Mein Haari Piya By Fatima Readelle50074 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 19
” لل لیکن اگر سردار کے آنے سے پہلے دوبارہ سردار بی بی نے کوئی سازش کی تو ۔۔ ؟”
منہ میں بڑبڑاتی وہ حویلی کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی
سردار بی بی نے اس سے اس کی چھت بھی چھین لی تھی وہ جانتی تھی اب وہ اسے کسی صورت پناہ نہیں دیں گی اسے سب سے زیادہ فکر اپنی آبرو کی تھی جو کہ اب یہاں محفوظ نہیں تھی سردار بی بی جب ایک مرتبہ اتنی گری ہوئی حرکت کر سکتیں ہیں تو دوبارہ ان سے کچھ اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی تھی سردار شیر دل سے بھی التجا نہیں کر سکتی تھی کہ وہ جانتی تھی جب وہ ایک دو بار عباس کے پاس آئے تھے تو کس قدر حقارت سے وہ اسے دیکھتے تھے کئی مرتبہ وہ عباس کو ان سے نورے سے شادی والے معاملے پر بحث کرتا سن چکی تھی حویلی کے کسی بھی مکین سے اسے امید نہیں تھی کہ کوئی اس کی مدد کرے گا
” میرے اللہ میں کہاں جاؤں ۔۔ ؟؟ ماں ۔۔ بابا ۔۔ ؟”
دعا کو سینے میں بھینچتی وہ سسک اٹھی تھی
کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی کہاں جائے کوئی بھی تو نہیں تھا جو اس کا ساتھ دیتا یہ تو طے تھا کہ وہ عباس کو اس کی ماں کی حقیقت بتائے گی مگر عباس کے آنے تک اسے کہیں تو رہنا تھا نگاہیں سامنے کھڑے گارڈز کی جانب کیں کہ ان سے موبائل لے کر عباس کو سب حالات سے آگاہ کرے مگر وہ جانتی تھی کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا پھر بھی کچھ سوچتے ہوئے اس نے ان میں سے ایک کو مخاطب کیا جو کہ سردار بی بی کے حکم پر اسے حویلی سے نکالنے کے منتظر تھے
” پپ پلیز سردار سے بات کرنی ہے مجھے ۔۔ موبائل دے دیں ۔۔ ؟”
بمشکل آنسو پونچھتی وہ بولی تھی مگر گارڈز نے سر جھکا لیا اور خاموش رہے
” پپ پلیز ۔۔ !!”
سسکتی ہوئی دعا کو سنبھالتی وہ روتے ہوئے التجا کر رہی تھی مگر وہ ہنوز سر جھکائے کھڑے رہے حُرّہ جانتی تھی وہ اپنے مالک کے حکم کے غلام ہیں تبھی خاموش ہو گئی
” حویلی کے دروازے پر بیٹھنا پڑے میں بیٹھوں گی ۔۔ اور وہیں بیٹھ کر سردار کا انتظار کروں گی ۔۔ مگر حویلی سے کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔ “
منہ میں بڑبڑاتی وہ چند قدم پیچھے ہوئی تھی آخر وہ اس ظالم دنیا سے کیسے اکیلے مقابلہ کر سکتی تھی جو قدم قدم پر نوچنے کو کھڑی تھی ایسے حالات میں عباس جیسے ہمدرد ساتھی و محافظ سے کیسے دور جا کر بے وقوفی کر سکتی تھی
” میرے اللہ سردار کو بھیج دیں ۔۔ پلیز آ جائیں ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔ “
مسلسل دعا کرتے ہوئے وہ رو رہی تھی
” سنو ۔۔ !”
یہ کوئی جانی پہچانی آواز تھی جو حُرّہ کو پشت سے سنائی دی تھی کسی نے شاید اسے پکارا تھا لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے ناعمہ کھڑیں تھیں پہلے حُرّہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا پھر دل میں خیال آیا کہ ان سے مدد مانگی جائے شاید وہ انہیں سردار بی بی سے یہاں رہنے کی اجازت لے دیں ابھی حُرّہ نے کچھ بولنے کو لب وا کیے ہی تھے کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا
” تم جانتی ہو لڑکی ۔۔ ؟؟ تم اور تمہاری گود میں یہ بچی اس وقت قابل رحم ہو ۔۔ کسی کو بھی تم پر ترس آ جائے مگر ۔۔”
انہوں نے عام سے انداز میں بات کا آغاز کیا تھا حُرّہ اس وقت اس بات کی توقع ان سے نہیں کر رہی تھی وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی تھی
جبکہ وہ سامنے کھڑی حُرّہ کو بغور دیکھ رہیں تھیں مندے سے کپڑوں میں مٹی کے واضح نشان نظر آ رہے تھے دوپٹے سے خود کو لپیٹے ہوئے ، لمبے سیاہ بالوں کی چٹیا میں سے آدھے بال نکلے ہوئے تھے ، چہرے پر خشک آنسوؤں کے نشان اور آنکھیں سوجی ہوئیں گود میں سال بھر کی بچی بلک رہی تھی ایک پل کو تو اسے دیکھ کر ان کا ہاتھ دل پر بے اختیار پڑا تھا مگر پھر سر جھٹکا انہیں کمزور نہیں پڑنا تھا اپنی بیٹی کی خاطر اگر انہیں حُرّہ جیسی بے ضرر لڑکی سے قربانی بھی مانگنی پڑی تو وہ ایسا ضرور کریں گیں
ہاتھ کے اشارے سے انہوں نے گارڈز کو وہاں سے بھیجا اور پھر سے حُرّہ کی جانب متوجہ ہوئیں
” چلی جاؤ ۔۔ چلی جاؤ ہماری زندگی سے ۔۔ چلی جاؤ چھوٹے سردار کی زندگی سے ۔۔ چلی جاؤ میری بیٹی کی زندگی سے ۔۔ تاکہ خوشیاں اس کی زندگی میں آ سکیں ۔۔ “
وہ سفاکیت سے کہہ رہیں تھیں حُرّہ نے ٹھٹھک کر انہیں دیکھا
” کک کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کی آواز بمشکل نکلی تھی
” تم جب تک چھوٹے سردار کی زندگی میں رہو گی ۔۔ اس وقت تک وہ نورے کو قبول نہیں کرے گا ۔۔ میری بچی کی خوشیوں میں رکاوٹ مت بنو ۔۔ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی تم میری بیٹی کی خوشیوں کی رکاوٹ بن کر ۔۔ “
وہ سخت لہجے اور انداز میں بات کر رہیں تھیں
” مم میں کیسے نورے کی خوشیوں میں رکاوٹ ہوں ۔۔ ؟”
حُرّہ کی آواز جیسے کھائی سے آئی تھی
” یہ تو تم جانتی ہی ہو کہ چھوٹے سردار اور نورے کی نسبت پچپن سے طے تھی ۔۔ اگر عابی کے قتل کے بعد اس کے خون بہا میں تم چھوٹے سردار کی ونی بن کر نہ آتی تو آج میری بیٹی چھوٹے سردار کے ساتھ خوش رہ رہی ہوتی ۔۔ جیسے آج تمہاری گود میں اولاد ہے ایسے ۔۔ میری بیٹی کی گود میں بھی ہوتی ۔۔ مگر افسوس تم آ گئی ۔۔ ہماری خوشیوں کو آگ لگانے ۔۔”
وہ جیسے جیسے بول رہیں تھیں ویسے ہی حُرّہ کے وجود میں خنجر پیوست ہو رہے تھے
” مم میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔ میں نے کبھی بھی سردار کی نورے کے ساتھ شادی پر اعتراض نہیں کیا ۔۔ مم میں دل سے اس بب بات سے راضی ہوں ۔۔ “
بہتے آنسوؤں کو بار بار ایک ہاتھ کی پشت سے رگڑتی وہ بولی تھی
” اتنے عرصے میں تم سردار کو جان تو گئی ہو گی ۔۔ وہ کتنے نرم دل ہیں ۔۔ تم سے ہمدردی کی وجہ سے وہ نورے سے شادی نہیں کر رہے کیونکہ نورے سے اگر اس کی شادی ہو گئی تو نورے کا مرتبہ تم سے زیادہ ہوگا ۔۔ نورے کو سردار بی بی کی حیثیت ملے گی کیونکہ وہ خاندانی بیوی ہو گی ۔۔ اور تمہاری اور تمہاری اولاد کی کوئی اوقات نہیں رہے گی۔۔ جبکہ نورے کی اولاد کو ہی سردار کی اولاد کی حیثیت دی جائے گی ۔۔ !”
ان کی باتیں حُرّہ کو سر جھکانے پر مجبور کر گئیں تھیں پرنم نگاہیں دعا کی جانب کیے وہ تڑپ گئی تھی
کیا اس کی طرح اس کی بیٹی کی بھی کوئی حیثیت نہیں تھی جبکہ انہوں نے اس پل حُرّہ سے نگاہیں چرائیں تھی کیونکہ سامنے کھڑی بے بس لڑکی کتنی دکھی تھی اور کن حالات سے گزری تھی یا گزر رہی تھی وہ جانتی تھیں کہ حُرّہ کی زندگی کتنے کانٹوں سے بھری ہوگی اگر انہوں نے اس کی مدد نہ کی
” مم میں کک کیا کر سکتی ہوں ۔۔ ؟”
الفاظ حلق سے نکلنے سے انکاری تھے مگر وہ اذیت کی حدیں پار کرتی بولی تھی
” سرداد کو چھوڑ دو ۔۔”
انہوں نے فٹ سے کہا تو حُرّہ انہیں دیکھتی رہ گئی
” مم میں ایسا کسی قیمت پر نہیں کر سکتی ۔۔ “
ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ گویا ہوئی
” میری بیٹی کی آہیں تمہیں جینے نہیں دیں گی ۔۔ دیکھو ذرا عباس جیسے ہمسفر کے ساتھ کے باوجود تم اس مشکل میں میں ہو ۔۔ اس کا مطلب خدا بھی یہی چاہتا ہے کہ تم نکل جاؤ اس کی زندگی سے ۔۔ “
وہ بولیں تو حُرّہ نے اس بےرحم عورت کو دیکھا جو اپنی بیٹی کی خاطر کیسے اسے بددعا دے رہیں تھیں
” مم میں نہیں جا سکتی ۔۔ کچھ رحم کریں ۔۔ میرا کوئی نہیں جس کے پاس جاؤں ۔۔ “
وہ التجائی انداز میں بولی
” کہیں بھی چلی جاؤ ۔۔ دنیا بہت بڑی ہے ۔۔ شاید تمہاری زندگی میں بھی سکون آ جائے ۔۔ “
آخری بات جانے کیا سوچ کر انہوں نے کہی تھی کہ حُرّہ نے انہیں دیکھا
” مم میرا کوئی نہیں ہے ۔۔ ! مم میں کہاں جاؤں گی ۔۔ ؟”
بے بسی کی انتہا تھی
” کہیں بھی جاؤ ۔۔ مگر ہماری زندگی سے چلی جاؤ ۔۔ ! میری بیٹی کی خوشیوں سے دور ۔۔ بہت دور ۔۔ !”
ان کی سفاکیت سے کہی بات پر حُرّہ نے انہیں تڑپ کر دیکھا تھا
اگر اس کے ماں باپ نہیں تھے تو کیا ہوا دنیا نے تو اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا تھا سامنے کھڑی ماں کو محض اپنی بیٹی کی خوشیاں عزیز تھیں بدلے میں وہ حُرّہ سے اتنی بڑی قربانی مانگ رہی رہیں تھیں اب حُرّہ انہیں کیسے سمجھاتی کہ یہ قربانی اس کے وجود سے سانسیں بھی نکال دے گی
” مم میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ مم میرا سردار کے سوا کوئی نہیں ہے ۔۔ مم میں کہاں جاؤں گی ۔۔ ؟”
وہ اس مرتبہ بے تحاشہ روتے ہوئے بولی تھی جبکہ دعا کا بھوک سے برا حال تھا وہ معصوم بچی رو رو کر بھی نڈھال ہو چکی تھی مگر اس کی ماں کے پاس اسے دینے کے لیے دودھ بھی نہیں تھا
” اگر تم یہاں رہی تو کبھی خوشیاں نہیں پا سکو گی ۔۔ ہمیشہ میری بیٹی کے آنسو تمہاری زندگی کو اذیتوں سے بھر دیں گے ۔۔ کیونکہ میری بیٹی اگر ہمسفر کے بغیر زندگی گزارے گی تو ۔۔ تم کبھی سکون سے نہیں رہ سکو گی ۔۔ “
وہ کٹیلے انداز میں بولیں تھیں جبکہ حُرّہ ان کی مسلسل بد دعاؤں سے تڑپ رہی تھی
“آ آ آپ مم میرا یقین کریں میں ۔۔ میں چھوٹے سردار کو نورے کے ساتھ شادی پر راضی کر لوں گی ۔۔ نورے بے رنگ زندگی نہیں گزارے گی ۔۔ “
حُرّہ دل پر ضبط کرتی بولی تھی کیونکہ جانتی تھی کہ نورے کی شادی عباس کے سوا حویلی والے کہیں نہیں کریں گے
” تم چلی جاؤ گی سردار کی زندگی سے تو خودبخود سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ سب پہلے جیسا ہو جائے گا ۔۔ “
وہ نفی میں سر ہلاتی بولیں تھیں
” مم میں آپ کو کیسے سمجھاؤں ۔۔ میں نن نہیں جا سکتی ایسے کہیں بھی ۔۔ مم میرا کوئی بھی نہیں ہے ۔۔ مم میرے ماں باپ نن نہیں ہیں ۔۔ اا اور بھی کوئی نہیں ۔۔ سرداد کے سوا کوئی سہارا نہیں میرا ۔۔ خدا کے لیے مجھ سے یہ واحد سہارا مت چھینیں ۔۔ “
حُرّہ مسلسل روتی ہوئی بول رہی تھی
” میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔ چلی جاؤ ہماری زندگی سے بہت دور ۔۔ یہاں تمہیں اور تمہاری بیٹی کو کبھی کوئی قبول نہیں کرے گا ۔۔ کبھی نہیں کرے گا ۔۔ “
وہ انداز میں حقارت لیے طنزیہ ہاتھ جوڑتی بولیں تھیں
” اا ایسا نہیں ہے ۔۔ سرداد اپنی بیٹی سے بہت پپ پیار کرتے ہیں ۔۔ “
حُرّہ نے فوراً کہا تو وہ تمسخرانہ ہنسی
” اور سردار بی بی ۔۔ ؟؟ بڑے سرداد ۔۔ ؟؟ اگر تمہاری اور تمہاری بیٹی کی کوئی حیثیت ہوتی تو تم آج حویلی میں ہوتی ۔۔ یہاں در در کی ٹھوکریں نہ کھا رہی ہوتی ۔۔ چھوٹے سردار یہ بات سمجھتے ہیں کہ تمہیں حویلی میں کبھی سردار کی بیوی کی طرح عزت نہیں ملے گی ۔ تبھی انہوں نے تمہیں حویلی سے دور رکھا ہوا تھا ۔۔ “
ان کے الفاظ نہیں خنجر تھے جو حُرّہ کے وجود کو چھلنی کر رہے تھے مگر وہ خاموش رہی
” تمہیں تمہاری بیٹی کا واسطہ ہے ۔۔ چلی جاؤ یہاں سے ۔۔ تم تو خود ایک ماں ہو ۔۔ میری بیٹی کی زندگی ویران ہونے سے بچا لو ۔۔”
حُرّہ کی خاموشی پر اس مرتبہ وہ التجائیہ انداز میں بولیں تھیں
” مم میں ککک کیسے ۔۔ ؟”
حُرّہ ان کی بات پر سر جھکا گئی
” تم بات ختم کیوں نہیں کرتی ہو ۔۔ چلی کیوں نہیں جاتی ہو ۔۔ روز روز کا تماشہ ختم کرو ۔۔ تمہارا اور گاؤں کے سردار کا کیا مقابلہ ۔۔ ؟ تم کسی لحاظ سے ان کے قابل نہیں ہو ۔۔ وہ واحد اولاد ہیں بڑے سردار کی ۔۔ آج نہیں تو کل وہ چھوٹے سردار کو راضی کر لیں گے نورے کے ساتھ شادی پر ۔۔ پھر کیا حاصل ہوگا تمہاری زندگی کا ۔۔ اس سے پہلے چلی جاؤ یہاں سے ۔ “
وہ پھر اسی انداز میں آئیں تھیں اور خاصے کڑوے لہجے میں بولیں تھیں اس سے پہلے حُرّہ کوئی جواب دیتی دعا پھر بھوک سے رونے لگی تھی
” پپ پلیز ممم میری بیٹی بھوک کی وجہ سے رو رہی ہے ۔۔ پلیز اسس ۔۔”
” جتنے مرضی پیسے چاہیے لے جاؤ ۔۔ لیکن ہمیشہ کے لیے چلی جاؤ ۔۔ ۔۔!”
وہ حُرّہ کی بات کاٹ کر بولیں تھیں اور چند نوٹ حُرّہ کی جانب اچھالے تھے جو زمین بوس ہو چکے تھے حُرّہ نے اس خود غرض عورت کو دیکھا جو ہر صورت اسے حویلی سے دور کرنا چاہتی تھی
” سرداد کے آنے تک مم میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔ “
ان کی بےرحمی پر حُرّہ نے کہا
” اگر تم نہ گئی تو یاد رکھنا تم بھی بیٹی والی ہو ۔۔ اگر عباس اور تم میری بیٹی کے ساتھ ناانصافی کرو گے تو وقت آنے پر تم دونوں کی بیٹی بھی تم دونوں کا کیا بھگتے گی ۔۔ ایسے ہی تڑپے گی جیسے میری بیٹی تڑپ رہی ہے ۔۔ انہیں اذیتوں سے گزرے گی جن سے میری بیٹی گزر رہی ہے ۔۔ “
وہ اب دھمکی دے رہیں تھیں بلکہ بددعا دینے لگیں تھیں
” خدا کے لیے میری معصوم بچی کے متعلق ایسے نہ کہیں ۔۔ مم میں چلی جاتی ہوں۔۔ چچ چلی جاؤں گی۔۔ لیکن پلیز میری بیٹی کو بد دعا نہ دیں ۔۔ “
ان کے الفاظ سن کر حُرّہ تڑپ کر بولی تھی اور مضبوطی سے دعا کو خود میں بھینچا
” پلٹ کر آنے کا سوچنا بھی مت ۔۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تمہارا سایہ بھی پڑے ہمارے بچوں کی خوشیوں پہ ۔۔ “
وہ حُرّہ کو بیرونی دروازے کے جانب اشارہ کر کے کہہ رہیں تھیں جبکہ حُرّہ نے افسوس اور اذیت کے ملے جلے تاثرات لیے انہیں دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے پیچھے مڑی جبکہ وہ جا چکیں تھیں
حُرّہ نے بے ساختہ آسمان کی جانب دیکھا
” مم میں کیا کروں میرے مالک ۔۔ ؟؟ کچھ تو راہ نکالو ۔۔ “
وہ اپنا سب کچھ ہار کر جا رہی تھی اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا
اس کی زندگی میں خوشیاں عباس کے ساتھ گزارے گئے اس ڑیڑھ سال کی مدت جتنی تھیں وہ یہ بات قبول کر چکی تھی ان کا الگ ہونا مقصود تھا کیونکہ ان دونوں کے ساتھ سے کسی کی زندگی خراب ہو رہی تھی وہ جانتی تھی عباس اس کی موجودگی میں کبھی نورے سے شادی نہیں کرے گا اسی لیے نورے کی خوشیوں کے لیے اسے بہت دور جانا تھا ان لوگوں سے تاکہ حویلی والے خوش رہ سکیں بے شک اس کے لیے اسے کتنی ہی بڑی مشکل سے گزرنا پڑے
/////////////////////////
” احمد میں پاکستان واپس جا رہا ہوں ۔۔ تم دیکھ لینا یہاں سب کچھ ۔۔ “
وہ موبائل پر مسلسل انگلیاں چلاتے ہوئے بولا تو احمد نے چونک کر اسے دیکھا
” کیا ہو گیا ہے ۔۔ ابھی ایک دن نہیں ہوا ہمیں آئے ہوئے ۔۔ اور تم یہ اچانک جانے کا کیوں کہہ رہے ہو ۔۔”
احمد نے اس کا بوجھل انداز نوٹ کرتے ہوئے پوچھا
” سب ٹھیک تو ہے نا عباس ۔۔ رات بھر جاگتے رہے ہو کیا ۔۔ ؟؟؟”
عباس کے خاموش رہنے پر احمد نے اس کی بوجھل اور سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
” ہممم نیند نہیں آئی ۔۔ !”
عباس نے انگلیاں بالوں میں پھیرتے ہوئے کہا تو احمد اس کے سامنے جا کھڑا ہوا
” کیا ہوا عباس پریشان لگ رہے ہو ۔۔ ؟ “
احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو عباس نے بوجھل انداز میں اسے دیکھا
” حُرّہ کال پک نہیں کر رہیں ۔۔ پتہ نہیں دعا کیسی ہوگی ۔۔ مجھے مس کر رہی ہوگی ۔۔ “
عباس نے دوبارہ موبائل پر حُرّہ کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا تو احمد ہنسنے لگا
” کیا ہو گیا ہے یار ۔۔ ابھی کل ہی تو آیا ہے بھابھی کے پاس سے ۔۔ ایک دن میں ہی یاد ستانے لگی ان کی ۔۔ “
عباس نے شرارت سے کہا مگر عباس ہنوز سنجیدہ تھا
” حُرّہ لاپرواہ نہیں ہیں ۔۔ انہیں پتہ ہے کہ میں صبح ہوتے ہی انہیں کال کروں گا ۔۔ پھر فون کیوں نہیں اٹھا رہیں وہ میرا ۔۔ ؟؟ چوکیدار کا بھی فون بند ہے ۔۔ “
عباس کے انداز اور لہجے سے پریشانی عیاں تھی اس کی بات سن کر احمد کے مسکراتے لب بھی سکڑے تھے
” یار تو کسی گارڈ کو کال کر ۔۔ اس سے معلوم کر ۔۔ شاید بھابھی مصروف ہوں چھوٹی بچی ہے ان کی اس میں مصروف ہوں گی ۔۔ ایسے پریشان نہ ہو ۔۔ “
احمد کے کہنے پر عباس نے سرد آہ بھری تھی رات بھر بے چینی ہوتی رہی تھی کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہی تھی سارا وقت کمرے میں مختلف سوچوں میں گزری تھی صبح ہوتے ہی حُرّہ کو مسلسل کال کر رہا تھا بیل جا رہی تھی مگر وہ کال پک ہی نہیں کر رہی تھی اس وقت سے عباس پریشان تھا مزید پریشان یہ بات کر رہی تھی کہ نہ اس کا گارڈ اور نہ چوکیدار کال پک کر رہا تھا اس وقت سے عباس مضطرب تھا
” نہیں یار ۔۔ کیسے پریشان نہ ہوں کوئی کال پک نہیں کر رہا میری ۔۔ حُرّہ اور دعا پتہ نہیں کیسی ہوں گی ۔۔ !”
عباس داڑھی پر ہاتھ پھیرتا مضطرب انداز میں بولا
” یار پریشان مت ہو ۔۔ ایسے کرتے ہیں ہم عالیان کو کال کرتے ہیں اسے تیرے گھر بھیجتے ہیں ۔۔ وہ بھابھی اور دعا کی خیریت معلوم کرے گا ۔۔ “
احمد نے اس کو بےچین دیکھتے ہوئے کہا
” ہاں ۔۔ لیکن میری فلائٹ بک کرواؤ میں خود جاؤں گا پاکستان ۔۔ !”
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عباس نے کہا
” یار ابھی کل تو آئیں ہیں ہم ۔۔ تو پریشان نہ ہو ۔۔ سب ٹھیک ہو گا ۔۔ عالیان جائے گا نا ابھی ۔۔ “
“ہاں ۔۔ لیکن مجھے حُرّہ اور دعا کو خود دیکھنا ہے جا کے ۔۔ جب تک انہیں دیکھوں گا نہیں مجھے چین نہیں آئے گا ۔۔ “
عباس اب کوئی نمبر ڈائل کرکے سیل فون کان سے لگا چکا تھا یقیناً وہ عالیان کو کال کر رہا تھا
/////////////////////////
” بی بی جی ۔۔ !”
حُرّہ شکست زدہ چال سے چلتی حویلی سے دور جا رہی تھی جب اسے اپنی پشت سے پکار آئی
” آ آپ ۔۔ !”
مڑ کر دیکھنے پر ناہید سامنے کھڑی نظر آئی تو حُرّہ نے پتھرائی نگاہوں سے اسے دیکھا
” آپ کہاں جا رہیں ہیں بی بی جی ۔۔ ؟”
ناہید ان کے قریب آتے ہوئے مؤدب سی پوچھنے لگی تو حُرّہ چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گئی یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جائے گی
” کیا ہوا بی بی ۔۔ ؟”
ناہید نے اسے پھر سے مخاطب کیا تھا
” کک کچھ نہیں ۔۔ آپ بتائیں حویلی سے باہر کیا کر رہیں ہیں ۔۔ “
حُرّہ کے سوال پر وہ دکھ سے مسکرائی
” جب چھوٹے سردار ، آپ کو لے کر شہر چلے گئے تھے تو سردار بی بی نے مجھے آپ کی خدمت کرنے کی سزا یوں دی کہ سارے اختیار مجھ سے چھین لیے ۔۔ کھانا بھی ایک وقت کا دیتی تھیں بہت مشکل وقت گزار رہی تھی حویلی میں ۔۔ پھر ایک دن چھوٹے سردار نے سردار بی بی کا میرے ساتھ سلوک دیکھا تو مجھے پیسے دیے اور کہا حویلی سے چلی جاؤ ۔۔ جیسے چاہوں زندگی گزاروں ۔۔ تو میں بہن کے پاس چلی گئی ۔۔ ان کے اس فیصلے سے میری زندگی میں سکون تو آیا مگر میں اکثر حویلی آتی ہوں بڑے سردار کی خدمت میں ۔۔ “
ناہید کے تفصیل سے بتانے پر حُرّہ نے سر ہلایا
” یی یہ چھوٹے سردار کی بیٹی ہے نا ۔۔ ماشااللہ اتنی پیاری ہے ۔۔ “
حُرّہ کی گود میں رو رو کر پھر سے سوئی ہوئی دعا کو دیکھ کر ناہید خوش ہوتی بولی اور تھکی تھکی حُرّہ کی گود سے دعا کو لے لیا حُرّہ نے اذیت سے مسکرا کر ناہید کو دیکھا وہ پہلی تھی جس نے دعا کو اتنے پیار سے گود میں لیا تھا ورنہ سرداد بی بی اور ناعمہ بی بی نے تو حقارت سے اس کی بچی کو دیکھا تھا
” میں نے سنا بی بی جی سب کچھ جو ناعمہ بی بی نے آپ کو بولا ۔۔ اب آپ کیا کریں گیں ۔۔ “
ناہید نے دور سے نظر آتی حویلی کو افسوس سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا اسے سردار کی بیوی اور بیٹی کو دربدر کی ٹھوکریں کھاتے دیکھ کر دلی دکھ ہوا تھا
” کرنا کیا ہے ۔۔ میں اور میری بیٹی مر بھی جائیں تو کسی کو کیا فرق پڑے گا ۔۔ کہیں بھی چلی جاؤں گی ۔۔ میرے جانے سے حویلی میں خوشیاں آ جائیں گیں ۔۔ “
حُرّہ بھیگی آواز میں بولی تھی اس کے بہتے آنسو اور لہجے کی اذیت کوئی بھی باآسانی محسوس کر سکتا تھا
” چھوٹے سردار کی زندگی تو آپ دونوں ہی ہیں نا بی بی جی ۔۔ میں نے دیکھا ہے عابی بی بی کے قتل کے بعد سردار کتنی اذیت سے گزرے ہیں ۔۔ مگر آپ کے آنے سے اور پھر اپنی بیٹی کے آنے سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے ۔۔ وہ زندگی جینے لگے ہیں ۔۔ “
ناہید بتاتے ہوئے پیار سے دعا کے گلابی گالوں پر انگلی رکھتی بولی
” جس طرح میں اور دعا ان کے لیے اہم ہیں ۔۔ ویسے ہی ان کے ماں باپ بھی ان کے لیے اہم ہیں ۔۔ ہر بار میری وجہ سے وہ اپنے گھر والوں سے الجھتے ہیں ۔۔ میرے جانے سے ان کی زندگی بھی پرسکون ہو جائے گی ۔۔ “
وہ اذیتوں کی انتہا پر پہنچتی کہہ رہی تھی اسے اس طرح دیکھ کسی بھی پتھردل کا دل پگھل جائے مگر حویلی والے بہت کٹھور تھے
” ا اور نورے سے شادی بھی کر لیں گے وہ ۔۔ “
وہ مزید بولی تھی جبکہ ناہید نے ذرا سا چہرہ دوپٹے میں چھپا کر اپنے آنسو صاف کیے وہ کیسے بھول سکتی تھی اس لڑکی کی مشکلات جن کی وہ خود گواہ تھی اس بےضرر لڑکی نے کتنے ظلم و ستم سہے تھے
” اگر آپ حکم کریں بی بی تو چھوٹے سردار سے رابطہ کریں ۔۔ اور انہیں سب بتائیں ۔۔ “
ناہید کے سوال پر حُرّہ نے نفی میں سر ہلایا
” نہیں ۔۔ بلکل نہیں ۔۔ مزید مشکل میں نہیں ڈال سکتی میں انہیں اپنی وجہ سے ۔۔ صحیح کہتے ہیں سب حویلی والے ۔۔ نورے بی بی کی بےرنگ زندگی ہے جو مجھے بھی سکون سے نہیں رہنے دے گی ۔۔ کسی کی خوشیوں کے قبرستان پر اپنے لیے سکون اور خوشی ڈھونڈنا حماقت ہے ۔۔ میں دور چلی جاؤں گی تو سردار شادی کر لیں گے نورے سے ۔۔ “
بے تحاشہ سرخ اور بوجھل آنکھوں سے ناہید کو دیکھتی وہ گویا ہوئی تھی
” کک کہاں جائیں گی بی بی پھر ؟؟۔۔ “
ناہید نے دل پر جبر کر کے یہ سوال کیا تھا لیکن وہ جانتی تھی حُرّہ کا تو کوئی بھی نہیں ہے جس کے پاس اپنی بیٹی کو لے جا کر پناہ لے
” جس خدا کے آسرے پر نکلی ہوں وہی پہنچائے گا منزل تک ۔۔ “
یہ کہتے ہوئے حُرّہ نے دوپٹہ درست کیا اور دعا کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے
” بی بی جی میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی ۔۔ خدا کا واسطہ ہے منع نہ کیجئے گا ۔۔ چھوٹے سردار کے احسان ہیں بہت مجھ پر ۔۔ میں ان کی بیوی اور بیٹی کو اس مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ دوں تو لعنت ہے مجھ پر ۔۔ “
ناہید نے دعا کے ہاتھ چومتے ہوئے کہا تو حُرّہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
” مجھے تو میری منزل کا ادراک نہیں ۔۔ پھر آپ کیوں رلیں گیں میرے ساتھ ۔۔ “
حُرّہ نے تھکے ہوئے وجود کو گھسیٹتے ہوئے کہا وہ دونوں اب آہستہ آہستہ چل رہیں تھیں
” جس دن چھوٹے سردار نے مجھے آپ کی خدمت کے لیے مختص کر دیا تھا اسی دن سچے دل سے آپ کی خدمت کرنے لگی تھی ۔۔ با خدا آپ کے ساتھ جتنا ظلم کیا وہ سردار بی بی کے کہنے پر کیا ۔۔ اور مجھے مرتے دم تک اس بات کا افسوس رہے گا ۔۔ مگر میں آپ کو اس مشکل وقت میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتی بی بی جی ۔۔ “
ناہید دعا کو گود میں اٹھائے حُرّہ کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کہہ رہی تھی
” میں کبھی نہ آنے کے لیے جا رہی ہوں ۔۔ وعدہ کریں آپ کبھی مجھے واپس پلٹنے پر مجبور نہیں کریں گیں ۔۔ “
حُرّہ نے رک کر کہا تو ناہید نے اثبات میں سر ہلایا
” میری بیٹی بھوک سے بےحال ہے ۔۔ پلیز یہ دے کر کچھ پیسوں سے اس کے لیے فیڈر اور دودھ لا دیں ۔۔ کچھ سامان بھی کیونکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے سارا سامان گھر پر ہے ۔۔ “
اپنی انگلی میں موجود سونے کی انگوٹھی نکال کر ناہید کو دیتی وہ رونے لگی تھی کان میں موجود ایک بالی کو وہ چھو کر دیکھنے لگہ تھی یہ واحد نشانی تھی اس کے ماں باپ کی جو انہوں نے جانے کس طرح روپیہ روپیہ جوڑ کر اسے دی تھیں اسی لیے انگلی میں موجود انگوٹھی دی تھی
تھی تو وہ بھی قیمتی کیونکہ وہ عباس نے اسے دی تھی مگر اپنی بیٹی کو وہ بھوک سے بلکتا ہواہل نہیں دیکھ سکتی تھی جبکہ ناہید اس پل تڑپی تھی گاؤں کے وہ سردار جن کے دیے گئے پیسوں سے گاؤں کے غریبوں کے گھر چلتے تھے بچے پلتے تھے ان کی بیٹی بھوک سے بے حال تھی
” بی بی جی چھوٹی بی بی کو تو بخار ہے ۔۔ “
ناہید نے دعا کے ماتھے کو چھوتے ہوئے کہا تو حُرّہ نے جھپٹ کر اسے اپنی گود میں لیا
” رات سے رو رہی ہے ۔۔ اتنا کبھی بھی نہیں روئی میری بچی ۔۔ “
حُرّہ مزید روتے ہوئے بولی تھی
” دعا میری جان آپ تو میری پیاری بیٹی ہو نا ۔۔ آپ کو صابر بننا ہے ۔۔ کیونکہ ہمارے مزید امتحان ہیں ابھی ۔۔ “
دعا کو کہتی وہ سسک اٹھی تھی جبکہ ناہید ان دونوں ماں بیٹی کو دکھ سے دیکھتی رہ گئی
” مجھے معاف کر دیجیے گا سردار ۔۔ آپ سے بہت دور جا رہی ہوں ۔۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔ خدا شاہد ہے ۔۔ ہر ممکن کوشش کی ہے حالات سے مقابلہ کرنے کی ۔۔ مگر جدائی لکھی جا چکی ہے ۔۔ میرے پاس جینے کے لیے آپ کی نشانی دعا کی صورت میں ہوگی یہی حاصل ہے میری زندگی کا ۔۔ “
دعا کے چہرے پر بوسہ دیتے ہوئے وہ تخیر میں عباس سے مخاطب تھی
جاری ہے
