Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

آج تو آپ پھر بہت کمال کی لگ رہی ہیں…… مسز اسد نے جہاں آرا بیگم کے قریب ہوتے ہوئے انھیں ستائشی نظروں سے دیکھا.
ہمیشہ کی طرح…….. لگانا آپ بھول گئیں ہیں شاید……. جہاں آرا بیگم نے اپنی ساڑھی کے پلو کو کندھے پر درست کرتے ہوئے جواب دیا.
جبکہ ان کے جواب پر قریب بیٹھیں دوسری بیگمات نے بھی مسکرا کر سر ہلایا.
آنٹی آپ تو ہمیشہ ہی محفل کی جان اور جاذب نظر رہتی ہیں. میرے خیال سے آپ کو ان فقرات کی ضرورت کبھی تھی ہی نہیں…….. مسز اسد کی بیٹی نے جہاں آرا بیگم کے قریب بیٹھتے ہوئے مکھن لگایا. جب پر اسے مسز اسد نے داد دی.
تم سے زیادہ تو تمہاری بیٹی سمجھدار ہے کم از کم اسے اتنا تو معلوم ہے کہ کسی کب اور کیسے کہنا ہے. جہاں آراء نے اسے اپنے ساتھ اک ادا سے لگا کر الگ کیا.
آج کل ان تمام بیگمات کی نظریں “میر تراب علی” پر تھیں. لہذا سب ہی اس کوشش میں تھیں کہ جہاں آرا بیگم کو ان کی بیٹی پسند آ جائے اور وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کو محفوظ بنائیں.
آنٹی آپ شروع سے ہی میری آئیڈیل ہیں میں بلکل آپ کی طرح بننا چاہتی ہوں. بتائیں نااااا آپ اتنی حیسن کیسے لگتی ہیں…؟ لڑکی نے جہاں آراء کا نرم و ملائم ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا جبکہ اس کی نظر ان کے ہاتھ میں پہنی ہیروں کی بیش قیمت انگوٹھی پر تھی.
بیٹا پہلے تو آپ مجھے اپنا نام بتائیں تاکہ مجھے مخاطب کرنے میں آسانی رہے. دوسرا ہر کوئی “جہاں آرا” نہیں بن سکتا. کیونکہ میرے ماں باپ نے ایک ہی “جہاں آراء” کو جنم دیا تھا. ایک غرور سے یہ جملہ ادا کیا تھا. جس پر لڑکی کے ساتھ ساتھ آس پاس موجود بیگمات نے انھیں حیرت سے دیکھا.
آنٹی میرا نام صائمہ ہے اور میں کرنل اسد کی بیٹی ہوں. ویسے یہ غرور آپ کو بہت سجتا ہے. ( بات بری تو لگی تھی مگر وہ اپنے تاثرات چھپا گئی. ) اتنی دیر میں کچھ پریس کے لوگ بھی ہال میں داخل ہوئے.
چلو پھر بات کرتے ہیں ویسے مجھے تم پسند آئی ہو. ملاقات ہوتی رہی تھی. مسسز اسد آپ کسی دن صائمہ کو لے کر ہمارے گھر تشریف لائیں. جہاں آراء بیگم دونوں ماں بیٹی کو حیران چھوڑ کر معزرت کرتیں ہوئیں آٹھ کھڑی ہوئیں.
ہال کی ایک سائیڈ پر کھڑے ہوتے ہوئے انھوں نے ہمدانی کو کال کر کے کچھ ہدایات دیں اور واپس گیدرنگ کی طرف چل پڑیں. اتنے میں ان کی نظر مسز عابد پر پڑیں وہ ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیگم اور فیشن ڈیزائنر کے ساتھ ساتھ جہاں آرا کی بہترین دوست بھی تھیں.
ارے تم یہاں کیا کر رہی ہو……؟ ؟؟ جہاں آرا نے اسے لگے لگاتے ہوئے محبت سے پوچھا
اور اگر یہی سوال میں تم سے پوچھو تو…….. ؟؟؟ الگ ہوتے ہوئے پوچھا .
بس تمہیں تو پتہ ہی ہے مجھے خدمت خلق کا کتنا شوق ہے. کرنل صاحب کی وفات کے بعد بچوں کی پرورش میں مصروف رہی اب کہیں جا کر فرصت ملی ہے تو سوچا اپنے ملک کی غریب عورتوں کے لیے کچھ کروں. ایک اینجیو بنائی ہے. جہاں آرا بیگم کی بات پر مسز عابد نے بےیقینی سے دیکھا
یہ سب تم کیا کہہ رہی ہو. کیا ہو گیا ہے تمہیں……. ؟ تم ایسی تو نہ تھیں.
یار سمجھا کرو نااااا…….. یہی آج کل کے دور میں بہترین بزنس ہے اور آنکھ مارتے ہوئے پریس والوں کی طرف اشارہ کیا جو اسی طرف آ رہے تھے.
اچھا اب سمجھی…… ویسے تم کمال کی ذہین ہو. لگتا ہے جلد ہی قومی اسمبلی میں پہنچ جاؤ گی. وہاں پہنچ کر ہم غریبوں کو بھول مت جانا. مسز عابد کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑیں.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
احمر نے جیسے ہی آفس کا دروازہ کھولا سیکرٹری کو اپنی طرف دیکھتے پایا. جس پر وہ مسکراتا ہوا اس کی طرف چل پڑا.
آپ کے باس سوری ہمارے باس اس وقت اندر تشریف فرما ہیں یا شوروم گئے ہوئے ہیں….؟
احمر نے ٹیبل ساتھ ٹیک لگا کر رازداری سے پوچھا
سر وہ اپنے آفس میں ہیں اور انھوں نے آپ کے لیے میسج دیا تھا کہ آپ جیسے ہی آئیں انھوں اطلاع کریں.
مس ثمن آپ کچھ زیادہ نہیں مسکرا رہیں یاد رکھیں بےعزتی کسی کی بھی ہو سکتی ہے. احمر نے اپنی مسکراہٹ کو سمیٹتے ہوئے کہا جس پر وہ مزید کھلکھلا کر ہنس پڑیں.
اچھا ایک کام کریں کچھ دیر اندر کسی کو مت بھیجنا. مجھے ان سے ایک سیریس ایشو پر بات کرنی ہے.
ٹھیک ہے…… احمر کہتا ہوا تراب کے آفس کا گلاس ڈور اندر دھکیلنے لگا جبکہ ثمن نے اسے رشک بھری نظروں سے دیکھا. کمال خوبصورت اور زندہ دل انسان ہے. دل میں داد دیتے ہوئے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی.
تراب کے آفس کی بلڈنگ زیادہ تر شیشے سے بنی تھی بیسمنٹ میں جدید گاڑیاں اور فسٹ فلور پر پراپرٹی کی لین دین کا کام ہوتا تھا.
جیسے ہی گلاس ڈور کھلا تراب کے مخصوص پرفیوم کی خوشبو احمر نے محسوس کی. تراب اس وقت لیپ ٹاپ پر مصروف تھا اس سے پہلے کہ تراب اسے کہتے احمر بول پڑا.
میں اس وقت تمہارے دوست کی حیثیت سے آیا ہوں ورکر کی نہیں…….. اور کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا.
مسٹر احمر ابھی working hours ہیں visiting شروع ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ رہتا ہے. آپ باہر انتظار کریں. شکریہ _بغیر نظر اٹھائے انتہائی روکھے انداز میں کہا گیا.
سوچ لے…… یہ نہ ہو کہ تجھے ایک ہو نہال ورکر کے ساتھ ساتھ ایک باوفا دوست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے. احمر نے دھمکی دی.
ہمدانی صاحب زرا اندر تشریف لائیں. تراب نے اپنے کان ساتھ لگے ائیر پیس کو دباتے ہوئے کہا
اسے کیوں بلا رہا ہے میں ویسے ہی چلا جاتا ہوں. ایک تو آپ جناب خود اچھے خاصے بدلحاظ انسان ہیں اور اوپر سے وہ ریموٹ کنٹرول جزبات سے عاری سیکرٹری رکھا ہوا ہے. اتنے میں ڈور گلاس کھلا اور ہمدانی صاحب اندر داخل ہوئے.
یس سر…. کیا حکم ہے…؟
“احمر کو اٹھا کر باہر پھینک دو.” احمر کی بڑبڑاہٹ پر تراب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئی.
احمر صاحب کو نہر والی زمین دکھا کر لائیں اور دونوں پارٹیز سے بھی ملوا دیں. اگر یہ آج ڈیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انھیں نئے والے آفس کی چابی دے دیں ورنہ یہ کل سے مس ثمن کے ساتھ باہر بیٹھیں گے.
تراب کے کہنے پر احمر نے پہلے تراب اور پھر ہمدانی کی طرف دیکھا جو دبا دبا سا مسکرا رہے تھے.
قسم سے اگر آغا جان نے مجھے تیرے پاس بزنس سیکھنے نہ بھیجا ہوتا تو تیرے اس کھڑس پن کی وجہ سے میں نے ساری زندگی تیری شکل نہیں دیکھنی تھی.
نوکری کرنے کا سب سے پہلا اصول اپنے باس کی عزت کرنا اور اس کے ہر حکم پر بغیر سوال جواب کے عمل کرنا ہوتا ہے. یہ بات مسٹر احمر آپ جتنی جلدی سیکھ لیں گے اتنا ہی فائدے میں رہیں گے.
اب آپ جا سکتے ہیں. ہمدانی ان کا خیال رکھیے گا یہ ہمارے دوست بھی ہیں. دوست پر خاص زور دیا گیا تھا.
تراب کی بات پر ہمدانی نے ہاں میں سر ہلایا جبکہ احمر نے جاتے جاتے تراب کی طرف جھک کر سرگوشی کی.
“دوست کا مطلب آپ کو آتا ہے….. ؟ تیرے جیسے دوستوں کا قیامت والے دن الگ سے حساب ہو گا.یاد رکھنا میں بخشوں گا نہیں.”
اور اپنے بال سیٹ کرتا جانے گا مگر پھر مڑ کر تراب کی طرف دیکھا
“خوبصورت لوگوں کی دعائیں قبول ہوں یا نہ ہوں مگر بدعائیں ضرور قبول ہوتیں ہیں.”
تراب نے احمر کی بات پر سر کو خم دیا جس سے اس کے غصے میں مزید اضافہ ہوا.
اللہ پوچھے گا دیکھ لینا اللہ پوچھے گا….. انگلی اٹھا کر وارن کیا.
مسٹر احمر اللہ سب سے پوچھے گا کیونکہ وہی سب سے پوچھ سکتا ہے. اب آپ جائیں اور دھوپ کو انجوائے کریں.
تراب سنجیدگی سے کہتا ہوا دوبارہ لیپ ٹاپ کو دیکھنے لگا جبکہ احمر غصے سے باہر نکل گیا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
عنزہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی. ابھی تک تو بوا کو آ جانا چاہیے تھا. پتہ نہیں کیوں آج اتنی دیر کر دی ہے. روز تو شام ہوتے ہی آجاتیں ہیں. اب میں کیا کروں……؟ ؟؟
گھر میں اکلوتا پیلے رنگ کا بلب تھا وہ بھی آج دوپہر فیوز ہو گیا تھا. جوں جوں رات اپنے پر پھیلا رہی تھی عنزہ کو خوف اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا.
پھر اچانک اسے خیال آیا کہ بوا نے کسی ایمرجنسی کی صورت میں جو نمبر دیا تھا اس پر کال کی جائے.
تراب اس وقت ایک زمین دیکھ کر گھر کی طرف آ رہا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا اس سے پہلے وہ کال اٹینڈ کرتا کال خودبخود کٹ گئی.
دروازے پر دستک کی آواز سن کر عنزہ نے کال کاٹ دی اور موبائل ہاتھ میں پکڑے ہی وہ دروازہ کھولنے لگی.
بوا آپ ہی ہیں نااااا…… پوچھتے ساتھ ہی دروازہ کھول دیا.
یہ کونسا طریقہ ہے پوچھنے کا……. پہلے پوچھتے ہیں پھر جواب ملنے کے بعد دروازہ کھولتے ہیں. بوا نے اندر داخل ہوتے ہوئے سمجھایا
آج اتنی دیر کیوں کر دی…….. ؟؟؟ اگر اب بھی آپ نہ آتی تو میں نے آپ کے مرحوم بھائی بھابی کے پاس اوپر پہنچ جانا تھا اور بوا ساتھ لپٹ گئی.
بس وہ آج حمنہ بی بی کو بخار تھا تو بیگم صاحبہ نے میری ڈیوٹی آیا ساتھ لگا دی تھی. مگر تم نے گھر میں اتنا اندھیرا کیوں کیا ہوا ہے. بلب تو جلا لیتی…… بوا اسے تسلی دیتے ہوئے دروازہ بند کرنے لگیں.
میں نے نہیں اندھیرا کیا. میں کونسا کالا جادو کر رہی تھی. آپ کا اکلوتا بلب آج دوپہر بجلی کے جھٹکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکا ہے. بوا کے آتے ہی عنزہ کا خوف جاتا رہا تھا.
ہائے اب اس وقت بلب کہاں سے لاؤں….؟ چلو دیا ہی جلا لیتے ہیں. بوا کہتے ہوئے کچن میں چلی گئی جبکہ عنزہ بوا کے ہاتھ میں پکڑے شاپ گ بیگز دیکھنے لگی.
آج پھر کھانا میر لاج سے آیا ہے…… عنزہ کچن کے دروازے میں کھڑی سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی.
جب تم جانتی ہو تو مجھے شرمندہ کیوں کرتی ہو……. بوا اب دیے جلا رہیں تھیں.
اتنے میں عنزہ کا موبائل بجنے لگا. نمبر دیکھتے ہی عنزہ نے چور نظروں سے بوا کی طرف دیکھا.
اچھا آپ کھانا گرم کریں میں زرا اپنی دوست سے بات کر لوں عنزہ بوا سے کہتی کمرے میں آگئی.
(چل عنزہ آج بڑے لوگوں سے بات کر کے دیکھتے ہیں کہ کیسا لگتا ہے.)
اسلام علیکم……
وعلیکم السلام…… عنزہ نے تراب کے سلام کا جواب دیا
جی آپ نے کال کی تھی فرمائیں…… لڑکی کی آواز سنتے ہی تراب کو حیرت ہوئی کیونکہ وہ سمجھا تھا کہ شاید کوئی کسٹمر ہو.
میں اتنی فارغ نہیں کہ فرماؤں آپ نے کال کی آپ فرمائیں کس سے بات کرنی ہے…….. عنزہ نے زور زور سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
محترمہ آرام سے….. ابھی اس نمبر سے میرے موبائل پر کال آئی تھی مگر اٹینڈ کرنے سے پہلے ہی کٹ گی اس لیے…….
وہ غلطی سے ڈائل ہو گیا تھا اسی لیے کال کاٹ دی تھی. مگر آپ تو پیچھے ہی پڑ گئے….. عنزہ نے تراب کی بات بیچ میں ہی اچک لی اور جلدی سے فون بند کر دیا کہیں بوا نہ سن لیں.
ویسے آواز کتنی پیاری تھی….. عنزہ ابھی آواز کے سحر میں ہی کھوئی ہوئی تھی کہ بوا نے آواز لگائی.
لڑکی کھانا گرم ہو گیا ہے آ کر لے جاؤ میرے ہاتھ میں دیے ہیں……. جی اچھا آتی ہوں ایک تو بوا مجھے کچھ سوچنے نہیں دیتی.
کھانا کھانے کے دوران عنزہ مکمل خاموش تھی جسے بوا نے محسوس کیا.
کیا بات ہے آج یہ قینچی جیسی زبان چل نہیں رہی…. بوا کی بات پر عنزہ مسکرا دی.
بوا ایک بات بتاؤ یہ جو تمہارے صاحب ہیں کیا کافی خوبصورت ہیں…؟
عنزہ کے سوال پر بوا کا منہ کی طرف جاتا نوالہ رک گیا.
یہ کیوں پوچھا تم نے……؟ بوا نے مشکوک نظروں سے گھورا
ویسے ہی….. عنزہ نے کندھے اچکائے
بیٹا مہنگے گھروں میں رہنا، اچھا کھانا، پہننا…… پھر شکل عام بھی ہو تو خاص لگتی ہے میر صاحب تو پھر پیارے ہیں…… جب تیار ہوتے ہیں تو “غضب” کے لگتے ہیں مگر جب منہ کھولتے ہیں تب بھی “غضب” ہی کرتے ہیں غصے کے تیز ہیں مگر بیگم صاحبہ سے کم…… بوا نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں جواب دیا.
آواز سے تو ایسے نہیں لگتے….. عنزہ نے اپنی بات کے آخر میں ایک دم کھانسنا شروع کر دیا. بوا نے فوراً پانی دیا اور بات آئی گی ہو گئی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.