Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 13
وہ اپنا ماسٹرز میں ایڈمیشن کروا کر شہر سے حویلی واپس جا رہی تھی صبح عباس ہی اسے شہر لے کر آیا تھا مگر پھر مصروفیت کے باعث اس نے نورے کو ڈرائیور کے ساتھ واپس حویلی بھیج دیا وہ ابھی گاڑی میں بیٹھی حُرّہ اور عباس کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی
حُرّہ اور عباس کے رشتے کی نوعیت ہر ایک پر یہی بات واضح کر چکی تھی کہ حُرّہ ، عباس کے بچے کی ماں بننے والی تھی اور یہ بات سوچتے ہی نورے کے دل میں پھانس سی چبھ رہی تھی اور گود میں دھری ہوئی ہتھیلیاں آنسوؤں سے تر ہو رہیں تھی
نورے وہ لڑکی ہے جس کا دکھ وہ دکھ ہے جسے معاشرے کی وہ لڑکیاں محسوس کر سکتیں ہیں جنہیں ٹھکرا دیا جاتا ہے وہ شخص جسے بچپن سے محبت کی ہو ، اس کے ساتھ کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوں اسی کو کسی دوسرے کی دسترس میں دیکھنا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے یہ وہی جانتا ہے جو اس اذیت ناک لمحوں سے گزر رہا ہوتا ہے مگر وہ ایک حقیقت پسند اور صابر لڑکی تھی جس نے اس بات کو خاموشی سے قبول کیا تھا ورنہ اگر وہ واویلا کرتی اور جذبات سے کام لیتی تو یقیناً اپنا نقصان کر بیٹھتی مگر اس نے سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا تھا وہ جانتی تھی خاندان کے سخت اصولوں کے باعث وہ ساری زندگی عباس کے نام پر گزارے گی کیونکہ عباس کبھی بھی اسے نہیں اپنائے گا عباس کی آنکھوں میں حُرّہ کے لیے محبت وہ پہلی نگاہ میں ہی محسوس کر چکی تھی عباس کی نگاہ میں اسنے اپنے لیے ہمیشہ عزت و احترام دیکھا تھا مگر حُرّہ کے لیے اس کی آنکھوں میں محبت تھی
ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اس نے اپنی نم آنکھیں کھڑکی کے باہر مرکوز کر لیں اور شہر کی رونقیں دیکھنے لگی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ گاڑی ایک جھٹکے سے گزری
” کیا ہوا بابا جی ۔۔؟”
نورے نے یکدم پریشانی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور سے پوچھا
” معلوم نہیں بی بی جی ۔۔ اچانک کیا ہو گیا ۔۔ “
ڈرائیور نے خود بھی پریشانی سے کہا
” بابا جی چیک کریں گاڑی کیوں رک گئی اچانک ۔۔ ؟”
نورے نے آس پاس اکا دکا گاڑیاں گزرتے دیکھ کر خاصی گھبراہٹ سے دوبارہ کہا تو ڈرائیور جی کہتا گاڑی سے نکل گیا جبکہ نورے نے چادر کو درست کرتے ہوئے گاڑی کی کھڑکی سے آس پاس نگاہ دوڑانے لگی کافی دیر گزر گئی تھی جب نورے نے گاڑی کا شیشہ کھولتے ہوئے ڈرائیور کو دیکھا جو گاڑی چیک کر رہا تھا
” کیا ہوا بابا جی ۔۔ ؟ کتنی دیر لگے گی ۔۔؟”
چہرے پر چادر سے نقاب کرتے ہوئے نورے نے پوچھا
” بی بی جی پتہ نہیں کیا خرابی ہو گئی ہے ۔۔ آپ فکر نہیں کریں میں چھوٹے سردار کو کال کرتا ہوں ۔۔ وہ آپ کو لے جائیں گے ۔۔ “
ڈرائیور نے نورے کا گھبرایا ہوا انداز دیکھتے ہوئے سر جھکائے کہا تو نورے نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا مگر جانے کیوں اسے انجانے سے خوف نے آن گھیرا جب سے عابی کے ساتھ وہ الم ناک سانحہ ہوا تھا اس وقت سے ایسے خوف اسے اپنے گھیرے میں لیے رکھتے تھے
” بی بی جی سرکار کال نہیں اٹھا رہے ۔۔ “
ڈرائیور نے گاڑی کے پاس آ کر نورے سے کہا تو نورے مایوسی سے سڑک پر آس پاس اکا دکا گاڑیوں کو دیکھنے لگی
” بابا گاڑی ٹھیک نہیں ہو سکتی کیا ۔۔؟”
نورے نے کچھ فاصلے پر کھڑے ڈرائیور کو پھر سے مخاطب کیا اس کی آواز میں خوف واضح تھا
” بی بی جی دیر لگے گی ۔۔ کیونکہ مکینک کو دیکھانی پڑے گی ۔۔ “
ڈرائیور کے کہنے پر نورے نے سر ہاتھوں میں گرا لیا
” یا اللہ مجھے اس مشکل سے نکال دیں ۔۔ کسی کو محسن بنا کر بھیج دیں ۔۔ عباس ہی آ جائیں پلیز ۔۔ “
بمشکل بہتے آنسوؤں کو روکتے ہوئے وہ دل میں دعائیں کرنے لگی مگر دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا جب ایک بڑی کالے رنگ کی گاڑی ان کی گاڑی کے آگے آکر رکی نورے نے فوراً سر اٹھا کر ایک خوش شکل وجہہ مرد کو گاڑی سے نکل کر ان کی گاڑی کہ سمت بڑھتے دیکھا اس اچانک افتاد پر نورے یک ٹک اسی کو دیکھے گئی جو پینٹ پر نیلی شرٹ پہنے اجلے چہرے پر کالے چشمے لگائے ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے نورے تک پہنچ چکا تھا وہ ضروری میٹنگ سے واپس آ رہا تھا جب بے خیالی میں نگاہ سڑک پر موجود گاڑی میں بیٹھی اسی اداس چہرے والی لڑکی پر پڑی جو اسے اب وہ مسلسل سوچا کرتا تھا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عالیان نے گاڑی روکی اور نورے کی جانب بڑھتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اسے اس اداس چہرے والی لڑکی سے ملا دیا تھا ورنہ وہ اسی کشمکش میں ہی تھا کہ عباس سے کیسے اس کے بارے میں پوچھے
” کیا ہوا میڈم ۔۔ کین آئی ہیلپ یو ۔۔ ؟”
ڈرائیور کو مکمل نظرانداز کرتا وہ نورے کے اداس و خوبصورت چہرے پر نگاہیں جمائے خوش دلی سے پوچھ رہا تھا اپنے چہرے پر عالیان کی نگاہیں محسوس کرتے ہی نورے نے اپنے چہرے پر چادر سے پھر سے نقاب کر لیا اور خشک لبوں کو تر کیا
” کیا آپ انگریزی نہیں سمجھتی ۔۔ ؟”
عالیان نے بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے مصنوعی افسردگی سے پوچھا جبکہ عالیان کی بات سن کر نورے پہلے سٹپٹائی پھر غصے سے عالیان جو تکنے لگی جو اسے ان پڑھ سمجھے ہوئے تھا جبکہ وہ تو ابھی اپنا ایم اے انگریزی میں داخلہ کروا کر آرہی تھی
” میرا مطلب ہے محترمہ ۔۔ آپ کو شاید میری مدد کی ضرورت ہے ۔۔ ؟”
نورے کی جانب سے مکمل خاموشی پر عالیان نے اپنی بات کا ردوبدل کرتے ہوئے پھر سے کہا تو نورے نے چہرہ موڑ کر اسے نظرانداز کیا
” کیا آپ کو اردو بھی سمجھ نہیں آتی ۔۔ یا خدا مجھے تو پشتو بھی نہیں آتی ۔۔ “
نورے کے چہرہ موڑنے پر عالیان مسکراہٹ لبوں پر سجائے خاصی بلند آواز میں اسے تنگ کرنے کی غرض سے بولا جبکہ اس کی بات سن کر نورے نے ماتھے پر بل ڈالے اسے گھورا جو بلاوجہ ہی اس سے فری ہو رہا تھا
” صاحب تم جاؤ یہاں سے ۔۔ خبردار اگر ہماری بی بی کو پریشان کیا ۔۔ جانتے نہیں ہو کہ کون ہیں یہ ۔۔ “
ایک اجنبی کو مسلسل نورے سے مخاطب ہوتا دیکھ کر ڈرائیور نے خاصی بلند آواز میں عالیان کو دھمکی دی
” وائے قسمت ۔۔ مائی گڈنس ۔۔ کیا تمہاری بی بی گونگی ہے ۔۔ ؟؟”
عالیان نے پہلے مصنوعی افسردگی اور پھر خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخر میں ڈرائیور کو مخاطب کیا جبکہ اس کی بات پر نورے کو سامنے کھڑے شخص پر شدید غصہ آیا
” ہمیں آپ کی کوئی مدد نہیں چاہیے ۔۔ آپ مہربانی کریں اور اپنے راستے چل پڑیں محترم ۔۔ “
لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے نورے خاصی جھنجھلا کر بولی تو عالیان کے لبوں پر سجی مسکراہٹ گہری ہوئی
” اوہ میں تو کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا لیکن آپ تو ماشااللہ بہت شیریں آواز میں بول لیتی ہیں ۔۔ یہ الگ بات ہے کہ الفاظ تیر کی مانند ہیں ۔۔ مگر آپ کے دیے گئے تیر بھی خوش دلی سے قبول ہمیں ۔۔ “
کالا چشمہ اتار کر ہاتھ میں لیتے ہوئے عالیان نے نورے کی چادر میں چھپے ہوئے چہرے کو تکتے ہوئے مسلسل مسکراتے ہوئے کہا جبکہ نورے کو اس پر شدید غصہ آیا مگر خاموش رہی
” مجھے لگتا ہے آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا سکتا ہوں ۔۔ “
اس مرتبہ عالیان نے قدرے سنجیدگی سے کہا
” بہت شکریہ آپ کا ۔۔ لیکن میں آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتی ۔۔ آپ جا سکتے ہیں ۔ “
عالیان کو پہلی مرتبہ سنجیدہ دیکھتے ہوئے نورے نے بھی نارمل انداز میں کہا
” دیکھیں آج کل کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ میں آپ کو اکیلا سنسان سڑک کے بیچ چھوڑ دوں ۔۔ آپ بھروسہ کریں مجھ پر ۔۔ عباس کے گھر کی عزت ہیں آپ ۔۔ اور عباس میرا بھائی ہے ۔۔ “
عالیان نے ہنوز سنجیدگی سے کہا نورے نے عباس کے نام پر چونک کر اسے دیکھا
” میں نے عباس کی حویلی میں آپ کو دیکھا تھا ۔۔ اگر ابھی بھی انسکیوئر ہیں آپ تو آپ کا ڈرائیور گاڑی ڈرائیور کر لے گا ۔۔ “
عالیان نورے کی ناسمجھی کو سمجھتے ہوئے گویا ہوا
” بی بی جی جیسا آپ حکم کریں ۔۔ ؟”
عالیان کی بات پر ڈرائیور نورے سے مخاطب ہوا کیونکہ ان کی گاڑی تو فی الحال ٹھیک نہیں ہو سکتی تھی
” آپ یقین کر سکتی ہیں مجھ پر ۔۔ “
عالیان نے مضبوط لہجے میں کہا تو نورے اپنا پرس ہاتھ میں لے کر سورتیں پڑھ کر خود پر پھونکتی گاڑی سے نکل گئی جبکہ ڈرائیور گاڑی لاکڈ کرتا عالیان کی گاڑی کی جانب بڑھ گیا عالیان نے آگے بڑھ کر نورے کے لیے بیک ڈور کھولا تو وہ گاڑی میں سوار ہو گئی جبکہ عالیان ڈرائیور کے ساتھ براجمان ہو گیا
” کیا نام ہے آپ کا ۔۔ ؟”
عالیان کے پوچھنے پر کھڑکی سے باہر جھانکتی نورے نے چونک کر عالیان کو دیکھا
” آپ نے مدد کی اس کے لیے شکریہ ۔۔ اس سے زیادہ آپ امید نہ رکھیں مجھ سے ۔۔”
نورے نے دوٹوک الفاظ میں کہا تو عالیان نے لب بھینچ لیے
” آپ کی انسکیورٹی سمجھ سکتا ہوں ۔۔ خیر ایم سوری ڈئیر ۔۔ !”
عالیان نے نورے کے لیے دیے رویے پر سر ہلاتے ہوئے کہا اور پھر تمام سفر بلکل خاموشی سے کٹا حویلی پہنچ کر ڈرائیور نے عالیان کی شرافت سے متاثر ہوتے ہوئے بہت سی دعاؤں اور شکریہ کے ساتھ رخصت کیا جبکہ نورے گاڑی سے اتر کر ایک نگاہ بھی عالیان پر ڈالے بغیر حویلی میں داخل ہو گئی جبکہ عالیان اس کی پشت ہی تکتا رہ گیا
//////////////////////////
” خدا جانے کیسا کالا علم کر دیا میرے بچے پہ اس منحوس لڑکی نے ۔۔ جب سے آئی ہے ۔۔ میرا بیٹا ہی مجھ سے چھین لیا ہے ۔۔ میرا تو رہا ہی نہیں میرا بیٹا ۔۔ وہ جو ہر وقت ماں ماں کرتا تھا اب ماں کی ہر بات سے اسے اختلاف ہوتا ہے ۔۔ بس ہر وقت اس خون بہا میں آئی لڑکی کی خدمت میں لگا رہتا ہے ۔۔ جیسے وہ انوکھی اور پہلی عورت ہے جو بچہ پیدا کر رہی ہے ۔۔ “
عباس پچھلے چند دن سے شہر گیا ہوا تھا حُرّہ کو بہت سمجھا کر مگر جانے کیوں عباس کے بغیر کچھ اچھا ہی نہیں لگتا تھا اور حویلی والوں کو تو ویسے بھی حُرّہ کا وجود کھٹکتا تھا ابھی بھی وہ تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر نکلی تھی کہ سردار بی بی نے اسے دیکھتے ہی طنز و طعنوں کے تیر چلانا شروع کر دیے حُرّہ نے ان کی بات ان سنی کی اور ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر کرسی پر براجمان ہو گئی
” یہ دن بھی آنے تھے کہ دو ٹکے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا پڑ رہا ہے ۔۔ “
سردار بی بی پھر سے پھنکاری تھی ان کی بات پر وہاں پہلے سے موجود ناعمہ اور نورے نے حُرّہ کے بے تاثر چہرے کو دیکھا جبکہ ناہید نے بھی پہلے پریشانی کے عالم میں سردار بی بی کو دیکھا پھر حُرّہ کو جو سر جھکائے گم صم بیٹھی تھی
” اے ناہید اس نواب زادی کو کمرے میں کھانا دیا کر ۔۔ بے وجہ ہمارا دن اس کی منحوس شکل دیکھ کر شروع ہوتا ہے ۔۔ “
وہ مسلسل حُرّہ کو حقارت سے دیکھتی پھنکار رہیں تھی ان کے الفاظ حُرّہ کو سر جھکانے پر مجبور کر رہے تھے
” بی بی جی ۔۔ چھوٹے سرکار کا حکم ہے ۔۔ حُرّہ بی بی کو حویلی میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے ۔۔”
ناہید نے سر جھکائے سردار بی بی کو عباس کی باتیں یاد کروائیں جو مسلسل حُرّہ کو اپنے الفاظ سے تکلیف دے رہیں تھیں
” تو کیا سر پر بیٹھا لیں ۔۔ ؟؟”
سردار بی بی کرسی دھکیلتی اٹھ کھڑی ہوئیں اور ناہید کو دیکھتی غرائیں جبکہ حُرّہ سہم کر اپنی کرسی سے اٹھ گئی
” اے لڑکی بات سن ۔۔ بہت برداشت کر لیا ہم نے تجھے ۔۔ اب مزید نہیں ۔۔ میری بیٹی کی جگہ تو ہی کیوں نہیں مر گئی ۔۔ ارے مجھ سے تو میرا بیٹا ہی چھین لیا ۔۔ “
اس مرتبہ وہ حُرّہ کو دیکھتی غرائیں جبکہ حُرّہ ان سے تیزی سے دور ہوئی تا کہ وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں
” سردار بی بی بلکل ٹھیک کہہ رہیں ہیں ۔۔ جب سے ہماری زندگی میں آئی ہے ایک دن سکون کا نہیں ملا ہمیں ۔۔ میری بیٹی کے حق پر ڈاکا مارا ہے اس نے ۔۔ میں کبھی معاف نہیں کروں گی تمہیں ۔۔ دیکھنا کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی تم ۔۔ جیسے میری بیٹی ویران زندگی گزار رہی ہے نا ایسے ہی تم بھی رہو گی ۔۔ کسی کی خوشیاں چھین لینے کے بعد تم کیسے خوش رہ سکتی ہو ۔۔ “
ناعمہ بھی آج اپنے دل کی بھڑاس حُرّہ کو تنہا پا کر نکال رہی تھی جبکہ ان کے الفاظ سن کر حُرّہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا
” ماں پلیز ایسے نہیں کہیں ۔۔ “
حُرّہ کو بے آواز روتا دیکھ کر نورے نے انہیں التجائیہ انداز میں کہا
” ناعمہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے نورے ۔۔ اسی لیے تمہارے ہاتھ خالی ہیں اس لڑکی جیسی چلاکیاں جو نہیں ہیں تم میں ۔۔ دیکھتی نہیں ہو میرا وہ بیٹا جو نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا کسی کو ۔۔ اب اس جادوگیرنی سے نگاہ ہی نہیں ہٹتی اس کی ۔۔ “
نورے کے چہرے پر حُرّہ کے لیے ہمدردی دیکھ کر سردار بی بی مزید غصے میں دھاڑیں جبکہ نورے نے افسوس سے سر جھکا لیا اور حُرّہ دوپٹے سے پرنم چہرہ صاف کرتی ہال سے نکلنے لگی
” میری بیٹی کی خوشیوں کے راستے پر حائل ہو تم ۔۔ اگر تم چلی جاؤ سردار کی زندگی سے تو میری بیٹی کی حصے کی خوشیاں مل جائیں اسے ۔۔ ذرا دیکھو مڑ کر میری بیٹی کا اداس چہرہ ۔۔ کیا ایسے میں تم خوش رہ پاؤ گی ۔۔ “
ناعمہ کے الفاظ نے حُرّہ کے آگے بڑھتے قدم روک دیے وہ مڑ کر نورے کو دیکھنے لگی
” ارے ناعمہ اس مکار لڑکی سے امید لگا رہی ہو تم ۔۔ بھول ہے تمہاری ۔۔ یہ عباس کا پیچھا چھوڑے گی ۔۔ ارے جانتی نہیں ہو تم ایسی مکار لڑکیوں کو ۔۔ جانے کیا کیا ادائیں دیکھائی ہیں میرے بیٹے کو ۔۔ مجھے تو یقین ہے یہ بدکردار لڑکی ہے ۔۔ اور یہ بچہ بھی میرے بیٹے کا نہیں ہے ۔۔ “
وہ اپنے الفاظ سے حُرّہ کے سینے میں چھید کر رہیں تھیں حُرّہ نے تڑپ کر انہیں دیکھا جو اس پر بہتان لگا رہیں تھیں
” میں ہمیشہ آپ کی ہر بات پر خاموش رہی ہوں مگر اب بات میرے کردار کی ہے تو ۔۔ میری پاکیزگی میرا خدا جانتا ہے ۔۔ مجھے کسی کو اپنے کردار کی صفائیاں دینے کی ہرگز ضرورت نہیں ۔۔ رہی بات آپ کو آپ کی بات کا جواب دینے کی ہے تو سن لیں اگر میرا کردار مشکوک ہوتا تو آپ کا بیٹا اتنا غیرت مند تو ہے ہی جو اگر میں آپ کی کند سوچ کے مطابق ہوتی تو وہ مجھے ہرگز اتنی عزت کے ساتھ کبھی حویلی میں نہ شریک حیات کے طور پر نہ رکھتا ۔۔ “
سپاٹ چہرہ بلند کیے اپنی آنکھیں بھی سردار بی بی کی آنکھوں میں گاڑے حُرّہ پہلی مرتبہ بلند آواز میں مضبوط انداز میں بولی تھی کہ سردار بی بی سمیت وہاں موجود تمام نفوس ہونقوں کی طرح اسے بولتے دیکھ رہے تھے
” تمہاری اتنی ہمت تم میرے سامنے زبان چلا رہی ہو ۔۔ ؟؟”
ماحول پر چھایا سکوت سردار بی بی کی کرخت آواز نے توڑا جبکہ حُرّہ ہنوز سپاٹ چہرہ لیے انہیں دیکھ رہی تھی
” میں تو محض بات کر رہی ہوں سردار بی بی ۔۔ “
حُرّہ نے کاندھے پر ڈالی شال پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے عام سے انداز میں کہا
” تمہاری اوقات ہے ہم سے بات کرنے کی ۔۔ ؟”
سردار بی بی غضب ناک تاثرات لیے اس کی سمت بڑھیں جبکہ حُرّہ حلق تر کرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہوئی
” بب بی بی جی ۔۔ !”
ناہید بوکھلا کر حُرّہ کے قریب آئی اسے سردار بی بی کے تاثرات خاصے خطرناک لگے
” اے ناہید تو ہٹ جا اس کے آگے سے ۔۔ !”
ناہید کو دیکھتے ہی سردار بی بی چیخیں
” کیا کیا بکواس کر رہی تھی تو میرے سامنے ۔۔ ؟؟ تیری اتنی جرات کے تو میرے ۔۔ گاؤں کی سردار بی بی کے سامنے بکواس کر رہی تھی ۔۔ “
سردار بی بی انگشت شہادت سے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے غرائیں ان کے تاثرات دیکھ کر حُرّہ مزید چند قدم ان سے دور ہوئے
” تو بدکردار ہے ۔۔ ہم نہیں مانتے کہ یہ بچہ جس کے نام سے تو میرے بیٹے کو بےوقوف بنا رہی ہے وہ ہمارا خون ہے ۔۔ “
انہوں نے چنگھاڑتے ہوئے حُرّہ کو جھنجوڑ کر دھکا دیا مگر اس سے پہلے وہ حُرّہ کا سب سے بڑا نقصان اسے اس قدر جارحانہ انداز میں دھکا دے کر کرتیں کہ دو مضبوط ہاتھوں نے اسے اپنی مضبوط گرفت میں بھر لیا حُرّہ بے تحاشہ خوفزدہ ہو کر عباس کو بنا دیکھے اس کے سینے سے لگ گئی مگر وہ اس کی خوشبو سے ہی پہچان گئی تھی کہ اس کو نقصان سے بچانے والا اس کا محسن اس کا شوہر عباس ہی ہے جبکہ عباس حُرّہ کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا بنائے پتھرائے تاثرات لیے کھڑا تھا وہ باآسانی حُرّہ کا لرزتا وجود محسوس کر رہا تھا خود بھی تو اس کا دل کانپ گیا تھا اگر وہ وقت پر نہ آتا تو کیا ہو سکتا تھا
عباس کی اچانک آمد پر وہاں موجود ہر نفوس کو جیسے سانپ سونگھ گیا سردار بی بی نے عباس کے پتھرائے ہوئے تاثرات دیکھے تو یکدم گھبرا گئیں اسی وقت سردار شیر دل حویلی میں داخل ہوئے تمام مکینوں کی وہاں موجودگی اور پھر عباس سے لپٹی لرزتی ہوئی حُرّہ کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئے
” عباس کیا ہوا ۔۔؟؟ تم کب آئے ۔۔؟”
سردار شیر دل کی آواز نے خاموشی میں اشتعال برپا کیا
” یہ تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے بابا سرکار ۔۔ کہ میری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کے ہوتے ہوئے میری بیوی کے ساتھ یہ کس طرح کا سلوک رواں رکھا گیا ہے آپ کی حویلی میں ۔۔ “
عباس حُرّہ کے گرد اپنا بازو حمائل رکھے ہوئے سپاٹ انداز میں بولا تو سردار شیر دل کی پیشانی پر بل پڑے
” یہ صرف میری حویلی نہیں ہے ۔۔ آپ وارث ہیں ہمارے ۔۔ اور اب آپ کی اولاد وارث ہے اس حویلی کی ۔۔ “
سردار شیر دل ، عباس کی بات کا جواب نہایت سنجیدگی سے دیتے ہوئے حُرّہ کو دیکھنے لگے جو ان کی آمد پر عباس کی گرفت سے نکلنا چاہتی تھی مگر عباس نے ایک بازو سے اسے اپنے گھیرے میں لیے رکھا تھا
” وہ اولاد جسے میری ہی ماں جب چاہے گالی دے دیتیں ہیں بابا سرکار ۔۔ وہ اولاد جسے ابھی میری ہی ماں ختم کرنا چاہتیں تھیں اپنے فعل سے ۔۔ “
عباس اس مرتبہ سردار بی بی کو دیکھتے ہوئے کرب سے بولا تھا اس کی بات پر سردار شیر دل نے سردار بی بی کو دیکھا تو وہ گھبرا کر پیچھے ہوئیں
” کیا کہہ رہے ہو یہ ۔۔ ؟؟”
سردار شیر دل نے عباس سے پوچھا وہ لب بھینچ گیا
” میں نے کچھ غلط نہیں کیا عباس ۔۔ یہ تمہاری اولاد نہیںںں ۔۔”
ابھی سردار بی بی بول ہی رہیں تھیں کہ عباس نے تڑپ کر انہیں دیکھا
” خدا کا واسطہ ماں جی ۔۔ میری اولاد کے متعلق ایسے الفاظ بول کر مجھے تکلیف مت دیں ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کو اپنے کاندھے سے جدا کرتے ہوئے اس کی کلائی تھامتے ہوئے کمال ضبط سے کہا
” عباس تم سمجھتے کیوں نہیں ہو ۔۔ میں ہرگز اس لڑکی کو تمہاری بیوی کی حیثیت سے قبول نہیں کر سکتی ۔۔ “
عباس کے چہرے پر اذیت کے تاثرات محسوس کرتے ہوئے اس مرتبہ سردار بی بی آہستگی سے بولیں سردار شیر دل نے ملامت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھا وہ معاملے کو کافی حد تک سمجھ چکے تھے
” ٹھیک ہے ماں ۔۔ میں آپ کو مزید اذیت سے دوچار نہیں کروں گا ۔۔ “
عباس نے حُرّہ کی کلائی چھوڑ کر سردار بی بی کے قریب جا کر ان کے ہاتھ کو عقیدت سے اپنے ہاتھوں میں لے کر لبوں سے لگایا
” عباس ۔۔ !”
سردار بی بی نے اسے پکارا
” خیال رکھیے گا ماں اپنا ۔۔ میں چکر لگاتا رہوں گا ۔۔ “
سردار بی بی کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے وہ بولا اور پھر حُرّہ کا ہاتھ تھام لیا
” کیا کرنا چاہ رہے ہو عباس ۔۔ ؟؟”
سردار شیر دل نے ٹھٹھک کر پوچھا
” میں اب کوئی رسک نہیں لے سکتا بابا سرکار ۔۔ اب حُرّہ وہاں رہیں گیں جہاں میں رہوں گا ۔۔ “
عباس سرسری سا کہتا حُرّہ کو اپنے ساتھ لگائے جیسے اچانک حویلی آیا تھا ویسے ہی اچانک سب کو حیرت زدہ چھوڑ کر جا چکا تھا
////////////////////////
جاری ہے
اپنی اہم رائے کا اظہار ضرور کیا کریں
