Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 26
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
” ماما یہ اِنا بڑا کس کا گھر ہے ۔۔ ؟”
دعا ، حُرّہ کا چہرہ اپنے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں لیے شوق سے پوچھ رہی تھی یقیناً رات کو نیند کی وجہ سے بہت سے سوال وہ اپنی ماں سے نہیں کر پائی تھی وہ دعا کی انہیں چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے باعث نیند سے بیدار ہوئی تھی بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو عباس کے کمرے میں پایا نگاہیں دوڑائیں تو اندازہ ہوا کہ عباس کمرے میں نہیں ہے
” دعا یہ آپ کے بابا کا گھر ہے ۔۔ “
دعا کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو تھام کر اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے وہ بولی دونوں ماں بیٹی ہنوز بیڈ پر لیٹی ہوئیں تھی
” تہمی خالہ نے تو کہا تھا کہ میں اپنے گھر جا رہی ہوں ۔۔ !”
چھوٹے سے معصوم چہرے پر پریشانی کے تاثرات ابھرے تھے بے ساختہ حُرّہ نے اس کے رخسار پر بوسہ دیا
” میری جان بابا کا گھر ۔۔ مطلب دعا کا گھر ۔۔ اب ٹھیک ہے ۔۔ “
حُرّہ نے لاڑ کرتے ہوئے کہا تو دعا نے سر ہلایا
” ہم تہمی خالہ کو اور نانو کو یہاں نہیں بلا سکتے ماما ۔۔ ؟؟ “
دعا ہنوز پریشانی کے عالم میں بولی تھی یقیناً اسے ان سب کی یاد آ رہی تھی
” دعا آپ نانو اور خالہ کو مس کر رہی ہو ۔۔ ؟؟”
حُرّہ نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا تو دعا نے زور زور سے سر کو ہلایا
” میری جان ۔۔ نانو اور خالہ اپنی گڑیا کو ملنے آئیں گی نا ۔۔ آپ سیڈ نہیں ہو ۔۔ “
دعا کی گال پر پیار کرتے ہوئے وہ بولی تو خوشی دعا کے چہرے سے جھلکنے لگی حُرّہ اس کا چہرہ دیکھ کر سوچھنے لگی کہ رشتے محض خون کے نہیں ہوتے بلکہ رشتے تو احساس کے ہوتے ہیں اب فرحت بی اور تہمینہ کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں تھا دعا کا مگر ان دونوں نے اسے اس کے خونی رشتوں سے بڑھ کر محبت دی جہاں اس کی سگی دادی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا وہیں فرحت بی نے اسے ہمیشہ کسی شفیق نانی دادی کی طرح پیار کیا تھا
” ماما وہ کون ہیں جسے بابا ماں بولتے ہیں ۔۔ وہ سٹرینج ہیں نا بہت ۔۔ “
دعا کی آنکھوں کے سامنے سردار بی بی کا چہرہ لہرایا تھا وہ پہلی نظر میں تو انہیں دیکھتی ان سے خوفزدہ ہو گئی تھی
” وہ دادی ہیں آپ کی ۔۔ یعنی بابا کی ماما ۔۔ جیسے میں آپ کی ماما ہوں ۔۔ “
دعا کے سلکی بالوں پر ہاتھ پھیرتے وہ بولی تھی
” ماما مجھے ان سے ڈر لگتا پے ۔۔ “
دعا نے اس کے گلے لگتے ہوئے کہا
” دعا ایسے نہیں بولتے میری جان ۔۔ وہ بابا کی ماما ہیں نا ۔۔ دیکھو بابا کتنا پیار کرتے ہیں ان سے آپ نے بھی کرنا ہے ۔۔ “
حُرّہ اسے پیار سے سمجھا رہی تھی
” دعا ایک بات سنو بیٹا ۔۔ “
حُرّہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی وہ جانتی تھی دعا شرارتی نہیں ہے مگر وہ چھوٹے چھوٹے بہت سے سوال کرتی تھی کہیں کچھ سردار بی بی کے متعلق ایسا بول دیا کہ عباس کو برا لگے تو اسی ڈر سے وہ دعا کو سمجھاتے ہوئے بولی
” اور یہاں کسی بھی چیز کو نہیں چھیڑنا آپ نے ۔۔ مجھے پتہ ہے میری بیٹی بہت سویٹ ہے وہ ماما کی ہر بات مانتی ہے ۔۔ “
وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن عباس کو اندر آتے دیکھ کر بات بدل دی ، عباس کی کمرے میں آمد پر خاموش ہو گئی جبکہ عباس مسکراتا ہوا ان دونوں کی جانب بڑھا اور بیڈ پر بیٹھ کر دعا کو گود میں لے لیا
” بابا کی جان ۔۔ جاگ گئی ۔۔ “
دعا کو پیار کرتا وہ محبت سے پوچھ رہا تھا حُرّہ نے عباس کے حلیے کو دیکھا براؤن کلر کے قمیض شلوار میں وہ خاصا دلکش لگ رہا تھا کیا وہ کہیں باہر سے آ رہا تھا
” ماں کے پاس تھا ۔۔ !”
حُرّہ کو اپنی جانب پرسوچ انداز میں تکتا پا کر وہ دھیمے سے بولا تھا جبکہ حُرّہ نے نگاہیں چرا لیں
” تیار ہو جائیں پھر ساتھ ہی ناشتہ کرتے ہیں ۔۔ “
حُرّہ کی معصوم حرکت پر عباس نے مسکراتے ہوئے اسے مخاطب کیا
حُرّہ بھی مسکراہٹ دبائے بیڈ سے اتری اور کپڑے لیے واشروم کی جانب بڑھ گئی جبکہ عباس دعا کو دیکھنے لگا
” بابا کی جان ۔۔ مس نہیں کرتی تھی بابا کو ۔۔ ؟؟ “
دعا کے رخساروں کو باری باری پیار کرتا وہ پوچھ رہا تھا
” کرتی تھی ۔۔ “
دعا کو اس کی داڑھی چبھی تھی کسما کر بولی
” پھر آتی کیوں نہیں تھی ۔۔ “
عباس نے مزید پیار کرتے ہوئے اسے سینے سے لگایا
” ماما کہتی تھی بابا خود آئیں گے ۔۔ “
دعا نے فوراً کہا حُرّہ اکثر دعا کے ساتھ عباس کی باتیں کرتی تھی جب وہ کہ اسے اپنے باپ کے پاس جانا ہے تو حُرّہ اسے مختلف بہانوں سے ٹال دیتی اور کہتی کہ اس کے بابا خود آئیں گے وہ چھوٹی سی بچی اپنے باپ کا شدت سے انتظار کرتی تھی
“اوہ تو جانم اتنا یقین تھا آپ کو کہ میں آؤں گا ۔۔ !”
عباس بڑبڑایا تھا لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی
” آؤ دعا دادی ماں کے پاس چلتے ہیں ۔۔ “
دعا کو گود میں اٹھا وہ کمرے سے نکلا تھا
////////////////////////
” حُرّہ یہ صرف میرا نہیں آپ دونوں کا بھی گھر ہے ۔۔ “
عباس یقیناً اس کی گفتگو دعا کے ساتھ سن چکا تھا دعا باہر کھیل رہی تھی اس کے آنے سے جیسے اس وحشت زدہ حویلی میں رونق آ گئی تھی اور حُرّہ کو اکیلا کمرے میں دیکھ کر وہ اس کے پاس آیا تھا
” جج جی ۔۔ “
” پلیز ایسے بی ہیو نہ کریں ۔۔میری ہر چیز پر پہلا حق آپ دونوں کا ہے جان ۔۔ آپ ایسے اسے سیکھا رہیں ہیں جیسے وہ یہاں مہمان ہے ۔۔ “
عباس کی بات وہ سمجھ رہی تھی
” نن نہیں تو ۔۔ !”
” ایسی ہی بات ہے ۔۔ میں جانتا ہوں ایک وقت آیا تھا جب مجھے آپ کو یہاں سے لے جانا پڑا تھا ۔۔ اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب ۔۔ جب آپ کو یہاں سے نکالا گیا تھا ۔۔ لیکن ہر وقت ایک جیسا نہیں رہتا ۔۔ حالات ٹھیک ہونے میں وقت لگتا ہے ۔۔ اور اللہ کے کرم سے اب سب کچھ ٹھیک ہے ۔۔ “
عباس اس کے وجود کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لیتا نرمی سے کہہ رہا تھا
” جج جی ۔۔ “
حُرّہ نے یک لفظی جواب دیا
” میں جانتا ہوں آپ نے مشکل وقت یہاں گزارا ہے لیکن یہ وعدہ ہے میرا کہ آپ اچھا وقت بھی یہاں گزاریں گیں ۔۔”
وہ اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتا اسے سمجھا رہا تھا
” میں نے کچھ دن کے لیے چھٹیاں لیں ہیں ۔۔ “
حُرّہ کا نگاہیں چرانا نوٹ کرتا وہ بات بدل گیا
” کل شام احمد کی شادی ہے ۔۔ نورے اور عالیان بھی شرکت کریں گے ۔۔ ہم بھی انوائیٹڈ ہیں ۔۔ “
وہ مزید بولا تھا جبکہ حُرّہ نے اس کی بات پر سر ہلایا
” سائیڈ ڈرا میں دوائیاں پڑی ہیں ۔۔ وہ کس لیے ہیں ۔۔ ؟؟”
وہ اچانک بولا تھا جبکہ حُرّہ نے بوکھلا کر اسے دیکھا
” وو وہ ۔۔ “
وہ اٹکی تھی عباس بغور اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا
” آپ کو یاد ہے ۔۔ آپ مجھ سے کوئی بھی بات نہیں چھپاتی تھی ۔۔ ؟”
وہ شاید اسے کچھ جتا رہا تھا کل رات ہی اس نے وہ دوائیاں دیکھیں تھی تب سے اسے بے چینی ہو رہی تھی ڑاکٹر سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مائیگرین کی میڈیسنز ہیں اسے تشویش ہوئی تھی کہ یہ دوائی حُرّہ کے سامان میں کیوں ہیں تب اس نے فرحت بی اور تہمینہ سے بات کی تھی انہوں نے بتایا کہ حُرّہ مسلسل پریشان رہتی تھی رات رات بھر روتی تھی اس لیے اسے یہ مسئلہ ہوا تھا تب سے وہ یہ دوائیاں استعمال کر رہی تھی
” جی ۔۔ “
اسے سمجھ نہ آئی کیا کہے پہلی ملاقات کی طرح آج بھی عباس کی قربت میں اس کی سانسیں تیز ہو جاتی تھیں
” مائیگرین کب سے ہے آپ کو ۔۔ ؟”
وہ کھونجتی نگاہوں سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا حُرّہ کی تکلیف اسے خود میں محسوس ہوئی تھی
” دد دو سال ۔۔ !”
وہ نگاہیں چرائے جیسے کسی جرم کا اعتراف کر رہی تھی
” میری جدائی میں کیا حال کر لیا آپ نے ۔۔ اتنی محبت ۔۔ ؟؟”
وہ ابرو اچکا کر جیسے اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا یہ تو طے تھا کہ اب وہ حُرّہ کی آنکھوں میں آنسو تو دور اداسی بھی آنے نہیں دے گا
” مجھے لگا تھا میں سب کچھ ہار گئی ۔۔میں نے آپ کو ہار دیا ۔۔ “
وہ اپنے ڈر بیان کر رہی تھی عباس نے دلچسپی سے اسے دیکھا
” مم مجھے لگا تھا ۔۔ مم میں ۔۔ دور جاؤں گی تت تو ۔۔ آپ نن نورے ۔۔ سے ۔۔ شش شادی ۔۔ کر ۔۔”
وہ پھر بھیگی آواز میں بولی تھی
” آ آپ یقین کریں ۔۔ ا اپنی عزت کک کو بب بچانے کی خک خاطر ۔۔ مجھے جانا پڑا ۔۔ “
وہ روندی ہوئی آواز میں بولی تھی اسے یاد آیا کیسے سرداد بی بی نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ حویلی سے نہ گئی تو وہ عزت و آبرو کھو دے گی وہ رات قیامت جیسی تھی اسے یاد کرکے اس کی آنکھوں میں خوف در آیا تھا
” اللہ کے بعد آپ کا شکریہ حُرّہ آپ نے اپنی حفاظت کی ۔۔ اگر اس وقت آپ ہمت نہ دیکھاتی تو بہت کچھ برا ہو سکتا تھا کیونکہ ۔۔ میرے اپنوں نے دھوکا دیا ہے مجھے ۔۔ “
عباس کے لہجے میں بھی درد تھا جب ناعمہ بی بی نے اسے سب کچھ بتایا کہ کیسے سردار بی بی نے اور انہوں نے مل کر حُرّہ کے لیے سازش رچی تھی اتنا بھی خیال نہ کیا کہ وہ ان کے بیٹے کی عزت ہے
” مجھے ا اس وقت وہی ٹھیک لگا تھا ۔۔ لل لیکن خدا گواہ ہے ۔۔ میں نے اپنی آبرو کی حفاظت کی ۔۔ آج بھی میرا دامن پپ پاک ہے ۔۔ آپ کے علاوہ مجھے کسی نامحرم نے چچ چھوا تک نہیں ۔۔ مم میں آپ سے جدائی برداشت کر سکتی تھی لل لیکن ۔۔ دامن پہ داغ نن نہیں ۔۔ “
وہ جانے کیوں یہ سب بول رہی تھی شاید اسے لگا ہو کہ سردار بی بی نے اس کے جانے کے بعد عباس کو کہیں کچھ غلط نہ بتایا ہو مگر وہ شاید یہ نہیں جانتی تھی عباس اس کے کردار کی گواہی دیتا تھا وہ کسی کی باتوں میں آنے والا نہیں تھا
” کیا آپ کو مجھے یہ سب کہنے کی ضرورت ہے ۔۔ ؟؟شوہر سے بہتر بیوی کا کردار کوئی نہیں جانتا ۔۔ حُرّہ آپ کا کردار آئینے کی طرح شفاف ہے ۔۔ آپ کا دامن پاک ہے ۔۔ میری حُرّہ معصوم و نازک کلی ہے جسے صرف میں نے چھوا ہے ۔۔”
وہ لہجے میں عقیدت لیے بولا تھا
” ممم میں بہت پیار کرتی ہوں آپ سے ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ “
اس کے شیرین الفاظ پر بے اختیار حُرّہ بولی
” میں بھی عشق کرتا ہوں آپ سے ۔۔ “
ایک دوسرے کو محسوس کرتے وہ دونوں اظہار محبت کر رہے تھے افق پر چاند بھی مسکرا رہا تھا ہر طرح کے حالات کو شکست دے کر وہ دونوں پھر بھی ایک ساتھ تھے کیونکہ ان کا رشتہ ، اور تعلق کسی بھی مطلب سے پاک تھا
////////////////////////
” سلام بی بی جی ۔۔ “
وہ دعا کو ڈھونڈتے ہوئے لاؤنج کی جانب آئی تھی جب اسے دعا ایک لڑکی کے ساتھ کھڑی دیکھائی دی وہ لڑکی شاید حویلی کی پرانی ملازمہ تھی حُرّہ پہلے بھی حویلی میں دیکھ چکی تھی اس کے قریب جانے پر اس لڑکی نے اسے دیکھتے ہی باادب ہو کر سلام کیا حُرّہ نے ہلکی ہی مسکراہٹ سمیت اسے جواب دیا وہ لڑکی جواباً اسے اور عباس کو دعائیں دینے لگی اور نم آنکھیں لیے لاؤنج سے چلی گئی جبکہ حُرّہ اس کی حرکت پر یکدم چونکی
” ماں باپ مر گئے تھے اس کے ۔۔ شہزاد نے پالا تھا اسے ۔۔ جب سے شہزاد جیل گیا ہے بہت روتی ہے ۔۔ لیکن چھوٹے سرداد نے بہنوں کی طرح سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اس کے ۔۔ تب سے انہیں بہت دعائیں دیتی ہے ۔۔ “
ایک ملازمہ پاس کھڑی بولی تھی تو حُرّہ نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا
” ہمارے چھوٹے سردار تو جی ہیرا ہیں ہیرا ۔۔ خدا انہیں سلامت رکھے ۔۔ ان بوڑھی آنکھوں نے بڑے بڑے سردار دیکھے لیکن ان جیسا سردار کوئی نہیں ۔۔ “
ایک دوسری ملازمہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا جبکہ حُرّہ کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ بکھری
////////////////////////
ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ دونوں جب بینکوئٹ میں داخل ہوئے تو ہر آنکھ ستائش سے انہیں دیکھ رہی تھی وہ بلکل مکمل تھے عباس بلیک تھری پیس پہنے اس قدر ڈیشنگ لگ رہا تھا کہ دیکھنے والا آنکھ بھر کر دیکھ رہا تھا جبکہ حُرّہ پر سرخ رنگ جگ مگ کر رہا تھا اس کا چہرہ عباس کی محبت بھری قربت میں کئی خوبصورت رنگ بکھیر رہا تھا جبکہ ان سے آگے ان کی تین سالہ بیٹی اسٹائلش فراک پہنے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اپنے ماں باپ سے آگے چل رہی تھی
ان کی اینٹری ہی اتنی کمال تھی کہ ہر کوئی اس پیاری سی فیملی کو دیکھ رہا تھا ہال میں کھڑے عالیان ، نورے اور احمد بھی مبہوت سے انہیں ہی تک رہے تھے وہ پیاری سی فیملی اسٹیج پر پہنچ کر دلہا دلہن کو مبارک باد دے رہے تھے احمد اور نمرہ نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر مبارک باد وصول کی جبکہ عالیان اور نورے دعا کو پیار کرنے لگے
” حُرّہ بہت کیوٹ لگ رہی ہو ۔۔ “
نورے نے عباس کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر حُرّہ کی تعریف کی
” آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں نورے ۔۔ “
حُرّہ بھی جواباً مسکراتے ہوئے بولی اس کے لہجے کا اعتماد ہر کسی کو چونکا رہا تھا جبکہ عباس نے مسکراہٹ دبائے حُرّہ کو دیکھا یقیناً اب وہ ہر فکر سے آزاد تھی جو اسے پہلے لاحق رہتی تھیں
” حُرّہ بھابھی دعا کریں ہماری بھی دعا جیسی پیاری بیٹی ہو ۔۔ ہنا نورے ۔۔ شی از سو کیوٹ نا ۔۔ “
عالیان دعا کو گود میں اٹھاتے ہوئے بولا تو نورے نے اس کی بےباکی پر گھور کر اسے دیکھا جبکہ باقی سب اس کی بات پر ہنسنے لگے
” ہاں حُرّہ دعا کرنا ۔۔ “
نورے نے بھی اب کی بار حُرّہ کے کان میں سرگوشی کی تھی حُرّہ اس کی بات پر چونکی تھی جبکہ نورے اب معنی خیزی سے مسکرا رہی تھی
” آئی ایم پریگننٹ ۔۔ “
حُرّہ کی آنکھوں میں سوال پڑھ کر نورے نے جواب دیا تھا وہ دونوں بہت آہستگی سے آپس میں بات کر رہی تھی کوئی بھی اب ان دونوں کی جانب متوجہ نہیں تھا
” کانگریچولیشن نورے ۔۔ “
حُرّہ نے اسے گلے لگا کر مبارک باد دی تھی
” تھینک یو ڈیئر ۔۔ “
نورے شرماتے ہوئے بولی تھی
” آپ بہت اچھی ہیں نورے ۔۔ “
بے ساختہ حُرّہ کے لبوں سے بات نکلی نورے کھلکھلا کر ہنسی
” تم سے ذیادہ نہیں حُرّہ ۔۔ تم بہت کیوٹ لڑکی ہو ۔۔ عباس جیسے مرد کو ڈیزرو کرتی ہو ۔۔ “
نورے بھی خوش دلی سے بولی تھی جبکہ حُرّہ نے جواباً پلکیں جھپکا کر اس کی تائید کی جبکہ یکدم نورے کے لب سکڑے
” مم میں ماں کی طرف سے معافی چاہتی ہوں ۔۔ مجھے بتایا تھا انہوں نے ۔۔ جو کیا انہوں نے سردار بی بی کے ساتھ مل کر ۔۔ “
ندامت چہرے سے جھلک رہی تھی حالانکہ وہ شامل نہیں تھی کسی بھی سازش میں
” پتہ ہے نورے میں وہ سب بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں ۔۔ حالانکہ وہ اذیت بھولنا آسان نہیں تھا جو میں نے اور میری بیٹی نے سہی لیکن جب سردار جیسے شوہر ہوں نا تو بس خدا کا شکر یاد رہتا ہے ۔۔ یاد ہے آپ نے ایک بار کہا تھا مجھے کہ بےشک میں بہت بڑے امتحان سے گزر رہی ہوں ۔۔ مگر سردار میرے ہر دکھ کا مداوا ہیں ، ہر خزاں میں بہار جیسے ہیں ۔۔ بلکل درست کہا تھا آپ نے ۔۔ “
وہ مضبوط انداز میں بولتی نورے کو بھی مطمئن کر گئی
آج وہ آنکھیں مسکرا رہی تھیں جو دکھوں کو محسوس کر کے برسی تھیں ، آج وہ لب مسکرا رہے تھے جن سے سسکیاں نکلی تھیں ، آج ان چہروں پر خوشی جھلک رہی تھی جن پر زمانے کی ستم ظریفی کے سائے لہرائے تھے
عالیان نے عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر طے کیا تھا ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ ہو کر وہ نیکی کے راستے پر مائل ہوا تھا
نورے نے خدا کی رضا کی خاطر اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا ، اس نے انتظار کیا ، صبر کیا ، محبت چھوڑ دی محض خدا کے حکم کے آگے کہ وہ کہتا ہے کہ محرم سے محبت کرو
عباس وہ مرد ثابت ہوا جو اگر بیٹا تھا تو ماں باپ کی غلط باتوں کو بھی ادب کے دائرے میں رہ کر مخالفت کرتا تھا ، اور اگر بھائی کی صورت میں ہے تو یہ سوچ کر نگاہیں جھکا کر رکھتا ہے کہ دنیا مکافات عمل ہے آج اگر وہ آنکھوں میں احترام رکھے گا نیت صاف رکھے گا تو شہزاد جیسے انتقام میں جلتے ہوئے شخص بھی اس کی بہن کی عزت کو خراب نہ کر سکا ، اور اگر عباس شوہر ہے تو اس نے اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے بھی لہجے میں دھیما پن اور نرمی رکھی کہ جانتا ہے کہ عورت کتنی نازک ہوتی ہے ، سخت لہجے اسے کھوکھلا کر دیتے ہیں ، اور اگر عباس باپ ہے تو وہ بیٹی پیدا ہونے پر خوشی منا رہا ہے کہ خدا مجھ سے رضی ہے جبھی بیٹی کی صورت رحمت سے نوازا ہے
اور حُرّہ وہ خوش نصیب لڑکی ٹہری جس کو صبر کے بدلے عباس ملا وہ صبر جو اس نے اس قدر کیا ہے چہرے پر اذیتوں کے بعد بھی سکون تھا
زندگی نے ان سب سے بہت امتحان لیے تھے لیکن وہ چاروں ثابت قدم رہے تھے خدا پر بھروسہ رکھا کہ جس نے آزمائش میں ڈالا ہے وہی نکالے گا
//////////////////////
جاری ہے
