبا رہا تھا کافی دیر گزر گئی تھی مگر کمرے میں ہنوز خاموشی چھائی ہوئی تھی عباس کے چہرے سے صاف دیکھائی دے رہا تھا کہ وہ کس قدر پریشان ہے حُرّہ نے کچھ سوچتے ہوئے عباس کی جانب قدم بڑھائے حُرّہ کے قریب آنے پر عباس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور نرمی سے کلائی تھام کر اسے اپنے برابر صوفے پر بیٹھا لیا
” آ آ آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ !”
عباس کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے حُرّہ نے مدھم آواز میں کہا تو عباس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے حُرّہ کے بالوں پر لب رکھ دیے
” اور حُرّہ آپ بھی پلیز کسی بات کی ٹینشن نہیں لیں گی ۔۔ !! ماں جی کے رویے کو اگنور کریں ۔۔ جب ہمارا بچہ دنیا میں آئے گا تو وہ خودبخود ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔ “
عباس نرمی سے اسے سمجھاتے ہوئے اس کی کمر سہلا رہا تھا
” جی ۔۔۔!”
حُرّہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا
” آپ نے کبھی میرے نام کا مطلب نہیں پوچھا ۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے میرے نام کا مطلب ۔۔؟”
عباس اب حُرّہ کا دھیان بٹاتا ہوا اسے باتوں میں لگا رہا تھا
” مجھے تو نہیں پتہ مطلب ۔۔؟”
حُرّہ نے ذرا سا عباس کے کاندھے سے سر اٹھاتے ہوئے شرمندگی سے کہا حُرّہ کی معصومیت پر عباس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری
” عباس عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے شیر ۔۔!”
عباس ، حُرّہ کا سر اپنے سینے سے لگاتے ہوئے گویا ہوا
” واؤ ۔۔ !”
بے ساختہ حُرّہ کے منہ سے نکلا
” آپ پر بلکل سوٹ کرتا ہے ۔۔ نام ۔۔ اور مطلب ۔۔ “
حُرّہ مزید گویا ہوئی تو عباس کی مسکراہٹ گہری ہوئی یقیناً یہ اسی کا دیا گیا اعتماد تھا کہ حُرّہ آرام سے اس سے بات کر رہی تھی ورنہ وہ اتنا خاموش رہتی تھی کہ وہ اسے باتیں کرنے کے لیے اکساتا تھا
” اور جانتی ہیں میں نے ایک بات سوچی ہے ۔۔ ۔۔؟”
عباس اب اس کے چہرے پر خوشی دیکھتے ہوئے مزید گویا ہوا
” کیا ۔۔؟”
حُرّہ نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا
” میں اپنے بیٹے کا نام حیدر رکھو گا ۔۔ اور حیدر کا مطلب بھی شیر ہے ۔۔!”
عباس اپنے ہی جوش میں بولا تھا جبکہ اس کی بات پر حُرّہ کے لب سکڑے تھے جنہیں فوراً عباس نے نوٹ کیا اور پوچھا
” کیا ہوا ۔۔؟”
” بب بیٹا نہ ہوا ۔۔ اگر بیٹی ہوئی تو ۔۔؟”
حُرّہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا
“پھر تو بیٹے سے بھی زیادہ خوشی ہوگی مجھے ۔۔”
عباس نے حُرّہ کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے لبوں پر گہری مسکراہٹ سجائے کہا تو عباس کی بات سن کر حُرّہ نے اطمینان کا سانس لیا
” آپ بہت اچھے ہیں ۔۔!”
بے ساختہ حُرّہ نے کہا
” جانم ۔۔۔!”
عباس مسکراتے ہوئے اس کا نام پکارتے ہوئے والہانہ انداز میں حُرّہ کے مسکراتے چہرے پر جھک گیا اور بے اختیار ہونے لگا
///////////////////////
جاری
