Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 3

وہ سب جب حویلی کے صحن میں پہنچے تو عباس حویلی کے پرانے اور وفادار ملازمین اور گارڈز پر چیخ چنگھاڑ رہا تھا بیشک عباس کا اس طرح بلند آواز میں چلانا حویلی کے مکینوں سمیت نوکروں کو بھی حیرت میں مبتلا کر رہا تھا آج تک کسی نے عباس کو اس قدر طیش میں نہیں دیکھا تھا سردار شیر دل آگے بڑھے اور ایک گارڈ کو عباس کی جارحانہ گرفت سے نکال کر دور کیا

” کیا ہو گیا ہے عباس ۔۔ میرے شیر ۔۔”
سردار شیر دل نے بیٹے کو دونوں بازوؤں کے گھیرے میں لیتے ہوئے بلند آواز میں کہا

” ایک ایک کو جان سے مار دوں گا بابا میں ۔۔ اتنے لوگوں کے پہرے کے باوجود میری بہن کے ساتھ یہ سانحہ کیسے ہو گزرا ۔۔ کسی کام کے نہیں ہیں یہ ۔۔”
عباس غراتا ہوا ایک نظر تمام ملازمین اور گارڈز پر ڈالتا آخر میں باپ کی گرفت سے نکلا

” کیوں اپنے آپ کو اس انتقام کی آگ میں جلا رہے ہو ۔۔ میں نے کہا تھا نا تمہیں کہ ہم خون کا بدلہ ضرور لیں گے ۔۔ پھر کیوں اذیت دے رہے ہو خود کو ۔۔ “
عباس کو دکھ سے دیکھتے وہ بولے

انہوں نے اپنے ٹھنڈے مزاج بیٹے کو اس قدر طیش کے عالم میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا اتنے دن بعد وہ حویلی آیا بھی تو اس قدر عجب حالت میں تھا کہ آنکھیں سوجی ہوئیں تھیں اور داڑھی بڑھی ہوئی
سردار بی بی بھی بیٹے کو اس قدر غصے میں دیکھ کر تڑپ گئیں جبکہ نورے کی آنکھیں عباس کی یہ بکھری حالت دیکھ کر بھیگنے لگیں

” بابا ان لوگوں نے اگر اپنا کام صحیح سے کیا ہوا تو ۔۔!!”
اس سے آگے عباس بول ہی نہیں سکا اور قرب کے باعث آنکھیں میچ گیا حویلی کے وسیع صحن میں موجود ہر ذی روح سردار کو پہلی مرتبہ اس طرح دیکھ کر رو پڑا جبکہ ملازمین اور گارڈز عباس کے ڈر و خوف کے باعث کانپ رہے تھے

” عباس میرے شیر ۔۔ سمبھالو خود کو ۔۔ تمہاری ماں مر جائے گی تمہیں اس طرح دیکھ کر ۔۔”
سردار شیر دل نے عباس کو خود میں بھینچتے ہوئے وہاں کھڑی سردار بی بی کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا تو عباس کی نگاہیں اپنی ماں کی جانب اٹھیں جو روتی ہوئی غم کی تصویر بنی کھڑی تھیں انہیں دیکھ کر عباس کا دل مزید تڑپ گیا وہ ماں جنہیں اس نے ہمیشہ سج سنور کر شان و شوکت سے حویلی میں حکمرانی کرتے دیکھا تھا آج اجڑی ہوئی حالت میں دیکھ کر دل کو ٹھیس پہنچی اور قدم ماں کی جانب خودبخود بڑھے

” انہیں رحم کہوں نہیں آیا میری بیٹی پر ۔۔؟؟ “
عباس جب ان کے قریب پہنچا تو وہ سسکتی ہوئیں اس کے سینے سے لگ کر بھرائی آواز میں پوچھنے لگیں

نورے ، عباس کے قریب آنے پر نم آنکھوں سے اسے بغور دیکھنے لگی
کالی پینٹ کے اوپر کالی ہی شرٹ اور اس کے اوپر کالی کی لیدر کی جیکٹ پہنے کھڑا تھا چہرہ غم و غصے کے زیر اثر تھا پروقار شخصیت رکھنے والے عباس کو اس قدر عجب حالت میں دیکھ کر اس کا دل رونے لگا آخر کو دل میں جو بستا تھا

” میں بھی رحم نہیں کروں گا ان پر ماں ۔۔ آپ سے وعدہ ہے یہ میرا ۔۔ “
عباس نے ماں کے ہاتھ کو تھام کر یقین دلاتے ہوئے کہا اور پھر ایک مرتبہ مڑا

” شہزاد ۔۔ “
مڑ کر اس نے اپنے خاص آدمی کو پکارا جو کچھ فاصلے پر سر جھکائے ہاتھ باندھے کھڑا تھا

” جی حکم سردار ۔۔”
شہزاد نے عباس کے قریب آ کر نہایت ادب سے کہا

” ان پر سختی کرو ۔۔ یہ مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے نہیں رکھے ہوئے ہم نے ۔۔ اور ان میں سے بھی کوئی غدار ہے ۔۔ یہ بات یاد رکھنا ۔۔

عباس نے نحوت سے وہاں موجود سب گارڈز کو دیکھتے ہوئے کہا اور بارعب انداز میں آگے بڑھ گیا جبکہ پیچھے کھڑا شہزاد جی سردار کرتا ہوا جانے لگا جب سردار شیر دل نے اسے اپنی بھاری رعب دار آواز میں پکارا اور ناہید کو خواتین کو اندر لے جانے کا حکم دیا اب حویلی کے صحن میں فقط سردار شیر دل اور شہزاد موجود تھے

” ایک ایک پل ساتھ رہے ہو نا تم میرے بیٹے کے ۔۔ ؟؟”
سردار شیر دل نے سامنے کھڑے وفادار آدمی سے پوچھا جس کو انہوں نے بچپن سے عباس کے ساتھ رکھا تھا

” جی بڑے سردار ۔۔ آپ کے کہے کے مطابق میں پل پل چھوٹے سردار کے ساتھ رہا ہوں ۔۔ ایک لمحہ بھی انہیں اکیلے نہیں چھوڑا ۔۔”
شہزاد نے سر جھکائے ادب سے کہا وہ جانتا تھا اب سردار شیر دل ساری روداد پوچھیں گے

” اتنے دن کہاں گزارے ۔۔”
انہوں نے سوال کرتے ہوئے ماتھے پر بل ڈالے

” شہر میں ۔۔
جو چھوٹے سردار کے دوست ایس پی ہیں ان سے ملاقاتیں کافی رہتی تھیں چھوٹے سردار کی ۔۔ چھوٹی بی بی کے کیس کے تحت ۔۔ “
شہزاد نے ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد تفصیلاً بتایا

” تو کچھ معلوم ہوا ۔۔ خاور کے علاوہ دو اور کون لوگ قاتل ہیں ۔۔”
انہوں نے بے چینی سے اگلا سوال کیا

” جی چھوٹے سردار نے دن رات ایک کر دی انہیں ڈھونڈنے میں ۔۔ ایک مل گیا ہے اور جیل میں نیم مردہ حالت میں ہے چھوٹے سردار نے بے رحمی سے اسے مارا ہے ۔۔ باقی دو تک بھی جلد ہی پہنچ جائیں گے ۔۔”
شہزاد نے تفصیلاً سر جھکائے بتایا تو سردار شیر دل کے دل کے گوشے میں سکون اترا انہیں عباس پر فخر محسوس ہوا وہ جانتے تھے عباس ضرور ڈھونڈ نکالے گا مگر پریشانی انہیں پھر بھی ب حد ہو رہی تھی کیونکہ عباس کا اس قدر طیش انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا وہ جانتے تھے ان کا غیرت مند بیٹا بہت تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہا ہے

“اور کوئی حکم سردار جی ۔۔”
شہزاد نے سردار شیر دل کو ہنوز خاموش دیکھ کر ذرا سا سر اٹھا کر پوچھا

” نہیں ۔۔ بس تم ہر وقت عباس کے ساتھ رہا کرو جب بھی وہ حویلی سے باہر ہو ۔۔!!”
سردار شیر دل نے حکمیہ انداز میں کہا اور خود حویلی کے اندورنی حصے کی جانب قدم بڑھانے لگے جبکہ شہزاد سر ہلاتا حویلی سے نکل گیا

////////////////////////////

” چھوٹے سردار ۔۔!”
عباس بڑے بڑے قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا جب نورے تیز تیز چلتی ہانپتی ہوئی اس تک پہنچی اور جلدی سے پکارا

نورے کی آواز پر عباس کے قدم پہلے دھیمے ہوئے پھر رک گئے اور پھر مڑ کر اپنا رخ نورے کی جانب کیا سامنے سر پر دوپٹہ اوڑھے نورے اسی کو دیکھ رہی تھی

” السلام علیکم چھوٹے سرکار ۔۔”
عباس کو مڑتا دیکھ کر نورے نے فوراً سنبھتے ہوئے اسے سلام کیا جس کا جواب عباس نے سر کو ہلا کر دیا

” کیسی ہیں آپ ۔۔؟”
نگاہیں جھکا کر اس بار عباس نے تھکی ہوئی آواز میں پوچھا اس کی بوجھل آواز اس کی بے آرامی کا پتہ دے رہی تھی عباس کے پوچھنے پر نورے کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی

” آپ کو اس طرح دیکھ کر کیسی ہو سکتی ہوں میں ۔۔؟”
بے خودی کے عالم میں وہ بولی تھی

عباس کے نگاہیں جھکا لینے پر نورے کے دل میں شور برپا ہوا یہ عادت اسے ہمیشہ سے عباس کی پسند تھی کہ کبھی بھی اس نے اس کی جانب نہیں دیکھا تھا بلکہ نگاہیں جھکی ہوئی رہتیں اور انداز احترام سے بھرپور رہتا

” ہمیں یقین ہے آپ عابی کے قاتل کو اس کے انجام تک ضرور پہنچائیں گے ۔۔ “
عباس کو خاموشی سے نگاہیں جھکا کر سر ہلاتے دیکھ کر نورے پھر سے بولی تو عباس نے ایک سرسری نگاہ نورے پر ڈال کر نگاہوں کا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے سر کو اثبات میں جنبش دی

” آپ کیسے ہیں ۔۔ ؟”
نورے کا ہمیشہ کی طرح جی چاہ رہا تھا کہ وہ اسی طرح عباس سے باتیں کر کے اس کو دیکھتی رہے یہ پل طویل ہوتے جائیں اسی لیے ایک بار پھر اس نے عباس کو مخاطب کیا

” ٹھیک ۔۔”
عباس نے یک لفظی جواب دیا اور قمیض کی جیب میں مسلسل وائبریٹ ہوتے موبائل کو نکالا اور کال کاٹ کر ایس پی احمد کا بھیجا گیا میسیج پڑھا اور میسیج پڑھ کر عباس کی گردن کی رگیں تن گئیں ایک پل کو قرب سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دوبارہ کھولیں اور پھر موبائل بند کرکے جیب میں رکھ دیا نورے ، عباس کی حالت سے مکمل بے خبر تھی

” آپ جانتے ہیں ہمارے دل کی پرانی خواہش ہے کہ آپ ہمیں ایک مرتبہ آنکھ بھر کر دیکھیں ۔۔ “
عباس کی جھکی نگاہوں پر اپنی نگاہیں جمائے نورے کے لبوں سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے تھے جبکہ عباس نے نورے کی بےباکی پر چونک کر اسے دیکھا مگر اپنی عادت کے مطابق فوراً نگاہوں کا رخ دوسری جانب کر لیا

” مگر میں جانتی ہوں ۔۔ میری یہ خواہش تب پوری ہو گی جب ہم دونوں میں محرم رشتہ قائم ہو جائے گا ۔۔ اور یقیناً وہ وقت بہت قریب ہے ۔۔”
نورے پھر سے بے خودی میں بولی تھی اور عباس کی آنکھوں میں جواب تلاش کرنے لگی تھی مگر عباس نے نگاہیں چرا لیں

” میں بہت تھکا ہوا ہوں ۔۔ پھر ملاقات ہوگی آپ سے ۔۔”
دھیمی آواز میں کہتے ہوئے عباس نے رخ موڑا اور تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ گیا

جبکہ نورے کو اس کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ آج اس نے بےخودی میں عباس کے سامنے بہت بول دیا اور اب اسے شرمندگی نے آن گھیرا مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو پچپن سے عباس کے نام پر دھڑکتا تھا اور عباس کو سامنے دیکھ کر تو بے خود سا ہوا جاتا تھا

” اے خدا ہمیں جدا مت کرنا ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔ “
بے ساختہ دعا مانگتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے

////////////////////////

” اے لڑکی یہاں چھپ کے بیٹھی کیا کر رہی ہے ۔۔ چل اٹھ سارا کام ایسے ہی پڑا ہے ۔۔ برتن دھو جا کے ۔۔”

سب کے اپنے اپنے کمروں میں جانے کے بعد ناہید ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے سکڑی سمٹی بیٹھی حُرّہ کو کانپتے ہوئے روتے دیکھ کر پھنکاری تو حُرّہ اچھل کر اٹھی اور فوراً باورچی خانے کی جانب بھاگی باورچی خانے میں آ کر وہ سینک کے سامنے کھڑی ہوئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی آنسو ہنوز اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے جسم میں کپکپی بھی ہنوز طاری تھی
جب تنفس بہتر ہوا تو ایک نظر آس پاس دیکھا جہاں ایک ملازمہ ڈائننگ ہال سے برتن اکٹھے کر کے لا رہی تھی حُرّہ کو حیرانی سے دیکھنے لگی حُرّہ نے فوراً چادر درست کی اور اس سے نگاہیں چرائے سینک میں پڑے برتن دھونے لگی
مگر دل کی دھڑکن ابھی بھی تیز تھی آہستہ آہستہ کاموں میں مصروف ہو کر وہ کافی بہتر ہو گئی اور اپنے ڈر پر کافی حد تک قابو پا چکی تھی

//////////////////////////

حُرّہ کچن کے کام کرنے کے بعد دبے پاؤں اپنے کمرے میں جانے لگی تھی کیونکہ وہ بے حد تھک چکی تھی اس وقت اسے تھوڑا آرام چاہیے تھا مگر اس سے پہلے ناہید کا پیغام آن پہنچا

” ارے جا کہاں رہی ہو ۔۔ اتنے کپڑے دھونے والے پڑے ہیں اور استری بھی کرنے ہیں ۔۔ جلدی کرو حویلی کی پچھلے حصے کی طرف جاؤ رضیہ تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔”
ایک ملازمہ نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تو حُرّہ سرد آہ بھر کر رہ گئی مردہ قدموں سے چلتے ہوئے وہ حویلی کے پچھلے حصے کی جانب بڑھی

جب وہ ڈھیروں کپڑے دھو کر تھک کر دوبارہ باورچی خانے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اندر سے آتی کچھ سرگوشی نما آوازوں نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ایک دل کیا کہ اندر نا جائے اور واپس پلٹ جائے مگر پھر نا چاہتے ہوئے بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہیں رک گئی

” پہلے وعدہ کرو کہ تم کسی کو نہیں بتاؤ گی ۔۔ اگر بات پھیل گئی حویلی میں تو سردار بی بی تو بعد میں پہلے وہ موٹی ناہید ہی مجھے سولی پر لٹکا دے گی ۔۔ “
ایک ملازمہ دوسری سے کہہ رہی تھی

” ہاں ہاں کسی کو نہیں بتاتی ۔ “
دوسری ملازمہ نے پہلی سے کہا

“رات کو خبر آئی تھی اس لڑکی کی ماں کے مرنے کی ۔۔ مگر سردار بی بی نے ناہید کو اس لڑکی کو بتانے سے منع کر دیا۔۔ بھئی خون بہا میں آئی لڑکی ہے پچھلوں سے کیا تعلق ۔۔ “
وہ ملازمہ جانے اور کیا کیا کہہ رہی تھی مگر حُرّہ تو سنتے ہی سکتے میں آ گئی

صدمے کی وجہ سے وہ کچھ بول ہی نہ سکی تھی غم ہی اتنا بڑا تھا کہ دنیا میں ایک واحد ماں ہی تو تھی اس کی اب وہ بھی نہ رہی تھی
وہ وہیں باورچی خانے کے دروازے کے پاس بیٹھتی چلی گئی جب اندر کھڑی ملازمہ کی نگاہ حُرّہ پر پڑی وہ فوراً لپک کر اس کے قریب آئی

” تت تم ۔۔ ؟ دھو لیے کپڑے ۔۔؟ یہاں کک کیوں بیٹھی ہو ۔۔؟”
حُرّہ کا بے حس و حرکت وجود اور خشک آنکھیں دیکھ کر ملازمہ کے تو جیسے اوسان خطا ہو گئے گھبراہٹ کے باعث ہکلا کر بول رہی تھی مگر حُرّہ کے کچھ جواب نہ دینے پر اس نے حُرّہ کو بازوؤں سے تھام کر جھنجھوڑا تو چند پل حُرّہ نے اسے ساکن آنکھوں سے دیکھا پھر آہستہ آہستہ جب حواس میں آئی تو آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے اور رونے میں شدت آ گئی حُرّہ بلند آواز میں چلانے لگی آخر غم ہی ایسا تھا

” ماں ۔۔ مم میری ماں ۔۔ نہیں ہو سکتا ایسا ۔۔ مجھے جانے دو ۔۔ مم ماں ۔۔”
حُرّہ بلند آواز میں روتے ہوئے اٹھنے لگی

” سنبھالو خود کو ۔۔ ہوش کرو ۔۔ جانتی ہو نا حویلی سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالنے دیں گے تمہیں ۔۔ اور زیادہ ظلم کریں گے تم پر خاموش ہو جاؤ ۔۔”
ملازمہ نے حُرّہ کو شدت سے روتے دیکھتے ہوئے معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا

” ظالم ۔۔ بے رحم لوگ ۔۔ خدا کے قہر سے نہیں ڈرتے یہ لوگ ۔۔ میرے خدا بنے بیٹھے ہیں ۔۔ مر گئی نا ماں میری ۔۔ ایک بار جانے دیتے تو کیا تھا ۔۔ مگر رحم نہیں آیا انہیں ۔۔ ظالم ۔۔ گھٹیا ۔۔”
حُرّہ صدمے سی کیفیت میں چیختی چلاتی جانے کیا کیا بول رہی تھی اسے خود بھی خبر نہیں تھی جب اسے مزید بولنے سے روکنے کے لیے ملازمہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلایا

” ہوش میں آؤ ۔۔ مر گئی ماں تو فاتحہ پڑھ لوں تم انہیں اور سوگ منا لو صبح تک ۔۔ مگر چیخو مت ۔۔ رحم کرو خود پر اور ہمارے اوپر ۔۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں سردار شیر دل جان سے مار دیں گے ۔۔ اور تمہاری یہ آہ و بکا سن کر مزید ظلم ہو گا تم پر ۔۔ رحم کرو اپنے آپ پر ۔۔ جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ “
ملازمہ اس کے بازو تھامے اسے سنجیدگی سے مگر سختی سے سمجھا رہی تھی اور پھر ایک پلیٹ میں روٹی سالن اور پانی کا گلاس رکھ کر حُرّہ کو ساتھ لیے سب کی نظروں سے بچ کر کمرے کی جانب بڑھی
حُرّہ کو کمرے میں چٹائی پر بیٹھا کر ٹرے ایک طرف رکھ کر ایک نظر ہمدردی سے حُرّہ کو دیکھ کر دروازہ بند کرتی چلی گئی جبکہ آج ہوئے نقصان پر حُرّہ رونے لگی وہ اس طرح تڑپ کر رو رہی تھی کہ اگر کوئی پتھر دل بھی اسے اس طرح سسکتے دیکھ لیتا تو یقیناً کچھ رحم تو آ جاتا آج اس نے دنیا میں اپنا سب سے زیادہ پیارا رشتہ کھو دیا تھا آج اس کمرے میں وہ روتی چیختی سسکتی رہی تھی ماں کے آخری وقت پر ان کے پاس نہ ہونا ، جانے تایا تائی نے کیا سلوک کیا ہوگا ماں کا آخری دیدار نہ کرنے دینا بھی تو ایک ظلم تھا جو اس کے ساتھ ہوا تھا

//////////////////////////////

عباس اپنے کمرے میں داخل ہوا تو کمرا بلکل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا لائٹ آن کر کے اس نے دروازہ لاکڈ کیا اور سیاہ جیکٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی اور طیش کے عالم میں ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار پر مارنے لگا بار بار ایس پی احمد کا میسیج کی تحریر اس کی آنکھوں کے سامنے آکر اسے بےقابو کر رہی تھی اور مزید طیش میں لے آئی تھی ایک مرتبہ دو مرتبہ تین مرتبہ اور جب چوتھی مرتبہ مارنے لگا تو جیب میں موجود موبائل پھر سے وائبریٹ ہوا اس نے اس بار فوراً موبائل نکالا اور بغیر سکرین پر نام دیکھے کان سے لگا لیا

” یہ سب کیسے ہوا ایس پی ۔۔؟ وہ کیسے مر گیا ۔۔؟”
دوسری طرف سے کچھ بولنے سے پہلے عباس نے بے چینی سے اپنی بھاری آواز میں پوچھا

” وعلیکم السلام ۔۔”
دوسری جانب سے سلام کیا گیا تھا عباس نے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنستاتے ہوئے آنکھیں بلند کر کے سلام کا جواب دیا اور پھر آنکھیں کھول کر قدم قدم چلتا صوفے پر آ بیٹھا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر پھر سے آنکھیں موند لیں

” ہاں حویلی میں ہی ہوں ۔۔ “
عباس نے آنکھیں موندے ہی جواب دیا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایس پی احمد کو کچھ معلوم نہیں پڑا

” میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم بتاؤ جو میں پوچھ رہا ہوں ۔۔ ؟”
دوسری جانب سے شاید اس کا حال احوال پوچھا گیا تھا جس کا جواب دے کر عباس نے ذرا سا جھک کر ایک ہاتھ سے اپنے جوتے اتارے اور پھر شرٹ کے بٹن کھولنے لگا

” احمد میں نے اسے اتنا نہیں مارا تھا کہ وہ مر جاتا ۔۔ تم اس بات کو سیریس لو یار ۔۔ کوئی ایسا ہے جس نے تمہاری ناک کے نیچے اس کا قتل کیا ہے ۔۔”
اب وہ مکمل فون کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور سنجیدگی سے کہنے لگا پھر بغیر کوئی بات سنے کال کاٹ کر موبائل سامنے پڑے میز پر پٹخ دیا

تین قاتلوں میں سے جو ایک پکڑا گیا تھا اب جیل میں وہ مردہ حالت میں پایا گیا تھا ابھی تو وہ جیل سے ہی آ رہا تھا تب تو وہ قاتل محض بےہوش ہوا تھا پھر اس کے حویلی پہنچنے سے پہلے وہ کیسے مر سکتا ہے جب نورے اس سے بات کر رہی تھی اس وقت اس نے ایس پی کی کال کاٹ دی تھی اور صرف میسیج پڑھا تھا جسے پڑھ کر جانے کیسے اس نے خود پر ضبط کیا تھا اب کمرے میں آ کر اس کا دل کر رہا تھا ہر چیز تہس نہس کر دے
کچھ دیر سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بیٹھا رہا اور پھر صوفے سے اٹھ کر اس نے اپنی شرٹ اتاری اور الماری کی جانب بڑھا الماری کا پٹ کھول کر ٹراؤزر اور شرٹ نکالی اور واشروم میں چلا گیا تھوڑی دیر بعد جب وہ نہا کر واپس آیا تو ڈریسنگ ٹیبل کے دراز سے رومال نکالا اور اپنے سر پر باندھا اور پھر الماری سے مصلہ لے کر بچھایا نماز ادا کرنے کے بعد جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
عباس جیسا اٹھائیس سال کا مرد اس وقت اپنے خالق کے سامنے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا آنکھیں اشک بار تھیں جبکہ لب ساکن تھے

” میرے مالک یہ کیسی آزمائش ہے ۔۔ اتنا بڑا امتحان ۔۔ میں اس قابل تو نہیں تھا ۔۔ کیوں عزت لوٹی گئی میری بہن کی ۔۔ نہیں برداشت ہو رہی یہ بات مجھ سے ۔۔ کیسے صبر کرو ۔۔ میرے مالک ۔۔ کیسے صبر کرو ۔۔ دیمک کی طرح کاٹ رہی ہے یہ بات مجھے ۔۔ ۔۔”
گاؤں کا سردار اپنے مالک سے ہمکلام تھا کہ جیسے اس کا حکم تھا
عباس وکیل ہونے کے باعث زیادہ تر شہر میں ہی اپنے بنگلے میں رہائش پذیر رہتا تھا حویلی بیس پچیس دن بعد ہی چکر لگتا تھا اس دوران جب عابی والا سانحہ ہوا تو وہ کورٹ میں کسی کیس کے سلسلے میں موجود تھا یہ الم ناک خبر سن کر ہر چیز چھوڑ کر گاؤں کے لیے روانہ ہوا تھا بہن کو سپرد خاک کرنے کے بعد عباس ایک پل چین سے نہیں بیٹھا تھا اور جیسے جیسے وہ اپنے ایس پی دوست کی مدد سے تحقیق کر رہا تھا اسے کافی کچھ پتا چلا اس دوران اس کا نکاح بھی ہوا مگر اسے اس وقت کسی بات یا کسی چیز سے فرق نہیں پڑ رہا تھا ابھی فقط اسے اپنی بہن کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانا تھا

” میرے مالک ۔۔ مجھے سکون دے ۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے ۔۔ میں نے تو آج تک کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا پھر میری بہن کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔۔ “
ابھی عباس نم آنکھوں سے خالق کے ساتھ ہمکلام تھا کہ موبائل کے بجنے پر مصلہ سمیٹ کر موبائل کان سے لگایا

” ہاں ۔۔ احمد بولو ۔۔؟”
فون کان سے لگائے وہ پوچھنے لگا
” ہممم اچھا ۔۔ میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کوئی قریبی ہے ۔۔ خیر تم اپنی کوشش جاری رکھو ۔۔ میں کل پھر آؤں گا ۔۔۔

” تم دیکھنا میں نہیں چھوڑوں گا کسی کو بھی ۔۔ آگ لگا دو گا سب کو ۔۔ ختم کردو گا ۔۔ “
دوسری جانب کی گئی بات کے جواب میں عباس نے گرجدار آواز میں کہا اور موبائل بیڈ پر پھینک کر خود بھی بیڈ پر ڈھے گیا اور نم آنکھیں موند لیں

/////////////////////////////
جاری ہے
اور ناول کے بارے میں تفصیلی رائے آپ سب دیا کریں کہ کیا بات بری لگی کیا بات اچھی لگی اور جو لوگ ناول کے بارے میں بڑا سا کمنٹ کرتے ہیں ایک ایک سین کے بارے میں بات کرتے ہیں مجھے اچھا لگتا ہے
اور آپ سب لوگوں کے کمنٹس پڑھ کر خوشی ہوتی ہے
فاطمہ☺