Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 7

” سردار بی بی غضب ہو گیا ۔۔ ہائے اب کیا ہو گا ۔۔ بی بی ۔۔ کیا ہو گا اب ۔۔ ؟”
صبح سردار بی بی کے لاؤنج میں آتے ہی ناہید انہیں دیکھتی بین کرنے لگی سردار بی بی کے ماتھے پر شکن ابھرے

” کیا ہو گیا جو اس طرح پیٹ رہی ہے ۔۔ ؟”
ناہید کے عجیب و غریب چہرے کے زاویے بنا کر رونے پر سردار بی بی اسے ڈپٹ کر بولیں

” ہائے بی بی میں کیسے بتاؤ آپ کو ۔۔ یہ گزری رات کیسی انہونی لے کر آئی تھی حویلی میں ۔۔”
ناہید نے آنسو بہاتے ہوئے سر اور ہاتھ لہراتے ہوئے بین کیا

” ناہید اب بک بھی دے ۔۔ “
سردار بی بی جھنجھلا کر بولیں

” جانے اب اور کیا کیا ہو گا۔۔ اس لڑکی نے اور کیا کیا چھوٹے سردار کو کہا ہے ۔۔”
ناہید کی بات پر سردار بی بی اب پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہو چکیں تھیں

” کک کس لڑکی نے ۔۔ ؟”
انہوں نے ماتھے پر شکن ڈالے پوچھا

” بی بی ۔۔ اسی ونی نے ۔۔ “
ناہید اب آس پاس نگاہیں گھمائے بولی

” کیا کہا ہے اس نے عباس سے ۔۔ ؟”
سردار بی بی لہجے میں حیرت لیے پوچھ رہیں تھیں

” پتہ نہیں آپ کے بارے میں کیا کہا ہو گا بی بی جی ۔۔ چھوٹے سردار تو بہت غصے میں تھے رات کو ۔۔ “
ناہید جھوٹ بولنے میں خاصی ماہر تھی تبھی خود سے باتیں بنا کر بتانے لگی آخر کو وہ رات ہوئی چھوٹے سردار کے ہاتھوں اپنی بےعزتی وہ بھی حُرّہ کے سامنے کیسے فراموش کر سکتی تھی

” عباس حویلی آیا ہوا ہے ۔۔؟”
ناہید کی بات سن کر پہلے تو وہ ٹھٹھک گئیں تھی

” جی سردار بی بی ۔۔ سرکار تو رات کو ہی آ گئے تھے ۔۔ مگر ۔۔ “
ناہید اپنا پہلا تیر چلا چکی تھی

” مگر کیا ۔۔ ؟؟”
انہیں نے فوراً پوچھا

” پہلے وہ اگر دیر رات کو بھی آتے تھے تو آپ کے متعلق ضرور پوچھتے تھے مگر کل تو ۔۔ “
وہ پھر سے بولتے ہوئے رکی تھی کہ سردار بی بی نے سر ہلاتے ہوئے اسے دوبارہ ڈپٹا

” مگر کیا۔۔ ؟؟ اب بول بھی دے ۔۔!”

” مگر کل تو انہوں نے آپ کا پوچھا ہی نہیں ۔۔ اور ۔۔”
وہ بولنے کے بعد رک کر سردار بی بی کا اترا چہرہ دیکھنے لگی

” اور کیا ۔۔؟”

” اور بی بی سردار صاحب نے کہا کہ ان کی بیوی سے اگر کسی نے اونچی آواز میں بات بھی کی تو وہ اپنی بیوی کو لے کر حویلی سے چلے جائیں گے بتا دینا سب کو ۔۔ “
ناہید بولتی جا رہی تھی اور سردار بی بی کا غصہ ساتویں آسمان تک پہنچ گیا

” بی بی اس نے کالا علم کر دیا ہے چھوٹے سرکار پر ۔۔ وہ لڑکی جادو گیرنی ہے ۔۔ میں کیا بتاؤں آپ کو ۔۔ بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ رات کو کیا کیا ہوا ۔۔ “
ناہید بھرپور اداکاری کر رہی تھی اور سردار بی بی کے بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھ کر دل میں خوش بھی ہو رہی تھی

” کیا بکواس کر رہی ہے تو ۔ “
سردار بی بی چلا کر بولیں

” سرکار اسے باہوں میں اٹھا کر اپنے کمرے میں لے کر گئے تھے سب ملازمین کے سامنے ۔ “
ناہید نے اپنی بات مکمل کر کے سردار بی بی کو دیکھا جن کا چہرہ غصے کے باعث سرخ ہو رہا تھا

” بی بی ۔۔”

” دفع ہو جا !”
ناہید کے پکارنے پر وہ دھاڑیں تو ناہید دل میں فتح کی خوشی مناتی ہاتھ جوڑے لاؤنج سے نکل گئی یقیناً اس نے اچھا کھیل کھیلا تھا

/////////////////////////

مسلسل بجتے موبائل کی وجہ سے ان دونوں کی آنکھ کھلی تھی کمرے میں مدھم سی روشنی تھی حُرّہ نے بوجھل آنکھیں کھولیں تو عباس سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا رہا تھا عباس کو اٹھتا دیکھ کر حُرّہ بھی ایک ہاتھ سے آنکھیں ملتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوئی مگر پھر عباس کے کسرتی جسم کو شرٹ کے بغیر دیکھ کر نگاہیں جھکا لیں

” ہاں احمد بولو ۔۔ ؟”
عباس کی نیند میں ڈوبی بھاری آواز نے کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا

” میں گھر پہ نہیں ہوں ۔۔ ارے نہیں میں حویلی آیا ہوا ہوں رات سے ۔۔ “
عباس نے سرسری سا جواب دیتے ہوئے اپنے بائیں جانب دیکھا جہاں حُرّہ بلنکٹ اوڑھے لیٹی ہوئی تھی

” ہاں بول سن رہا ہوں ۔ “
حُرّہ کے وجود سے نگاہیں ہٹاتے ہوئے عباس اس مرتبہ نہایت توجہ سے پوچھ رہا تھا

” ہمم احمد وہ نکلنا نہیں چاہیے ہمارے ہاتھ سے ۔۔ اپنی پوری کوشش کر اسے حراست میں لینے کی ۔۔!!”
بولتے ہوئے عباس کے لہجے میں نفرت اور سختی آ گئی تھی جو کہ اس کی باتیں توجہ سے سنتی حُرّہ نے بھی محسوس کی

” نہیں ۔۔ میں آج حویلی میں ہی رہوں گا ۔۔ “
عباس نے کہتے ہوئے دوبارہ مدھم روشنی میں حُرّہ کو دیکھا جس نے اس بار اپنی نگاہیں بند کر لیں

” دو تین دن تک روکوں گا ابھی یہاں ۔۔ “
عباس نے اس بار بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے جواب دیا

” اوکے خدا حافظ ۔۔!”
الوداعی کلمات ادا کرنے کے بعد عباس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا جبکہ حُرّہ نے آنکھیں وا کیں تو عباس کو سر جھکائے بیٹھے دیکھ کر پریشان ہو گئی اور اٹھ کر بیٹھنے کے بعد جھجھکتے ہوئے اپنا کپکپاتا ہاتھ عباس کے کاندھے پر رکھا مگر نگاہیں عباس کے سر اٹھانے پر جھکا لیں

” آ آپ ٹھیک ہہ ہیں نن نا ۔۔؟”
عباس کے متوجہ ہونے پر فوراً اپنا ہاتھ اس کے کاندھے سے اٹھاتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں پوچھ رہی تھی جبکہ اس کے لہجے میں پریشانی واضح تھی

” دعا کریں میری بہن کے قاتل مل جائیں ۔۔ جب تک انہیں انجام تک نہیں پہنچاؤں گا مجھے سکون نہیں ملے گا ۔۔ “
حُرّہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے وہ لہجے میں دکھ لیے بول رہا تھا مدھم روشنی ہونے کے باوجود حُرّہ اس کی آنکھوں میں نمی با آسانی دیکھ سکتی تھی

” آپ دعا کریں گیں نا ۔۔؟”
حُرّہ کو خاموشی سے خود کو تکتا پا کر وہ دوبارہ بولا

” آ آپ کی بہن کے ۔۔ ساتھ بب بہت بڑا ظلم ہوا ہے ۔۔ ایسا ظلم کہ نا جس کی معافی ہے ۔۔ اور نا تلافی ۔۔ محض سزا ہے ۔۔ اور میری دعا ہے کہ خدا جلد ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچائے ۔۔ “
حُرّہ بے حد دھیمی آواز میں بول رہی تھی جبکہ اس کی بات پر عباس نے محض سر ہلایا

” آ آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ “
عباس کے چہرے پر درد کی تحریر پڑھتے ہوئے حُرّہ نے اسے تسلی دینی چاہی

” آپ جانتی ہیں حُرّہ ۔۔ یہ وہ دکھ ہے جو میں ۔۔ کبھی نہیں بھول سکتا ۔۔ یہ دکھ میرے سارے حواس سلب کر دیتا ہے ۔۔ کئی کئی دن تک سکون نہیں ملتا مجھے ۔۔ یہ سوچ کے کہ مظلوم مٹی تلے دفن ہے اور ظالم ، وحشی کھلے عام گھوم رہے ہیں ۔۔ “
وہ شدید کرب کی حالت میں بول رہا تھا اور حُرّہ اپنے محسن کو اس طرح تکلیف میں دیکھ کر تڑپ گئی

” آ آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ ظالم اپنے انجام تک ضرور پہنچیں گے ۔۔!”
اس بار بے اختیار حُرّہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی تو عباس نے سرد آہ بھر کر سر ہلایا

” مجھے اب نیند نہیں آئے گی ۔۔ اگر آپ سونا چاہتی ہیں تو سو جائیں ۔۔ آئی تھنک آپ کی نیند پوری نہیں ہوئی ۔۔ میں فریش ہو کر ماں اور بابا کے پاس جاؤں گا ملنے کے لیے ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کی سرخ اور بوجھل آنکھیں دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ کچھ دیر پہلے ہی وہ دونوں سوئے تھے

” نن نہیں مم میں بھی جا رہی ہوں ۔۔ سات بج گئے ہیں ۔۔ “
حُرّہ نے سامنے دیوار پر نصب گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑے درست کرتی چادر اٹھانے لگی

” آپ کہاں جا رہیں ہیں ۔۔ “
حُرّہ کا بازو تھام کر اسے دوبارہ بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے عباس نے پوچھا

“ا اپنے کمرے میں ۔۔”
عباس کے حد درجہ نرم طبیعت کے باعث اب حُرّہ اس سے کچھ بات کرنے لگی تھی

” ہمم مگر اپنا سامان اس کمرے میں شفٹ کر لیں ۔۔ اب یہی آپ کا کمرہ ہے ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کے حیران چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے والٹ سے چند پانچ ہزار کے نوٹ نکال کر حُرّہ کی جانب مڑا اور نوٹ اس کی جانب بڑھا کر ہاتھ میں تھمائے

” ییی یہ ۔۔ ؟”
حُرّہ نے ناسمجھی سے عباس کو دیکھا

” آپ کی پاکٹ منی ہے ۔۔ کوئی بھی چیز کی ضرورت ہو تو ملازمہ سے کہہ کر منگوا لیجئے گا ۔۔ سوری تھوڑی لاپرواہی کی ہے میں نے ۔۔ بس کچھ مصروف رہا اور کچھ ذہنی پریشانی رہی ۔۔ مگر آپ ذمہ داری ہیں میری ۔۔ یہ بات بہت اچھے سے سمجھتا ہوں میں ۔۔ بہت سی ضروریات ہوں گی آپ کی جن کا خیال رکھنا میرا فرض ہے ۔۔ باقی شاپنگ کرواؤں گا آپ کو ایک دو دن تک ۔۔ “
عباس سرسری سے انداز میں کہتا الماری کی جانب بڑھ گیا جبکہ حُرّہ اثبات میں سر ہلاتی اٹھ گئی

” ناشتہ سب کے ساتھ کریں گے ۔۔ آپ تیار ہو کر ڈائننگ ہال میں آ جائیں ۔۔ !”
حُرّہ کو دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ کر عباس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور کپڑے ہاتھوں میں تھامے واشروم کی جانب بڑھ گیا جبکہ حُرّہ ایک ہل کو چونکی اور پھر سوچوں میں الجھی کمرے سے نکل گئی

///////////////////////////

عباس جب ڈائننگ ہال میں پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی سردار شیر دل ، سردار بی بی ، ناعمہ ہمدانی اور نورے اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان تھے عباس نے سب کو سلام کر کے اپنی کرسی سنبھالی ناہید عباس کو ہال میں دیکھ کر فوراً باورچی خانے میں چلی گئی جبکہ نورے ، عباس کو دیکھنے لگی جو کریم کلر کی شلوار قمیض میں ملبوس تھا صاف رنگت ، کسرتی جسامت ، نم بال ، چہرے پر مخصوص مسکراہٹ ، جو کسی کا بھی دل موہ لے جبکہ نورے کی نگاہوں کو خود پر محسوس کر کے عباس نے ایک پل کو نگاہ اٹھائی اسی پل ڈائننگ ہال میں حُرّہ داخل ہوئی عباس کی نگاہ حُرّہ کے نکھرے وجود پر ٹھہر گئی نیلے رنگ کے سادہ سے جوڑے میں اپنی بڑی سی چادر اوڑھے نکھرا نکھرا چہرہ ، عباس مبہوت سا اسے تکنے لگا جبکہ سردار بی بی کی نگاہیں بھی عباس کی نگاہوں کے تعاقب میں تھیں عباس کی گہری نگاہوں میں حُرّہ کے لیے جذبات دیکھ کر ناہید کی باتیں ان کے کانوں میں گونجنے لگیں

” عباس مجھے کچھ ہو رہا ہے ۔۔ “
سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سردار بی بی اس قدر بلند آواز میں بولیں کہ عباس سمیت سب نے چونک کر انہیں دیکھا

” کیا ہوا ماں ۔۔ ؟”
سردار بی بی کو سینے پر ہاتھ رکھ کر گہرا گہرا سانس لیتے دیکھ کر عباس پریشانی کے عالم میں ان کی جانب بڑھا مگر ان کی تو حالت ہی بگڑنے لگی سب ہی پریشان سے سردار بی بی کو پکار رہے تھے مگر ان کی آنکھیں بند ہونے کے در پہ تھیں

” شہزاد گاڑی نکالو ۔۔ !”
بلند آواز میں شہزاد کو حکم دیتے ہوئے عباس نے سردار بی بی کو اٹھایا اور باہر کی سمت بڑھے سردار شیر دل ، ناعمہ ہمدانی اور نورے بھی اس کے پیچھے لپکے جبکہ حُرّہ اچانک ہوئی اس کاروائی پر حقیقتاً پریشان ہو گئی

////////////////////////

سردار بی بی کو مائنر اٹیک ہوا تھا جس باعث سب پریشان تھے اگلے چند دن انہیں ہسپتال میں رکھا گیا تھا اس دوران سردار بی بی ہر وقت عباس کو اپنے پاس رکھتیں وہ محض کپڑے بدلنے یا کھانا کھانے حویلی جاتا پھر ہسپتال چلا جاتا تقریباً ایک ہفتہ انہیں ہسپتال رکھا گیا اس دوران عباس کی ایک مرتبہ حُرّہ سے حویلی میں سرسری سی ملاقات ہوئی جبکہ باقی گھر والوں کی طرح حُرّہ بھی پریشان تھی بیشک سردار بی بی نے ہمیشہ اسے اپنی نفرت اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا مگر تھیں تو وہ ایک ماں اور ماں کیا ہوتی ہے یہ کوئی حُرّہ سے پوچھے جو آخری وقت میں اپنی ماں سے بھی نہ مل سکی پھر عباس اس قدر پریشان رہتا تھا کہ حُرّہ سردار بی بی کی صحت اور زندگی کی دعائیں مانگنے لگی
اس دن کے بعد ناہید نے پھر کبھی اس سے بدتمیزی سے بات نہیں کی تھی مگر کام وہ پورے اپنے حصے کے کرتی تھی
دو دن پہلے ہی سردار بی بی کو طبیعت بہتر ہونے پر عباس گھر لے آیا تھا اور پھر فوراً ہی شہر کو روانہ ہو گیا تھا جبکہ آج سردار بی بی نے اپنے کمرے میں نورے کو بلوایا تھا

” ناہید میرے کنگن لے کر آ ۔۔!”
ناہید کو ڈریسنگ ٹیبل کے دراز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سردار بی بی نے حکم دیا اس وقت ناعمہ اور نورے دونوں ہی ان کے پاس ان کے کمرے میں موجود تھیں

” بی بی جی یہاں تو کنگن نہیں ہیں ۔۔ “
دراز کھنگارنے کے بعد ناہید نے کہا تو سردار بی بی کے ماتھے پر بل پڑے یہ وہ کنگن تھے جو وہ ہر وقت پہنے رکھتی تھیں بیماری کے دوران ہسپتال میں اتارے گئے تھے

” ارے باولی ہو گئی ہے کیا ۔۔ یہیں ہوں گے دیکھ صحیح سے ۔۔ !”
اسے کہتے ہوئے وہ خود بھی بیڈ سے اٹھ گئیں

” سردار بی بی آپ بیٹھیں آرام کریں نورے تم دیکھو ذرا ۔۔”
ناعمہ نے انہیں اٹھتا دیکھ کر نورے کو کہا تو نورے فوراً اٹھی اور دراز کھنگالنے لگی

” یہاں تو نہیں ہیں سردار بی حی ۔۔ “
نورے کا جواب سن کر سردار بی بی خود اٹھیں اور دیکھنے لگیں مگر بے سود

” کہاں جا سکتے ہیں ۔۔ ارے ناعمہ ہر وقت پہننے کی عادت تھی مجھے ۔۔ زندگی میں پہلی بار اتارے تو سوچا اپنی ہونے والی بہو کو پہناؤں گی اب ۔۔ مگر یہ کیا بد شوگنی ہو گئی ۔۔ عباس کی دادی نے عباس کے پیدا ہونے پر مجھے دیے تھے “
مایوس ہو کر وہ بولیں تھی

” مگر بی بی آج تک کبھی حویلی میں کوئی چیز ادھر سے ادھر نہیں ہوئی ۔ پھر آج کیسے ہو سکتی ہے ۔ “
ناہید ، ان کے قریب جا کر کہتی ہے تو سردار بی بی اس کی بات سن کر ٹھٹھک جاتیں ہیں

” ہاں ۔۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔ تو آج چوری کیسے ہو سکتی ہے ۔۔ “
انہوں نے سر ہلاتے ہوئے پر سوچ انداز میں کہا

” بی بی مجھے سب ملازمین پر بھروسہ ہے مگر وہ جو لڑکی ہے نا اس پر شک ہو رہا ہے ۔ “
سردار بی بی کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ وہاں موجود نورے اور ناعمہ نہ سن سکیں جبکہ سردار بی بی یکدم غصے میں بولیں

” اس لڑکی کو بلواؤ “
پھر اگلے چند لمحوں میں حُرّہ ان کے سامنے موجود تھی

” اے لڑکی مجھے سچ سچ بتا دے ۔ کہ میرے کنگن تو نے چوری کیے ہیں ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کے بال جکڑے وہ دھاڑیں جبکہ ان کی بات سن کر حُرّہ کے پیروں سے زمین نکل گئی

” ننن نہیں ۔۔ مم میں نے نہیں کی ۔۔ مم میں چچ چور نہیں ہوں ۔ “
حُرّہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی آنکھیں اس کی آنسوؤں سے بھر گئیں

” جھوٹ بولی تو زبان کاٹ دوں گی تیری ۔۔ بول کہاں ہیں کنگن ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کا چہرہ دبوچے وہ دھاڑیں تھیں ناعمہ اور نورے پریشانی سے ساری صورتحال دیکھ رہیں تھیں جبکہ ناہید کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی

” مم مجھے نن نہیں مم معلوم ۔۔ “
روتی ہوئی وہ بمشکل بول سکی تھی

” گھٹیا، نیچ خاندان کی لڑکی ہے تو ۔۔ تجھ سے کوئی بھی امید کی جا سکتی ہے ۔۔ شرافت سے بتا دے نہیں تو ہاتھ کٹوا دوں گی ۔۔ “
انہوں نے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکتے ہوئے دھمکی دی جبکہ اب حُرّہ مسلسل روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کنگن کہاں ہیں مگر چوری کا الزام لگ گیا تھا

” ممم میں چچ چور نہیں ہوں ۔۔ مم مجھے کچھ نہیں پتہ ۔۔ “
حُرّہ سسکتی ہوئی کہہ رہی تھی

” ناہید میرے کمرے کی صفائی کون کرتا ہے ۔۔ ؟”
سردار بی بی نے مڑ کر ناہید سے پوچھا

” یہی کرتی ہے بی بی جی ۔۔ “
ناہید نے فرش پر گری سہمی ہوئی حُرّہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

” ابھی اس کے کمرے کی تلاشی لیتے ہیں پتہ چل جائے گا کہ چوری کس نے کی ہے ۔۔ “
سردار بی بی نے کہتے ہوئے حُرّہ کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ چلنے لگیں جبکہ ناعمہ نورے اور ناہید بھی ان کے پیچھے تھیں

کمرے میں داخل ہوکر سردار بی بی نے ملازمہ سے کمرے کی تلاشی لینے کو کہا جبکہ حُرّہ سہمی آنکھوں سے ملازمہ کو دیکھ رہی تھی جانے آگے کون کون سے امتحان دینے باقی تھے

” بی بی جی یہ ۔۔ “
چٹائی کے اوپر رکھی حُرّہ کی چادر کے پلوں میں سے سردار بی بی کے کنگن اور چند نوٹ برآمد ہوئے تھے اور وہاں موجود تمام نفوس اپنی جگہ ساکت ہو گئے تھے حُرّہ نے بے یقینی سے ان کنگن کو دیکھا جسے وہ پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی

” ہاں اب بول کہ تو نے چوری نہیں کی ۔۔ “
سردار بی بی کنگن ہاتھ میں لیتے ہوئے حُرّہ کی جانب مڑتے ہوئے غرائیں

” ممم میں نے چچ چوری نہیں کی ۔۔ “
حُرّہ خوف سے چند قدم پیچھےہوتی ہوئی روتے ہوئے بولی

” ہمم اور یہ اتنے سارے پیسے تیرے پاس کہاں سے آئے ۔۔؟؟”
اب انہوں نے نوٹ حُرّہ کی جانب اچھالتے ہوئے پوچھا

” یی یہ مجھے ۔۔ سس سردار ۔۔”

” لڑکی تو ، تو واقعی بہت بڑی چور ہے میرے کنگن بھی چرا لیے اور اتنے سارے پیسے بھی ۔۔”
حُرّہ کے بولنے سے پہلے ہی وہ اس کی بات کاٹ کر بولیں

” اچھا اگر تو نے چوری نہیں کی تو یہ تیری چادر کے پلو میں کیا کر رہیں ہیں ۔۔؟”
سردار بی بی کنگن ہاتھ میں لیے دھاڑیں

” مم مجھے نہیں پتہ ۔۔ مم میں نہیں جانتی ۔۔ “
حُرّہ نفی میں سر ہلاتی آنکھوں میں خوف لیے بولی تو سردار بی بی نے بازو سے جکڑ کر اسے سامنے کیا اور اس کے چہرے پر زوردار طمانچے مارنے لگیں یہ ہولناک منظر دیکھ کر نورے سے رہا نہیں گیا اور آگے بڑھی جب ناعمہ نے اس کا بازو تھام کر اسے روک دیا

” اپنے کمرے میں جاؤ نورے ۔۔ !”
ناعمہ دھیمی آواز میں حکمیہ انداز میں بولیں تھیں

” ماں وہ ۔۔ “

” تم چلو یہاں سے ۔۔ !”
نورے نے کچھ بولنا چاہا تھا جب ناعمہ نے اسے روک دیا اور اسے لے کر کمرے سے نکل گئیں جبکہ پیچھے سردار بی بی حُرّہ کو بری طرح مار رہیں تھیں یہاں تک کہ وہ شدت درد ست نڈھال ہو گئی

” میرے بیٹے کے ساتھ کے خواب دیکھے نا تو نے تو آنکھیں نوچ لوں گی تیری ۔۔ “
حُرّہ کو فرش پر پٹخ کر وہ دندناتی ہوئی کمرے سے نکل گئیں ان کے پیچھے ناہید بھی لبوں پر مکروہ مسکراہٹ سجائے نکل گئی جبکہ حُرّہ بری طرح رونے لگی

” یی یا اللہ اور کتنے امتحان باقی ہیں ۔۔ اتنی نفرت ۔۔ اتنی حقارت ۔۔ اتنے الزام ۔۔ اور نہیں برداشت ہوتا مجھ سے ۔۔ ماں بابا مجھے اپنے پاس بلا لیں پلیز ۔۔ اور نہیں سہہ سکتی ۔۔ “
زمین پر اوندھے منہ گری وہ شدت سے رو رہی تھی

مگر ابھی اس کے امتحان باقی تھے ہر ملے گئے دکھ کی طرح اس دکھ ، اذیت کو ساری رات رو لینے کے بعد اگلے طلوع ہونے والے دن پھر سے وہی نفرت ، وہی ذلت اس کی زندگی میں شروع ہو گئی
مگر اگلے دو دن سزا کے طور پر اسے ایک وقت کا کھانا دیا جاتا کھاتی تو وہ پہلے بھی بچا ہوا تھا اور پھر جب وہ رات کو سارے اپنے ذمے کے کام نبٹا کر اس کمرے میں بچھی چٹائی پر آ لیٹی تھی تو اس کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی جی متلی کرنے لگا ، ابکائیاں آنے لگیں ، سر بری طرح چکرانے لگا مگر اس بڑی سی حویلی میں کسی کو اس کے دکھوں ، تکلیفوں کا احساس نہ تھا جانے ابھی اس کی اور کتنی آزمائشیں باقی تھیں

/////////////////////////

جاری ہے

😑😑