Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 20
” کیا مطلب ہے ۔۔ پاگل سمجھا ہوا ہے مجھے ۔۔ ؟؟ تم لوگوں کی باتوں میں آ جاؤں گا ۔۔ ؟؟ میں جان سے مار دوں گا تم لوگوں کو ۔۔ مجھے بتاؤ میری بیوی اور بیٹی کہاں ہیں ۔۔ ؟”
عباس کی دھاڑ گھر کی در و دیوار کو ہلا رہی تھی وہ اس قدر مشتعل تھا کہ اس سے مخاطب ہونے کی کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی
جب سے وہ پاکستان واپس آیا تھا آ کر حُرّہ اور دعا کی گمشدگی کا علم ہوا تھا اس وقت سے سب تہس نہس کر رہا تھا
پاس کھڑ ے عالیان اور احمد خود بھی پریشان ہکا بکا تھے کہ آخر ایک دن کے اندر اندر حُرّہ اور دعا کہاں جا سکتی ہیں ان دونوں سمیت کسی نے عباس کو اتنے اشتعال میں کبھی نہیں دیکھا تھا وہ جب سے آیا تھا اس وقت سے تلاش جاری کر چکا تھا اب سامنے کھڑے گارڈز کی جان لینے پر تلا تھا
” عباس ۔۔ !”
عباس ایک گارڈ پر جھپٹا تھا جب عالیان نے بمشکل اسے روکا تو وہ اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھتا اپنا آپ چھڑانے لگا
” ان سب کو جان سے مار دوں گا ۔۔ ساری غلطی میری ہے ۔۔ مجھے حُرّہ اور دعا کو یہاں چھوڑنا ہی نہیں چاہیے تھا اکیلا ۔۔ !”
غصے سے غراتا وہ آخر میں لہجے میں اذیت لیے بولا تھا اک پل کو اسے چین نہیں آرہا تھا
” صص صاحب ہہ ہمیں نہیں معلوم بی بی جی کہاں گئیں ہیں ۔۔ !”
ہاتھ جوڑے کھڑے ایک گارڈ نے ڈرتے ڈرتے کہا تو عباس نے ایک زور دار طمانچہ اس کے منہ پر مارا کہ اس کے ناک سے خون کی ایک دھار بہنے لگی
” یہی تو کہہ رہا ہوں ۔۔ تم اتنے مدہوش تھے کیوں نہیں معلوم کہاں گئیں ۔۔ ؟ یہ ڈیوٹی دی ہے تم لوگوں نے ۔۔”
عباس کے دھاڑنے اور شدید ردعمل پر وہاں موجود تمام نفوس کانپنے لگے
” ریلیکس عباس ۔۔ میں بات کرتا ہوں ۔۔ “
احمد نے عالیان کو اشارہ کرتے ہوئے کہا تو عالیان نے عباس کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا
” جو کچھ جانتے ہو ۔۔ فوراً بتاؤ ۔۔ کہاں گئیں بھابھی ۔۔ ؟؟”
احمد نے ایک دوسرے گارڈ کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس کی پہلے ہی عباس کو دیکھ کر جان نکل رہی تھی
” سس سر بی بی جی صبح صبح گیٹ سے نکل رہیں تھیں ۔۔ دعا بی بی کو لے کر ۔۔”
وہ ڈرتے ہوئے بولا تھا
” کچھ بتایا انہوں نے ۔ کہ کہاں جا رہیں ہیں ۔۔ ؟”
احمد نے اس کے خاموش ہو جانے پر پھر سے پوچھا جو عباس کو دیکھتا کانپ رہا تھا
” ہہ ہم نے پوچھا تو انہوں نے جواب نہیں دیا ۔۔ اور کہتیں کہ۔۔ تم لوگ میرے پیچھے مت آنا ۔۔ میں کسی کام سے جا رہی ہوں ۔۔ “
یہ دوسرا گارڈ تھا
” بکواس بند کرو نہیں تو کاٹ دوں گا ۔۔ حُرّہ کہیں نہیں جا سکتیں ۔۔ وہ گھر سے نکلتی ہی نہیں تھیں ۔۔ یہ بکواس کر رہا ہے ۔۔ “
عباس نے آگے بڑھ کر اس گارڈ کا گریبان پکڑ کر کہا
” عباس یار ریلیکس ۔۔ “
احمد نے عباس کو کاندھے سے تھام کر پیچھے کیا
” احمد یہ سب جانتے ہیں ۔۔ اور مجھے بھی ضرور بتائیں گے ۔۔ میں ان سب کی چمڑی ادھیڑ دوں گا ۔۔ “
عباس نے اس سے خود کو چھڑایا اور ایک گارڈ کو بالوں سے جکڑ لیا
” کس کے کہنے پر ۔۔ بتاؤ ۔۔ کس کے کہنے پر غائب کیا ہے میری بیوی اور بیٹی کو ۔۔ ؟؟”
سختی سے اس کے بالوں کو جکڑے وہ غرایا تھا جبکہ وہ گارڈ درد کی شدت برداشت کرتا کراہنے لگا
” مم مجھے ککک کچھ نن نہیں معلوم ۔۔ سس سر ججی جی۔۔”
خود کو عباس کی سخت گرفت سے چھڑاتا وہ بمشکل بول رہا تھا
” بولو نہیں تو ۔۔ تم لوگوں کے ٹکڑے کر کے کتوں کے آگے ڈال دوں گا ۔۔ “
عباس پھر غصے میں پھنکارا تھا کہ سب جی جان سے کانپنے لگے
” عباس ریلیکس یار ۔۔ “
احمد اور عالیان نے آگے بڑھ کر بمشکل عباس کی گرفت سے اسے نکال جو عباس کے عتاب کا شکار تھا
” کیسے ریلیکس کروں ۔۔ دو دن سے لاپتہ ہیں میری بیوی اور بیٹی ۔۔ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ “
عباس نے پھر سے آگے بڑھ کر ایک گارڈ کو جکڑا تھا
” کس کے کہنے پر یہ سب کیا ہے ۔۔ بتاؤ ۔۔ “
اس کا گلہ دباتے ہوئے عباس دھاڑا تھا
” سس سر ممم مجھے نن نہیں مم معلوم کک کچھ بب بھی ۔۔”
بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے وہ الفاظ حلق سے مشکل نکال رہا تھا
” اگر میری بیوی اور بیٹی کو ذرا بھی کانٹا چبھا ۔۔ تو تم لوگوں کا وہ حشر کروں گا کہ مرتے دم تک غداری کرنے پر پچھتاؤ گے ۔۔ “
غراتے ہوئے عباس نے اس کو جھٹکے سے پیچھے کیا وہ لڑکھڑاتا ہوا بمشکل سنبھلا جبکہ عباس مٹھیاں بھینچے بمشکل خود پر ضبط کرنے لگا تھا
” عباس تم حویلی سے معلوم کرو ۔۔ شاید بھابھی اور دعا وہاں ہوں ۔۔ !”
عباس کی اندرونی کیفیت کو سمجھتے احمد نے کہا تو عباس نے نفی میں سر ہلایا
” اگر وہ وہاں ہوتی تو بابا سرکار مجھے بتاتے ۔۔ “
عباس نے سر جھٹک کر کہا
” پھر بھی ایک بار جا کر پتہ تو کرو یار ۔۔ “
عالیان نے بھی اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
” ٹھیک ہے میں حویلی جا رہا ہوں ۔۔ لیکن ان کو ۔۔ ان سب کو جیل میں ڈالو تم ۔۔ !! ان کے ہوتے ہوئے میری بیوی اور بیٹی کہاں غائب ہو سکتی ہیں ؟؟۔۔ ان کو سزا میں خود دوں گا ۔۔ !”
عباس کہتا ہوا تیز تیز قدم سے چلتا باہر کی جانب بڑھ گیا
” ان سب کو جیل میں ڈال دو ۔۔ اور اچھی طرح خاطر داری کرو ۔۔ جب تک یہ لوگ اپنی زبان نہ کھول دیں ۔۔ “
عباس کے جاتے ہی احمد نے ایک سپاہی کو دیکھتے ہوئے حکم جاری کیا تو وہ سب ان کو لے کر چلے گئے جبکہ احمد اور عالیان معاملے پر باریک بینی سے غور کرنے لگے
” تمہیں کیا لگتا ہے احمد ۔۔ بھابھی کہیں خود گئیں ہیں ۔۔ یا پھر اغوا ہوئیں ہیں ۔۔ ؟”
عالیان پرسوچ انداز میں احمد سے پوچھ رہا تھا
” ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔ معلوم تو پڑے اصل بات کیا ہے ۔۔ “
احمد خود بھی کشمکش میں تھا
” سوچنے والی بات ہے ۔۔ کوئی لڑکی اتنا اچھا شوہر چھوڑ کر خوشی خوشی کیسے جا سکتی ہے ۔۔ وہ بھی سب زیور اور پیسہ لے کر ۔۔ وہ ایسی بلکل نہیں تھی یار ۔۔ عباس بلکل درست کہتا ہے ضرور کسی کی سازش ہے ۔۔ “
عالیان بول رہا تھا اور اس کے لہجے سے پریشانی عیاں تھی
“ہمم ۔۔ اور گارڈ کا کال نہ پک کرنا ۔۔ چوکیدار کا چھٹی پر چلے جانا ۔۔ یہ سب اسی بات کی طرف اشارہ کر رہیں ہیں ۔۔ کہ کچھ تو ہوا ہے ۔۔ کچھ گڑبڑ تو ہے ۔۔”
احمد بھی سر ہلاتا بولا تھا
” اور عباس بھی یہی کہہ رہا ہے کہ کسی کے کہنے پر ہوا ہے یہ سب ۔۔ مطلب کہ ۔۔ “
عالیان نے بات ادھوری چھوڑی تھی
” مطلب کہ عباس کو کسی پر شک ہے ۔۔ !”
احمد نے اس کی بات مکمل کی تو عالیان نے اثبات میں سر ہلایا
” عباس کا اتنا شدید ری ایکشن پہلی بار دیکھا ہے یار ۔۔ “
تھوڑی خاموشی کے بعد عالیان پھر سے یاد کرتا ابرو اچکا کر گویا ہوا
” ہاں یار کبھی بھی اتنا غصہ نہیں ہوتا عباس ۔۔ ہر طرح کے حالات میں صبر و تحمل سے کام لیتا ہے ۔۔ ضبط کرتا ہے ۔۔ لیکن آج تو اسے دیکھ کر میں شوکڈ ہوں ۔۔ “
احمد بھی بھی حیرت زدہ ہوتے ہوئے کہا
” دو دن ہو گئے ہیں ۔۔ اس کی بیوی اور بیٹی لاپتہ ہیں ۔۔ دیکھ نہیں رہے ایک منٹ کے لیے سکون نہیں آ رہا اسے ۔۔”
اس کے لہجے میں عباس کے لیے فکر و پریشانی تھی
” خدا کرے بھابھی اور دعا ٹھیک ہوں ۔۔ “
احمد سچے دل سے دعا کرتا گویا ہوا
” آمین یار ۔۔ اللہ بھی انہیں سے امتحان لیتا ہے جو سہنے کی سکت رکھتے ہوں ۔۔ “
عالیان کے اداس انداز سے کہنے پر احمد نے بھی سر ہلایا
//////////////////////////
” سلام سرکار ۔۔ !”
عباس گاڑی سے اترا تو تمام ملازمین سمیت گارڈز نے سر جھکائے سلام کیا جبکہ عباس کا بے حد سنجیدہ اور چہرے کا جلال اس کے روعب و دبدبے میں مزید اضافہ کر رہا تھا اور اپنے مخصوص انداز میں تیز تیز قدم بڑھاتا وہ تمام لوگوں کو الرٹ کر گیا
سارے راستے وہ یہی سوچتا آیا تھا کہ آخر حُرّہ کہاں جا سکتی ہے کچھ شک اسے حویلی والوں پر ہو رہا تھا اسی لیے شک کی تصدیق کرنے فوراً آ پہنچا تھا
” سلام سرکار ۔۔ !”
شہزاد نے عباس کے پیچھے چلتے ہوئے سلام کیا
” بابا سرکار کہاں ہیں شہزاد ۔۔ ؟؟”
چلتے ہوئے اس نے پوچھا
” سرداد وہ حویلی میں ہی ہیں ۔۔ “
شہزاد نے اسے آگاہ کیا تو عباس کی رفتار مزید تیز ہو گئی شہزاد اس کے پیچھے چلتا ہانپ گیا
وہ لاؤنج عبور کرتا ڈائننگ ہال کی جانب بڑھا جہاں حویلی کے مکین رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر عباس نے ایک نظر سب کو دیکھا باقی سب بھی اس کی جانب متوجہ ہو چکے تھے
” السلام علیکم ۔۔”
سلام کرنے کے بعد وہ چند قدم آگے بڑھا تھا سردار بی بی اور ناعمہ نے اچانک عباس کی آمد پر ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ اس کے سلام کا جواب سب نے تپاک سے دیا
” ارے اتنی جلدی باہر سے آ گئے تم ۔۔ خیریت ہے ۔۔ ؟”
سردار شیر دل خود آگے بڑھے تھے اور اسے گلے لگاتے بولے تھے
” حُرّہ اور دعا کہاں ہیں ۔۔ ؟”
اس کے اچانک سوال پر وہ چونکے عباس کا انداز ان سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا سردار بی بی اور ناعمہ نے اس پل اس سے نگاہیں چرائیں
” کیا مطلب ہے ۔۔ ہمیں کیا معلوم کہاں ہیں وہ ۔۔ ہم سے کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔ ؟”
سردار شیر دل ماتھے پر بل ڈالے بولے تھے
” دو دن سے میری بیوی اور بیٹی غائب ہیں ۔۔ بابا سرکار کہاں ہیں وہ دونوں ۔۔ ؟”
عباس کے انداز میں بے چینی واضح تھی جبکہ باقی سب حیرت زدہ سے اسے دیکھ رہے تھے نورے بھی مکمل متوجہ ہوئی معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
” تمہاری بیوی اور بیٹی کا ہمیں کیا پتہ کہاں ہے ۔۔ ہم سے کیوں پوچھ رہے ہو عباس ۔۔ ؟”
سردار شیر دل خاصے بلند آواز میں بولے تھے
” بابا سرکار اگر آپ نے یا ماں نے حُرّہ اور دعا کو کہیں غائب کیا ہے تو مجھے بتا دیں ۔۔ “
عباس کی بات سن کر سردار شیر دل اور سردار بی بی نے اسے غصے سے دیکھا سرداد بی بی ماتھے پر بل ڈالے اپنی نشست سے اٹھیں
” تمہارا دماغ ٹھیک ہے عباس ۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ۔۔ “
اس مرتبہ سردار شیر دل دھاڑے تھے
” دو دن سے لاپتہ ہیں حُرّہ اور دعا ۔۔ مجھے صرف اتنا بتائیں کہ وہ دونوں کہاں ہیں ۔۔ مجھے بتائیں بابا سرکار ۔۔”
عباس نے اپنی بات دوہرائی تو جہاں باقی سب کو سن کر جھٹکا لگا وہیں ناعمہ بی بی نے پہلو بدلا
” تو ہم نے غائب کروایا ہے تمہاری بیوی اور بیٹی کو ۔۔ یہ کہنا چاہ رہے ہو تم ۔۔ الزام لگا رہے ہو اس دو ٹکے کی لڑکی کی وجہ سے اپنے ماں باپ پہ ؟۔۔ “
سردار بی بی عباس کو دیکھتی طنزیہ پوچھ رہیں تھیں
” میں حقیقت بیان کر رہا ہوں ماں ۔۔ میرے گھر سے میری بیوی اور بیٹی اچانک غائب ہیں ۔۔ ایسی جرات کون کر سکتا ہے ۔۔ میں جانتا ہوں یہ سب آپ لوگوں کے کہنے پر ہوا ہے ۔۔ بتائیں کہاں ہیں حُرّہ اور دعا ۔۔ ؟”
عباس ہنوز ادب سے گویا ہوا تھا مگر اس کے الفاظ سردار شیر دل اور سردار بی بی کو خفا کر گئے
” ہمیں نہیں معلوم عباس ۔۔ بہت ہو گیا اب تم اس لڑکی اور اس کی بیٹی کی خاطر اپنے ماں باپ سے پوچھ گچھ کرو گے۔۔ ؟”
سردار شیر دل سر جھٹکتے بولے تھے انہیں دکھ پہنچا تھا کہ ان کا بیٹا انہیں اتنا غلط سمجھ رہا تھا جبکہ سردار بی بی دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کر رہیں تھیں کہ ان کا منصوبہ ناکام نہیں ہوا تھا
” بابا سرکار ۔۔ میں جانتا ہوں آپ لوگوں کو حُرّہ اور دعا کا وجود میرے آس پاس پسند نہیں ہے مگر مجھے جاننا ہے میری بیوی کہاں ہے ۔۔ میری بیٹی میرے بغیر نہیں رہتی ۔۔ پلیز بتائیں کہاں ہے وہ ۔۔ ماں سے پوچھیں کیا کیا ہے اس کے ساتھ ۔۔ “
عباس اضطرابی حالت میں تھا اس کو اپنی بیوی اور بیٹی کے لیےتڑپا دیکھ کر نورے کے دل میں بھی ٹیس اٹھی تھی
” تم غلط فہمی کا شکار ہو۔۔ ہر چیز ایک طرف مگر ہم یہ حرکت نہیں کر سکتے تم یقین کرو ۔۔ “
عباس کی سرخ اور بوجھل آنکھیں دیکھتے سردار شیر دل کے دل کو کچھ ہوا تھا
” آپ دونوں جانتے تھے کہ میں پاکستان سے باہر ہوں ۔۔ میری غیر موجودگی میں آخر یہ سب کیسے ہوا ۔۔ مجھے بتائیں ماں ۔۔ بتائیں مجھے کہاں اچانک غائب ہو گئیں وہ ۔۔ “
عباس کا انداز اور لہجہ اس قدر مضطرب تھا کہ وہاں موجود ہر ایک نے نوٹ کیا
” تم اپنی ماں پر الزام لگاؤ گے اب ۔۔ یہ دن دیکھنا رہ گیا تھا ۔۔ دیکھ لیا آپ نے سرداد جی ۔۔ میں نے کہا تھا نا آپ کو وہ لڑکی جادوگرنی ہے ۔۔ ہمارے فرمانبردار بیٹے کو ہمارے خلاف کھڑا کر دیا ۔۔ “
سردار بی بی لہجے میں مصنوعی حیرت اور دکھ لیے گویا ہوئیں جبکہ ان کی باتوں پر عباس نے سر جھکایا یقیناً آپ دنیا سے لڑ سکتے ہو مگر اپنوں سے لڑنا کٹھن ہوتا ہے
” عباس تم ہمارے بیٹے ہو ۔۔ اور ہم جانتے ہیں تم اس لڑکی اور اس کی بیٹی کو بہت اہمیت دیتے ہو ۔۔ تم جانتے ہو ہم اسے قبول بھی کر چکے ہیں ۔۔ اگر مجھے یا تمہاری ماں کو اسے غائب ہی کروانا ہوتا تو بہت پہلے کروا چکے ہوتے ۔۔ یقین کرو بیٹا ۔۔ “
عباس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر سردار شیر دل دھیمے انداز میں بولے
” جیسے آپ میری تکلیف پر تڑپ رہے ہیں نا بابا ۔۔ اسی طرح میں بھی باپ ہوں ۔۔ میری بیٹی پتہ نہیں کس حال میں ہوگی ۔۔ مجھے چین نہیں آ رہا ۔۔ خدایا اگر کچھ معلوم ہے اس بارے میں تو پلیز بتائیں مجھے ۔۔ “
التجائی انداز میں بولتے ہوئے آخر میں عباس نے سرداد بی بی کو دیکھا جبکہ اس کے لہجے میں موجود درد سب نے محسوس کیا نورے ، عباس کی اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے دیوانگی دیکھ کر سر جھکا گئی
” ارے میرے بیٹے تم کیوں تڑپ رہے ہو اس لڑکی کی خاطر ۔۔ اور اس کی اولاد کی خاطر ۔۔ ایسی لڑکیوں کا کیا بھروسہ ۔۔ یہ تو پیسے کی بھوکی ہوتی ہیں ۔۔ آج کسی کے ساتھ تو کل کسی کے ساتھ جب دل بھر جائے ۔۔ “
عباس کو دکھ میں دیکھتی وہ اپنے ظرف کے مطابق بولیں تھیں
” خدا کے لیے ماں ۔۔ بار بار حُرّہ پر کیچر مت اچھالا کریں ۔۔عزت ہے میری ۔۔ “
عباس ان کی بات پر تڑپ کر بولا تھا
” بیٹا تم نہیں جانتے ایسی لڑکیوں کو ۔۔ معصوم شکل کے پیچھے کیا ہوتی ہیں ۔۔ سب ان کی سازش ہوتی ہے ۔۔ زیورات اور پیسے چیک کر لینے تھے ۔۔ ظاہر ہے خالی ہاتھ تو گئی نہیں ہو گی وہ چالاک اور بدکردار لڑکی ۔۔ “
وہ نفرت سے بولیں تھیں جبکہ ان کے الفاظ بمشکل عباس نے برداشت کیے تھے
” خدا کے لیے ماں ۔۔ مزید حُرّہ کے متعلق ایسے الفاظ
برداشت نہیں کروں گا ۔۔ “
وہ ایک ہاتھ بلند کرتا بولا اور جانے کے لیے واپس مڑ گیا
” کہاں جا رہے ہو ۔۔ ؟؟”
اسے جاتا دیکھ سرداد شیر دل نے بیوی کو گھورا اور عباس کو پکارا باپ کی پکار پر وہ رکا
” اس ونی کی خاطر تم ماں باپ سے منہ موڑ کر جا رہے ہو ۔۔ ؟؟”
اس مرتبہ سردار بی بی بولیں تھیں
” بے فکر رہیں اتنا ظالم نہیں ہوں ۔۔ “
رک کر جتاتی نگاہوں سے دیکھتا وہ جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی سے حویلی سے جا چکا تھا جبکہ پیچھے حویلی کے مکین خاموش ہو گئے تھے کیونکہ کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہا تھا ان سب کی زندگی کا سب سے بڑا کانٹا یعنی حُرّہ اور اس کی بیٹی ان کی زندگی سے نکل چکی تھیں ناعمہ بی بی اور سردار بی بی نے ایک دوسرے کو گردن اکڑا کر دیکھا یقیناً اب نورے اور عباس کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی تھی
///////////////////////////
کتنے ہی دن گزر گئے تھے اسے حُرّہ اور دعا کو تلاش کرتے ہوئے مگر کوئی راستہ اسے ان تک نہیں پہنچا رہا تھا دن رات وہ ایک کر چکا تھا مگر وہ کہیں نہیں مل رہیں تھیں وہ دن رات تکلیف میں تھا بہت سے پچھتاوے اسے گھیرے ہوئے تھے کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کی حفاظت نہ کر سکا
” مجھے معاف کر دیں حُرّہ میں اپنا وعدہ نہیں نبھا سکا ۔۔ آپ کی حفاظت نہیں کر سکا ۔۔ پلیز میرے اللہ مجھے میری حُرّہ اور دعا سے ملا دے ۔۔ پتہ نہیں وہ دونوں کیسی ہوں گی ۔۔ کس حال میں ہوں گی ۔۔ دعا تو بہت مس کرتی ہوگی مجھے ۔۔ “
کافی رات ہو چکی تھی اور وہ آج بھی رات کے اس پہر کراچی کی سڑکیں ناپ رہا تھا آج بھی وہ پاگلوں کی طرح ان دونوں کو ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ جو گم جائیں انہیں ڈھونڈنا تو ممکن ہے مگر جو جان بوجھ کر اوجھل ہو جائیں انہیں تلاش کرنا دنیا کا مشکل ترین عمل ہے
” کیسے رہوں میرے مالک میں ان کے بغیر ۔۔ ؟ “
گاڑی میں بیٹھا وہ سیٹ کی پشت پر سر ٹکائے آنکھیں موند گیا اسے اپنی اور حُرّہ کی پہلی ملاقات یاد آئی تھی
” نام کیا ہے ۔۔ ؟”
حُرّہ کی لرزتی پلکوں پر اپنی تھکان سے بوجھل آنکھیں جمائے اس نے سرد انداز میں پوچھا
” کک کس کا ۔۔؟”
ہنوز آنکھیں جھکائے حُرّہ نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا اس کے لہجے میں نا سمجھی تھی دراصل عباس کی نگاہیں اسے گھبرانے پر مجبور کر رہیں تھی
” آپ کا ۔۔ !”
ہنوز سرد انداز میں پوچھا گیا حُرّہ کی غائب دماغی پر عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری تھی
” حح حُرّہ ۔۔ “
کپکپاتی آواز میں بولتے ہوئے حُرّہ نے اپنی چادر کو سر سے مزید ماتھے پر کیا عباس اس کی حرکت کو بغور دیکھ رہا تھا
” حُرّہ ۔۔ ! یہ کیسا نام ہے ۔۔؟ کیا مطلب ہے حُرّہ کا ۔۔ ؟”
نام واقعی عباس نے پہلی مرتبہ سنا تھا اس لیے اسے دلچسپی ہوئی جبکہ چند پل حُرّہ خاموش رہی عباس کو لگا اسے اپنے نام کا مطلب نہیں آتا اس لیے خاموش ہو گئی
” آزاد عورت ۔۔ !”
الفاظ ادا کرتے ہوئے حُرّہ کی آواز بھیگ گئی ناہید کی دھمکی یاد کرتے ہوئے اس نے بمشکل آنکھیں جھپکا کر اپنے آنسو نکلنے سے روکے
” حُرّہ مطلب ۔۔ آزاد عورت ۔۔”
عباس نے دہراتے ہوئے تمسخرانہ ہنسی لبوں پر سجائی جبکہ اسی پل حُرّہ نے نگاہیں اٹھا کر عباس کو دیکھا عباس کا یوں ہنسنا وہ سمجھ گئی تھی کیونکہ وہ تو اس کی قید میں تھی اپنے نام کے بلکل الٹ
” عمر کیا ہے ۔۔؟”
حُرّہ کے وجود سے نگاہیں ہٹاتے ہوئے عباس نے اگلا سوال کیا
” ا انیس سال ۔۔”
جواب دیتے ہوئے حُرّہ نے پھر سے نگاہیں جھکا لیں جبکہ عباس نے پھر سے نگاہوں کا رخ حُرّہ کی جانب کیا اور اسے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا اسے وہ کم عمر لگ رہی تھی
” پڑھتی تھی ۔۔ ؟”
عباس کے’ تھی ‘ کہنے پر حُرّہ نے چونک کر اسے دیکھا
” جج جی ۔۔”
وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا اب کہاں وہ پڑھ سکے گی
” کیا ۔۔ ؟”
” بی اے ۔۔!”
عباس کے اگلے سوال پر حُرّہ نے جواب دیا تو عباس چند پل خاموش رہا جبکہ حُرّہ بھی سر اور نگاہیں جھکائے کھڑی رہی اسے عباس کا یوں سوال پہ سوال کرنا عجیب لگ رہا تھا اور پھر اس کا انداز اتنا سرد تھا اور نگاہیں اتنی گہری تھیں کہ حُرّہ دل میں خدا سے رحم کی دعائیں مانگنے لگی
” یہاں آئیں ۔۔ !”
عباس نے حکمیہ انداز میں کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں جبکہ عباس کے حکم پر حُرّہ لرز گئی مگر ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اس کے پاس تبھی مردہ چال چلتی عباس کے قریب پہنچی
” بیٹھیں ۔۔!”
ہنوز آنکھیں موندے عباس نے اگلا حکم دیا تو حُرّہ لرزتے ہوئے عباس کے قدموں میں بیٹھ گئی اسی پل عباس نے آنکھیں وا کیں حُرّہ کو اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھ کر ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا اور سرعت سے ہاتھ بڑھا کر حُرّہ کی کلائی اپنے سخت شکنجے میں لی اور اپنی جانب کھینچا اچانک افتاد پر حُرّہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی عباس کے سینے سے مس ہونے کے بعد وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنے اور عباس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ قائم کر گئی جبکہ لرزتا ہاتھ ابھی بھی عباس کے شکنجے میں تھا عباس ہنوز نگاہیں اس پر جمائے ہوئے تھا جب موبائل کی ٹون بجی
” میں حویلی میں ہوں ۔۔ “
کال اٹینڈ کرتے ہی دوسری جانب سے کچھ پوچھا گیا تھا جس کا جواب عباس نے دیتے ہوئے حُرّہ کو دیکھا جو کہ رخ موڑے شاید رو رہی تھی
” ٹھیک ہوں ۔۔”
دوسری جانب موجود عالیان نے اس کا حال پوچھا تھا یقیناً اسے عباس کی فکر تھی جبکہ عباس ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے دوسرے سے حُرّہ کی کلائی جکڑے ہوئے تھا
” دیکھ غم بھلانے کے دو طریقے ہیں ایک شراب اور دوسرا شباب ، اور تو ان دونوں چیزوں سے فاصلہ رکھتا ہے ۔۔ تبھی تیری یہ حالت ہے۔۔ میں نے تو تجھے کہا تھا ایک سپ لے گا تو سب بھول جائے گا ۔۔ یا پھر ششب ۔۔ “
ابھی وہ آگے کچھ بولتا اس سے پہلے عباس نے کال کاٹ دی اور موبائل میز پر پٹخا اس کی اس حرکت پر حُرّہ کانپ گئی اور اپنی کلائی اس کی آہنی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ عباس کے دماغ میں عالیان کی باتیں گردش کر رہیں تھیں
” چچ چھوڑ دیں مجھے ۔۔ “
حُرّہ کی لرزتی آواز پر عباس نے چونک کر اسے دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں موجود اس کا ہاتھ دیکھا اگلے پل عباس نے اس کی کلائی چھوڑ دی اور اٹھ کھڑا ہوا دروازے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے وہ اپنی شرٹ کر بٹن کھول رہا تھا جبکہ حُرّہ اپنی کلائی کو سہلاتی ہوئی پھٹی آنکھوں سے عباس کو اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ رہی تھی عباس نے دروازہ لاکڈ کیا اور پھر سے حُرّہ کی جانب بڑھا اس دوران وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا صوفے سے چپکی حُرّہ کو اپنی باہوں میں لے کر جب وہ بیڈ پر لایا تو حُرّہ نفی میں سر ہلانے لگی
” نن نہیں ۔۔ پلیزز رر رحم کریں ۔۔ رحم کریں سرکار ۔۔”
عباس کو اپنی چادر کھینچتے دیکھ کر حُرّہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ التجا کرنے لگی
” ششش سکون چاہیے فی الحال مجھے ۔۔ “
حُرّہ کے اپنے سینے سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے اس کا چہرہ اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھا
ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی روشنی بھی بند کر دی کمرے میں تاریکی چھا گئی جبکہ حُرّہ نے مزاحمت کرنا بھی چھوڑ دی تو عباس نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے حُرّہ نے ایک ہاتھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے عباس کے سینے کے بالوں کو سختی سے پکڑ لیا اتنے دن میں پہلی بار عباس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی
وہ پل یاد کرتے ہوئے ایک اذیت بھری مسکراہٹ اس کے چہرے پر آ ٹھہری تھی اس نے معاملات کو سلجھانے کی بہت کوشش کی تھی حُرّہ کو عزت اور محبت دے کر اس نے ونی کی رسم کو بدل دیا تھا مگر لوگوں کی سوچ بدلنا مشکل ترین کام تھا کسی اور کے کیے کی سزا ایک بےقصور معصوم لڑکی کو دینا اپنا اولین حق سمجھتے تھے جس میں پیش پیش اس کے اپنے بھی تھے اس کے اپنے ماں باپ دل میں گنجائش نہیں رکھتے تھے
جب وہ حویلی میں داخل ہوا تو رات کافی گہری ہو چکی تھی وہ تھکے تھکے انداز میں چلتا شکست زدہ سا لگ رہا تھا سفید شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑے ، بےترتیب بال ، داڑھی کچھ بڑھی ہوئی ایک ہاتھ میں سیاہ کوٹ اور دفتری بیگ تھامے دوسرا ہاتھ بالوں میں پھیرتا وہ چل رہا تھا آنکھیں سرخ اور بوجھل تھیں
کسی کی نگاہوں کو مسلسل محسوس کرتا وہ رکا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو نورے اسی کو دیکھ رہی تھی عباس کے متوجہ ہونے پر وہ بوکھلائی فوراً سر جھکا گئی
” السلام علیکم ۔۔ “
نورے کے سلام کا جواب اس نے محض سر ہلا کر دیا
” آآ آپ ٹھیک نہیں لگ رہے چھوٹے سردار ۔۔ خیریت ہے ۔۔ ؟”
نورے کے جھجھک کر پوچھنے پر عباس نے طویل سانس لیا
” ہمم ٹھیک ۔۔ “
مختصر جواب دیتا وہ آگے بڑھنے لگا جب دوبارہ نورے کی بات نے اس کے قدم جکڑے
” کچھ پتہ چلا حُرّہ اور دعا کا ۔۔ ؟؟”
” نہیں ۔۔ !”
عباس نے نگاہوں کا زاویہ دوسری سمت کرتے ہوئے یک لفظی جواب دیا
” آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ انشاءاللہ جلدی ہی وہ دونوں مل جائیں گی ۔۔ “
نورے نے کہا تو عباس نے سر ہلایا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ نورے بے چینی سے اپنے کمرے میں چلی گئی
////////////////////////////
جاری ہے
