Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 17
” کیوں آپ لوگ اس قصے کو ختم نہیں کر دیتے ۔۔ مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔ “
نورے کی آواز میں جھنجھلاہٹ کے ساتھ اذیت بھی تھی جو اس سے مخاطب اس کی ماں نے خوب محسوس کی
” مت مارو اندر سے خود کو بیٹا ۔۔ دیکھنا تم کتنی خوشیاں ملتیں ہیں تمہیں ۔۔ بس ایک بار عباس کے ساتھ نکاح ہو جائے تمہارا پھر تو راج کرو گی تم ۔۔ “
وہ نورے کا مرجھایا چہرہ دیکھتی بول رہیں تھیں نورے نے اذیت سے آنکھیں میچیں اور پھر وا کیں
” چھوٹے سردار شادی شدہ ہیں ایک بچی کے باپ ہیں ماں اور وہ کبھی بھی آپ لوگوں کی خواہش پر مجھ سے شادی نہیں کریں گے کیونکہ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں ۔۔پھر کیوں آپ لوگ اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں ۔۔ “
ضبط کے باوجود اس کی آواز بھیگی تھی
” تم کوشش تو کرو بیٹا ۔۔ اس لڑکی نے جانے کون سی ادائیں دیکھائی ہیں تمہیں تو بس اتنا کہہ رہی ہوں کہ چھوٹے سردار سے محبت کا اظہار کرو ۔۔ وہ بہت نرم دل ہیں ۔۔ جب وہ حویلی آتا ہے تو ملا کرو بات کیا کرو ان سے ۔۔ “
وہ نورے کا ہاتھ تھامتی سمجھاتے ہوئے بولیں تھیں
” آپ چاہتی ہیں میں محبت کی بھیک مانگو ان سے ۔۔ ؟؟ کہ میرے کشکول میں محبت ڈال دیں ۔۔ ؟”
نورے کو جیسے ان کی بات پر صدمہ لگا تھا
” میں نے ایسا کب کہا بیٹا ۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہے نا ۔۔ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے ۔۔ جانتی ہو نا چھوٹے سردار کے علاوہ تمہارے تایا سردار کسی اور سے تمہاری شادی نہیں ہونے دیں گے ۔۔ “
وہ پریشان سی بولیں تھیں مگر ان کی بات پر نورے نے افسوس سے گردن ہلائی
” میں جانتی ہوں اور میں ساری عمر چھوٹے سردار کے نام پہ تو گزار سکتی ہوں مگر اپنا کردار نہیں گرا سکتی ۔۔ “
وہ دوٹوک انداز میں بولی اور آنسو چھپانے کی غرض سے چہرہ موڑ گئی
” کیا کیا نہیں کرتی آج کل کی لڑکیاں اچھا مستقبل پانے کے لیے مگر تم ۔۔!!!۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا میں خاموش نہیں بیٹھوں گی ۔۔ “
وہ کہتے ہی ایک افسوس بھری نگاہ نورے پر ڈال کر کمرے سے نکل گئیں پیچھے وہ شدت سے رونے لگی آخر اتنی تکلیفیں تھیں جو اسے ابھی سہنی تھیں
//////////////////////////
” احمد میں خود جاؤں گا انہیں ڈھونڈنے ۔۔ !”
بہت سوچنے کے بعد عباس نے احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو احمد نے سر ہلایا
” کچھ دن لگ جائیں گے اس کام میں ۔۔”
احمد نے اسے آگاہ کیا
” ہممم سوچ رہا ہوں ۔۔ دعا اور حُرّہ کو بھی ساتھ لے جاؤں ۔۔ لیکن حُرّہ جاتی ہی نہیں کہیں باہر ۔۔ “
عباس کشمکش میں بولا تھا کہ واقعی حُرّہ عباس کے لاکھ بار سمجھانے پر گھر سے نکلتی تھی ورنہ وہ کہیں باہر جانے کو کبھی خوشی سے تیار نہ ہوتی تھی وہ حُرّہ کی اس کیفیت کو سمجھتا تھا کہ وہ محض اپنے گھر کی چار دیواری ، اپنے شوہر ، اور بچی کے حصار میں ہی رہنا چاہتی ہے باہر کی دنیا سے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتی تھی
” میرا مشورہ یہ ہے کہ بھابھی اور دعا کو ساتھ مت لے کر جاؤ ۔۔ کیونکہ کہیں ان دونوں کی جان کو خطرہ نہ ہو جائے ۔۔ “
احمد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا عابی کا کیس اتنا الجھ چکا تھا کہ ایک الجھن سلجھاتے تھے تو دوسری پہلے تیار کھڑی ہوتی تھی مگر عباس نے ہار نہیں مانی تھی
” ہمم یہ بھی بات تمہاری ٹھیک ہے ۔۔ “
عباس کو احمد کی بات کافی حد تک مناسب لگی تو وہ متفق ہوتے ہوئے بولا
” میں اور تم تو پاکستان سے باہر ہوں گے ۔۔ پھر بھابھی کو حویلی چھوڑو گے کیا ۔۔؟؟”
احمد کے پوچھنے پر کچھ دیر عباس سوچ میں گم رہا تھا
” نہیں یار حویلی نہیں چھوڑ سکتا حُرّہ کو ۔۔ یہیں گھر پہ رہنا بہتر ہے ان کا ۔۔ “
وہ اب احمد کو کیا بتاتا کہ اس کی ماں کے دل میں سال ڈیرھ سال بعد بھی اس کی بیوی اور بیٹی کے لیے گنجائش نہیں ہے
” لیکن یار تجھے ایک ہفتے سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے ۔۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ تو حُرّہ بھابھی اور دعا کو حویلی چھوڑ دے ۔۔ “
احمد کے مشورے پر عباس نے مضطرب ہو کر پہلو بدلہ
” ہمم دیکھتا ہوں ۔۔ کرتا ہوں کچھ ۔۔ “
احمد کو مطمئن کر کے عباس کب سے خاموش بیٹھے عالیان کی جانب متوجہ ہوا
” کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔ اتنے خاموش کیوں ہو ۔۔ ؟”
عباس کے مخالف کرنے پر عالیان پہلے چونکا پھر پہلے عباس کو تکنے لگا پھر احمد کی جانب دیکھا
” کیا ہوا کچھ چھپا رہے ہو ۔۔ ؟؟”
عباس پوری طرح عالیان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے پوچھنے لگا
” نہیں ۔۔ !”
عالیان نے نفی میں سر ہلایا
” تو پھر ۔۔ ؟ خاموش کیوں ہو ۔۔ ؟؟”
عباس نے پھر سوال کیا تو احمد اور عالیان نے ایک دوسرے کو دیکھا
” تجھ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔ !”
عالیان نے سنجیدگی سے کہا تو عباس کو اسے سنجیدہ دیکھ کر حیرت ہوئی
” یہ تم اتنے سیریس کیسے ۔۔ ؟ سب خیریت ہے نا عالیان صاحب”
عباس نے سنجیدہ بات کو مذاق کا رنگ دیا مگر عالیان اور احمد کے چہرے ہنوز سنجیدہ تھے
” مدد چاہیے تیری ۔۔ ؟؟”
وہ دوبارہ بولا تو عباس نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
” کیسی مدد ۔۔ ؟ سب خیریت ہے نا ۔۔ ؟ “
عباس کو حقیقتاً پریشانی ہوئی تھی کیونکہ عالیان اتنا سنجیدہ کم ہی ہوتا تھا
اس ایک سال میں عالیان نے ایک ایک دن ، ایک ایک لمحہ اپنا امتحان لیا تھا کہ واقعی وہ نورے سے محبت کرتا ہے یا یہ چند لمحوں کے لیے طاری ہوئی کیفیت ہے مگر اپنے اندر بدلتی مثبت تبدیلی کو وہ اب خوب سمجھ رہا تھا کہ نورے کے علاوہ وہ کسی دوسری لڑکی کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اپنی محبت کی توہین سمجھتا ہے
” کیا ہوا عالیان میرے بھائی ۔۔ ؟ سب ٹھیک ہے نا ۔۔ ؟؟”
عالیان کو کسی سوچ میں ڈوبا دیکھ کر عباس نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا
اس سے پہلے عالیان کچھ کہتا عباس کا موبائل بجا اور حُرّہ کا نام دیکھ کر عباس نے کال پک کر کے سیل فون کان سے لگایا اسے یاد آیا کہ آج انہیں دعا کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا
” آپ دعا کو تیار رکھیں میں آ رہا ہوں تھوڑی دیر تک ۔۔ “
مختصر بات کرکے وہ کال کاٹ کر اٹھ کھڑا ہوا
” یار آج دعا کی ویکسین ہے ۔۔ اس لیے مجھے جلدی جانا ہے ۔۔ لیکن اس موضوع پر جلد بات کریں گے ۔۔ “
وہ عجلت میں کہتا مڑ گیا جبکہ پیچھے عالیان لب بھینچ کر رہ گیا
” اسی بارے میں بات کرنے والے تھے نا تم ۔۔ ؟؟ پھر کی کیوں نہیں ۔۔؟؟ اور کتنا وقت ضائع کرو گے ۔۔ ؟؟”
احمد جھنجھلا کر بولا تھا کہ وہ کتنی بار اسے سمجھا چکا تھا کہ اگر نورے سے محبت کرتے ہو تو اقرار کرو
” خود کو وقت دے رہا ہوں ۔۔ خود ہی تو تم کہتے ہو کہ عالیان کو محبت نہیں ہو سکتی ۔۔ بس فلرٹ کرتا ہوں ہر لڑکی کے ساتھ ۔۔ ٹائم پاس کرتا ہوں ۔۔ “
عالیان اسے اس کے الفاظ جتاتا بولا
” مگر اب میں ہی کہہ رہا ہوں کہ تم کس بات کی دیر کر رہے ہو ۔۔ کیوں طول دے رہے ہو معاملات کو ۔۔ ؟؟”
احمد کے پوچھنے پر عالیان نے تھکن زدہ سانس خارج کی
” کیا عباس سے ڈر گئے ہو کہ وہ اس کے گھر کی لڑکی ہے ۔۔ یا عباس کے سخت خاندانی اصولوں سے مایوس ہو کر پیچھے ہو گئے ہو ۔۔ ؟”
احمد نے کاری ضرب لگائی جس کے نتیجے میں عالیان نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا
” عباس سے کیوں ڈروں گا آخر میں اس کے گھر کی لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنانا چاہتا ہوں نا کہ ۔۔ !”
غصے میں کہتے عالیان نے بات ادھوری چھوڑی مگر پھر لمحہ بھر خاموشی کے بعد بولا
” اور ان کے خاندان کے اصولوں سے بھی مایوس نہیں ہوں ۔۔ میری محبت کے آگے وہ پست اصول کچھ نہیں ۔۔ بس ۔۔ !!”
” پھر کیا بات ہے ۔۔ ؟ کس بات کا انتظار کر رہے ہو ۔۔؟”
احمد نے پھر سوال داغا
” مجھے ایک چیز کا ڈر ہے کہ کہیں نورے کے ساتھ زبردستی نہ ہو جائے ۔۔ وہ اپنے دل اور زندگی میں کسی کے لیے ذرا سی جگہ کی گنجائش نہیں رکھتی ۔۔”
عالیان کے لہجے کا درد محسوس کرتا احمد چونکا
” مجھے یقین نہیں آ رہا یہ ہمارا وہی عالیان ہے جس کے لیے پیار و محبت محض ایک نام کی چیزیں تھی ۔۔ تم تو نورے کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہو ۔۔ ایسا عشق کہ اتنی عاجزی آ گئی تم میں کہ سوائے محبوب کے کچھ دیکھائی نہیں دے رہا ۔۔ “
احمد متاثر ہوا تھا مسکرا کر کہتا وہ عالیان کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پر بظاہر تو مسکراہٹ تھی مگر اس مسکراہٹ میں چھپی اذیت وہ باآسانی محسوس کر سکتا تھا
///////////////////////////
” حُرّہ ۔۔ “
عباس کی پکار پر وہ کچن سے سارے کام چھوڑ کر ہاتھ صاف کرتی پانی کا گلاس بھرتی لاؤنج کی جانب بڑھی
یہ تو معمول ہو گیا تھا وہ جب بھی آفس سے آتا تھا یا تو خود ہی حُرّہ کو ڈھونڈتا ہوا کبھی کمرے میں یا کبھی کچن میں پہنچ جاتا تھا یا کبھی دعا کو آیا کی گود سے لے کر لاؤنج میں بیٹھ جاتا تھا
” السلام علیکم سردار ۔۔ “
حُرّہ نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا تو ہمیشہ کی طرح عباس کی سارے دن کی تھکاوٹ اور پریشانی معدوم پڑھ گئی
” وعلیکم السلام ۔۔ “
مسکرا کر جواب دیتے ہوئے عباس نے گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا
وہ گہرے نیلے رنگ کے سادہ مگر قیمتی جوڑے میں ملبوس دوپٹہ کاندھے پر پھیلائے لمبے بال چٹیا میں مقید کیے ہوئے خاصی دلکش لگ رہی تھی بلاشبہ عورت کے چہرے کی خوبصورتی مرد کی محبت کے باعث برقرار رہتی ہے عباس کی بے پناہ عزت و محبت نے حُرّہ جیسی عام شکل و صورت کی لڑکی کو دلکش بنا دیا اس کے چہرے پر ایسی خاص مسکراہٹ اور ادا رہتی تھی کہ اک پل کو ہر کوئی ٹھہر کر اسے نگاہ بھر کر دیکھنے کی خواہش رکھتا تھا خود عباس بھی نگاہیں نہیں ہٹا پاتا تھا
” ارے آپ نے دعا کا کوئی بھی گفٹ کھول کر نہیں دیکھا ۔۔ ؟؟ “
بمشکل حُرّہ کے وجود سے نگاہیں چرا کر عباس نے ایک نظر میز پر ڈھیر لگے تحائف کو دیکھا جو کہ کل ہی دعا کی پہلی سالگرہ پر اسے ملے تھے اور پھر اپنی گود میں بیٹھی سال بھر کی دعا کو پیار کرتے ہوئے پوچھا
” آپ کا انتظار کر رہی تھی سردار ۔۔ آپ کے ساتھ آرام سے بیٹھ کر سارے تحفے دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔ “
حُرّہ نے پانی کا گلاس عباس کی سمت بڑھاتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ صوفے پر براجمان ہو گئی کل ہی دعا کی پہلی سالگرہ بہت دھوم دھام سے منائی گئی تھی حویلی سے سردار شیر دل تھوڑی دیر کے لیے تشریف لائے تھے باقی عباس کے جاننے والے آئے تھے جن کی جانب سے خاصے تحائف وصول ہوئے تھے
” چلیں ڈنر کر کے آرام سے دیکھیں گے ۔۔ !”
عباس نے پانی پینے کے بعد گلاس میز پر دھرتے ہوئے کہا اور حسب عادت دعا کے ساتھ کھیلنے لگ گیا جو ہمیشہ کی طرح اپنی باپ کی آواز اور شفقت سے نہال ہو رہی تھی
جبکہ حُرّہ مسکراتے ہوئے باپ بیٹی کے لاڈ دیکھنے لگی واقعی عباس نے اپنا ہر عہد نبھایا تھا کس قدر عزت اور محبت دیتا تھا دعا کے ساتھ بھی اس قدر محبت کرتا تھا کہ دعا سارا دن اس کی آمد کا انتظار کرتی تھی اور جب وہ آتا تھا تو کھل سی جاتی تھی وہ دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے سے اس قدر مانوس تھے کہ اگر حُرّہ دو دن تک دعا کو اپنی شکل نہ دیکھائے تو دعا اپنے باپ کے پاس مطمئن رہے گی ایسا حُرّہ کا کہنا تھا جبکہ عباس حُرّہ کے اس دعوے پر قہقہے لگاتا تھا یہ حقیقت تھی وہ جانتا تھا حُرّہ کی بات میں سچائی ہے
” حُرّہ ۔۔ !”
دعا کے ننھے ننھے ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے عباس نے حُرّہ کو پکارا جو انہیں کو دیکھ رہی تھی
” حکم سردار ۔۔ ؟”
حُرّہ مدھم آواز میں بولی
” مجھے کچھ دن کے لیے ملک سے باہر جانا ہے ۔۔ !”
عباس نے جیسے اسے اطلاع دی ایک لمحہ لگا تھا حُرّہ کے مسکراتے لب سکڑنے میں
” کل آفس سے ہی نکل جاؤں گا ۔۔ !”
عباس کے مزید بولنے پر حُرّہ نے بے چینی سے پہلو بدلا جبکہ عباس کی نگاہیں دعا پر تھیں مگر وہ حُرّہ کی کیفیت سے باخبر تھا
” کک کتنے دن کے لیے ۔۔ ؟؟”
بے چینی سے اس نے پوچھا تو عباس نے چونک کر حُرّہ کو دیکھا
” ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ ۔۔ !”
عباس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تو حُرّہ کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے
ایسا نہیں تھا کہ پہلی مرتبہ وہ ملک سے باہر حُرّہ اور دعا کو یہاں چھوڑ کر جا رہا تھا وہ اکثر آتا جاتا رہتا تھا اور ہمیشہ کی طرح حُرّہ بے چین ہو جاتی تھی وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ایسے پریشان ہونا ہے تو میرے ساتھ چلیں مگر حُرّہ ساتھ جانے پر بھی آمادہ نہیں ہوتی تھی
” مان جائیں محبت ہو گئی ہے ۔۔ “
عباس نے اس کا دھیان بٹانے کو بات بدلی
” میں کب انکار کر رہی ہوں ۔۔ !”
بے ساختہ حُرّہ کی زبان پھسلی اور احساس ہونے پر دانتوں تلے دبا لی
” اقرار بھی تو نہیں کرتیں نا آپ ۔۔ !”
عباس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
” جانا ضروری ہے ۔۔ ؟؟”
حُرّہ نے بات بدلی اور دعا کو دیکھنے لگی جو عباس کو کاپی کر رہی تھی جیسے عباس اسے باری باری رخسار پر پیار کر رہا ویسے ہی وہ بھی عباس کے گالوں پر بھی بوسے دے رہی تھی
” آپ بھی ساتھ چلیں نا ۔۔ !”
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عباس نے پیش کش کی تو حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
” نہیں ۔۔ “
” کیوں جانم ۔۔ ؟؟ “
عباس کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری تھی حُرّہ نے نگاہیں چرائیں
” بس آپ جلدی آ جائیے گا ۔۔ !”
وہ مدھم مگر التجائیہ بولی تھی جیسے عباس سے دوری وبال جان ہو
” کوئی خاص وجہ جلد بلانے کی ۔۔ ؟”
وہ حُرّہ کی کیفیت سے محظوظ ہوتا ہوا مسکراہٹ دبائے اس بار پوچھ رہا تھا
” دعا یاد کرتی ہے آپ کو ۔۔ “
حُرّہ نے دعا کے بھرے بھرے گلابی گال کو نرمی سے انگلی سے چھوتے ہوئے نگاہیں جھکا کر کہا
” اور آپ ۔۔ ؟؟”
وہ اس کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھتا پوچھ رہا تھا
” مم میں بھی ۔۔ “
وہ نگاہیں جھکائے اقرار کر بیٹھی تو عباس نے ایک بازو اس کے گرد حمائل کرتے ہوئے اسے اپنے میں بھینچ لیا
” دوری برداشت نہیں ہوتی تو کیوں مجھے اور خود کو مشکل میں ڈالتی ہیں ۔۔ “
وہ شکوہ کر رہا تھا وہ خود بھی ہر وقت اپنی بیوی اور بیٹی کو پاس رکھنا چاہتا تھا مگر حُرّہ رضامند ہی نہیں ہوتی تھی
” بس آپ جلدی آئیے گا ۔۔ ورنہ آپ کی بیٹی نے مجھے تنگ کر دینا ہے ۔۔ “
صوفے سے اٹھتی ہوئی وہ اس بار دعا کو گھورتی ہوئی بولی تھی جو اس کی جانب باپ کے سامنے دیکھتی بھی نہیں تھی
“یہ زیادتی ہے حُرّہ ۔۔ میری بیٹی بلکل میرے جیسی ہے ۔۔ کسی کو تنگ نہیں کرتی ۔۔ اپنے بابا کی طرح معصوم اور صبر والی ہے ۔۔ ہم دونوں ہی تنگ نہیں کرتے آپ کو ۔۔”
وہ معنی خیزی سے بولا تھا کہ یکدم حُرّہ کا رنگ سرخ پڑا تھا وہ بھاگنے کے سے انداز میں لاؤنج سے نکلی تھی جبکہ عباس کا جاندار قہقہہ لاؤنج میں گونجا تھا
” ماما تو شرما گئی ۔۔ “
مسکرا کر دعا کو کہتے ہوئے وہ بھی صوفے سے اٹھا تو دعا بھی اپنے باپ کے قہقہے پر کھکھلائی جیسے اسے عباس کی بات سمجھ آ گئی ہو
” چلو ماما کو اور شرمانے پر مجبور کرتے ہیں ۔۔ “
دعا سے باتیں کرتا ہوا وہ بھی اس سمت بڑھا جہاں حُرّہ گئی تھی
////////////////////////////
” زندگی کا ہر نیا طلوع ہونے والا سورج ہمارے لیے ان گنت امتحان لے کر آتا ہے ۔۔ ایسے امتحان جن کی تیاری کے بغیر ہمیں کمرہ امتحان میں پرچہ حل کرنے کے لیے بیٹھا دیا جاتا ہے ۔۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کامیابیاں ہمارے قدم چومیں تو خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔۔ ثابت قدم رہو ۔۔ اور کہیں اور بھٹکنے کے بجائے خدا کا در کھٹکٹاؤ ۔۔ وہ واحد ذات ہے جو ہمیں کسی بھی بڑی چھوٹی مشکل سے نکال سکتی ہے ۔۔ اس نیت کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرو کہ تم کچھ بھی نہیں ہو خدا کے علاوہ تمہیں کوئی مشکلات سے نہیں نکال سکتا اور جب کوئی شخص یہ سوچ رکھتا ہے تو بلاشبہ وہ انکساری اختیار کیے ہوئے ہوتا ہے ۔۔ اور پھر خدا واقعی اس کی غیب سے مدد کرتا ہے ۔۔ مگر وہ شخص سمجھ جاتا ہے کہ اسے اس مشکل کے اللہ رب العزت نے نکالا ہے ۔۔
اگر آپ کو خود پر بہت اعتماد ہے کہ میں تو ہر مشکل وقت کا مقابلہ کر سکتا ہوں ۔۔ میں فلاں احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہوں اس لیے مجھے تو کوئی ناگہانی پیش نہیں آ سکتی ۔۔ تو یہ سراسر آپ کی نادانی ہے ۔۔ تقدیر میں لکھا اٹل ہے ۔۔ وہ ہر حال میں ہونا ہوتا ہے مگر دعا وہ واحد ذریعہ ہے جس سے تقدیریں بھی بدل جاتی ہیں ۔۔ ہر وقت خدا رب العزت سے دعا کریں کہ ہر ناگہانی اور مشکل سے آپ کو محفوظ رکھے ۔۔ “
یکدم حُرّہ کے لکھتے ہوئے ہاتھ رکے تھے دعا کے رونے کی آواز پر وہ ڈائری میں ہی پین رکھتی جلدی سے کرسی سے اٹھی اور اسٹڈی روم سے ملحق اپنے کمرے کی سمت بڑھی اور بیڈ پر دعا کے ساتھ لیٹ کر اسے پھر سے سلانے لگی جو شاید خود کو اکیلا محسوس کرتی نیند سے بیدار ہوئی تھی
رات کے اس پہر وہ عباس کی غیر موجودگی میں اپنی ڈائری پر کچھ تحریر کرتی تھی ابھی بھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی تو دعا کو سلا کر عباس کے اسٹڈی روم میں چلی گئی تھی
” ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں یہی اقرار سننا چاہتے ہیں نا آپ ہم سے سرداد ۔۔ تو آپ کا یہ حکم بھی سر آنکھوں پر ۔۔ اس بار آپ آئیں گے تو یہ حکم بھی بجا لاؤں گی ۔۔ سرداد آپ پر تو حُرّہ اپنی جان بھی قربان کر دے ۔۔ کیونکہ میری ہر چلتی سانس آپ کے نام ہے ۔۔ “
ساتھ لیٹی اپنی بیٹی کا لمس محسوس کرتی وہ تصور میں عباس سے مخاطب تھی
” دعا آپ کو بھی یاد آرہے ہیں نا بابا۔۔ “
نیند میں بار بار بےچین ہوتی دعا سے ہلکی آواز میں مخاطب ہوئی جو واقعی عباس کی غیر موجودگی کے باعث بےچین تھی حُرّہ سمجھ رہی تھی کہ دعا ، عباس کے سینے سے لپٹ کر سونے کی عادی تھی اور جب عباس نہیں ہوتا تھا تو وہ ایسے ہی بےچین ہوتی تھی
” بابا کو کال کرتے ہیں ۔۔ “
سوئی ہوئی دعا کو دیکھتے اسے تدبیر سوجھی سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل کو اٹھایا اور عباس کو کال ملائی جو کہ پہلی ہی رنگ پر پک کر لی گئی مگر دونوں اطراف کئی پل خاموشی چھائی رہی دونوں ایک دوسرے کی سانسیں محسوس کرتے رہے
” السلام علیکم ۔۔ “
عباس نے مدھم آواز میں سلام کرکے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا
” وعلیکم السلام ۔۔ “
حُرّہ بھی دھیما بولی تھی عباس سمجھ گیا کہ دعا کی نیند خراب نہ ہونے کے باعث وہ اتنا مدھم بول رہی ہے
” آپ ابھی تک جاگ رہیں ہیں خیریت ۔۔ ؟”
وہ جواب جاتنا تھا کہ وہ اسے یاد کر رہی ہے
” نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔ “
حُرّہ نے بات کو گول کیا جبکہ عباس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” اس کا مطلب مجھے مس کر رہیں ہیں ۔۔ ؟”
وہ مسکرایا تھا اس پل حُرّہ نے شدت سے خواہش کی کہ کاش وہ اسے مسکراتا دیکھ پاتی وہ کتنا حسین مسکراتا تھا نا کہ حُرّہ اس کی مسکراہٹ میں ہی کھو جاتی تھی
” حُرّہ ۔۔ !”
حُرّہ کی خاموشی پر عباس نے اسے پکارا
” ج جی سردار ۔۔ !”
وہ جیسے سٹپٹائی تھی
” سرداد کی جان کچھ بولیں بھی ۔۔ خاموش مت رہا کریں ۔۔ میں سننا چاہتا ہوں آپ کو ۔۔ !”
وہ تحکم انداز میں بولا تھا
” ج جی میں اور دعا مس کر رہی ہیں آپ کو ۔۔ “
حُرّہ بولی تو عباس مسکرایا اور ویڈیو آن کی حُرّہ نے بھی یس کا بٹن دبایا وہ سامنے ہی مسکرا رہا تھا کچھ خواہشیں کتنی جلدی پوری ہو جاتی ہیں نا بے ساختہ حُرّہ کے ذہن میں خیال آیا تھا
” کب آئیں گے آپ ۔۔ ؟”
” جب آپ بولیں ۔۔ “
وہ مسکراہٹ دبائے بولا
” جلدی آنے کی کوشش کریں پلیز ۔۔ !”
سکرین پر عباس کو دیکھتے وہ اس مرتبہ بولتے ہوئے نگاہ جھکا گئی
” جو حکم سردار کی جان ۔۔ “
عباس نے زرا سا سر کو خم دیتے ہوئے کہا تو حُرّہ کے چہرے پر بھی جاندار مسکراہٹ بکھری
پھر وہ دونوں کافی دیر ایک دوسرے سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہے جبکہ زیادہ تر خاموشی رہی کہ دونوں کے دل کے دھڑکنے کی آواز بھی باآسانی سنائی دے رہی تھی
وہ رات کے تیسرے پہر عجیب احساس کے تحت بیدار ہوئی تھی آنکھیں وا کیے اٹھ بیٹھی اور بے ساختہ نگاہیں سکون سے سوئی دعا پر گئی اطمینان ہونے پر زبان کے خشک ہونے کا احساس ہوا سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے شیشے کے گلاس میں پانی انڈیلا اور لبوں سے لگا لیا چند گھونٹ پی کر گلاس واپس رکھا جب دوبارہ سونے کے لیے لیٹنے لگی تو نگاہ بند کھڑکی کے وا پردوں کی جانب پڑی جہاں اسے کسی سائے کا گمان ہوا دل بے اختیار زور سے دھڑکا لبوں پر زبان پھیرتی بیڈ سے اتری اور بھاگ کر پردے برابر کیے اور واپس لیٹ گئی مگر اب نیند کہاں آنی تھی دل تھا کہ بے چین ہوئے جاتا تھا ابھی اسی بےچینی میں تھی کہ کمرے کے باہر سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں اور پھر حُرّہ کو کمرے کا لاک کھلنے کی آواز آئی یہیں حُرّہ خوف کی انتہا تک پہنچی تھی جسے وہ اپنا وہم اور ڈر سمجھ رہی تھی وہ حقیقت تھی مطلب کوئی اس کے گھر اور کمرے میں گھس چکا تھا فوراً ہڑبڑا کر اٹھی مگر اپنے سامنے کسی انجان مرد کو رات کے اس پہر کمرے میں دیکھنا حُرّہ جیسی لڑکی کی سانسیں روک گیا وہ مکروہ مسکراہٹ لیے قدم قدم چلتا آگے بڑھ رہا تھا اور اپنے کمرے میں موجود اس انجان شخص کی آنکھوں سے جھلکتی ہوس دیکھ کر حُرّہ کا دل بیٹھتا جا رہا تھا
////////////////////////////
جاری
