Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ناول : میں ہاری پیا
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 18

” کک کون ۔۔ ؟؟ کک کون ہو تم ۔۔ ؟؟ میرے گھر میں کک کیسے آئے ۔۔ ؟”
ڈر و خوف کے باعث بمشکل اس کے حلق سے آواز نکل رہی تھی یہ کیسے ممکن تھا کہ اتنی سکیورٹی میں کوئی اس کے گھر بلکہ کمرے میں گھس آیا تھا جبکہ وہ انجان مسلسل مسکراتا حُرّہ کی سمت بڑھ رہا تھا

” دد دور رہو ۔۔ اگر ۔۔ اگر ایک قدم آگے آئے تو ۔۔ !!”
سوئی ہوئی دعا کو گود میں اٹھا کر اپنے سینے میں بھینچتی وہ بولتے بولتے خاموش ہو گئی اور بیڈ سے اٹھ گئی فوراً سرہانے پڑا دوپٹہ اپنے گرد لپیٹا

” ارے ارے بی بی جی ۔۔ بولیں بولیں اگر آگے آیا تو کیا کریں گی آپ ۔۔ ؟؟”
وہ چہرے پر مکروہ تاثرات لیے بولتا قہقہہ لگا گیا جبکہ حُرّہ کو سامنے کھڑے شخص کی صورت میں بہت بڑی مصیبت اپنے سامنے کھڑی نظر آئی

” تت تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں ۔۔ سرداد عباس کی بیوی ہوں ۔۔ اگر مجھے یا میری بیٹی کو ذرا سی کھرونچ آئی تو سردار جو تمہارا حال کریں گے اس وقت سے ڈرو ۔۔ !”
وہ خود کو مضبوط کرتی اس مرتبہ نڈر ہو کر بولی تھی جبکہ اس کے الفاظ سن کر اک پل کو اس شخص کے چہرے پر خوف کی پرچھائی آئی تھی مگر محض اک پل کے لیے پھر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا

” واہ واہ بی بی جی ۔۔ ہم ہمیشہ سوچتے تھے کہ پتہ نہیں آپ میں کیا بات ہے کہ نورے بی بی کی خوبصورتی بھی چھوٹے سردار کو نہیں دیکھائی دیتی اور انہوں نے ان پر آپ کو ترجیح دی ۔۔ مگر آپ میں تو واقعی کچھ تو ہے ۔۔ ہم بھی تو ذرا مزا چکھیں ۔۔ “
وہ زہریلی مسکراہٹ چہرے پر سجائے سانولا سا ہٹا کٹا آدمی حُرّہ تک پہنچ چکا تھا اور اس کا دوپٹہ کھنچنے کو ہاتھ بڑھایا اس سے پہلے وہ کامیاب ہوتا حُرّہ نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹکا اور پیچھے ہوتی فاصلہ قائم کر گئی

” خبردار اگر میرے قریب آئے ۔۔ !”
وہ اس کی بات اور حرکت پر چیخی تھی

” ہاہا تو کیا کرو گی ۔۔ ؟؟”
وہ حُرّہ کو سر سے پاؤں تک گھورتا بولا

” دور رہو ۔۔ !! میں سرداد کو بتاؤں گی ۔۔ وہ تمہیں جان سے مار دیں گے ۔۔ !”
حُرّہ پھر سے چیخی تھی دل کی گہرائیوں سے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی دعا مانگنے لگے

” تمہیں اس قابل چھوڑو گا تو بتاؤ گی نا کچھ تم ۔۔ چھوٹے سردار کو ۔۔ !”
وہ حُرّہ کے قریب پہنچ کر بولا تھا حُرّہ پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا لگی تھی جبکہ شور سے دعا اٹھ کر رونے لگی تھی

” خدا سے ڈرو ۔۔ جس نیت سے تم آئے ہو ۔۔ یہ حرکت عذاب کا باعث بنے گی تم پہ ۔۔ “
اپنے سامنے کھڑے حیوان کو وہ بولتی بھاگنے کی راہ تلاش کرنے لگی مگر افسوس کہ یہ آسان نہ تھا کیونکہ وہ پوری طرح اس کا راستہ روکے کھڑا تھا

” ارے عذاب بعد میں دیکھا جائے گا پہلے تمہارے ساتھ رات تو گزار لیں ۔۔ “
وہ بولا تو حُرّہ نے اس کے الفاظ سن کر اذیت سے آنکھیں میچی

” خوف کھاؤ خدا کا ۔۔ تمہارے بھی کوئی گھر میں عورت ہوگی ۔۔ “
وہ مسلسل اسے اللہ سے ڈرا رہی تھی مگر جو بہک جائے اسے کیا ہدایت ملے

” میرا کوئی گھر نہیں ۔۔ “
وہ آدمی دھاڑا تھا اور مزید مشتعل ہوا تھا

” پپ پلیز میرے قریب مت آؤ ۔۔ “
اس بار حُرّہ کی آواز میں بے بسی تھی ڈر و خوف تھا

” وقت ضائع مت کرو ۔۔ بچی کو سلاؤ اور کچھ وقت کے لیے میرا دل خوش کر دو ۔۔ !”
مکروہ چہرہ لیے وہ کہہ رہا تھا جبکہ اس کی غلیظ نگاہیں اپنے وجود کے آر پار محسوس کرتے حُرّہ نے اس پل اپنی موت مانگی

” دیکھو تمہیں جو کچھ چاہیے لے جاؤ جتنے پیسے ، زیور چاہیے سب لے جاؤ مگر پلیز چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ “
حُرّہ نے بھیگی آواز میں کہا اور کمرے میں موجود سیف کی جانب اسے متوجہ کیا اس دوران دعا رو رو کر سہم چکی تھی

” ارے وہ بھی لے لوں گا ۔۔ پہلے اپنی آگ تو بجھا لوں جو تیرا معصوم چہرہ دیکھ مزید بڑھ گئی ہے ۔۔ “
ہاتھ بڑھا کر اس نے حُرّہ کے چہرے کو چھونا چاہا مگر حُرّہ نے چہرہ دوسری جانب کر لیا

” مجھے قتل کر دو مگر میری طرف غلیظ نگاہ سے مت دیکھو ۔۔ “
وہ بے بسی کی انتہا پر تھی جب بولی تو آواز بھیگی ہوئی تھی

” قتل بھی کر دوں گا ۔۔ پہلے مزے تو لے لوں ۔۔ “
وہ اس کی بے بسی سے محظوظ ہوتا بولا تھا

” یا اللہ میری مدد کر ۔۔ !”
وہ با آواز بلند بڑبڑائی تھی

” اب نخرے بند بھی کر ۔۔ اور چھوڑ بچی کو ۔۔ !”
وہ دھاڑا تھا اور دعا کی جانب ہاتھ بڑھائے مگر حُرّہ نے دعا کو خود میں چھپا لیا

” پپ پلیز تم مجھے قتل کر دو مگر میری عزت کو محفوظ رہنے دو ۔۔ اللہ سے ڈرو ۔۔ “
وہ اس بار التجائیہ بولی تھی

” تجھ پر رحم کیا تو مجھ پر رحم نہیں ہو گا ۔۔ “
وہ با معنی الفاظ میں بولا تو حُرّہ نے آنکھوں میں التجا اور بےبسی لیے اسے دیکھا جبکہ دعا کے رونے میں شدت آئی تھی حُرّہ نے دعا کو دیکھا جس کا مسلسل رونے کے باعث برا حال تھا بے اختیار اپنی بیٹی کو پہلی مرتبہ اتنا روتے دیکھ کر حُرّہ کا دل بھی کیا وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر روئے

” یا اللہ تیرے سوا کوئی نہیں جو میری مدد کرے ۔۔ میں تجھ سے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی دعا کرتی ہوں ۔۔ “
بھیگی پلکیں گرا کر وہ دل میں دعا کرنے لگی

ابھی اس نے دوپٹہ کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ حُرّہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دھکا دیا وہ حُرّہ جیسی دبلی پتلی لڑکی سے اس قدر طاقت کی امید نہ رکھتا تھا اور اس کے حملے سے فرش پر جا گرا یہیں حُرّہ نے موقع کو غنیمت جانا اور دعا کو سینے سے لگائے کمرے سے بھاگی اور باہر آ کر دروازہ لاک کر دیا لاؤنج کو عبور کرتی وہ اس غرض سے لان میں آئی کہ گارڈز کو اس نا گہانی سے آگاہ کرے مگر صد افسوس کہ جہاں دس دس گار ڈز ہوتے تھے وہاں آج ایک بھی نہیں تھا نیم اندھیرے میں جب ڈھونڈنے پر بھی کوئی نہ ملا تو آسمان کی جانب چہرہ کیا

” یا اللہ تیرے آسرے اس گھپ اندھیری رات میں اپنی عزت کو بچانے کی خاطر نکل رہی ہوں ۔۔ اب تو ہی مجھے منزل تک پہنچائے گا ۔۔ کیونکہ تیرے سوا یہ کوئی نہیں کر سکتا ۔۔ مجھ پر رحم کر میرے مالک ۔۔ “
شدت سے روتے ہوئے وہ آسمان کی جانب چہرہ بلند کیے بول رہی تھی اور پھر دعا کو سینے لگائے وہ بنگلے سے باہر نکل گئی
دعا کو سینے میں بھینچے تیز تیز بھاگتی وہ ہانپ گئی تھی جب گھر سے کافی دور آ گئی تو ایک جگہ رک کر تنفس بحال کرنے لگی آس پاس چند گھر تھے وہ مسلسل رو رہی تھی جبکہ دعا بھی مدھم آواز میں سسکیاں لے رہی تھی بے بسی ہی بے بسی تھی اپنی عزت کی حفاظت کی خاطر وہ محض سر پر دوپٹہ اوڑھے اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے نکلی تھی مگر اب وہ کہاں جاتی اس اندھیری رات میں کون اسے پناہ دیتا مسلسل سورتوں کا ورد کرتی رات میں باقی دو تین گھنٹے ان دونوں ماں بیٹی نے سڑک پر گزارے جہاں سے تھوڑی دیر بعد اکا دکا گاڑی گزر جاتی تھی دعا کو اس نے تھپک کر سلا دیا تھا مگر خود خوف کے زیر اثر رات گزاری تھی بار بار ایسے لگتا جیسے وہی شخص دوبادہ آ جائے گا

جب افق پر روشنی نمودار ہوئی تو پاس سے گزرتی ایک گاڑی کو حُرّہ نے اشارہ کر کے روکا ڈرائیور نے مشکوک نگاہوں سے سامنے کھڑی عورت اور پھر اس کی گود میں سوتی ہوئی بچی کو گھورا مگر وہ دیکھنے میں شریف گھر کی لگ رہی تھی اس آدمی کی نگاہوں سے خوفزدہ ہوتے حُرّہ نے اسے ایک پتہ بتایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گئی راستے میں وہ مسلسل روتی رہی تھی جس طرح حُرّہ نے یہ دو تین گھنٹے گزارے تھے اسے لگا یہ رات اس کی اذیتوں میں سب سے زیادہ مشکل ترین رات تھی نا سر پر چھت تھی اور نا خدا کی ذات کے سوا کوئی آسرا اللہ کے بعد وہ مسلسل عباس کو پکار رہی تھی اس کے لوٹنے کی دعا کرتی رہی تھی

” یا اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے میری عزت کو محفوظ رکھا ۔۔ آگے بھی تجھ سے مدد چاہتی ہوں ۔۔ “
مسلسل روتے ہوئے وہ رب سے راز و نیاز کر رہی تھی

موبائل بھی پاس نہیں تھا کہ عباس کو گزری قیامت کے بارے میں آگاہ کر سکتی اب صرف حویلی میں پناہ لینے کے سوا اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا بچی کو لے کر وہ کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتی اور اگر پھر سے وہی شخص آ گیا تو یہی سوچ اسے سہمنے پر مجبور کر رہی تھی اس سے بہتر وہ سردار بی بی سمیت حویلی کے مکینوں کی کڑوی باتیں اور سلوک برداشت کر لے

” سرداد کہاں ہیں آپ ۔۔ پلیز آ جائیں ۔۔ میں مر جاؤں گی اگر اب کچھ برا ہوا تو ۔۔ “
دل میں عباس سے مخاطب وہ اس کے جلد آنے کی دعا مانگنے لگی

” مجھ سے ہر طرح کا امتحان میرے مالک ۔۔ “

” ماں بابا اگر آپ لوگ ہوتے تو آپ کی بیٹی آج ٹھوکریں نا کھا رہی ہوتی ۔۔ بے دھڑک آپ کے پاس آ جاتی ۔۔ جن بیٹیوں کے سر پر باپ ، بھائی کا ہاتھ نہیں ہوتا زمانہ انہیں کتنا بے مول کر دیتا ہے ۔۔ “
کرب سے آنکھیں میچے وہ سوچ رہی تھی

” بس دعا میری جان ۔۔ مت رو میری بیٹی ۔۔ دعا کرو بابا آ جائیں ۔۔ “
دعا کے رونے پر حُرّہ نے اس کی روئی ہوئی آنکھیں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا

تین گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی حویلی کے سامنے آ کر رکی تو حُرّہ نے اپنے کان میں موجود ایک بالی اتاری اور ڈرائیور کی جانب بڑھائی ڈرائیور نے چونک کر پہلے حُرّہ کو دیکھا اور پھر اس کے ہاتھ می موجود سونے کی چھوٹی سی بالی کو دیکھا

” مم میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔۔ !”
وہ جھکے سر کے ساتھ بولی تو ڈرائیور نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا

” یہ سونے کی ہے ۔۔ ؟”
اس کے سوال پر حُرّہ نے فوراً سر ہلایا

” مگر پھر تو یہ زیادہ قیمت کی ہوگی ۔۔ “
ڈرائیور بولا تو حُرّہ اس بار خاموش رہی

” آپ رکھ لیں بھائی ۔۔ “
حُرّہ اسے بول کر حویلی کے گیٹ کی جانب بڑھ گئی جبکہ پیچھے وہ ڈرائیور کاندھے اچکا کر واپس مڑ گیا

/////////////////////////

وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جانے کب اس کی آنکھ لگی تھی کچھ دیر بعد ہی ہڑبڑا کر اٹھا تھا یکدم بے چینی نے اسے آن گھیرا تھا ٹائی کی ناب ڈھیلی کی اور سفید شرٹ کی آستین کہنیوں تک فولڈ کیے وہ ہوٹل کے کمرے میں چکر کاٹنے لگا

” اتنی بے چینی کیوں ہو رہی ہے مجھے ۔۔ “
عباس بالوں میں انگلیاں پھیرتا بولا تھا اسے پہلا خیال حُرّہ اور دعا کا آیا تھا ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس کی حُرّہ سے بات ہوئی تھی
دوسرا خیال اسے سرداد شیر دل کی باتوں کا آیا تھا جس میں انہوں نے اسے نورے سےشادی پر بہت زور دیا تھا مگر وہ ہمیشہ کی طرح انکار کر چکا تھا مگر ان کی دلیلیں اسے مسلسل یاد آ رہیں تھیں

” عباس آخر مسئلہ کیا ہے ۔۔ ؟؟ ہم نے اس لڑکی کو تمہاری زندگی میں قبول کیا ہے نا ۔۔ تو تم ہماری خاطر نورے کو کیوں نہیں قبول کر سکتے ۔۔ ؟ کیا ہماری بات کی کوئی حیثیت نہیں تمہاری نظر میں ۔۔ ؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں ۔۔ ؟”

” ایسی بات نہیں ہے بابا ۔۔ میں نہیں کر سکتا دوسری شادی ۔۔ !”
ان کے سوال پر وہ صاف انکار کرتا بولا تھا

” وجہ ۔۔ ؟”

” مجھے ایسا لگتا ہے میں نورے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوں گا ۔۔ جس محبت کی وہ حق دار ہیں وہ میں نہیں دے سکوں گا انہیں ۔۔ “
عباس کی بات پر انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا

” میں مان ہی نہیں سکتا یہ بات ۔۔ تم میرے بیٹے ہو ۔۔ جانتا ہوں تم حق دار کو اس کا حق دینے میں کوتاہی نہیں کرتے ۔۔ جب شادی ہوگی تو یقیناً نورے کو محبت دو گے ۔۔ “
وہ ہاتھ نہ کے انداز میں ہلاتے بولے تھے

” پلیز بابا سرکار آپ مجھ سے اس بارے میں امید نہ رکھیں ۔۔ میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں ۔۔ دوسری شادی کی چاہت نہیں مجھے ۔۔ “
عباس ہنوز اپنی بات پر قائم تھا

” تمہیں نہیں لگتا تم نورے کے ساتھ غلط کر رہے ہو ۔۔ کبھی اس کو غور سے دیکھو تو معلوم ہو کہ جس نورے کے چہرے سے مسکراہٹ کبھی جدا نہیں ہوتی تھی وہ کتنی مرجھا گئی ہے ۔۔ تم سے محبت کرتی ہے کیا بھول گئے تم ۔۔ اس کو اذیت دے کر سکون سے رہ سکو گے ۔۔؟ “
انہوں نے نرمی سے اسے سمجھایا ان کی بات پر عباس خاموش ہو گیا تھا

اس نے بے چینی سے ان سوچوں کو جھٹکا تھا

” کہیں نورے کا صبر تو نہیں جو مجھے بے چین رکھتا ہے ۔۔ ؟؟ لیکن میں نے تو غلط نہیں کیا ان کے ساتھ ۔۔ اگر میں نے ان پر حُرّہ کو ترجیح دی ہے تو اس لیے کہ حُرّہ کا مجھ پر حق ہے ۔۔ ان کا نکاح ہوا تھا میرے ساتھ جبکہ نورے کے ساتھ میرا کوئی شریعی رشتہ نہیں جس حیثیت سے میں ان کے باعث حُرّہ کی حق تلفی کرتا ۔۔ “
مختلف سوچیں اس کے دماغ میں آ رہیں تھیں بار بار نورے کی باتیں ، اس کی خاموش زبان ، اس کی نگاہوں میں موجود سوال اسے یاد آ رہے تھے

” یا اللہ میرے ہاتھوں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔۔ “
کچھ سوچتے ہوئے اس نے خود ہی اپنی سوچ پر سر ہلایا

/////////////////////////

” دروازہ کھولو ۔۔ !”
ایک گارڈ نے جب دروازہ کھولا تو حُرّہ کو دیکھ کر وہ چونکا جبکہ حُرّہ نے اسے مخاطب کیا

” جی بی بی ۔۔ “
وہ جی کہتا پیچھے ہوا تو حُرّہ نے گیٹ عبور کیا

” اے لڑکی وہیں رک جا ۔۔ !”
یہ سردار بی بی کی کرخت آواز تھی جس نے حُرّہ کے قدم وہیں روک دیے

” تو یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔ ؟”
وہ حُرّہ کے قریب آتی ہوئی پوچھ رہیں تھیں

” و وہ ۔۔ !”
حُرّہ کو سمجھ نہ آیا کہ اپنے اتنی صبح آنے کا کیا جواز پیش کرتی مگر یہ تو طے تھا کہ اسے ہر حال میں یہیں پناہ لینی تھی

” کیا وہ وہ ۔۔ ؟؟ “
وہ غصے سے پھنکاری تھیں تو ان کی غصیلی آواز سن کر دعا رونے لگی تھی اس معصوم بچی نے تو فقط دو شفیق چہرے دیکھے تھے ایک حُرّہ کا اور دوسرا عباس جیسے محبت کرنے والے باپ کا جو نرم اور دھیمے انداز میں بولتا تھا اور کل رات سے وہ بچی پہلے اس آدمی کا اور اب سردار بی بی کی آواز پر شدت سے رونے لگی

” کیوں آئی ہو یہاں تم لڑکی ۔۔ اور اسے بھی کیوں لے کر آئی ہو ۔۔ “
حُرّہ کی گود میں روتی بلکتی سال بھر کی دعا کو دیکھ کر وہ اک پل کے لیے اس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں وہ بچی انہیں بلکل عباس کی کاربن کاپی لگی تھی نین نقش میں اس قدر اپنے باپ سے مشابہ تھی کہ کوئی بھی باآسانی کہہ سکتا تھا کہ یہ عباس کی بیٹی ہے مگر سردار بی بی نے سفاکیت کی انتہا کی اور حقارت بھرے تاثرات لیے ان دونوں ماں بیٹی کو دیکھا

” جج جب تک سرداد نہیں آ جاتے ۔۔ مجھے یہاں رہنے دیں ۔۔ سرداد بی بی ۔۔ “
حُرّہ نے التجائیہ کہا

” کیوں ۔۔ ؟؟”
وہ فٹ سے بولیں تو حُرّہ نے سر جھکا لیا اب وہ انہیں اپنے پر گزری رات کی قیامت کیسے بتاتی

” پلیز رہنے دیں ۔۔ کچھ دن ۔۔ جب سرداد آ جائیں گے تو ہم چلے جائیں گے۔۔ “
دعا کو کاندھے سے لگائے ہوئے وہ آنکھوں میں التجا لیے بولی تھی

” ہاں ہاں جانتی ہوں میرے بیٹے کو لے اڑو گی ۔۔ مگر اس بار میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔۔ “
وہ غصیلی آواز میں بولیں تھیں

” سرداد بی بی پلیز چند دن کے لیے ۔۔ “

” دفع ہو جاؤ تم اپنی بیٹی کو لے کر یہاں سے ۔۔ یہاں کوئی جگہ نہیں تمہارے اور تمہاری بیٹی کے لیے ۔۔ “
وہ غصے سے پھنکاری تھیں

” یہ صرف میری بیٹی نہیں ہے ۔۔ یہ آپ کے بیٹے کا بھی خون ہے ۔۔ “
دعا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بولی تھی لہجے سے تکلیف عیاں تھی

” ہم نہیں مانتے ۔۔ پتہ نہیں کس کا گند میرے بیٹے کی جھولی میں ڈال رہی ہو ۔۔ میرا بیٹا تو ہے ہی شریف ۔۔ آ گیا تمہارے جھانسے میں ۔۔ “
وہ اپنے الفاظ سے حُرّہ کے اندر زہر انڈیل رہیں تھیں یہی زہر عباس دن رات اپنے اندر انڈیلتا تھا مگر شاید وہ ضبط کرنا جانتا تھا کہ سامنے اس کی ماں تھیں مگر حُرّہ سے قطعی ان کا بہتان برداشت نہیں ہوا

” اللہ سے ڈریں ۔۔ آپ بھی جانتی ہیں کہ یہ آپ کے بیٹے کی اولاد ہے ۔۔ پھر کیوں بہتان لگا رہیں ہیں مجھ پر ۔۔ “
اس مرتبہ حُرّہ بھی خاصی بلند آواز میں بولی تھی

” بکواس بند کرو اپنی ۔۔ خبردار اگر میرے سامنے بلند آواز میں چیخی ۔۔ “
حُرّہ کی بلند آواز پر وہ بھی چنگھاڑیں تھیں

” میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں مجھے اور میری بیٹی کو تھوڑے دن یہاں رہنے دیں ۔۔ سردار کا ہمارے ساتھ بھی کوئی رشتہ ہے ۔۔ اس لیے حویلی میں رہنا ہمارا بھی حق ہے ۔۔ “
اس مرتبہ حُرّہ دھیمی آواز میں بولی تھی کہ عباس کے آنے تک اسے حویلی میں پناہ چاہیے تھی

” خبردار اگر اپنے حق جتائے تم نے ۔۔ “
انہوں نے اسے غصے سے گھورا تھا

” ٹھیک ہے نہیں جتاتی مگر پلیز مجھے اندر جانے دیں سردار بی بی ۔۔ “
حُرّہ نے باقاعدہ ان کے آگے ہاتھ جوڑے تھے

” جانے کون سے جادو کرتی ہو ہر مشکل کو شکست دے دیتی ہو ۔۔ ضرور کالا علم کرتی ہو ۔۔ تبھی اس ہٹے کٹے آدمی کو ڈھا کر یہاں آ گئی ہو ۔۔ “
وہ غصے میں بولتی جا رہیں تھیں ان کی بات پر حُرّہ ٹھٹھکی تھی

” کک کیا مطلب ۔۔ “
حُرّہ کی زبان لڑکھڑائی تھی

” مطلب یہ بی بی کہ میں تمہیں کبھی پناہ نہ دوں ۔۔ لو اپنی بیٹی کو اور نکلو میرے گھر سے ۔۔ “
انہوں نے حُرّہ کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا

” آ آپ کو کیسے معلوم کہ میں اس آدمی سے بچ کر یہاں آئی ہوں ۔۔ “
وہ حیرت زدہ سی پوچھ رہی تھی

” میں نے ہی اسے بھیجا تھا ۔۔ کہ بس کسی طرح تم سے جان چھوٹ جائے میرے بیٹے کی ۔۔ “
وہ حُرّہ کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولیں تھیں

جب سے انہیں فون کال آئی تھی حُرّہ کے گھر سے بھاگنے اور ان کا منصوبہ ناکام ہونے کی تب سے وہ حویلی کے دروازے پر نگاہ جمائے کھڑیں تھیں انہیں یقین تھا حُرّہ یہیں آئے گی
اتنی مشکل سے عباس کی غیر موجودگی میں انہیں موقع ملا تھا کہ عباس کو حُرّہ سے بدظن کر سکیں یہ منصوبہ تھا کہ جیسے ان کی بیٹی کے ساتھ ہوا اس کا بدلہ بھی وہ لے لیں گی اور اسے عباس کے قابل ہی نہ چھوڑے لیکن حُرّہ بھاگ نکلی تھی تب سے وہ غصے میں ٹہل رہیں تھیں

” آپ کو خدا کا خوف نہیں آیا ۔۔ میں آپ کے بیٹے کی عزت ہوں ۔۔ آپ نے مجھے بے آبرو کرنا چاہا ۔۔ “
چند پل لگے تھے حُرّہ کو سب سمجھنے میں اور جب سمجھ آ گئی تو صدمے کی کیفیت میں بولی

” تم ہمارے دشمن کی بیٹی ہو ۔۔ اس دشمن کی جس نے میری بیٹی کی عزت کو تار تار کیا اور اسے بےرحمی سے مار دیا ۔۔ پھر میں تم پر کیسے رحم کروں ۔۔ “
ان کے لہجے سے نفرت اور حقارت جھلک رہی تھی حُرّہ کو اپنے پیروں پر کھڑا رہنا دشوار لگا

” آپ اس حد تک جا سکتی ہیں ۔۔ خدا کا خوف نہیں ہے ۔۔ اگر میں نہ بھاگتی اس وقت وہاں سے تو ۔۔ تو جانتی ہیں کیا ہو جاتا ۔۔”
حُرّہ کو شدید صدمہ لگا تھا وہ سمجھتی تھی سردار بی بی اپنی بیٹی کی وجہ سے ہمیشہ اس سے نالاں رہتی ہیں مگر اس حد تک قدم اٹھا سکتی تھیں یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا عباس جیسے اتنے اعلی انسان کی ماں ایسی سوچ رکھتی ہوگی یہ قبول کرنا کس قدر مشکل تھا

” اگر تم اب بھی یہاں سے نہ گئی تو یہ سب پھر کروا سکتی ہوں تمہارے ساتھ ۔۔ “
وہ سفاکیت سے بولیں تھیں جبکہ حُرّہ نے افسوس سے انہیں دیکھا

” مجھے نہ سہی مگر اس معصوم پر بھی رحم نہ آیا آپ کو ۔۔ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو ۔ “
ان کی بات سن کر وہ اندر سے کانپی تھی وہ کبھی نہیں چاہتی تھی جس قیامت سے وہ رات کو گزری تاحی دوبارہ اس سے سنا ہو

” اچھا تھا مر جاتی ۔۔ میرے بیٹے سے گند تو دور ہوتا ۔۔ “
وہ سفاک عورت حقارت سے بولیں تھی حُرّہ نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا

” بس کر جائیں ۔۔ بہت ہو گیا ۔۔ اب دیکھئے گا میں آپ کی ساری حقیقت سردار کو بتاؤں گی ۔۔ کس حد تک جا چکی ہیں آپ سب بتاؤں گی ۔۔ “
وہ بھی غصے میں بولی تھی

” کیسے بتاؤ گی ۔۔ میں تمہیں یہاں رہنے دوں گی تب نا ۔۔ اگر تم نے یہاں رہنے کا سوچا بھی تو جو ایک بار عزت بچ گئی نا ہر مرتبہ نہیں بچے گی ۔۔ “
وہ شاطرانہ انداز میں اسے دھمکی دے رہیں تھیں ان کی بات سن کر حُرّہ کے چہرے پر خوف کا سایہ گزرا

” کیا ملے گا آپ کو یہ سب کر کے ۔۔ “
وہ بے بس انداز میں پوچھ رہی تھی

” سکون ۔۔ “
انہوں نے یک لفظی جواب دیا تو حُرّہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا

” تمہیں تکلیف میں دیکھ کر مجھے سکون ملتا ہے ۔۔ “
وہ بولیں تو حُرّہ نے پتھرائی آنکھوں سے انہیں دیکھا

“ایک اچھی بیوی شوہر کا سکون ہوتی ہے ۔۔ اور آپ میرا سکون ہیں حُرّہ ۔۔ “
اس پل عباس کے الفاظ اسے یاد آئے تھے اب وہ انہیں کیسے بتاتی کہ ان کا بیٹا اسے اپنا سکون کہتا تھا

” میں اپنے لیے سوال نہیں کروں گی آپ سے ۔۔ مگر دعا اس حویلی کی بیٹی ہے ۔۔ اس کا بھی اتنا حق ہے حویلی پر جتنا ایک بیٹی کا اپنے باپ کے گھر پر ہوتا ہے ۔۔ “
اس نے کہا تو انہوں نے نحوت سے سر جھٹکا

” جب ہم مانتے ہی نہیں اسے اپنے بیٹے کا خون تو کیسا حق بی بی ۔۔ ؟ “
کہتے ہی انہوں نے حُرّہ کو دھکا دیا تھا وہ بمشکل اس حملے پر سنبھل سکی تھی

” عذاب کی مانند ہو تم ہماری زندگیوں میں ۔۔ دفع ہو جاؤ ہماری زندگی سے ۔۔ تاکہ خوشیاں دوبارہ ہماری حویلی کا احاطہ کر سکیں ۔۔ اگر تم نہ گئی ہماری زندگی سے تو جان سے تم تو جاؤ گی ہی تمہاری بیٹی کو بھی اس طرح غائب کرواؤں گی کہ قبر بھی نہیں مل سکے گی تمہیں اس کی ۔۔ چلی جاؤ یہاں سے ۔۔ نکل جاؤ ۔۔ “
وہ حتمی انداز میں حُرّہ کو دھمکا رہیں تھیں کہ ان کی دھمکی پر حُرّہ تڑپ گئی

” گارڈز یہ لڑکی حویلی کے آس پاس بھی نظر نہ آئے مجھے ۔۔ “
اس بار وہ گارڈز کو کہتی حویلی کے اندرون حصے کی سمت بڑھ گئیں

” مم میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔ آپ کی حقیقت سردار کو ضرور بتاؤں گی ۔۔ “
گارڈز کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ حُرّہ نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکا اور چیخ کر بولی

” پلیز جلدی آ جائیں سردار ۔۔ زندگی اس دنیا نے تنگ کر دی ہے مجھ پر ۔۔ پلیز جلدی آ جائیں ۔۔ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی میں ۔۔ مر جاؤں گی آپ کے بغیر ۔۔ میرے اللہ چھوٹے سردار کو بھیج دے ۔۔ نہیں دعا رو نہیں بس ویٹ کرو بابا کے آنے کا ۔۔ ہم بابا کو سب بتائیں گے ۔۔ پھر کبھی دور نہیں جائیں گے وہ ہم سے ۔۔ “
وہ بھوک سے بلکتی روتی ہوئی دعا کو کہتی جا رہی تھی

” نہیں میں کسی قیمت پہ سردار سے الگ نہیں ہو سکتی ۔۔ مجھے انہیں سب بتانا ہو گا کہ کیا کیا ہوا ہمارے ساتھ ۔۔ پلیز جلدی آ جائیں ۔۔ آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہمارا ۔۔ یا اللہ میری مدد کر ۔۔ “
آسمان کی جانب دیکھتی وہ بولی تھی

/////////////////////////

جاری ہے

اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں