Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں تمہارا شکریہ ادا کروں یا تمہیں سزا دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم کو اس وقت خوشی اور غصے دونوں جذبات نے گھیرا ہوا تھا۔
مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا بالکل “ٹھیک ٹھاک” ہے ۔اگر اسے کچھ ہوجاتا تو میں جیتے جی مر جاتی ۔اسے دیکھ کر میرا دل دھڑکتا ہے۔وہ میری آنکھوں کی روشنی ہے ۔
اور غصہ اس بات پر آ رہا ہے کہ وہ “کم ذات” بچ گئی ہے ۔اب مجھے اس “منحوس لڑکی” کو تراب کی بیوی کے روپ میں برداشت کرنا پڑے گا ۔بگاڑ تو وہ میرا کچھ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی وہ کبھی میری جگہ لے سکتی ہے مگر پھر بھی جہاں آرا بیگم مسلسل کمرے میں چکر کاٹتی بول رہی تھیں۔
بیگم صاحبہ مجھے نہیں پتا کہ دودھ کس طرح بدل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دودھ نے اپنا اثر کیوں نہیں دکھایا حالانکہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس میں
ہاجرہ بی نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ جہاں آرا بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہا
اگر اس کمرے میں ہونے والے واقعے کے بارے میں تم نے کسی سے بھی ذکر کیا یا تراب کو اصل بات کا پتہ چلا تو تم مجھے اچھے سے جانتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم کی وارننگ پر ہاجرہ بی نے سر ہلایا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
تراب میرا بیٹا ہے۔ میرا مان ہے اور وہ اپنی ماں پر کسی کو بھی فوقیت نہیں دے سکتا ۔پھر میں اس معمولی لڑکی سے اتنی خوفزدہ کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟
میرے خیال سے مجھے اپنے اس خوف کو نکال باہر کرنا چاہیے ۔وہ لڑکی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور نہ ہی کبھی میرے آگے سر اٹھا سکتی ہے _ جہاں آرا بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے لمبے لمبے سانس لیے۔وہ اس وقت شدید نفسیاتی دباؤ میں تھی۔ بعض دفعہ کوئی دوسرا انسان ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا ہمیں ہماری سوچ پہنچاتی ہے ۔اور جہاں آرا بیگم کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا ۔ 🍂🍃🍂🍃🍂🍃 مجھے “دکھ” کے ساتھ “خوشی” بھی ہے کہ تم نے عنزہ کے آگے ماں کا امیج خراب ہونے سے بچا لیا مگر تم نے یہ سب کیسے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میرا مطلب ہے کہ وہ دودھ عام نہیں تھا خاص تھا پھر وہ ایک دم عام کیسے ہو گیا۔ جب کہ اس وقت تم میر لاج میں بھی نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے اپنے ازلی لہجے میں ہمدانی سے پوچھا
سر مجھے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی ۔بس میں نے کرمو بابا کو ہاجرہ بی کی مخبری پر لگا دیا تھا۔جیسے ہی کرمو بابا نے بتایا کہ وہ عنزہ بی بی کے لئے دودھ لے کر جا رہی ہے تو میں نے انہیں دودھ بدلنے کا کہا
ہممممم اور اصل میں دودھ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب کے پوچھنے پر ہمدانی نے لیب کی رپورٹ اس کے آگے رکھی جسے دیکھ کر تراب کے ہوش اڑ گئے۔ اس سارے معاملے کا علم عنزہ بی بی اور ماما کو کبھی نہیں ہونا چاہیے تراب کی بات پر ہمدانی نے سر ہاں میں ہلایا۔
سر اگر برا نہ لگے تو میں کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ بیگم صاحبہ سے اس معاملے میں کھل کر بات کریں اور عنزہ بی بی کو بھی ہوشیار رہنے کا کہیں تو زیادہ مناسب ہوگا
ہمدانی نے بات کے آخر میں تراب کو دیکھا جو اس کی بات سن کر مسکرا رہا تھا۔
میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ کوئی بھی میری ماں پر انگلی اٹھائے۔ مجھے ان سے شدید محبت ہے ۔میرے ڈیڈ اور بھائی اس دنیا میں نہیں ہیں ۔میں صرف ایک ہی خونی رشتہ رکھتا ہوں۔ جیسے میں کھونا نہیں چاہتا ۔اور نہ ہی کبھی اپنے آگے شرمندہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔
جہاں تک عنزہ بی بی کی بات ہے تو ایک بار اس کے دل میں میری ماں کی نفرت جڑیں پکڑ گئی تو وہ کبھی بھی انہیں دل سے تسلیم نہیں کرے گی ۔یوں گھر کے ماحول میں ایک کھچاؤ سا پیدا ہو جائے گا جو میں نہیں چاہتا ۔
دونوں مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں اور وہ اس محبت کے صدقے میں اپنی اپنی جگہ مجھ سے ہر بات چھپانے کا ڈرامہ کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اس طرح کم از کم ہم ایک دوسرے کے سامنے نظر ملانے کے قابل رہیں گے ۔اور جھوٹی ہی سہی مگر ایک دوسرے کا احترام اور محبت بنی رہے گی تراب نے کہا
ایک ان دیکھا پردہ ان دونوں کے درمیان میری وجہ سے قائم رہے گا ۔اور میرے لیے یہی بہت ہے ۔میں ماں کو دکھ نہیں دے سکتا وہ مجھ سے شدید محبت کرتی ہیں ۔وہ مجھے کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتیں۔ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔
اور عنزہ وہ مجھ سے محبت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ غلطی سے اسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے ۔میرے علاوہ اس کے پاس اب کوئی دوسری چوائس نہیں ہے ۔میں اس کی آخری امید ہو اور میں اس کی امید کبھی نہیں توڑوں گا ۔ دو مختلف عورتیں دو مختلف محبتیں دونوں ہی میرے لئے اہم _ یہی میری کتابیں محبت کے اسباق ہیں ۔
ہر سبق دوسرے سے مختلف مگر ہے محبت کا ہی ہم کسی محبت کو کسی دوسری محبت سے کمپئر نہیں کر سکتے _ ہر محبت ضروری ہے اپنی اپنی جگہ پر
جس طرح ایک کتاب ورق ورق اور مختلف اسباق سے مل کر بنتی ہے ۔
بلکل اسی طرح مختلف لوگوں کی محبتیں زندگی کی “کتاب محبت” بناتے ہیں ۔ماں کی محبت _ بیوی کی محبت دوست کی محبت _ اور ان سب سے بڑھ کر ایک وفادار ساتھی کی جو آپ کو کبھی دھوکا نہیں دیتا ۔جس پر آپ اپنے سے زیادہ اعتباد کرتے ہیں
تراب نے ہمدانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر ہمدانی نے اپنے سر کو خم دے کر شکریہ ادا کیا ۔
ہاں البتہ میری “کتاب محبت” کے اسباق کچھ زیادہ ہی مشکل اور عام لوگوں سے مختلف اور خاص ہیں پتہ ہے کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کیونکہ میں خود بھی خاص ہوں اور میری “کتاب محبت” بھی تراب مسکراتا ہوا چل پڑا کیونکہ کم از کم وہ اپنی زندگی کے اس “حسین ترین دن” اداس نہیں ہونا چاہتا تھا. آج اس کی بارات تھا اور وہ اپنی محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لینے جا رہا تھا. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 میں آج بہت خوش ہوں تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کیونکہ تم ہی میری کل کائنات ہو ۔ہمیشہ خوش رہو آغا جان نے زویا اور احمر کو دعائیں دیں جو آج اپنی بارات پر بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔
بے شک دعاؤں کی بہت اہمیت ہے اور مجھے دعائیں لینا آپ سے بہت زیادہ پسند ہے مگر وہ کیا ہے نااااا آغا جان مجھے اپنے گفٹ کا انتظار بہت بے چینی سے ہے۔ زویا نے لاڈ سے آغا جان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں نے تم دونوں کے گفٹس لے لیے ہیں ۔آغا جان نے ایک خوبصورت گفٹ پیک زویا کو دیا جب کہ کوٹ کی جیب سے گاڑی کی چابی نکال کر احمر کو دی۔ شکریہ آغا جان مگر آپ نے میری پسند کی گاڑی کب خریدی اور مجھے پتہ کیوں نہیں چلا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے چابی پکڑتے ہوئے پرجوش لہجے میں پوچھا تم اپنی گاڑی جب چاہے تراب کے شوروم سے لے آنا میں نے تمہارے لئے گاڑی نہیں خریدی بلکہ تراب نے گاڑی تمہیں اپنی طرف سے شادی پر گفٹ کی ہے
آغا جان نے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ حسب عادت احمر نے منہ بنا لیا ۔
وہ میرا دوست ہے مگر مجھے کوئی گرفت نہیں دیا اور زویا کو اس کی پسند کی گاڑی دے دی ۔آپ لوگ ہمیشہ میرے ساتھ سوتیلے جیسا سلوک کرتے ہیں۔ احمر نے شکوہ کیا
تمہارے لئے بھی اس نے northern area کا trip plan کیا ہے ۔ویسے تو اس نے مجھے منع کیا تھا کیونکہ تمہارے لئے یہ اس کی طرف سے سرپرائز ہے ۔مگر تمہارا یہ منہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا تو بتا دیا ہے اب اسے مت بتا دینا۔ورنہ وہ مجھ سے ناراض ہو گا آغا جان کی بات پر احمر حیران ہوا ۔
سچی مچی احمر نے بھی یقینی سے پوچھا
بالکل سچ
وہ تمہیں بہت پیار کرتا ہے بس انداز تھوڑا سا عام لوگوں سے مختلف ہے ۔آغا جانے دونوں کو ہی سرپرائز کیا ۔
تھوڑا تو نہیں بہت زیادہ مختلف ہے مگر مجھے پسند ہے زویا نے احمر کے دل کی بات کہہ دی۔
تم دونوں کو اللہ بری نظر سے بچائے ۔آغا جان نے دونوں کی نظر اتاری۔( اس وقت احمد نے بلیک تھری پیس سوٹ جبکہ زویا نے آف وائٹ کلر کا فراک پہنا ہوا تھا ) ۔اب تم دونوں آرام کرو میں چلتا ہوں۔ آغا جان کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
جو کام میں نے آپ کو کہا تھا وہ تو کرکے جائیں احمر نے آغا جان کو کمرے سے جاتا دیکھ کر سرگوشی کی جس پر وہ مسکراتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گئے۔
دیکھو بیٹا مانا تم دونوں بچپن سے ایک ساتھ رہے ہو اس لئے تم آپس میں بہت بے تکلف بھی ہو مگر ہر رشتے کی ایک خاص جگہ اور ایک خاص احترام ہوتا ہے ۔
میری دلی خواہش ہے کہ تم آج سے احمر کو “تم” کی بجائے “آپ” کہو ۔یہ سننے والوں کے ساتھ ساتھ احمر کو بھی اچھا لگے گا
آغا جان کی بات پر زویا نے خشگمین نظروں سے احمر کو دیکھا جو کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھا جیسے اس بات سے اسے کچھ لینا دینا نہ ہو ۔
یہ آپ کی خواہش ہے یا اس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے احمر کی طرف اشارہ کیا ۔
ہم دونوں کی ہے جسے اب آپ پورا کروں گی کروگی ناااااا ۔۔۔۔۔۔؟ اپنی بات کے آخر میں آغاجان نے تصدیق چاہی ۔
جی کیوں نہیں آپ کہیں اور میں آپ کی بات نہ مانو ایسا کبھی پہلے ہوا ہے زویا نے زبردستی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اچھا اب میں چلتا ہوں تم لوگ بھی آرام کرو آج کے فنکشن میں کافی تھک گئے ہوں گے پاک آج ان دونوں کو پیار کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے ۔
احمر “آپ” ذرا دروازہ لاک کر کے میرے پاس آئیں آغا جان کے جاتے ہیں زویا نے مٹھاس بھری آواز میں احمر سے کہا
تمہارے یوں “آپ” کہنے پر مجھے خوشی تو بہت ہو رہی ہے مگر پتہ نہیں کیوں تمہارا ایک دم مجھے “آپ” کہنا ہضم نہیں ہو رہا ۔
میں امید کرتا ہوں تم آج کے دن میرے ساتھ کچھ برا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ احمر نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا
دروازہ لاک کرو اور میرے پاس آؤ یقین مانو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی زویا نے یقین دہانی کرائی۔
اپنی “سکیورٹی” کے “خدشات” کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس “نتیجے” پر پہنچا ہوں کہ فی الحال دروازہ لاک نہیں کروں گا تم بتاؤ کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر کے جواب پر زویا نے اسے گھورا
بیوقوف انسان ادھر آؤ اور مجھے میری “منہ دکھائی” دوں زویا نے اونچی آواز سے کہا
“یہ منہ اور مسور کی دال” بی بی بی کیسی منہ دکھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میری ساری سلامیوں کے پیسے تم پہلے ہی لے چکی ہو۔گفٹس میرے سے زیادہ لوگوں نے تمہیں دیے ہیں۔میرے کمرے اور بیڈ پر بھی قبضہ کر کے بیٹھی ہو ۔اور تو اور اس سے پہلے احمر مزید کچھ کہتا زویا اپنا فراک سمیٹتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر آئی۔
یعنی تم مجھے منہ دکھائی نہیں دے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے احمر کی طرف قدم بڑھائے جبکہ وہ پیچھے کی طرف قدم اٹھانے لگا
زویا شرم کرو آج کے دن کوئی “لڑائی “نہیں صرف “پیار” پلیز
احمر نے دونوں ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا
میں پیار ہی کرنے لگی ہوں تم کرنے دو گے تب ناااااا اس سے پہلے زویا احمر کو پکڑتی وہ کمرے سے باہر چلا گیا اور دروازہ لاک کردیا۔
دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے دروازہ بجایا
نہیں مجھے تم اس وقت ٹھیک نہیں لگ رہی کچھ وقفے کے بعد ملتے ہیں احمر نے باہر سے ہی آواز لگائی
بیوقوف مجھے کچھ confess کرنا ہے ۔زویا نے احمر کی عقل پر افسوس کیا
تم confess کرو میں سن رہا ہوں۔ احمر کی بات پر زویا نے ایک گہرا سانس لیا اور کہا
احمر مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے میں نے “اظہار محبت” کرنا ہے ۔مگر اچھے طریقے سے پلیز دروازہ کھولو زویا کی بات پر احمر زور سے ہنسا
” زویا بی بی یہ بھی تمہاری محبت ہے،
کہ تم نے گھر کی دیواروں کو چھوڑ کر مجھے چُونا لگایا.”
چلو مرضی ہے تمہاری مت مانو ۔زویا مسکراتی ہوئی واش روم کی طرف پلٹ گئی ۔
جب کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی تو احمر نے آہستہ سے ہنڈل گھما کر دروازہ کھولا
کمرے میں مدہم روشنی اور بھینی بھینی پھولوں کی خوشبو ایک سحر پیدا کر رہی تھی ۔احمر نے پورے کمرے کا جائزہ لیا مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔
جیسے ہی احمر نے کمرے کے اندر چند قدم رکھے دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ بند ہوا ۔زویا دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
تو تمہاری خواہش ہے کہ میں تمہیں “آپ” کہوں زویا نے آبرو آچکا کر پوچھا
مرضی ہے اگر تم احمر بھی کہوں گی تو چلے گا احمر نے کندھے اچکائے
خیر اب میں اتنی بھی “بے مروت “نہیں کہ آپ کی” آخری خواہش” پوری نہ کر سکوں زویا قدم قدم آگے بڑھی۔
آپ آخری خواہش احمر نے الفاظ دہرائے۔
ادھر آؤ اور میری بات غور سے سنو زویا نے احمر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھایا
سننے کو ساری زندگی پڑی ہے “زویا بی بی” فی الحال میں دیکھ رہا ہوں اور مجھے دیکھنے دو _ احمر نے زویا کو چپ رہنے کا اشارہ کیا جبکہ احمر کی بات پر زویا کو ایک دم بریک لگی ۔
میرے خیال سے ہمیں بھی اب اپنی “کتاب محبت” کا آغاز کر دینا چاہیے احمر کی بات پر زویا نے سر جھکا لیا.
” ایک دن کہہ لیجیے جو کچھ ہے دل میں آپ کے
ایک دن سن لیجیے جو کچھ ہمارے دل میں ہے”
اور ہماری “کتاب محبت” بہت سارے لوگوں کے لیے یقینا باعث “افتخار” ہوگی _ زویا نے احمر کی طرف دیکھ کر کہا جس پر اس نے منہ بنا لیا
“افتخار” نہیں “احمر”کی ہوگی۔ احمر نے جملہ درست کیا۔
میں نے محاورتاً کہا ہے۔ ایک بار پھر دونوں کی “تکرار” شروع ہو چکی تھی۔
ان کی” کتاب محبت ” میں “محبت” ہوگی یا “تکرار” مگر جو بھی ہوگا “لازوال” ہوگا۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
چند سال بعد
اس وقت سب لاؤنچ میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک احمر کی نظریہ پر پڑی۔
یار تم دن بدن کتنی موٹی ہوتی جا رہی ہو ۔عنزہ بھابھی کو دیکھو وہ کتنی سمارٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے زویا کے کان میں سرگوشی کی جو اتنی آہستہ تھی کہ آس پاس والوں نے آسانی سے سنی۔
تم نے مجھے موٹی کہا ہے یا میرے کانوں نے کچھ غلط سنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے شہادت کی انگلی اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا
نہیں میں کون ہوتا ہوں تمہیں موٹا کہنے والا تم تو بلکل ہلکا پھلکا “روئی کا پہاڑ” ہو ۔ لیکن دیکھنے میں کافی سارا احمر کی وضاحت پر زویا کا منہ کھل گیا۔
یہ تم میری “تعریف” کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے پوچھا
میں “تنقید” بھی نہیں کر رہا تھا احمر نے اسی انداز میں جواب دیا
احمر “آپ” ذرا میری بات سنیں
زویا نے دانت پیس کر کہا
نہیں میں یہاں ہی ٹھیک ہوں۔تراب نے مجھ سے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے۔ احمر کے جواب پر تراب نے اسے حیرت سے دیکھا
عجیب انسان ہے تو _ وہ تجھے اتنی عزت سے “آپ، آپ” کر رہی ہے اور تو اسے نخرے دکھا رہا ہے جا کر بات سن شاید کوئی ضروری بات ہو۔ تراب نے احمر کو جانے کا اشارہ کیا
کوئی ضروری بات نہیں ہے ۔جب بھی “مس زویا احمد” مجھے “آپ” کہتی ہیں تو یہ ایک اشارہ ہے میری بےعزتی کا لفظ آپ مس زویا کا “کوڈ ورڈ” ہے اور یہ اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے ۔جس میں “بےعزتی” سب سے ہلکا اور آسان معنی ہے۔
اس لیے میں یہاں سے جانا نہیں چاہتا ۔بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی احمر کی “تشریح” پر تراب کھل کر مسکرایا
ابھی دونوں باتوں میں مصروف تھے کہ حمنہ اور عون باہر سے کھیلتے ہوئے اندر داخل ہوئےاور پسینے سے شرابور ہونے کے باوجود تراب سے لپٹ گئے
آپ ہمارے چاچو ہیں آپ پر سب سے زیادہ “حق” ہم دونوں کا ہے عون نے مزے لیتے ہوئے کہا جس پر تراب نے دونوں کا پسینہ ٹیشو پیپر سے صاف کیا اور سر ہاں میں ہلا دیا
آپ دونوں کے ساتھ ساتھ اس چھوٹے “میر تابش” کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپ لوگوں کا عنزہ نے مسکراتے ہوئے چھے ماہ کا “تابش” تراب کی گود میں رکھ دیا۔
ہاں جی بالکل ان کا بھی حق ہے ۔تراب نے تابش کی گال پر پیار کرتے ہوئے جواب دیا
تراب میرا تھا اور میرا ہی رہے گا اس پر کسی کا “حق” نہیں ہے سوائے میرے تم سب مل کر بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔اس لیے ایسی کوششیں کرنا چھوڑ دو جہاں آرا بیگم جو اس وقت لاؤنچ میں داخل ہو رہی تھیں عنزہ کی بات سن کر بولیں۔
ماما جانی آپ نے بالکل درست کہا ہے مجھ پر سب سے زیادہ حق میری “پیاری ماں” کا ہے اور اسی کا رہے گا تراب نے تابش ،عنزہ کو دیتے ہوئے جہاں آرا بیگم کی طرف قدم بڑھائے جبکہ عنزہ نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا
کچھ لوگ کبھی نہیں بدلتے ۔نہ انہیں کسی کی “موت” بدل سکتی ہے اور نہ ہی “بیماری” وہ اتنے “سخت دل” ہوتے ہیں کہ اپنے سوا انہیں کسی کا “دکھ ” دکھائی نہیں دیتا ۔ میرے خیال سے یہ بھی ایک طرح کی “بیماری” ہے جس کا کوئی علاج نہیں عنزہ نے دل میں سوچا
جب کہ جہاں آرا بیگم نے تراب کو ساتھ لگاتے ہوئے “اکڑ” کر سب کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں “میرے بیٹے جیسا کوئی نہیں اگر ہے تو سامنے آئے “
اور تراب اس بات سے خوش تھا کہ وہ اپنی ماں کا “مان” ہے جسے اس نے ہر قیمت پر قائم رکھنا ہے ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
یہ دنیا رنگ برنگے لوگوں سے بھری پڑی ہے ۔کچھ لوگ اس دنیا میں خوشیاں اور محبتیں بانٹنے آتے ہیں ۔جدھر سے گزرتے ہیں قہقہے بکھیر دیتے ہیں جیسے ” زویا اور احمر “۔
کچھ لوگ اپنے رشتوں کے درمیان انصاف کرتے کرتے ایک سخت اور تھکاوٹ بھرا سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود بھی سخت طبیعت بن جاتے ہیں
جیسے “میر تراب علی”
کچھ عنزہ جیسے ہوتے ہیں اپنی محبت کے لیے جہاں آرا بیگم جیسے لوگوں سے سمجھوتہ کرتے کرتے زندگی گزار دیتے ہیں ۔
اور کچھ لوگ جہاں آرا بیگم جیسے
خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنی “سخت گیر” طبیعت کے باوجود ساری زندگی دوسروں پر “حکمرانی” کرتے ہیں ۔
مگر یہ سب لوگ اور ان کے رویے انسانی “کتاب محبت” کے دلچسپ اسباق ہیں۔ اگر یہ مختلف رویے نہ ہو تو “کتاب محبت” بوریت کا شکار ہو جائے ۔
آپ بھی اپنی اپنی “کتاب محبت” کو فرصت میں ضرور پڑھیں اور “دلچسپ باب” کو دوسروں سے شئیر بھی کریں۔تاکہ پتہ چل سکے کس کی “کتاب محبت “زیادہ دلچسپ ہے۔ جیسے میں نے اپنے” پوتے اور نواسی” کی آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کی ۔
آغا جان نے اپنی “ڈائری” کا آخری صفحہ لکھ کر بند کیا۔آج میری “کتاب محبت” مکمل ہوگی اور بہت سارے لوگوں کی آج شروع ہوئی ہوگی __
پھر مسکراتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگا لی۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
ختم شد