Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 8

” منصور یہ شور کیسا ہے ۔۔ ؟؟”
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کیس کی فائل چیک کر رہا تھا جب اسے باہر کچھ ہل چل محسوس ہوئی

” سر وہ ایک عورت اور اس کی بیٹی آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔۔ آپ نے ڈسٹرب کرنے سے منع کیا تھا اس لیے میں نے انہیں ویٹ کرنے کو کہا مگر وہ مان ہی نہیں رہیں ۔۔ “
منصور جوکہ اس کا گارڈ تھا عباس کے پوچھنے پر بتانے لگا

” اچھا انہیں بھیجو ۔۔!”
عباس نے سامنے رکھی فائل بند کرتے ہوئے حکم دیا کچھ دیر میں ایک عورت اپنی بیٹی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی

” تشریف رکھئیے ۔۔!”
عباس نے ایک سرسری سی نگاہ ان پر ڈال کر سامنے رکھیں کرسیوں کی جانب اشارہ کیا عباس کو وہ عام طبقے سے تعلق رکھنے والی لگیں

” پانی لاؤ ۔۔!”
ان کے پیچھے کھڑے منصور کو حکم دے کر وہ ان ماں بیٹی کی جانب متوجہ ہوا

” جی میں کیا مدد کر سکتا ہوں آپ کی ۔۔؟”
دھیمے نرم انداز میں اس نے پوچھا تو ان دونوں ماں بیٹی کی کچھ ہمت بندھی

” وکیل صاحب ہم آپ کی فیس ادا نہیں کر سکتے ۔۔ مگر میں چاہتی ہوں آپ ہی میری بیٹی کا کیس لڑیں ۔۔”
اس عورت نے اپنی سترہ اٹھارہ سالہ بیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

” آپ بتائیں کے مسئلہ کیا ہے ۔۔؟؟”
عباس نے بھرپور سنجیدگی سے پوچھا

” میری بیٹی کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے صاحب ۔۔ میں نے سال پہلے اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ بیاہ دیا تھا اسے ۔۔ شادی کے ایک ماہ بعد میرا داماد باہر چلا گیا ۔۔ پھر تو جیسے میری بیٹی کی زندگی ہی اجیرن ہو گئی ۔۔ مگر صبر کر لیا ہم نے ۔۔ لیکن اب تو ظلم کی انتہا ہو گئی ۔۔ میری بیٹی کے ساتھ ۔۔ “
وہ عورت بولتے ہوئے رونے لگی تو عباس نے پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھایا جبکہ دوسرا گلاس عباس نے عبائے میں لپٹی اس لڑکی کی جانب بڑھایا جو چہرہ چھپائے رو رہی تھی

” دیور نے ۔۔!”
وہ دکھی ماں پھر سے بمشکل دو لفظ ادا کر پائی تھی کہ رونے لگی جبکہ وہ لڑکی بھی اب اس قدر رونے لگی تھی کہ عباس لب بھینچے سر جھکا گیا یقیناً آگے کی بات وہ سمجھ گیا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ کیا ظلم ہوا تھا بے ساختہ اسے عابی کے ساتھ ہوئے ظلم کا خیال آیا اور سامنے بیٹھی لڑکی میں اسے عابی کا عکس نظر آیا جس باعث اس کا دل پھٹنے لگا

” آپ نے مقدمہ درج کروایا ۔۔؟”
چند لمحوں بعد عباس اپنی ذہنی حالت پر قابو پا پایا تھا تو اس عورت سے پوچھا لگا جو خود بھی رو رہی تھی

” ہم اپنی عزت کی خاطر خاموش ہو گئے ۔۔”
عورت نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو عباس نے چونک کر انہیں دیکھا

” کیا مطلب ۔۔؟”
نا سمجھی سے پوچھا گیا

” آپ کی بیٹی بے قصور ہے ۔۔ ظلم اس کے ساتھ ہوا ہے ۔۔ اگر عزت خراب ہوئی ہے تو وہ اس شخص کی ہوئی ہے جس نے یہ شرمناک حرکت کی ہے ۔۔ کہ اپنی ہی بھابھی ۔۔ !!
دیکھیں یہی تو ہمارے معاشرے کی خرابی ہے کہ جس کے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہے ہم اسے ہی کہتے ہیں کہ اس کی عزت خراب ہو گئی ۔۔ ہم اس سے ہی نفرت کرنے لگتے ہیں ۔۔ جبکہ نفرت کے قابل تو وہ درندہ ہے ۔۔ جس نے یہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت کی ہے ۔۔ آپ کیسے اس ظلم پر خاموش ہو سکتیں ہیں ۔۔؟”
عباس کے لہجے میں درد بول رہا تھا وہ سمجھ سکتا تھا کہ سامنے بیٹھی ماں اور بیٹی کس اذیت سے گزر رہیں ہیں عابی کے کیس کی وجہ سے بھی تو سردار شیر دل بھی عزت کی خاطر خاموش ہو گئے تھے اور کتنی مشکل سے اس نے انہیں کیس پر راضی کیا تھا

” صاحب انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی کو بتایا تو وہ میری بیٹی کو بدنام کر دیں گے ۔۔”
وہ عورت دوبارہ بولی

” اب بھی تو آپ میرے پاس آئیں ہیں نا ۔۔ “
عباس نہ چاہنے کے باوجود کہہ گیا جبکہ اس عورت نے شرمندگی سے سر جھکا لیا

” کتنا عرصہ ہوا اس بات کو ۔۔ ؟”
عورت کا جھکا سر دیکھ کر عباس نے لب بھینچ لیے پھر اگلا سوال کیا

” دو ماہ ۔۔؟”
اس عورت کے لہجے میں مزید شرمندگی در آئی تھی

” آپ نے میڈیکل تو نہیں کروایا ہوگا ۔۔؟”
عباس کے اگلے سوال پوچھنے پر ماں نے پھر سے سر جھکا لیا

” ایف آئی آر بھی نہیں کروائی ۔۔؟؟”
توقع کے مطابق تمام جواب پانے کے بعد اگلا سوال پوچھا

” یہاں آنے سے پہلے کروائی تھی صاحب ۔۔۔ آپ نے میری بیٹی سے کوئی سوال تک نہیں کیا ۔۔ مگر وہ پولیس والے بہت عجیب سوال کر رہے تھے اس لیے ۔۔”
وہ ماں بتاتے ہوئے پھر سے رونے لگی جبکہ عباس اس کی بات سمجھ گیا اور خاموش ہو گیا

” ظلم کے خلاف جتنا دیر سے اٹھیں گے ۔۔ اتنا ہی لمبا اور کٹھن سفر طے کرنا پڑے گا ۔۔”
عباس نے کہتے ہوئے گہرا سانس لیا اس کے لہجے میں دکھ کی آمیزش واضح تھی

” آپ ہماری مدد کریں گے نا ۔۔؟”
اس سارے وقت میں پہلی بار وہ لڑکی عباس سے مخاطب ہوئی تھی شاید عباس کا نظریں جھکی رکھنا اور نرمی سے بات کرنے سے اس لڑکی کا حوصلہ کچھ بحال ہوا تھا عباس نے سرد آہ بھری اور اپنی جگہ سے اٹھا اس لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اثبات میں سر ہلایا

//////////////////////////

” کیا ہوا آج بہت پریشان لگ رہا ہے ۔۔ ؟؟”
عباس کال نہیں اٹھا رہا تھا تو عالیان اور احمد پریشان سے اس کے بنگلے پہنچ گئے اور عباس کو لاؤنج میں گم سم سا کسی گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر احمد نے سوال کیا جواباً عباس نے سرسری سا آج آئے کیس کے بارے میں اسے بتا دیا جبکہ عالیان کافی بناتا ہوا سرسری انداز میں سن رہا تھا

عباس اور احمد کو اکثر اپنے کیسز میں ایک دوسرے کی مدد درکار ہوتی تھی اور اس کیس میں بھی اسے احمد کی مدد درکار تھی اسی لیے بتانے لگا جسے سن کر احمد کو افسوس ہوا

” اتنا عرصہ ہو گیا تم دونوں کو اس طرح کے کیس حل کرتے ہوئے لیکن آج بھی تم دونوں اپنے پہلے کیس کی طرح ایسے پریشان ہو جاتے ہو جیسے وکٹم سے تم لوگوں کا گہرا رشتہ ہے ۔۔ چل یار ۔۔ دل پہ مت لیا کرو اتنا تم دونوں ۔۔ ایسے تو جلدی ہی تم دونوں دل کے مریض بن جاؤ گے ۔۔ “
ان دونوں کے چہرے پر بے انتہا افسردگی دیکھ کر عالیان نے کہا تو احمد اور عباس اس کا اس وقت مذاق کرنا سخت ناگوار گزرا

” وہ جو آئے روز تمہیں شدید والی محبت ہو جاتی ہے اس سے دل پہ بہت اچھا اثر پڑتا ہے نا ۔۔؟”
احمد نے خاصا چڑ کر کہا تو عالیان دانٹ نکالنے لگا

” یار ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی یہ جو مرد باہر کمانے چلے جاتے ہیں وہ اپنی بیوی بچوں کو اس ہوس پرست دور میں کسی کے بھروسے کیسے چھوڑ جاتے ہیں ۔۔؟ چاہے وہ اس کے اپنے گھر والے ہی کیوں نا ہوں ۔۔ یہ بات کسی صورت صحیح نہیں ہے “
اس مرتبہ عالیان نے سنجیدگی سے کہا تو احمد نے بھی اس کی تائید میں سر ہلایا

” بہت کیس آتے ہیں میرے پاس بھی کہ شوہر آؤٹ آف سٹی ہے یا کنٹری ۔۔ پیچھے سے اس کے گھر والے اس کی بیوی بچوں سے کیسا سلوک کر رہے ہیں ۔۔ کن حالات سے وہ گزر رہی ہے ۔۔ ان جناب کو معلوم ہی نہیں ہوتا ۔ اور اگر معلوم ہو تو وہ کس پر یقین کرے ماں باپ بہن بھائی پر یا بیوی پر ۔۔ “
احمد نے پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے اپنی رائے دی جبکہ عباس خاموشی سے بیٹھا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا مگر کچھ بولا نہیں

” ہاں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے تو ۔۔ ساری غلطی ہی ایسے مردوں کی ہوتی ہے ۔۔ جو دو دو تین تین سال گھر نہیں آتے ۔۔ بھئی بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جو مرد پر لازم ہوتے ہیں ۔۔ اب آپ چار سال محض کمانے کی خاطر بیوی سے دور رہ کر گزارو گے تو ایسی نوکری پر لعنت ہے جو اپنی بیوی بچوں سے دور رکھے ۔۔”
عالیان دوٹوک انداز میں بولا تھا جبکہ احمد نے بھی اس کی بات پر متفق ہوتے ہوئے سر ہلایا

عباس بہت دھیان سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا بے ساختہ اس کو حُرّہ کا خیال آیا تھا جانے کیوں اچانک اس کا دل ہر شے سے اچاٹ ہو گیا اور حُرّہ کا بار بار ڈرا سہما چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے آنے لگا جو اس کا دل بے چین کرنے لگا

///////////////////////////

صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو شدید نقاہت محسوس ہو رہی تھی مگر جانتی تھی کہ اگر ذرا سی بھی کسی کام میں دیر ہوئی تو مزید ذلت اور سزا دی جائے گی تبھی خود کو مضبوط کرتی اٹھ بیٹھی

” یا اللہ میں اتنی سخت جان کیسے ہو سکتی ہوں ۔۔ کہ اتنا سب ہونے کے بعد بھی زندہ ہوں ۔۔ میرے بابا تو مجھے ایک کانٹا بھی چبھنے نہیں دیتے تھے ۔۔ اور اب روز اتنی ذلت و رسوائی اور اذیت کے بعد بھی زندہ ہوں ۔۔ “
چکراتے سر کو ہاتھوں میں گرائے حُرّہ بے انتہا اذیت میں مبتلا بولی تھی

پھر چادر اٹھا کر خود پر اوڑھی اور بمشکل اٹھ کھڑی ہوئی چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھپکے مارے اور چادر سے چہرہ صاف کرتی لڑکھڑاتے قدموں سے باورچی خانے کی جانب بڑھی رات سے قے کی وجہ سے جو تھوڑی بہت طاقت تھی جسم میں اب وہ بھی نہیں رہی تھی مگر اپنا درد کرتا وجود گھسیٹے وہ بےحسی کی چادر اوڑھے ناشتے کی تیاری میں لگ گئی مگر سر شدید چکرانے لگا اور انڈے کو دیکھ کر تو اسے ابکائیاں آنے لگیں منہ پہ ہاتھ رکھتی وہ واشروم کی جانب بڑھی

” یا اللہ اب کیا کروں میں ۔۔ یہاں تو کوئی دوائی بھی نہیں دے گا مجھے ۔۔ ایسے تو کام نہیں ہوگا مجھ سے ۔۔ کیا کروں ۔۔”
دیوار کا سہارا لیے وہ کھڑی سوچ رہی تھی پھر بمشکل چلتے ہوئے دوبارہ باورچی خانے میں آئی

کاش سردار بی بی وہ پیسے اس سے نہ لیتی جو عباس نے اسے دیے تھے اگر وہ پیسے بھی اس کے پاس ہوتے تو کم از کم اپنے لیے دوائی تو منگوا لیتی

” سنیں پلیز مجھے کوئی سر درد کی دوائی دے دیں ۔۔ “
ہاتھ میں جھاڑو لیے ایک ملازمہ کو دیکھ کر حُرّہ نے التجائیہ کہا

” دیکھو تمہاری کسی بھی طرح مدد کرنا منع ہے ۔۔ اگر کسی نے کی تو وہ جان سے جائے گا ۔۔ اس لیے میں تو تمہاری مدد نہیں کر سکتی ۔۔”
ملازمہ نے حُرّہ کا زرد رنگ دیکھ کر افسوس سے کہا

” آپ کے پاس درد کم کرنے کی کوئی تو دوا ہوگی ۔ وہی دے دیں ۔۔ پلیز کسی کو معلوم نہیں ہو گا ۔۔ “
بات کرتے ہوئے حُرّہ کی آواز بھیگ گئی تو ملازمہ کو اس پر بہت ترس آیا مگر سردار بی بی کے خوف کے باعث وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی

” صرف اتنا بتا سکتی ہوں کہ وہ حویلی کہ پچھلی طرف ایک دو کمرے نظر آئیں گے تمہیں وہاں حکیمہ رہتی ہے شاید وہ تمہیں دوائی دیدے ۔۔ “
ملازمہ سرسری انداز میں بتاتی باورچی خانے سے نکل گئی جبکہ حُرّہ کے قدم اب حویلی کی پچھلی جانب تھے

وہ کمرے کے باہر کھڑی ہوئی تو اندر روشنی دیکھ کر دروازے پر دستک دینے لگی اور دل میں دعا مانگنے لگی کہ یہ عورت اس کی مدد کر دے تھوڑی دیر بعد بھی جب دروازہ نہ کھلا تو حُرّہ مایوس ہو کر واپس جانے لگی

” کون ۔۔”
ایک ادھیڑ عمر کی خاتون نکلی تو حُرّہ نے اس کی آواز سن کر اپنا رخ موڑا یہ وہی عورت تھی جس نے بخار میں اس کا علاج کیا تھا وہ عورت بھی حُرّہ کو پہچان چکی تھی ادھر ادھر نگاہیں گھمانے کے بعد اس نے حُرّہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے کمرے میں کیا اور دروازہ بند کر دیا

” کیا بات ہے لڑکی تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔ ؟”
حُرّہ کا پیلا زرد رنگ اور تھکے تھکے چہرے کا طائرانہ جائزہ لیتی وہ عورت پوچھ رہی تھی

” مم میرا سر بہت درد کر رہا ہے چکر بھی بہت آ رہے ہیں ۔۔ اور ۔۔”

” تو میں کیا کر سکتی ہوں ۔۔ تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا لڑکی ۔۔”
حُرّہ ابھی دھیمی اور نقاہت بھری آواز میں بول ہی رہی تھی کہ وہ عورت اس کی بات کاٹتی بولی

” پلیز مجھے کوئی دوا دے دیں ۔۔ پلیز “
یہ بے بسی کی انتہا تھی کہ سردار کی بیوی ملازمین کی منتیں کر رہی تھی یہ سوچتے ہی پھر سے حُرّہ کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے

” تمہاری مدد کرنا حویلی میں جرم ہے ۔۔ تم جانتی ہو اگر کسی کو معلوم ہوا تو میری پناہ گاہ چھن جائے گی مجھ سے ۔ “
وہ عورت دوٹوک انداز میں بولی جبکہ اب حُرّہ اپنے آنسو صاف کرتی واپس جانے کے لیے مڑی

” اچھا سنو ۔۔”
شاید اسے حُرّہ کی تکلیف اور بےبسی پر ترس آ گیا تھا تبھی ہاتھ پکڑ لیا اور چارپائی پر لیٹنے کا اشارہ کیا

اپنے تجربے کے مطابق حُرّہ کو دیکھتے ہی وہ سمجھ گئیں تھی کہ حُرّہ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے مگر معائنہ کرنے کے بعد شک پر یقین کی تصدیق ہو گئی

” تم امید سے ہو ۔۔ “
حُرّہ کا معائنہ کرنے کے بعد اس عورت نے یقین سے کہا تو حُرّہ کی سماعتوں میں یہ الفاظ کسی ہتھوڑے کی مانند لگے

” یی یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ آپ یقین سے کہہ سکتی ہیں ۔۔؟”
نفی میں سر ہلاتے وہ بے یقینی سے بولی

” سو فیصد یقین سے کہہ رہی ہوں میں ۔۔”
اس عورت نے حُرّہ کے اس خنکی میں بھی چہرے پر آئے پسینے کو دیکھ کر کہا

” اا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔ سردار بی بی تو مجھے مار دیں گی ۔۔ “
مسلسل سر ہلاتی حُرّہ بولی تھی جبکہ اس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا

” میں سمجھ سکتی ہوں تمہیں ۔۔ تو کیا بچہ ضائع کرنا چاہتی ہو ۔۔؟”
وہ عورت دھیمی آواز میں رازداری سے پوچھ رہی تھی جبکہ اس کی بات سن کر حُرّہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے

” ضض ضائع ۔۔ مم میں کک کیسے ۔۔؟”
خوف اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات لیے وہ بولی تھی بچے کو خود ہی مارنا یہ سوچ ہی اس قدر تکلیف دہ تھی کہ حُرّہ رونے لگی

” پھر چھوٹے سردار کو بتا دو کہ تم امید سے ہو ۔۔ اگر بیٹا پیدا کر دیا نا تم نے تو بڑے سردار اور سردار بی بی بھی شاید تم سے خوش ہو جائیں اور وارث پا کر یقیناً خوش ہی ہوں گے وہ ۔۔”
وہ عورت حُرّہ کے شانے پر ہاتھ رکھے کہنے لگی

” اور اگر بیٹی پیدا ہو گئی تو ۔۔؟ “
حُرّہ نے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا

” ارے کیوں ایسی بات نکال رہی ہو زبان سے ۔۔ اگر بیٹی پیدا ہوئی تو تمہاری زندگی مزید مشکل ہو جائے گی ۔۔ “
وہ عورت ماتھے پر ہاتھ مارتی بولی تو حُرّہ سسک اٹھی

” یہ رکھو دوا ۔۔ اس سے طبیعت بہتر ہو جائے گی تمہاری ۔۔ “
اب وہ عورت حُرّہ کو ایک شاپر تھماتے ہوئے کہہ رہی تھی

” کب معلوم ہو گا کہ بیٹا ہے یہ بیٹی ۔۔ ؟”
شاپر تھامتے ہوئے حُرّہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا

” اس کے لیے تھوڑا صبر کرنا پڑے گا تمہیں ۔۔ “
اس نے دھیمی آواز میں کہا تو حُرّہ نے سر ہلایا

” شکریہ آپ کا بہت ۔۔ “
حُرّہ دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے گویا ہوئی تو حکیمہ نے محض سر ہلایا

” اگر تم خون بہا میں نہ آئی ہوتی تو یہ خبر سن کر حویلی میں جشن منایا جاتا ۔۔ “
اس عورت کے الفاظ سن کر حُرّہ کے اٹھتے قدم وہی زمین پر تھم گئے اور ایک تیز اس کے دل میں پیوست ہوا پھر بغیر کچھ کہے حُرّہ آنسو پونچھتے وہاں سے نکل گئی مگر افسوس کہ کسی نے اسے حکیمہ کے کمرے سے نکلتے دیکھ لیا تھا

اس عورت کی دی ہوئی دوا کھانے کے بعد حُرّہ کی طبیعت کچھ سنبھلی تو اپنے ذمے کے کام نبٹانے لگی مگر یہ خبر جب سے اس نے سنی تھی تب سے اس کے آنسو جیسے تھم گئے تھے یا شاید اپنے وجود میں اس ننھی جان کا تصور کرتے اب حُرّہ کو صبر آ گیا تھا مگر پریشانی تو اس کی مزید بڑھ گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ خبر حویلی میں طوفان لے کر آئے گی

” چھوٹے سردار یہ نہیں ہونا چاہئے تھا ۔۔ حویلی میں تو جب مجھے عزت نہیں دی جاتی تو میری اولاد کو کیسے دی جائے گی ۔۔ خدایا یہ کیسی خوشی ہے جس میں دکھ پوشیدہ ہے ۔۔ “
وہ نہیں جانتی تھی کہ عباس یہ خبر سن کر کیسا تاثر دے گا مگر اس کا اپنا دل بے چین ہو رہا تھا بار بار اس عورت کی بات یاد آ رہی تھی کہ بچہ ضائع ۔۔
اور اس سے آگے سوچتے ہوئے حُرّہ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے

” سنو ۔۔ “
حُرّہ لاؤنج کی صفائی کر رہی تھی جب نورے نے اسے مخاطب کیا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی

” جی ۔۔ ؟”
حُرّہ اس کی جانب مڑتے ہوئے بولی

” کیا نام ہے تمہارا ۔۔؟”
حُرّہ کو بغور دیکھتے ہوئے نورے نے پوچھا

” حُرّہ ۔۔”
حُرّہ نے بتاتے ہوئے سر جھکا لیا اسے بے اختیار عباس کا خیال آیا تھا اس سے ہوئی اپنی پہلی ملاقات یاد آئی بے ساختہ اس ملاقات کو یاد کرتے ہوئے اس کا چہرہ حیا کے باعث سرخ ہوا جبکہ نورے نے اس پل اس کا جھکا چہرہ بغود دیکھا تھا

” تم بیمار ہو کیا ۔۔؟”
نورے نے اس کا طائرانہ جائزہ لیتے ہوئے پوچھا

” جج جی ۔۔ وہ بس ۔۔”
حُرّہ کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے تبھی بات ادھوری چھوڑ دی

” کاش تم ہماری زندگیوں میں نہ آئی ہوتی ۔۔ تو آج چھوٹے سرکار صرف میرے ہوتے ۔۔”
نورے کی بات پر حُرّہ نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا اس کے انداز میں خفگی کے علاوہ کچھ نہیں تھا

” آپ کو میرے وجود سے کوئی خطرا نہیں ہے نورے ۔۔ میں نہ کبھی سردار اور آپ کے بیچ میں تھی اور نہ کبھی آؤں گی ۔۔ “
حُرّہ نے نگاہیں نورے کے خوبصورت چہرے پر جما کر کہا

” تمہارا وجود اتنا بھی بے ضرر نہیں ہے جس سے بے خبر رہا جائے ۔۔!”
نورے نے حُرّہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں اسے ایک الگ سکون نظر آ رہا تھا اتنی مشکل زندگی کے باوجود چہرے پر سکون ہونا شاید اس کے صبر کے باعث خالق کی عطا تھی جبکہ حُرّہ نورے کی بات کا مطلب سمجھ نہیں سکی تھی

” میں ہمیشہ اپنی بات پر قائم رہوں گی ۔۔ کہ میں آپ کے اور سردار کے بیچ کبھی نہیں آؤں گی ۔۔ “
وہ لہجے میں یقین لیے بولی تھی

” تم ہمارے بیچ اسی وقت آ گئی تھی جب ان کا تمہارے ساتھ نکاح ہوا تھا ۔۔ “
نورے نے جتا کر کہا تو کچھ پل تو حُرّہ کچھ بول ہی نہ سکی

” میں جانتی ہوں کہ تم بہت اذیت سے گزر رہی ہو ۔۔ مگر تم یہ نہیں جانتی کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں ۔۔ یہ سوچ ہی کتنی اذیت ناک ہے کہ جو آپ کا ہو اسے کسی اور کی دسترس میں دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے ۔۔ اس سے بڑی اذیت کیا ہوگی کہ میں دیکھ کر بھی زندہ ہوں ۔۔ “
نورے نے حُرّہ کو خاموش پا کر دوبارہ کہا تو حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا

” مم میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔ “

” نہیں سمجھ سکتی تم ۔۔ جانتی ہو کیوں ۔۔؟”
نورے نے ہاتھ کے اشارے سے حُرّہ کو چپ رہنے کا کہا

” کیونکہ تمہیں ہر ظلم کے بدلے میں عباس جیسا ہمسفر ملا ہے ۔۔ تمہاری خوش بختی پر رشک آتا ہے مجھے ۔۔ “
نورے بول رہی تھی اور حُرّہ کے آنسو دل پر گر رہے تھے

” لاکھ برا رویہ ہے سب کا تمہارے ساتھ مگر ۔۔ تم نہیں جانتی کہ عباس جیسا ہمسفر ہر دکھ کا مداوا ہے ۔۔ ہر خزاں میں بہار ہے ۔۔ “

” خیر میں نے اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے ۔۔ وہ جو کرے مجھے منظور ہے ۔۔”
حُرّہ کے بہتے آنسو دیکھ کر نورے نے بات ختم کر دی اور اپنے آنسو نکلنے سے پہلے لاؤنج سے نکل گئی جبکہ حُرّہ کے کرب سے آنکھیں میچ لیں

/////////////////////////

جاری ہے

اپنی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں شکریہ