Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر : 23
” کیا ہوا احمد تم نے اتنی جلدی میں بلایا مجھے ۔۔ ؟؟ سب خیریت تھی ۔۔ ؟”
پولیس ٹیشن میں داخل ہونے کے بعد احمد اسے سامنے ہی نظر آیا عباس کے پکارنے پر احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے لیے اپنے کیبن میں آیا
” عباس میری بات غور سے سننا ۔۔ ! “
احمد نے تمہید باندھی عباس ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا
” ہمم بولو ۔۔ سن رہا ہوں ۔۔ “
عباس بےحد سنجیدگی سے گویا ہوا
” ہم جسے قاتل سمجھ رہے تھے ۔۔ اس نے قتل نہیں کیا ۔۔ “
احمد کی بات پر عباس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
” کس کی بات کر رہے ہو ۔۔ ؟؟”
” خاور نے عابی کا قتل نہیں کیا ۔۔ بلکہ اس کا تو عابی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔۔ “
احمد ایک بار پھر گویا ہوا مگر اس کے الفاظ عباس کی سماعتوں پر بہت بھاری گزرے کئی پل وہ بے یقینی کی کیفیت میں احمد کا چہرہ تکتا رہا
“کک کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔ ؟”
اس کے لب پھڑپھڑائے تھے
” میں صحیح کہہ رہا ہوں ۔۔ خاور اس کیس کا اہم فریق ہے ۔۔ مگر وہ قاتل نہیں ہے ۔۔ “
احمد مزید بولا تھا نگاہیں عباس کے چہرے پر تھیں
” عابی کے ساتھ ہوئے سانحے کا چشم دید گواہ ہے خاور ۔۔ قاتل نے اس کو دیکھ لیا تھا ۔۔ خاور اپنی جان بچا کر بھاگا یہی اس کی غلطی تھی کہ وہ چھپ گیا ملک سے باہر چلا گیا ۔۔ اگر وہ بیان دے دیتا ۔۔ جو اب اس نے آ کر بتایا ہے وہ اسی وقت بتا دیتا تو اصل قاتل بہت پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ جاتا ۔۔ خاور وہ واحد آدمی تھا جو گاؤں سے اچانک غائب ہوا تھا ۔۔ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے ۔۔ ہمارا شک اس لیے اس کی طرف گیا ۔۔ اس لیے سارا الزام ہی خاور پر لگا دیا گیا ۔۔ درحقیقت قاتل کوئی اور تھا اور اس قدر شاطر کہ ہمارے سامنے رہا ۔۔ ہمیں بےوقوف بناتا رہا ۔۔ اور ہم بنتے رہے ۔۔ “
احمد جیسے جیسے بولتا جا رہا تھا عباس کے ماتھے کے بل بڑھتے جا رہے تھے
” کک کون ہے ۔۔ کون قاتل ہے ۔۔ ؟”
عباس کی آواز میں بوجھل پن تھا دو سال تک وہ دھوکے میں رہا تھا جسے ڈھونڈنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دیے وہ تو وہ تھا ہی نہیں وہ تو دھوکہ تھا
” تم پہلے خاور سے مل لو ۔۔ اسے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ وہ تمہاری تلاش میں ہی میرے پاس آیا تھا ۔۔ “
احمد نے کہا اور بیل دی چند لمحوں میں ہی ایک سفید شلوار قمیض پہنے ہوئے آدمی کمرے میں داخل ہوا عباس کی نگاہیں اس پر ٹک گئیں
” چھوٹے سردار ۔۔ !”
اس نے سر جھکائے عباس کو پکارا جبکہ عباس بے تاثر نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
” مم مجھے معاف کر دیں سرکار ۔۔ مم میں ڈر گیا تھا اس لیے بھاگ گیا گاؤں سے ۔۔ مم میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں ۔۔ میرے علاوہ کوئی سہارا نہیں ان کا ۔۔ اگر میں نہ جاتا تو آپ مجھے مار دیتے ۔۔ “
ہاتھ جوڑے وہ گویا ہوا اور عباس نے اسے سرد نگاہوں سے دیکھا
” خدا کے لیے مجھے چھوٹی بی بی سے ملوا دیں ۔۔ میرے ماں باپ ان سے معافی مانگنا چاہتے ہیں ۔۔ انہیں بےقصور ہو کر بھی ونی کیا گیا ۔۔ میرے ابا کی اچانک موت نے میری ماں کے ذہن پر برا اثر ڈالا ۔۔ میری ماں یہی کہتی ہے کہ یتیم پر ظلم کیا ہے اسی کی سزا ہے ۔۔ ! جب تک معافی نہیں مانگ لیتے ان سے خدا بھی معاف نہیں کرے گا ہمیں ۔۔تبھی مصیبتیں ختم ہوں گی ہماری ۔۔ “
وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑے بول رہا تھا جبکہ عباس کا چہرہ کسی بھی جزبے سے عاری تھا وہ بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا
” قق قتل کس نے کیا تھا ۔۔ ؟؟ کسے دد دیکھا تھا تم نے اس دن ۔۔ ؟؟”
عباس بولا تو خاور کے آنسو تھمے
/////////////////////////
” شہزاد ۔۔ !!”
حویلی میں داخل ہوتے ہی وہ دھاڑا تھا کہ حویلی کے در و دیوار لرز اٹھے
حویلی کے نوکروں کے علاوہ مالکان بھی اپنے کمروں سے نکل کر باہر آ چکے تھے عباس کی آنکھوں میں خون دیکھ کر ہر کوئی لرز گیا سرداد شیر دل نے بیٹے کو تاسف سے دیکھا جس کا چہرہ وحشت زدہ تھا
” عباس ۔۔! کیا ہوا بیٹا ۔۔؟؟”
ابھی سرداد شیر دل نے پوچھا ہی تھا کہ عباس دور سے آتے شہزاد کی جانب لپکا اور اسے لیے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا پیچھے سرداد شیر دل، سرداد بی بی اور ناعمہ کے علاوہ کسی اور کے آنے کی جرات نہ تھی
” کس چیز کا بدلہ لیا ہے تم نے ہم سے ۔۔ کیا قصور تھا میری بہن کا ۔۔ ؟؟”
شہزاد کا گریبان پکڑے وہ دھاڑا تھا جبکہ شہزاد کا رنگ لمحے میں زرد پڑا تھا
” میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا مگر اس سے پہلے میں وہ وجہ جاننا چاہتا ہوں جس کے باعث تم نے اتنا بڑا ظلم کیا ۔۔ جانتے ہو کیوں ۔۔ ؟ کیونکہ تمہیں میں نے بچپن سے اپنے ساتھ پایا ہے ۔۔ آج تک تمہاری آنکھوں میں ہوس نہیں دیکھی میں نے ۔۔ پھر یہ سب کیسے مان لوں کہ تم ۔۔ تم ہی میری عزت کے قاتل ہو ۔۔ “
شہزاد پر دھاڑتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے جبکہ شہزاد کی آنکھوں اور سر ہمیشہ کی طرح عباس کے ادب میں جھکا ہوا تھا مگر لب قفل تھے
” یہ جھکی ہوئی آنکھیں اور جھکا ہوا سر ۔۔ یقیناً شرمندگی کے باعث تو نہیں ہو گا ۔۔ شہزاد مجھے جواب چاہیے ۔۔ نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔”
شہزاد کا ہنوز احترام میں کھڑے رہنا عباس کو مزید مشتعل کر گیا وہ مکا شہزاد کے چہرے ہر مارتا دھاڑا جبکہ شہزاد کے ناک سے خون بہنے لگا وہ ناک پر ہاتھ رکھے لڑکھڑا گیا باقی سب ہنوز اپنی جگہ ساکن کھڑے تھے
” بولو ۔۔ !!”
ایک اور مکا شہزاد کے چہرے پر مارتے وہ دھاڑا
” مم میری نو سال کی معصوم بہن تو نہیں بھولی ہو گی آپ کو بڑے سردار ۔۔ ؟؟”
شہزاد لہجے میں نفرت لیے اور آنکھوں میں انتقام لیے سرداد شیر دل کی جانب رخ کیے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے غیر متوقع سوال پر سب نے اسے ناسمجھی سے دیکھا مگر ایک لمحے سے بھی کم وقت میں سردار شیر دل کے چہرے پر موت کی زردی اتری
” کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔ اس بات کا کیا مقصد ۔۔ ؟؟”
چند لمحے خاموشی کے بعد عباس پھر سے غرایا جبکہ شہزاد نے اپنی آنکھیں سردار شیر دل کی آنکھوں میں گاڑیں ہوئیں تھیں
” یہیں سے تو کہانی شروع ہوئی تھی چھوٹے سردار ۔۔ !”
ہنوز سردار شیر دل کو دیکھا وہ بولا
” کک کیا کک کہنا چچ چاہتے ہو ۔۔ ؟؟”
بے ربط الفاظ میں سردار شیر دل نے سوال کیا انہیں بہت سے اندیشوں نے جکڑ لیا تھا جبکہ عباس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا ہو وہ شہزاد کے بولنے کا منتظر تھا
” تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے میری نو سالہ بہن کو وحشیوں نے نوچ کھایا ۔۔ صرف تمہاری وجہ سے ۔۔ !”
شہزاد کے لہجے میں درد تھا وہ بولا تو اپنے الفاظ سے وہاں موجود ہر شخص کو منجمد کر گیا
” تم جانتے بھی ہو کس سے مخاطب ہو ۔۔ ؟؟ “
عباس نے غصے سے اس کے گریبان پر گرفت سخت کی
” جی چھوٹے سردار ۔۔ میں اپنی بہن کے مجرم سے مخاطب ہوں ۔۔ “
شہزاد لہجے میں نفرت لیے بولا
” خبردار اگر میرے بابا کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تم نے ۔۔ !”
عباس پھر سے غرایا
” سردار شیر دل میں اتنی ہمت نہیں ہے چھوٹے سردار ۔۔ کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے ۔۔ اس لیے میں ہی بتا دیتا ہوں ۔۔ “
شہزاد اس بار عباس کی جانب دیکھتا گویا ہوا
” آج سے بیس سال پہلے ۔۔ سرداد شیر دل نے مجھے اور میری بہن کو حویلی میں پناہ دی کیونکہ ہم لاوارث تھے ۔۔ یتیم تھے ۔۔ حویلی کے ایک خاص ملازم نے میری معصوم بہن کے ساتھ غلط کرنے کی کئی بار کوشش کی ۔۔ میری بہن نے مجھے بتایا اس وقت میں بارہ سال کا تھا ۔۔ میں نے یہ بات سردار شیر دل کو بتائی کہ ان کا وفادار ملازم ایک گھٹیا شخص ہے جس کی نگاہیں میری معصوم بہن کو بھی نہیں چھوڑتی ۔۔ “
الفاظ جیسے جیسے شہزاد کی زبان سے ادا ہو رہے تھے وہاں موجود ہر زی روح کی سانسیں مدھم ہو گئیں لمحہ بھر کے لیے شہزاد خاموش ہوا گریبان ابھی بھی عباس کی گرفت میں تھا
” مگر سردار شیر دل نے مجھے بچہ کہہ کر خاموش کروا دیا ۔۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔ اس شخص نے میری نو سالہ بہن کو اپنی ہوس کا نشان بنا لیا اور میں کچھ نہ کر سکا ۔۔ میری بہن مر گئی مگر انتقام کی آگ میرے اندر جلا گئی ۔۔ “
وہ پھر لمحے بھر کے لیے خاموش ہوا تھا
” میں نے ساری بات سردار شیر دل کو بتائی مگر انہوں نے اپنے خاص ملازم کو کچھ نہ کہا ۔۔ اور مجھے ہی آپ کے ساتھ شہر بھیج کر حویلی سے دور کر دیا ۔۔ مگر اس سے پہلے میں نے اپنا انتقام لینا نہ بھلایا ۔۔ میں نے بارہ سال کی عمر میں ہی اس شخص کو قتل کر دیا ۔۔ “
“مگر انتقام تو مجھے سردار شیر دل سے بھی لینا تھا ۔۔ اس لیے صحیح وقت کا انتظار کرنے لگا ۔۔ اس دوران میں نے یہ ظاہر کیا کہ میں سب بھول چکا ہوں ۔۔ میں اپنے دشمن پر اچانک حملہ کرنا چاہتا تھا ۔۔ پھر کئی سال بعد میرا وقت آیا ۔۔ جیسا ظلم میری بہن کے ساتھ ہوا ۔۔ ویسا ہی سردار شیر دل تمہاری بیٹی کے ساتھ کیا میں نے ۔۔ کیونکہ دنیا مکافات عمل ہے ۔۔ “
شہزاد خاموش ہوا تو سردار شیر دل نے سر جھکا لیا جبکہ شہزاد کے گریبان پر عباس کی گرفت خودبخود ڈھیلی پڑ گئی
” مم میری بیٹی بے قصور تھی ۔۔ تت تم نے اپنے مجرم کو مار تو دیا تھا ۔۔ میں جانتا تھا کہ اسے تم نے قتل کیا ہے مگر میں خاموش رہا ۔۔ پھر کیوں ۔۔ کک کیوں بدلہ لیا تم نے میری بیٹی سے ۔۔ “
سردار شیر دل غصے اور دکھ کی کیفیت میں چنگھاڑے تھے جبکہ شہزاد کے لبوں پر اب زہریلی مسکراہٹ بکھری سردار شیر دل کا مچلنا ، تڑپنا دیکھ کر شہزاد کو سکون پہنچا جیسے برسوں کی بے چینی ختم ہو گئی انتقام کی آگ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑے ہوں
” میری بہن کا کیا قصور تھا جو صرف تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے زیادتی کا شکار ہوئی ۔۔؟؟”
شہزاد بھی چیخا تھا جبکہ عباس بے حس و حرکت تھا اس کی بے تاثر نگاہیں سردار شیر دل پر تھیں سردار بی بی بھی گم صم کھڑیں تھیں اب وہ دوبارہ عباس کی جانب مڑا
” خاور نے مجھے قتل کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔۔ میں اسے بھی مارنا چاہتا تھا مگر وہ بھاگ گیا ۔۔ مجھے موقع مل گیا میں نے الزام اسی کے سر لگا دیا ۔۔ مجھے لگا تھا وہ اب کبھی گاؤں نہیں آئے گا کیونکہ وہ جانتا تھا آپ اس کو نہیں چھوڑیں گے مگر کچھ عرصے بعد وہ جذبات میں آ کر اپنے ماں باپ سے ملنے آ گیا ۔۔ یہی سے سب خراب ہو گیا ۔۔ حُرّہ بی بی کے ساتھ ہوئے ظلم نے سب کو ہلا دیا ۔۔ بے شک یہ دنیا مکافات عمل ہے ۔۔ خاور کے ماں باپ کو بھی سزا ملی ۔۔ اور میں بھی جانتا ہوں میں بھی گناہگار ہوں ۔۔ میری سزا کا وقت بھی شروع ہو چکا ہے ۔۔ مگر اس سے پہلے میں ایک اور بات بھی آپ کو بتانا چاہتا ہوں چھوٹے سردار ۔۔ “
شہزاد بولتا جا رہا تھا مگر عباس سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا
” حُرّہ بی بی کو حویلی سے جانے پر سردار بی بی اور ناعمہ بی بی نے مجبور کیا تھا ۔۔ انہوں نے ہی شہر آپ کے گھر پر اپنے آدمی بھیجے تاکہ حُرّہ بی بی کی عزت داغدار کرے مگر اللہ نے ان کا ساتھ دیا وہ وہاں سے اپنی بیٹی کو لیے بچ نکلیں ۔۔ وہ بہت بری حالت میں یہاں آئیں تھیں ۔۔ بار بار ہاتھ جوڑ کر یہاں رہنے کی التجا کرتی رہیں مگر ناعمہ بی بی اور سردار بی بی نے انہیں حویلی میں پناہ نہ دی ۔۔ “
شہزاد کے مزید انکشاف پر عباس کی نگاہیں اس پر ست ہوتی ہوئیں سردار بی بی اور ناعمہ بی بی پر ٹک گئیں
” میرے انتقام میں جس کا سب سے زیادہ نقصان ہوا وہ حُرّہ بی بی ہیں ۔۔ بنا قصور کے ان پر ظلم ہوا ۔۔ میں نے آج تک کچھ بھی کیا اپنے انتقام کے لیے مجھے پچھتاوا نہیں کیونکہ جو مستحق تھے ان کو سزا ملی مگر حُرّہ بی بی اور آپ اس کی لپیٹ میں آ گئے ۔۔ “
شہزاد نے بولتے ہوئے عباس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کیونکہ احمد آ چکا تھا اس کے پیچھے سپاہی بھی تھے
” آخری بات سردار شیر دل تم سے کہنا چاہوں گا ۔۔ اب ساری زندگی اپنی بیٹی کی بربادی کا سوگ منانا ۔۔ اس سوچ کے ساتھ کے تمہاری بیٹی کے ساتھ جو بھی ہوا وہ تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔ تمہارے کیے کی سزا ملی تمہاری بیٹی کو ۔۔ “
احمد کے ہتھکڑی لگانے تک وہ اپنی بات مکمل کر چکا تھا جبکہ سردار شیر دل کا غم دوگنا ہوا تھا کہ مکافات عمل کی لپیٹ میں اس کی بے قصور بیٹی آئی
عباس نے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا سردار شیر دل کا سر جھکا ہوا تھا اور وہ زار و قطار رو رہے تھے
بوجھل قدموں سے چلتا عباس ان کے پیچھے چلا تھا کیونکہ ابھی بہت سے سوال تھے جو شہزاد سے اسے پوچھنے تھے تھانے پہنچ کر وہ سیدھا شہزاد کے پاس آیا تھا
” ابھی بھی آدھا سچ بتایا ہے تم نے ۔۔ مجھے حقیقت بتاؤ ۔۔ !”
انداز حکمیہ تھا مگر آواز میں زمانوں کی تھکن تھی جبکہ شہزاد سلاخوں کے قریب آیا
” میں جانتا تھا آپ ضرور آئیں گے ۔۔ “
وہ ہنوز ادب سے گویا ہوا
” میں نے تو پوسٹ مارٹم کروایا ہی نہیں تھا عابی کا ۔۔ پھر رپورٹس کیسے آ گئیں ۔۔ شک مجھے اسی وقت ہو گیا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔۔ مگر تم نے چال ہی ایسی چلی کہ میرا دھیان ان رپورٹ سے ہٹا کر اس بات پر لگا دیا کہ قتل تین لوگوں نے کیا ہے ۔۔ “
عباس مٹھیاں بھینچے بولا جبکہ شہزاد کے لب مسکرائے
” عابی بی بی کا دامن داغدار نہیں تھا ۔۔ میں نے یا کسی نے زیادتی نہیں کی تھی ان کے ساتھ ۔۔ چاہتا تھا کرنا ۔۔ کیونکہ انتقام کی آگ میں جل رہا تھا مگر آپ کی شرافت نے مجھے بے بس کر دیا ۔۔ آپ کی عزت کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے میں نابینا ہو جاتا ۔۔ لیکن سردار شیر دل کو تڑپتا دیکھنا بھی خواہش تھی میری ۔۔ میں نے صرف یہ ظاہر کروایا عابی بی بی کا حلیہ بگاڑ کر کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔ اور پھر انہیں قتل کر دیا ۔۔ اور ڈاکٹر کو پیسے دے کر جھوٹی رپوٹ بنوائی ۔۔ یہ حقیقت میں نے سردار شیر دل کے سامنے اس لیے نہیں بتائی تاکہ وہ ساری زندگی تڑپے کہ اس کے کیے کی سزا اس کی بے قصور بیٹی کو ملی ۔۔ “
وہ خاموش ہوا تو عباس اس کی جانب لپکا
” میری بہن بے قصور تھی ۔۔ تمہیں ترس نا آیا اتنی بےرحمی سے اسے قتل کرتے ہوئے ۔۔ ؟”
وہ شہزاد کے چہرے پر مکے مارتا دھاڑا شہزاد خاموشی سے اس کی مار کھاتا رہا
ایک طرف عباس کے دل میں سکون اترا تھا کہ اس کی بہن کی عزت پر داغ نہیں لگا تھا مگر دوسری طرف وہ تڑپ گیا تھا کہ سزا اس کی معصوم بہن کو کیوں ملی
” عباس ۔۔ !”
احمد نے عباس کو بمشکل سنبھالا اور پیچھے کیا
عباس ایک نگاہ شہزاد پر ڈالے خود کو احمد کی گرفت سے چھڑایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی سمت بڑھ گیا
////////////////////////
وقت تیزی سے گزر رہا تھا ہر کوئی اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا سردار شیر دل کو اسی دن دل کا دورہ پڑا تھا جس کے باعث ان کی حالت تشویشناک تھی عباس کے اتنا علاج کروانے سے بھی کوئی بہتری نہیں آئی مگر وقت کے ساتھ ساتھ حالت بہتر ہونے کے بجائے وہ قومے میں چلے گئے اور پھر کچھ مہینوں بعد زندگی کی بازی ہار گئے
سرداد بی بی کو فالج کا اٹیک ہونے سے وہ بستر سے لگ گئیں تھیں ، نورے اور عالیان بیرون ملک رہائش پذیر ہو چکے تھے اسی باعث ناعمہ بی بی حویلی میں اکیلی تڑپتی رہتیں نورے انہیں ساتھ لے جانا چاہتی تھی مگر یہ اکیلے پن کی سزا انہوں نے اپنے لیے خود چنی تھی
عباس کی زندگی جیسے رک گئی تھی ہر روز وہ حُرّہ اور دعا کی تلاش میں نکلتا مگر کوئی سرا ہاتھ نہ لگتا سب حقیقت جاننے کے بعد کہ اس کے باپ کی غلطی کی وجہ سے اس نے اپنی بہن کھوئی اور اپنی ماں اور چچی کی وجہ سے وہ اپنی بیوی اور بیٹی سے دور تھا اس نے کبھی ماں ، باپ اور چچی کے احترام میں کمی نہیں آنے دی سردار بی بی کا علاج کرواتے ہوئے بھی وہ پرامید تھا کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی اس دوران اس نے حُرّہ کو بہت ڈھونڈا مگر شاید وہ ملنا ہی نہیں چاہتی تھی اس لیے لاکھ کوشش کے باوجود نہیں مل رہی تھی
////////////////////////
ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے خدا جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا بہتر ہے اس وقت ہم خدا کی مصلحت نہیں سمجھ پاتے کیونکہ ہماری عقل میں بس اپنی خواہشات حاصل کرنے کی جستجو ہوتی ہے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہم صرف ایک پھول کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور خدا ہمیں پھولوں سے بھرا گلدستہ دینا چاہتا ہے
نورے وہ لڑکی تھی جو ہر طرح کے حالات میں خالق کی رضا میں راضی رہی جس سے اس نے بچپن سے محبت کی وہ اسے نہیں ملا مگر جو ملا وہ کسی سے کم نہیں تھا اس نے حقیقت کو قبول کیا کہ اس کے نصیب میں خالق نے عالیان کو لکھا تھا
عالیان اسے متاع جاں کی طرح تصور کرتا تھا محبت ، عزت سے اس نے نورے کے دل کو جیت لیا تھا کبھی بھی عالیان نے اس کی پہلی محبت کا ذکر نہیں کیا تھا نورے نے اپنے ماضی کے بارے میں اسے بتانا چاہا تو عالیان نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے حال اور مستقبل کے جوابدہ ہیں ماضی کو بھول جائیں تو بہتر ہے امریکہ وہ عالیان کے بزنس کی وجہ سے آئے تھے مگر سب حقیقت انہیں معلوم ہو چکی تھی وہ دونوں عباس اور حُرّہ کے لیے دعاگو تھے کہ عباس کو اس کی بیوی اور بیٹی مل جائیں
///////////////////////
دو سال ہو گئے تھے اسے عباس سے بھاگتے ہوئے ، چھپتے ہوئے ، دعا تین سال کی ہو چکی تھی کتنا تکلیف دہ تھا ان کے لئے کہ جب پہلی بار دعا نے بابا کہا تھا اس وقت بھی عباس ان کے پاس نہیں تھا اس وقت حُرّہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں
پھر جب دعا نے چلنا شروع کیا تھا اس وقت بھی عباس ان سے دور تھا حالات کی ستم ظریفی ایسی تھی کہ چاہ کر بھی وہ عباس کے پاس نہیں جا سکتی تھی نورے اور عباس کی زندگی پر اپنا سایہ بھی نہیں ڈالنا چاہتی تھی مگر کسک تھی کہ کیا وہ اور اس کی بیٹی ساری زندگی محرومی کی زندگی گزاریں گیں دن بھر محنت کر کے رزق حلال کما کر وہ لاتی تھی تو رات کو اکثر عباس کی یاد سونے نہ دیتی تھی فرحت بی اور تہمینہ نے کئی مرتبہ اس کا حال دیکھ کر اسے سمجھایا کہ وہ عباس کے پاس چلی جائے اگر عباس نے دوسری شادی کی بھی ہے تو پھر بھی اس پر دعا اور تمہارا حق ہے مگر حُرّہ خاموشی سے ان کی نصیحتیں سنتی رہتی مگر جواب نہ دیتی
/////////////////////////
جاری ہے
