Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 5

وہ عباس کی جانب سے رخ موڑے کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی مگر مسلسل اپنے گھنے لمبے سیاہ بالوں میں عباس کی انگلیوں کا لمس محسوس کر رہی تھی چند لمحوں پہلے اسی احساس کے تحت وہ بیدار ہوئی تھی مگر خفت کے باعث عباس کی جانب نہیں مڑ رہی تھی رات کو عباس نے اس سے پورے استحقاق سے اپنا تعلق بنا لیا تھا وہ مزاحمت بھی نہ کر سکی تھی اسے محسوس ہو گیا تھا اس کی مزاحمت کسی کام کی نہیں ہوگی عباس کی آنکھوں میں وہ اس کا پختہ ارادہ دیکھ چکی تھی اور پھر وہ کون ہوتی تھی انکار کرنے والی ، اس کا انکار کوئی حیثیت کہاں رکھتا تھا

ہاں دکھ ہوا تھا ، بلکہ وہ گھبرا گئی تھی اس طرح اچانک سے عباس کا اس کی جانب قدم بڑھانا بلکہ اس کی تو روح کانپ گئی تھی یہ سوچتے ہوئے کہ عباس اس کے وجود سے اپنا جی بہلا رہا ہے پھر اس کے انداز میں اس قدر شدت تھی کہ حُرّہ نے مزاحمت کرنا ہی چھوڑ دی تھی اسے عباس سے ڈر لگ رہا تھا وہ عباس کو طیش نہیں دلانا چاہتی تھی

اپنی طلب پوری کر کے جب وہ پر سکون ہو کر سو گیا تو پہلی مرتبہ حُرّہ تکیے میں منہ چھپا کر رو دی شاید یہ رونا ہی تو اس کی زندگی میں رہ گیا تھا سردار بی بی کی باتیں سوچ کر اس کا دل کر رہا تھا کہ عباس کو روک دے کیوں وہ اس کی رکھیل بنے کیونکہ جانتی تھی عباس محض دل بہلا رہا ہے بیوی تو اس کی نورے بنے گی نورے کا سوچ کر اسے جانے کیوں ملال ہوا تھا جانے انجانے میں اس کے باعث نورے کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور مگر ہر سوچ سے زیادہ تکلیف دہ یہ سوچ تھی کہ وہ چاہ کر بھی عباس کو نہ روک سکی کہ وہ استحقاق سے اس کے وجود کو حاصل کر چکا تھا

” حُرّہ ۔۔!”
عباس کی نیند میں ڈوبی آواز سے حُرّہ کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور اس نے بیڈ شیٹ کو مٹھی میں سختی سے جکڑ لیا اسے لگ رہا تھا وہ اب کبھی بھی عباس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پائے گی رات کے بارے میں سوچ کر اب اس کا رنگ سرخ ہونے لگا سانسیں تیز ہو گئیں جب عباس نے پھر بوجھل آواز میں اسے پکارا

” حُرّہ ۔۔ !”

وہ حُرّہ کی پشت پر بکھرے بالوں کو ہٹاتا اب اپنی انگشت شہادت اس کی کمر پر پھیرنے لگا حُرّہ کا وجود اس کے نرم لمس پر کانپ گیا مگر ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی رخ عباس کی سمت موڑنے کی
عباس جانتا تھا حُرّہ بیدار ہو چکی ہے مگر حُرّہ کا اس کی پکار پر جواب نہ دینا بھی اسے شدت سے محسوس ہوا تھا وہ اس کی دلی کیفیت سمجھ رہا تھا کہ یوں اچانک سب ہوا تو حُرّہ کے دل میں اس کے لیے ڈر بیٹھ گیا تھا گہرا سانس خارج کرتے ہوئے ایک ہاتھ حُرّہ کی کمر کے نیچے سے نکال کر وہ حُرّہ کو سیدھا کرتا ہوا اس پر جھکا جبکہ حُرّہ ، عباس کے اس طرح اسے سختی سے جکڑنے اور پھر پورا جھکنے پر سہم گئی اور سختی سے آنکھیں میچ گئی

” غصہ ہیں مجھ پہ ۔۔؟”
اپنا چہرہ حُرّہ کے چہرے کے بےحد قریب کرتے ہوئے وہ لیمپ کی مدھم روشنی میں اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا بات کرتے ہوئے اس کے دہکتے لب حُرّہ کے سرخ رخسار سے مس ہوئے

” نن نہیں ۔۔”
عباس کی ہوش اڑا دینے والی قربت وہ رات سے کس طرح سہہ رہی تھی یہ وہ جانتی تھی ابھی بھی اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا عباس پوری طرح اس کے وجود پر قابض تھا کہ بمشکل اس کے حلق سے دھیمی سی آواز نکلی مگر آنکھیں ہنوز سختی سے میچی ہوئیں تھیں

” پھر ناراض ہیں ۔۔؟؟”
اس کی بند آنکھوں سے نکلتے موتیوں کو اپنے لبوں سے چنتے ہوئے وہ پھر سے پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ اس کا نرم لمس اپنی آنکھوں پر محسوس کر کے سسک اٹھی

” نن نہیں ۔۔!”
کپکپاتے لبوں سے بمشکل وہ بول پائی

” پھر یہ آنسو کیسے ۔۔؟”
عباس اب اس کے برابر لیٹتے ہوئے پوچھ رہا تھا کہ حُرّہ نے عباس کے پیچھے ہٹتے ہی رخ موڑنا چاہا جب عباس نے اس کا ارادہ سمجھتے ہوئے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا دیا چند لمحوں بعد حُرّہ اس کے سینے کے بالوں کی چبھن اپنے چہرے پر محسوس کرتی پیچھے ہونے کی کوشش کی عباس نے مسکرا کے اسے جدا کیا مگر حُرّہ تکیے میں منہ چھپا کر خفت مٹانے لگی

” میں کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔ !”
اس بار عباس نے آواز میں تھوڑی سختی آتے ہوئے پوچھا تو حُرّہ اس کی بلند آواز سن کر لرز گئی

” جج جی ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے آنکھیں جھکائے مدھم سا بولی

” کل رات جو ہوا اس پر دکھ کے آنسو بہا رہیں ہیں ۔۔ ؟”
نہایت سرد مہری سے پوچھا گیا کہ حُرّہ نے بے ساختہ نگاہ عباس کی جانب کی

” نن نہیں اا ایسا تت تو نہیں ہے ۔۔”
عباس کا سخت لب و لہجہ حُرّہ کو سہمنے پر مجبور کر گیا لفظ بمشکل اس کے حلق سے نکلے تھے

” کیا چاہتی ہیں آپ کہ رات کے لیے میں شرمندہ ہو کر معافی مانگو ۔۔ ؟؟”
حُرّہ کے کان میں موجود چھوٹی سی بالی کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے حرکت دیتے ہوئے وہ نگاہیں حُرّہ کی سہمی ہوئی آنکھوں پر جمائے پوچھ رہا تھا

” نن نہیں ۔۔ !”
حُرّہ بمشکل سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے بول سکی

” ہمممم “

” فی الحال آپ کے لیے اتنا جاننا ضروری ہے کہ میں بہک کر آپ کے قریب نہیں آیا تھا ۔۔ بلکہ بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا میں نے ۔۔”
وہ حُرّہ کی دلی کیفیت جانتا تھا اس لیے اسے سمجھاتا ہوا بولا جبکہ حُرّہ کو اس کی بات کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تھی مگر خاموش رہی

” آپ کے وجود پر یہ زخم کیسے ۔۔ ؟؟ “
حُرّہ کے بازوؤں اور چہرے پر انگلیوں کے سرخ نشان اور کہیں نیلے پڑتے نشان دیکھ کر تو رات کو ہی عباس کو شدید غصہ آیا تھا وہ کچھ کچھ تو معاملے کو سمجھ رہا تھا مگر جو سمجھ آ رہا تھا وہ کافی تکلیف دہ تھا جبکہ عباس کے سوال پر حُرّہ کا رنگ زرد پڑا تھا

” کس نے کیا ہے یہ سب ۔۔؟”
حُرّہ کے چہرے پر نرمی سے انگلی پھرتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا جبکہ حُرّہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دے اس سے پہلے عباس ایک مرتبہ پھر پوچھتا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور مسلسل دستک ہونے پر عباس جھنجھلا کر اٹھا اور حُرّہ پر کمفرٹر اوڑھا اور خود پاس پڑی شرٹ پہنتا ہوا بٹن بند کرتا دروازے کی جانب بڑھا جبکہ حُرّہ چہرہ بھی کمفرٹر میں چھپا گئی جانے کون ہوگا دروازے پہ اور اس طرح دیکھ کر کیا سوچے گا یہ سوچتے ہی حُرّہ کا دل گھبرا گیا

” یہ کیا طریقہ ہے ۔۔ ؟؟ جب دروازہ نہیں کھل رہا تو خاموشی سے واپس مڑ جاؤ ۔۔ ڈھٹائی سے کھڑے رہنے کا کیا مقصد ہے ۔۔ “
دروازہ کھول کر ناہید کو سامنے دیکھ کر تو عباس کو شدید غصہ آیا خاصی بلند آواز میں وہ چلایا تھا جبکہ ناہید ، عباس کے چنگھاڑنے پر کانپ کر دو قدم پیچھے ہوئی

” وو وہ سرکار معاف کر دیں وہ جی ۔۔ سردار بی بی آپ کو ناشتے کے لیے بُلا رہے ہیں ۔۔”
ناہید نے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا

” ہممم ۔۔ ٹھیک ہے جاؤ ۔۔!”
درشتی سے کہتے ہوئے عباس نے دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا جب مڑا تو حُرّہ کو کمفرٹر میں چھپا دیکھ کر اس کے سپاٹ چہرے پر تبسم بکھرا

” میں شاور لینے جا رہا ہوں ۔۔ ناشتہ یہاں نہیں کر پاؤں گا ۔۔ کیونکہ لیٹ ہو گیا ہوں میں آج میرے کیس کی ہئیرنگ ہے ۔۔ آپ فریش ہو کر ناشتہ کر لیجئے گا ۔۔ جلد حویلی آنے کی کوشش کروں گا ۔۔ “
الماری سے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے اس نے خاصی بلند آواز میں کہا اور پھر ایک مسکراتی نگاہ حُرّہ کے چھپے ہوئے وجود پر ڈال کر واشروم کی سمت بڑھ گیا جبکہ حُرّہ کو جب یقین ہو گیا ہے اب عباس روم میں نہیں ہے تو چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اور کپڑے درست کرتی بیڈ سے اتری قریب پڑی ہوئی چادر کو اٹھا کر اپنے اوپر اچھی طرح اوڑھا اور ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو دیکھ کر کمرے سے نکل گئی

///////////////////

رات اس نے آنکھوں میں گزاری تھی یہی سوچ بے چینی میں اضافہ کر رہی تھی کہ وہ لڑکی عباس کے پاس ، اس کے کمرے میں موجود ہے کتنی دیر تو وہ کمرے میں بے چینی سے ٹہلتی رہی کئی مرتبہ کمرے سے نکلی مگر دروازے سے ہی واپس مڑ گئی

” نہیں عباس اسے بیوی کا درجہ نہیں دیں گے ۔۔ وہ تو نگاہ اٹھا کر کسی لڑکی کو بھی نہیں دیکھتے کتنی بار میں نے نوٹ کیا ہے ۔۔ وہ تو میرے سے بھی نظر جھکا کر بات کرتے ہیں ۔۔ میرے حُسن کے آگے بھی بہکتے نہیں ہیں ۔۔ پھر وہ عام سی لڑکی ۔۔ مگر ۔۔ مم مگر وہ لڑکی ان کے نکاح میں ہے ۔۔ اگر ۔۔ اگر عع عباس نے اسے ۔۔ نن نہیں ۔۔ میں نہیں برداشت کر پاؤں گی ۔۔ میرے خدا میں کیا کروں ۔۔ “
دونوں ہاتھوں میں سر تھامے جانے وہ کیا کیا سوچ رہی تھی ساری رات اضطراب میں گزارنے کے بعد کچھ دیر سو پائی تھی آٹھ بجے معمول کے مطابق کمرے سے باہر نکلی تو ملازمہ سے حُرّہ کے بارے میں پوچھا

” وو وہ ۔۔ وہ لڑکی کہاں ہے ۔۔ “
اسے حُرّہ کا نام تو معلوم نہیں تھا سب کی طرح اس نے بھی ‘ لڑکی ‘ کہا

” جی وہ تو ابھی چھوٹے سرکار کے کمرے میں ہی ۔۔ “
ملازمہ اس کی بات سمجھتے ہوئے بولی
ابھی وہ بتا ہی رہی تھی جب اسے سردار بی بی کی پریشان آواز آئی

” ارے جا کر ناشتے کے لیے بلا کر لا سردار کو ۔۔ “
سردار بی بی کو جب معلوم ہوا کہ حُرّہ ابھی تک عباس کے ساتھ ہے تو ان سے رہا نہیں گیا اور ناہید کو فوراً بھیجا جبکہ نورے کے دل میں چھن سے کچھ ٹوٹا وہ شکستہ قدموں سے چلتے ہوئے اپنے کمرے میں آ گئی

بچپن سے بچوں کے دل میں یہ نازک باتیں نہیں ڈالتے خاص کر لڑکیوں کے دلوں میں کیونکہ لڑکیوں کے دل بہت نازک ہوتے ہیں وہ ٹوٹ جاتی ہیں بکھر جاتی ہیں پھر ساری عمر دل میں یہ روگ رکھتی ہیں
ہر لڑکی خوش قسمت نہیں ہوتی کہ جسے ایسا ہمسفر ملے جو اس کے دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑنے کی صلاحیت اور ظرف رکھتا ہو
نورے ایسی غلطی کی منہ بولتی مثال ہے بچپن سے عباس کے ساتھ اس کا نام جوڑا گیا مگر یہ تو قسمت کے کھیل ہیں کی کس کے نصیب میں کون ہوتا ہے آپ کون ہوتے ہیں خدا کے کاموں میں دخل دینے والے
جانے نورے کی زندگی آگے جا کر کیا موڑ لیتی ہے وہ نہیں جانتی تھی خاندانی اصولوں کے تحت وہ عباس کی دوسری بیوی کا مرتبہ حاصل کرتی ہے یا سخت اصولوں کے تحت ساری عمر اسی کے نام سے بندھ کر بے رنگ زندگی گزارتی ہے

//////////////////////////

وہ دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی مگر مسلسل عباس کا خیال اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا وہ گزری رات کے حصار سے ابھی نہیں نکل پائی تھی اپنے وجود پر عباس کا لمس اسے ابھی بھی محسوس ہو رہا تھا

” او بی بی ۔۔ حویلی کی سردار بی بی بننے کے خواب دیکھنا بند کرو ۔۔ اور کھانے کی تیاری کرو ۔۔ ختم کرو جلدی سے کام ۔۔ “
حُرّہ کو شیلف کے پاس کسی گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ناہید پھنکاری تو حُرّہ یکدم خیالوں سے نکلی اور ناہید کا غصہ دیکھ کر سر جھٹکتی کھانا بنانے لگی

” نہیں حُرّہ مت سوچو کچھ بھی ۔۔ یہ سب ایک جیسے ہیں ۔۔ بے رحم ۔۔ ظالم ۔۔ سب کو اپنا اپنا مطلب پورا کرنا ہوتا ہے ۔۔ چھوٹے سردار نے بھی محض ضرورت پوری کرنی تھی سو کر لی ۔۔ اس سے زیادہ تمہارا وجود ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ۔۔ “
دل میں خود سے مخاطب ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے اپنی سفید چادر کے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنا دھیان عباس سے ہٹا کر کام میں لگا لیا کیونکہ اس نے اب امیدیں رکھنی ہی چھوڑ دیں تھیں دل میں کوئی خوش فہمی پال کر وہ خود اذیتی سے نہیں گزرنا چاہتی تھی پہلے ہی بڑی مشکل زندگی تھی اور پھر یہ بات بھی جانتی تھی کہ عباس کی زندگی میں نورے پہلے سے موجود ہے اور یہاں سے آگے وہ خود نہیں سوچنا چاہتی تھی

////////////////////////////

” ناعمہ تم پریشان کیوں ہوتی ہو ۔۔ کیا تمہیں ہم پر یا سردار صاحب پر یقین نہیں ہے ۔۔ کیا نورے صرف تمہاری بیٹی ہے ۔۔ ؟؟ تم سے زیادہ فکر ہے سردار جی کو اس کی ۔۔ “
سردار بی بی اور ناعمہ اس وقت حویلی کے صحن میں بیٹھی دھیمی آواز میں باتیں کر رہیں تھیں ناعمہ ہمدانی رات سے نورے کی بکھری حالت دیکھ کر کڑھ رہیں تھیں

” ایسی بات نہیں ہے ۔۔ میں جانتی ہوں آپ دونوں نورے کو بیٹی کی طرح سمجھتے ہیں مگر ۔۔ ایک بات آپ بتائیں سردار بی بی کے ایک عورت یہ کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ ۔۔ جس شخص کے ساتھ ہمیشہ سے اس کا نام جوڑا تھا اب کوئی دوسری زندگی میں آ گئی ہے ۔۔ اور پھر آپ نورے کو جانتی ہیں وہ کتنی حساس ہے ۔۔ رو رو کے برا حال کیا ہوا ہے اس نے اپنا جب سے چھوٹے سردار کا نکاح ہوا ہے ۔۔”
ناعمہ چہرے پر پریشانی لیے کہہ رہیں تھیں

” میرا بس چلے تو اس لڑکی کا گلا دبا کر مار دوں ۔۔ مگر سردار جی نے سختی سے کہا ہے کہ اس لڑکی کو زندہ رکھا جائے ۔۔ “
سردار بی بی لہجے میں حُرّہ کے لیے نفرت لیے بولیں تھیں جبکہ ان کی بات پر ناعمہ نے نفی میں سر ہلایا

” میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ اس لڑکی کو عباس چھوڑ دے ۔۔ “
ناعمہ نے کہا تو سردار بی بی نے ان کی بات کی نفی کی

” تم جانتی تو ہو خون بہا میں آئی لڑکیوں کو طلاق نہیں دے سکتے ۔۔ “
انہوں نے ماتھے پر بل ڈالے کہا وہ ناعمہ کو کیا بتاتی ان کو خود حُرّہ کا وجود برداشت نہیں تھا

” زیادتی ہو رہی ہے میری بیٹی کے ساتھ ۔۔”
انہوں نے بھیگی آواز میں کہا وہ جانتی تھیں کہ عباس اور نورے کا رشتہ بھی نہیں ختم ہو سکتا

” ہرگز زیادتی نہیں ہوگی نورے کے ساتھ ۔۔ ہم بہت جلد اس کی شادی عباس سے کر دیں گے ۔۔ اور یہ بات تو تم جانتی ہو عباس اپنے باپ کی کوئی بات نہیں ٹالتا ۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے اس لڑکی کے ساتھ نکاح اس نے اپنی خوشی سے کیا ہے ۔۔ نہیں ۔۔ سردار جی نے زور دیا تھا اس پر ۔۔ ورنہ وہ کہاں کرتا ۔۔ “
سردار بی بی ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے ہوئے بولیں تو ناعمہ ہمدانی نے خاموشی اختیار کر لی

“وہ مرد ہے وہ چار شادیاں بھی کر سکتا ہے ۔۔ مگر جو حیثیت نورے کی ہے وہ اور کسی کی نہیں ہو سکتی ۔۔ اور عباس جانتا ہے یہ بات ۔۔ تم نہیں جانتی ہم تو خود چاہتے ہیں کہ بس جلد سے جلد نورے اور عباس کے بچے دیکھیں ۔۔ “
سردار بی بی پھر سے بولیں تھیں جبکہ ناعمہ محض سر ہلا کر رہ گئیں

////////////////////////////

اسے کام نمٹاتے ہوئے رات ہو گئی تھی اپنے بنگلے میں آ کر وہ فریش ہو کر لیٹ گیا تھا آج سارا دن وقفے وقفے سے اسے حُرّہ کا خیال آتا رہا تھا ایک تو پہلے ہی وہ عابی والے حادثے کے بعد اتنے دنوں سے ذہنی اذیت سے گزر رہا تھا پھر جب اس لڑکی کا خیال آتا جس سے اس نے چند دن پہلے بابا کے کہنے پر نکاح کیا تھا تو مزید بے چینی ہونے لگتی اور پھر تو جیسے اس کی بے سکونی بڑھتی رہتی وہ اس دن حویلی گیا کوشش کے باوجود وہ اس لڑکی سے نہیں مل سکا شاید ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی مگر کبھی کبھی عالیان کے مذاق میں کی ہوئی باتیں اسے بے چین کرتی تھیں جب وہ کبھی کبھی شراب کا گلاس تھما کر لڑکی کے ساتھ رات گزارنے کا مشورہ دیتا تھا اس وقت تو وہ بھاگ جاتا تھا مگر سوچ حُرّہ کی جانب مبذول ہو جاتی تھی شاید اس لیے کہ وہ اس کی محرم تھی
کل جب وہ ہوٹل میں احمد اور عالیان کے ساتھ لنچ کر رہا تھا تب بھی یکدم اسے اس لڑکی کا خیال آیا جس کے ساتھ اس کا بہت مضبوط رشتہ قائم ہو چکا تھا مگر وہ تو اس کا نام بھی فراموش کر چکا تھا اسی وقت اس نے حویلی جانے کا فیصلہ کیا گاڑی دھیمی رفتار سے چلائی کہ وہ مزید ہر پہلو سے سوچنا چاہتا تھا
پہلی نظر جب اس نے حُرّہ پر ڈالی تھی اسی وقت اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اس سے ڈر رہی ہے حُرّہ نے خود کو چادر میں لپیٹا ہوا تھا آدھا چہرہ بھی وہ اس سے چھپا رہی تھی مگر چونکہ نکاح کی کشش تھی کہ کسی لڑکی کو ایک آنکھ نہ دیکھنے والا سامنے کھڑی لڑکی کو گہری نگاہوں سے پورے حق سے دیکھ رہا تھا دونوں نے ہی پہلی مرتبہ ایک دوسرے کو دیکھا تھا وہ ایک عام سے خاندان سے تعلق رکھتی تھی ، پھر خون بہا میں آئی ہوئی تھی یہ ساری باتیں سمجھتے ہوئے وہ جان گیا تھا کہ حُرّہ کس قدر سہمی ہوئی تھی مگر وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا بے شک نکاح اس نے باپ کے کہنے پر کیا تھا مگر نکاح کرتے وقت اس نے دل میں خود سے عہد لیا تھا کہ اس لڑکی کے حقوق پورے کرے گا
حُرّہ کے جسم پر نیل کر نشان دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا اس نے حُرّہ سے پوچھا بھی تھا مگر اس نے بتایا نہیں وہ واپس جا کر حُرّہ سے اس بارے میں مزید بات کرنا چاہتا تھا کیونکہ بہت سی باتیں اسے پریشان کر رہیں تھیں

” آج چاند کہاں سے نکلا ہے احمد ۔۔ ؟؟”
وہ رات کا کھانا کھانے کے بعد لاؤنج میں بیٹھا سوچوں میں گم تھا جب عالیان کی شرارت بھری آواز سے ہوش میں آیا اور اب آرام سے صوفے پر بیٹھتے احمد اور عالیان کو دیکھنے لگا یہ وہ دوست تھے جو اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے تھے

” مغرب سے ۔۔”
احمد نے ٹی وی آن کرتے ہوئے عالیان کے مذاق کا حشر کرتے ہوئے کہا تو عباس مسکرانے لگا

” مجھے تو لگ رہا ہے جنوب سے نکلا ہے ۔۔ “
عالیان نے جانچتی نظروں سے عباس کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس بار عباس نے اسے گھورا

” اوئے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر دیکھ آج واقعی کچھ گڑبڑ ہے ۔۔ “
عالیان نے عباس کی گھوری کو نظرانداز کرتے ہوئے احمد سے ریموٹ لیتے ہوئے کہا تو اس نے نا سمجھی سے عالیان کو دیکھا عالیان نے فوراً ادھر ادھر دیکھا پھر صوفے کے نیچے دیکھا

” کیا ڈھونڈ رہا ہے ۔۔؟”
اس بار عباس نے بھی نا سمجھی سے پوچھا

” نا شراب کی بوتل نظر آ رہی ہے نا شباب نظر آ رہی ہے ۔۔ پھر یہ مسکراہٹیں ۔۔ ؟؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہی ۔۔ “
عالیان نے چہرے پر مصنوعی معصومیت سجائے عباس کو کہا تو اس کی بات سمجھتے ہوئے بے اختیار عباس نے قہقہہ لگایا اتنے دن بعد عباس کو کھل کر مسکراتے دیکھ کر عالیان اور احمد دونوں ششدر رہ گئے

” احمد تو مان نہ مان ۔۔ ہمارا شریف بچہ غلط کاموں میں پڑ گیا ہے ۔۔ “
عالیان نے عباس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے احمد سے کہا تو عباس نے بمشکل اپنی مسکراہٹ دبائی

” عباس تو ٹھیک ہے نا ۔۔ ؟”
اس بار احمد نے پوچھا اس کے لہجے میں پریشانی واضح تھی

” تم لوگوں کو لگ رہا ہے میں صدمے کی وجہ پاگل ہو گیا ہوں ۔۔؟”
عباس نے اس بار سنجیدگی سے پوچھا

” خدا تجھے ہمیشہ مسکراتا ہی رکھے یار ۔۔ لیکن سب ٹھیک ہے نا ۔۔ ؟”
احمد ، عباس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اس بار سنجیدگی سے پوچھنے لگا

” ہاں سب ٹھیک ہے ۔۔”
عباس نے مختصر جواب دیا جبکہ عالیان ابھی بھی اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا

” ہاں احمد سب کچھ زیادہ ہی ٹھیک لگ رہا ہے ۔۔ “
عالیان ابھی بھی باز نہ آیا تھا عباس نے اٹھ کر ایک مکہ اس ک کمر میں مارا

” پہلے ہی میرا سر درد ہو رہا ہے ۔۔ مزید دماغ نہ خراب کر میرا ۔۔ “
سنجیدگی سے کہتے ہوئے عباس نے ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں لیا اور نیوز چینل لگا کر عالیان کے ساتھ بیٹھ گیا جبکہ عالیان کراہ کر رہ طیا

” چل میں تیرے لیے چائے بناتا ہوں ۔۔ “
احمد مسکرا کر کہتا ہوا کچن کی جانب چل پڑا

” اصل شریف تو یہ بندہ ہے یار ۔۔ جو چائے بنا کر دے رہا ہے ۔۔ تیرے تو آج کل لچھن ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے ۔۔ نظر رکھنی پڑے گی ۔۔ “
عالیان بلند آواز میں بڑبڑا رہا تھا جبکہ عباس نے نظریں ٹی وی سکرین پر رکھتے ہوئے بمشکل مسکراہٹ دبائی

/////////////////////////

جاری ہے