Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 10
عباس ، حُرّہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے کمرے تک پہنچ چکا تھا اور دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا
” چھوٹے سرکار چائے لے آؤں آپ دونوں کے لیے ۔۔؟”
ناہید نے دروازے پر کھڑے ہو کر مؤدب انداز میں پوچھا
” مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔۔ !”
حُرّہ کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے عباس گویا ہوا
” اور بی بی جی آپ ۔۔؟؟”
ناہید نے اب حُرّہ کو مخاطب کیا تو اس نے پہلے عباس کو دیکھا جو اب جیب سے موبائل نکال کر اس پر نگاہیں جمائے کھڑا تھا پھر ناہید کو دیکھا جو سر جھکائے با ادب انداز میں کھڑی اس سے مخاطب تھی اور اس کے جواب کی منتظر تھی
“کک کچھ نہیں ۔۔ “
حُرّہ نے اپنے لبوں کے ساتھ سر کو بھی جنبش دی
” ٹھیک ہے ۔۔ ایسا کرو کچھ کپڑے لے لاؤ حُرّہ کے لیے ۔۔!”
حُرّہ کے جواب دینے پر عباس نے موبائل پر نگاہیں جمائے ناہید کو حکم دیا
” جی سرکار ۔۔ “
ناہید سر کو خم دے کر کہتی دروازہ بند کرتی واپس مڑ گئی عباس بھی دروازے کی جانب بڑھا اور لاکڈ کر کے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتا اب اپنا کوٹ اتار رہا تھا کوٹ بیڈ پر رکھتا اب وہ بیڈ پر بیٹھی حُرّہ کی جانب بڑھا بیڈ پر حُرّہ کے برابر بیٹھنے کے بجائے فرش پر بیٹھ کر حُرّہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں ت تھام لیا
” آ آپ پلیز نن نیچے نہ بیٹھیں ۔۔ !”
عباس کو اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر حُرّہ ڈرتے ڈرتے بولی
” کیوں جانم ۔۔؟”
حُرّہ کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے عباس نے سرسری انداز میں پوچھا
” مم مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔۔!”
عباس کی دل فریب نگاہوں سے گھبرا کر وہ نگاہیں جھکا کر بولی
” کیا اچھا نہیں لگ رہا ۔۔؟”
وہ ہمیشہ اس سے ایسے ہی سوال کرتا تھا جیسے بات کو طول دینا چاہتا ہو جیسے جان بوجھ کر وہ حُرّہ کو بولنے کے لیے اکساتا ہو
” مم میں اوپر بیٹھی ہوں اور آپ نیچے ۔۔!”
عباس کی گہری نگاہوں کو اپنے وجود پر محسوس کرتی وہ جلدی سے بولی
” کوئی بات نہیں جانم ۔۔ “
عباس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور حُرّہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں سے چھونے لگا عباس کا نرم دہکتا لمس حُرّہ کے وجود کو سمٹنے پر مجبور کر گیا
” آپ نے مجھے معاف کر دیا نا ۔۔؟”
حُرّہ کے چہرے پر شرم و حیا کے رنگ دیکھتا وہ دھیمی آواز میں پوچھ رہا تھا
” آ آپ پلیز بار بار معافی مت مانگیں ۔۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔۔ “
وہ کپکپاتی آواز میں بول رہی تھی اسے عباس کا انداز ہمیشہ کی طرح سرشار کر رہا تھا جبکہ عباس کی نگاہیں اس کے کپکپاتے لبوں اور لرزتی پلکوں پر تھی جو اس کو بہکا رہیں تھیں
” لیکن مجھے تو آپ سے بہت شرمندگی ہو رہی ہے ۔۔ کیسا شوہر ہوں میں ۔۔ میری لاپرواہی کی وجہ سے آپ کو اتنا کچھ سہنا پڑا ۔۔”
اب بار لہجے میں ندامت لیے وہ بول رہا تھا
” پپ پلیز آپ شرمندہ نہ ہوں ۔۔ بلکہ میں تو ساری زندگی آ آپ کی احسان مند رہوں گی ۔۔ آ آپ نے تو رواج ہی بدل دیے ۔۔ کوئی ونی کو اتنی عزت دیتا ہے ۔۔”
حُرّہ کہتے ہوئے رونے لگی جبکہ عباس نے ایک گہرا سانس لیا
” جانم آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔ یہ ونی جو ہے یہ بندوں کی بنائی ہوئی رسم ہے ۔۔ جبکہ میرے خدا نے آپ کو میری بیوی بنایا ہے ۔۔ اب آپ بتائیں میں بندوں کی مانوں یا اپنے خدا کی ۔۔ ؟”
حُرّہ کے آنسو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے پونچھتا وہ آخر میں اس سے سوال کر رہا تھا
” بتائیں کس کی ماننی چاہیے ۔۔ خدا کی یا بندوں کی ۔۔؟”
حُرّہ کو ہنوز آنسو بہاتے دیکھ کر وہ دوبارہ نرمی سے اس کے رخسار سہلاتا پوچھ رہا تھا
” خخ خدا کی ۔۔”
حُرّہ نے روندہی آواز میں نگاہیں جھکائے جواب دیا
” جی ہاں خدا کی ۔۔ اور یہ خون بہا ۔۔ ونی ۔۔ یہ سب انسانوں کی بنائی ہوئی رسوم ہیں ۔۔ جن کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا میرے ساتھ نکاح ہوا تھا ۔۔ اور نکاح کے بعد آپ کی عزت میری عزت ، آپ کا درد میرا درد ، آپ کی پریشانی میری پریشانی ، آپ کا حق ادا کرنا مجھ پہ فرض ہے حُرّہ جب آپ نے میرا حق ادا کیا ہے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔۔ جب آپ اپنی طرف سے حق ادا کر رہیں ہیں نکاح کا تو پھر میں کیسے آپ کے حقوق سے منہ پھیر لوں ۔۔ ؟ ” جانم اب آپ خود سوچیں ۔۔ اگر میں پست سوچ رکھتا اور آپ سے جانوروں سے بدتر سلوک کرتا تو کیا یہ مردانگی تھی ۔۔ ؟”
وہ بولتا ہوا آخر میں سوال کر رہا تھا جبکہ حُرّہ اس کی باتوں کے سحر میں جکڑی اس کی بات پر نفی میں سر ہلانے لگی تو عباس پھر گویا ہوا
” نہیں بلکل نہیں ۔۔ “
عباس اپنے مخصوص دھیمے اور نرم انداز میں بول رہا تھا حُرّہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بہت غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی
” کسی اور سے پہلے ۔۔ حُرّہ آپ کو خود سمجھنا ہوگا ۔۔ کہ آپ کا میرے ساتھ کیا رشتہ ہے ۔۔ سب سے پہلے آپ کو خود اپنا رتبہ ، اپنا مقام پہچاننا ہو گا ۔۔ اپنی حیثیت میری زندگی میں پہچاننی ہو گی ۔۔ جب آپ خود ہی خود کو ڈی گریڈ کر رہیں ہیں ۔۔ خود کو ونی ، خون بہا میں آئی ہوئی سمجھتی رہیں گی تو کسی اور سے کیا اچھے کی امید کی جا سکتی ہے ۔۔؟؟ “
عباس اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے نرمی سے سہلاتے ہوئے دھیمی آواز میں بول رہا تھا جبکہ حُرّہ بہت توجہ سے اس کی باتیں سن رہی تھی
” تقدیر پر یقین رکھتی ہیں ۔۔؟؟”
پھر رک کر اس نے حُرّہ سے سوال کیا حُرّہ نے کسی ٹرانس کی طرح اثبات میں سر ہلایا
” بس یہ سوچیں کہ ہمیں تقدیر نے اسی طرح ملانا تھا ۔۔ اسی طرح نکاح ہونا تھا ہمارا ۔۔ اسی طرح ہماری شادی شدہ زندگی کا آغاز ہونا تھا ۔۔ “
بولتے ہوئے وہ رک کر حُرّہ کے چہرے کو دیکھنے لگا
” سمجھ رہیں ہیں نا میری باتیں ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے اس نے سوال کیا تو حُرّہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا
” مم مگر ۔۔”
حُرّہ کہتے کہتے رک گئی
” کیا مگر ۔۔؟؟”
عباس نے اس کے جھجھکتے ہوئے رک جانے پر پوچھا
” مم میں آ آپ کک کے قابل نہیں ہوں ۔۔ مم میرا خاندان آپ کے جتنا اعلی نہیں ہے ۔۔!”
بھیگی آواز میں سر جھکا کر وہ بولی تو عباس نے سرد آہ بھری مطلب اتنا سمجھانے کے باوجود حُرّہ صاحبہ کی سوئی ابھی وہیں اٹکی ہوئی تھی
” حُرّہ میری جان یہ سوچ بلکل پست ہے ۔۔ آپ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں ۔۔ آپ جیسی باحیا ، باکردار بیوی خوش بختی سے ملتی ہے ۔۔ عورت کی خوبصورتی اس کی حیا ہے اور پاکیزہ کردار ۔۔ اور آپ میں یہ دونوں چیزیں ہیں ایسی معصوم بیوی آج کے دور میں مل گئی تو پھر مجھے اور کیا چاہیے ۔۔”
عباس بولتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آئی نمی صاف کر رہا تھا
” سمجھ آئی میری بات ۔۔؟
عباس نے بھویں اچکا کر پوچھا تو حُرّہ نے سر ہلایا
” اب تو خود کو ڈی گریڈ نہیں کریں گی نا آپ ۔۔؟”
عباس نے پھر سوال کیا تو حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
” شکر ہے میری معصوم بیوی کو میری بات سمجھ تو آئی “
عباس کو پہلے دن ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ حُرّہ معصوم و سادہ ہے تبھی بہت آسان اور سادہ الفاظ میں اس نے اسے نرمی سے سمجھایا حُرّہ کا چہرہ دیکھ کر اب اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اس کی باتیں سمجھ رہی ہے
” آپ کتنے اچھے ہیں ۔۔ ایسے مرد جن پر مجازی خدا ہونا جچ رہا ہے ۔۔ جن کو عورت کا سر کا تاج ہونا جچ رہا ہے ۔۔ جو ہر عورت کی عزت کرتے ہیں ۔۔ جو میرے با کردار ہونے کی گواہی دے رہے ہیں ۔۔ جنہیں میری سادگی ہی خوبصورتی لگتی ہے ۔۔ جو سب کے خلاف ہونے پر بھی میرا ساتھ دے رہے ہیں ۔۔ اور میرے دکھوں کو سمیٹ رہے ہیں ۔۔ آپ کے ساتھ نے مجھے عزت اور تحفظ دیا ہے ۔۔ میں مرتے دم تک آپ کہ وفادار رہوں گی ۔۔ “
حُرّہ ،عباس کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتی بے خودی کے عالم میں بول رہی تھی جبکہ عباس نے لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ سجی ہوئی تھی
” جب اتنا خوبصورت بول لیتیں ہیں آپ تو پھر اتنا خاموش کیوں رہتی ہیں ۔۔؟؟”
حُرّہ کو اپنی جانب پہلی مرتبہ بے خودی کے عالم میں تکتے دیکھ کر عباس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی جبکہ حُرّہ نے بے اختیار اپنا سر جھکا لیا
” آپ بولتی ہی کم ہیں یا ۔۔ میرے ساتھ کوئی ناراضگی ہے ۔۔ ؟”
حُرّہ کی خفت مٹانے کی غرض سے عباس نے مسکراتے ہوئے بات کا رخ بدلہ
” جج جی؟؟”
حُرّہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
” جانم جو دل میں آیا کرے بول دیا کریں ۔۔ دل میں کچھ مت رکھا کریں ۔۔ “
عباس مزید بولا تھا جبکہ حُرّہ نے محض سر ہلایا
” چلیں بولیں ۔۔!”
فرش سے اٹھ کر حُرّہ کے برابر بیٹھتے ہوئے وہ گویا ہوا اور اس کے چہرے کے نقوش کو اپنے لبوں سے چھونے لگا چہرے پر نیل کے نشانات پر اپنے لبوں سے مرہم رکھنے لگا یہاں تک کہ حُرّہ نے اس کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ لیا اور آنکھیں بھی سختی سے میچ لیں
” بہت درد ہوا تھا میری جان کو ۔۔؟؟”
چہرے پر نیل کے نشانات کو لبوں سے چھوتے ہوئے وہ بوجھل آواز میں پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ دھڑکتے دل کے ساتھ عباس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی
” اگین سوری جانم ۔۔ “
اب حُرّہ کے بازوؤں سے آستینیں ہٹا کر انگلیوں کے نشانات پر لب رکھتے ہوئے وہ مدھم آواز میں بول رہا تھا جبکہ حُرّہ سانسیں روکے اس کی شدت کو محسوس کر رہی تھی مگر زبان بولنے سے انکاری تھی
” چلیں بولیں ۔۔!”
بمشکل اپنے ابھرتے جذبات کو قابو کرتے ہوئے حُرّہ سے جدا ہوتے ہوئے عباس نے اب اس کے شرم و حیا کے باعث ہوئے سرخ چہرے اور لرزتے وجود کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے دوبارہ بات کو وہیں سے شروع کیا
” کک کیا ۔۔؟”
حُرّہ کا تنفس جب بہتر ہوا تو اس نے مدھم آواز میں پوچھا
” کچھ بھی ۔۔ ؟ “
عباس نے اب نارمل انداز میں پوچھا جبکہ حُرّہ نے اب ناسمجھی سے اسے دیکھا
” اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی فیملی میں کون کون ہے ۔۔؟”
وہ حُرّہ کو بولنے پر اکسا رہا تھا جبکہ اس کا سوال سن کر حُرّہ کے مسکراتے لب سکڑے
” مم ماں تھیں ۔۔”
آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے وہ بمشکل بولی دل میں یہ درد ہمیشہ رہنا تھا کہ وہ اپنی ماں کو آخری مرتبہ نہ دیکھ سکی
” تھیں ۔۔؟”
عباس نے ناسمجھی سے پوچھا
” اا اب نہیں رہیں ۔۔”
حُرّہ بتاتے ہوئے رونے لگی تو عباس نے لب بھینچتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا مہربان پاتے ہی وہ مزید بکھر گئی مزید شدت سے رونے لگی
” ایم سوری ۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا ۔۔ آپ صبر کریں حُرّہ ۔۔ اور خدا سے ان کے لیے دعا کریں ۔۔ پلیز صبر کریں ۔۔”
وہ لہجے میں درد لیے بول رہا تھا یہی تو حسرت تھی حُرّہ کی کہ کسی نے اس سے افسوس کرنا تو دور صبر کی دعا تک نہیں دی تھی اب عباس کا مہربان لمس پاتے ہی اس کے رونے میں شدت آ گئی تھی عباس نے اسے رونے دیا کافی دیر بعد جب وہ کچھ سنبھلی تو عباس نے اس کی جانب پانی کا گلاس بڑھایا حُرّہ نے ہچکیاں لیتے ہوئے چند قطرے پانی کے پیئے اس سے پہلے ہی عباس مزید کچھ بولتا دروازے پر دستک ہوئی تو وہ حُرّہ کے ہاتھ سے گلاس لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا دروازے کی جانب بڑھا
” صاحب یہ ۔۔”
عباس کے دروازہ کھولتے ہی ناہید نے چند شاپر اس کی جانب بڑھائے
” اور کوئی حکم سرکار ۔۔؟”
ناہید نے مؤدب انداز میں پوچھا
” نہیں ۔۔ جاؤ ۔۔!”
نفی میں سر ہلا کر عباس نے شاپر حُرّہ کی جانب بڑھائے جبکہ ناہید دروازہ بند کر کے جا چکی تھی
” جانم پہلے آپ فریش ہو جائیں ۔۔ پھر ڈنر کے لیے جائیں گے ۔۔”
شاپر حُرّہ کی جانب بڑھاتے ہوئے عباس نے کہا تو حُرّہ نے فوراً اس کی بات کی تکمیل کی
///////////////////////////
رات کے کھانے کے وقت وہ دونوں ایک ساتھ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے سردار شیر دل اور سردار بی بی کی موجودگی میں حُرّہ سہم کر وہیں دروازے پر رک گئی جب عباس نے اس کی سہمی ہوئی آنکھوں میں دیکھا اور حُرّہ کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے ساتھ کا احساس دلایا حُرّہ نے عباس کے مسکراتے چہرے کی جانب دیکھا جہاں اسے عباس کا نرم لمس اسے اعتماد بخش رہا تھا
حُرّہ عباس کے ساتھ قدم قدم چلتی کرسیوں کی جانب بڑھ رہی تھی عباس نے اپنے ساتھ والی کرسی پر پہلے حُرّہ کو بیٹھایا پھر خود بھی اپنی کرسی پر براجمان ہو گیا جبکہ سردار بی بی خونخوار نگاہوں سے حُرّہ کو دیکھ رہیں تھیں مگر سردار شیر دل نے انہیں نظرانداز کیا ہوا تھا
” ناعمہ بی بی اور نورے بی بی کو بھی بلوا لو ۔۔!”
سردار شیر دل نے ناہید کو دیکھتے ہوئے کہا
” سرکار پیغام بھجوایا تھا مگر ۔۔ انہوں نے منع کر دیا ۔۔ کھانا ان کے کمرے میں بھیج دیا ہے ۔۔”
ناہید نے سر جھکائے کہا تو عباس نے لب بھینچ لیے جبکہ سردار شیر دل نے عباس کی جانب متلاشی نگاہوں سے دیکھا جیسے عباس کے تاثرات جانچنے چاہ رہے ہوں مگر عباس اب مصروف سا حُرّہ کی پلیٹ میں کھانا نکال رہا تھا
” بابا سرکار میں چاہتا ہوں ایک چھوٹی سی تقریب ہو جائے تاکہ حُرّہ کو میں اپنی بیوی کے طور سے متعارف کروا دوں ۔۔ جس کو نہیں بھی معلوم اسے بھی معلوم ہو جائے کہ حُرّہ کی میری زندگی میں کیا حیثیت ہے ۔۔ “
کھانا کھانے کے دوران عباس نے سردار شیر دل کو مخاطب کیا جبکہ اس کی بات سن کر سردار بی بی اور سردار شیر دل چونک گئے
” بہت ہو گیا عباس ۔۔ اب کیا ہم اس دو کوڑی کی لڑکی کو اپنے سروں پر بیٹھا دیں ۔۔ لوگ کیا کہیں گے کہ اس خون بہا میں آئی ونی کو سرداروں نے بہو مان لیا ۔۔؟”
سردار بی بی عباس کی بات سن کر سیخ پا ہوئیں تھیں اور لہجے میں نفرت لیے پھنکاریں
” آپ کو معلوم ہے ماں جی لوگ پیٹھ پیچھے کیا کہتے ہیں ۔۔ مجھ سے بہتر جانتی ہوں گی آپ تو ۔۔ لوگ کہتے ہیں سردار اتنے ظالم ہیں کہ بے قصور لڑکی کو ظلم کرنے کی خاطر لے گئے ہیں ۔۔ ہاں اگر ہم حُرّہ کو اس کا حق دیں اور اس کا مقام دیں تو یہی لوگ کہیں گے کہ سردار کتنے انصاف پسند ہیں ۔۔ سزا قاتل کو دے رہے ہیں نا کہ بے قصور لڑکی کو ۔۔ “
عباس بحث کرنا نہیں چاہتا تھا اسی لیے اپنے ماں اور باپ کو انہیں کے انداز میں سمجھا رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر سردار شیر دل نے اثبات میں سر ہلایا
” عباس بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔ “
سردار بی بی کی جانب سخت نگاہوں سے دیکھتے وہ انہیں مزید کچھ نہ کہنے یہ تنبیہ کر رہے تھے
” ٹھیک ہے میں سارے انتظام کروا دیتا ہوں ۔۔”
سردار بی بی کے مزید کچھ بولنے سے پہلے ہی سردار شیر دل پھر سے عباس سے ہمکلام ہوئے
” جی بابا سرکار ۔۔”
عباس نے ہلکا سا مسکرا کر حُرّہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو سر جھکائے بیٹھی بظاہر لاتعلق بنی بیٹھی تھی مگر سب کی گفتگو بہت غور سے سن رہی تھی
///////////////////////////
وہ رات سے جانے کہاں مصروف تھا حُرّہ کل رات سے اس کا انتظار کرتی رہی تھی ابھی اسے عباس کو ایک بہت بڑی خبر دینی تھی عباس کے اس قدر اچھے رویے کے بعد حُرّہ نے اسے جلد ہی اپنے امید سے ہونے کا ارادہ کیا مگر پھر دوپہر میں ایک لڑکی غالباً وہ بیوٹیشن تھی جو بمع ایک قیمتی جوڑا اور جیولری ناہید کے ہمراہ حاضر ہوئی
” بی بی جی انہیں سرکار نے بھیجا ہے ۔ “
حُرّہ نے سوالیہ نگاہوں سے ناہید کو دیکھا تو وہ مؤدب سی بولی اور ساتھ ہی ایک چٹ حُرّہ کی جانب بڑھائی جسے تھام کر حُرّہ نے کھولا
” یہ سب میں نے خود پسند کیا ہے آپ کے لیے ۔۔ ایکچولی پہلی بار کسی لڑکی کے لیے شاپنگ کی ہے تو پتہ نہیں آپ کو پسند آتے ہیں یا نہیں ۔۔ میری طرف سے میری جانم کے لیے چھوٹا سا گفٹ ۔۔ “
تحریر کے نیچے عباس کا نام لکھا تھا جبکہ تحریر پڑھتے ہوئے بے ساختہ حُرّہ کے لبوں کو دلکش مسکراہٹ نے چھوا تھا
////////////////////////
تمام مہمان آ چکے تھے عباس خود عالیان اور احمد کے ساتھ چہرے سے مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا جس وقت اس نے اچانک عالیان اور احمد کو اپنی شادی کا سرسری سا بتایا اور ولیمے کی تقریب کی دعوت دی تو وہ دونوں تو شوکڈ میں آ گئے تھے
” ابھی بھی نہ بتاتا ۔۔ ایک دو بچے پیدا کرکے پھر ڈبل نیوز دے دیتا کہ تم لوگ چاچو بھی بن گئے ۔۔ “
عالیان جب سے آیا تھا عباس کو ایسی ہی جلی کٹی سنا رہا تھا جب کہ اس کی بات سن کر عباس اور احمد کا جاندار قہقہہ فضاء میں بلند ہوا
” یار بس کر اب ۔۔ شکر کر ہمارے دوست کے چہرے پر شادی کے بعد مسکراہٹ تو آئی ہے ۔۔ ہمیں اور کیا چاہیے ۔۔”
احمد نے عالیان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر عباس کے مسکراتے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
” اچھا اب سمجھ آئی کہ تو اتنا خوش خوش کیوں رہنے لگا تھا ۔۔ ہماری بھابھی کے بارے میں سوچ کر مسکراتا رہتا تھا ہے نا ۔۔؟؟”
عالیان جانچتی نگاہوں سے عباس کو دیکھتے پوچھنے لگا تھا
” ہاں یہی بات ہے ۔۔ “
عباس نے مسکراتے ہوئے کہا تو احمد اور عالیان نے داد دیتی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا
” بھئی ہمیں تو بس تیری خوشی چاہیے ۔۔ شکر ہے بھابھی ۔۔!”
عالیان اس بار عباس کے گلے لگ کر خوش دلی سے بولا
” لو بھابھی بھی آ گئیں ۔۔!”
احمد نے دلہن کو دور سے آتے دیکھا تو ان دونوں کو بھی متوجہ کیا
پیچ کلر کی نفیس کام سے آراستہ میکسی پہنے ہلکے میک اپ سمیت حُرّہ کا نازک سا وجود جیسے کھل گیا تھا جب عباس کی نگاہیں اس پر پڑیں تو پلٹنا ہی بھول گئیں وہ مبہوت سا حُرّہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ حُرّہ نے بھی اپنے سامنے کھڑے عباس کو دیکھا جو بلیک تھری پیس میں اپنی پوری وجاہت کے ساتھ کھڑا اس کا ہاتھ تھامنے کو آگے بڑھ رہا تھا
” یو لُکس سٹننگ جانم ۔۔!”
حُرّہ کے کان میں سرگوشی نما انداز میں کہتے ہوئے عباس نے اس کا کپکپاتا ہاتھ اپنی محبت بھری گرفت میں نرمی سے لے لیا جبکہ عباس کے تعریفی الفاظ سن کر حُرّہ نگاہیں جھکائے سرشار ہو گئی
” یہ باتیں واتیں بعد میں کرنا ۔۔ پہلے ہمیں اپنی بھابھی سے ملنے دو ۔۔!”
عباس کو چھیڑنے کے انداز میں عالیان نے کہا تو عباس نے اسے گھورا جبکہ حُرّہ نے ذرا سی نگاہیں اٹھا کر عالیان کو دیکھا
” السلام علیکم بھابھی ۔۔!”
احمد نے احترام سے حُرّہ کو دیکھ کر سلام کیا اور پھر عالیان نے بھی سر کو خم دیتے ہوئے حُرّہ کو سلام کیا جس کا جواب حُرّہ نے سر کو ہلا کر دیا حُرّہ کو ان دونوں کے انداز میں اح
” بھابھی ابھی تو میں نے آپ کو آپ کے شوہر کے بہت سے راز بتانے ہیں ۔۔ بتانا ہے کہ کیا چیز ہے آپ کا شوہر کتنی لڑکیاں اس کے پیچھے ہیں ۔۔ اس پر خاص نظر رکھنی ہے آپ نے ۔۔”
عالیان ، احمد کو آنکھ مارتا شوخ انداز حُرّہ سے کہہ رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر حُرّہ کے مسکراتے لب سکڑ گئے اسے بے ساختہ نورے کا خیال آیا عباس نے بغور حُرّہ کا اترا چہرہ دیکھا
” حُرّہ یہ مذاق کر رہا ہے ۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔!”
حُرّہ کی نم آنکھوں کو دیکھتے ہوئے عباس نے فوراً کہا تو حُرّہ نے ڈگمگائی ہوئی آنکھوں سے عباس کو دیکھا
” میں بلکل مذاق نہیں کر رہا سردار صاحب ۔۔ میں بلکل سیریس ہوں ۔۔!”
عالیان نے عباس کو دیکھتے ہوئے کاندھے اچکا کہا
” یار شی از سو انوسینٹ ۔۔ وہ تیرے مذاق کو سچ سمجھ لیں گی ۔۔ “
عباس نے عالیان کو گھورتے ہوئے کہا تو عالیان اور احمد نے چونک کر حُرّہ کو دیکھا
” ایسی کوئی بات نہیں ہے جانم ۔۔ میری زندگی میں صرف آپ ہیں ۔۔”
حُرّہ کی جانب اپنی جیب سے رومال نکال کر بڑھاتے ہوئے عباس نے دھیمی آواز میں کہا
” جی جی بھابھی عالیان کو تو عادت ہے مذاق کرنے کی ۔۔ “
احمد نے بھی عباس کی بےچاری سی شکل دیکھتے ہوئے کہا
” جی جی میں تو عباس کو تنگ کر رہا تھا ۔۔ مذاق کے بغیر اصل بات تو یہ ہے کہ آپ کا شوہر انتہائی شریف انسان ہے ۔۔ کوئی بری عادت تک نہیں ہے اس میں ۔۔ ایسے بندے سو میں سے کوئی دو فیصد ملیں گے آج کل کے زمانے میں ۔۔”
اس مرتبہ عالیان نے سچے دل سے عباس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تو احمد اور عالیان نے چونک کر اسے دیکھا کیونکہ اتنی شرافت کی امید عالیان سے کی تو نہیں جا سکتی تھی
” ویسے عباس تو بھی بہت لکی ہے ۔ بیکوز ایسی انوسینٹ بیوی بھی آج کل کے زمانے میں نہیں ملے گی..
Make for each other ..”
عالیان نے بلند آواز میں عباس کو کہا تو حُرّہ نے عباس کے مسکراتے چہرے کو دیکھا
/////////////////////////
جاری ہے
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں
