Kitab Muhabbat By Amna Mehmood Readelle50140 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے مہینے کے پہلے ہفتے تم دونوں کی شادی کر دی جائے کیونکہ نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے. تم دونوں کو اگر کوئی اعتراض ہو تو بتا دو _ آغا جان نے ناشتہ کرتے ہوئے اپنے دائیں بائیں بیٹھے زویا اور احمر سے پوچھا میرا اعتراض تو گیا تیل لینے جب میری کوئی اہمیت نہیں تو اُس کی کیا ہوگی ……. ؟ ہاں البتہ اپنی لاڈلی سے پوچھ لیں. احمر نے بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے جواب دیا.
آغا جان مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے. جیسے آپ کو مناسب لگتا ہے ویسا کریں. آپ نے یقیناً ہمارے لیے بہتر ہی سوچا ہوگا. زویا کے جواب پر آغاجان نے پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا.
اتنا مکھن اتنا زیادہ مکھن احمر دیکھ تو مکھن کو رہا تھا مگر زویا اس کی بات کا مطلب سمجھ کر مسکرا رہی تھی.
تم دونوں کو اپنی اپنی شاپنگ کے لیے جتنے پیسے چاہیے مجھے بتا دو تا کہ میں تم دونوں کے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کردوں آغاجان نےچائے پیتے ہوئے کہا وہ تو ہم آج مل کر حساب لگائیں گے پھر آپ کو بتا دیں گے مگر مجھے شادی پر آپ سے گفٹ بھی چاہیے زویا کی بات پر بریڈ کی طرف بڑھتا احمر کا ہاتھ رک گیا
اگر آپ اسے گفٹ دیں گے تو میں بھی لوں گا _ احمر نے کسی روٹھے بچے کی طرح ضد کی. یہ سب کچھ ہے ہی تم دونوں کا، پھر بھی بتا دو کہ کیا چاہیے ……. ؟ آغاجان اب نپکن سے اپنا منہ اور ہاتھ صاف کر رہے تھے. مجھے تو ڈبل کیبن گاڑی چاہیے میں اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر پر جاؤں گا احمر نے پرجوش ہوتے ہوئے کہا.
مجھے بھی گاڑی چاہیے مگر ساتھ میں لیٹس آئی فون موبائل زویا نے بھی اپنی فرمائش بتائی.
ٹھیک ہے تم دونوں کو گفٹس مل جائیں گے. اب جو کچھ بھی تم لوگوں نے اپنی شادی پر خریدنا ہے یار جس کو اپنی شادی پر بلانا ہے. ان کی ایک لسٹ بنا کر مجھے دے دو آغا جان نے ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا
ویسے میں نوٹ کر رہا ہوں جب سے ہم دونوں نے شادی کے لیے “ہاں” کی ہے. آپ کی طبیعت اس دن کے بعد سے خراب نہیں ہوئی. بلکہ آپ پہلے سے زیادہ ہشاش بشاش لگ رہے ہیں احمر نے نپکن سے ھاتھ صاف کرتے ھوئے آخا جان پر تبصرہ کیا.
ظاہری سی بات ہے اگر گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا تو تیڑھی کرنی پڑے گی تم لوگ مان ہی نہیں رہے تھے تو میں نے بھی کچھ کرنا تھا. آغا جان کی بات پر زویا نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے حیرت سے انہیں دیکھا
یعنی آپ ہمارے ساتھ ڈرامہ کر رہے تھے ……… ؟ زویا کی بات پر آغا جان مسکرائے
اتنے عرصے سے تم جیسے ڈرامے باز بچوں ساتھ رہ رہا ہوں کچھ تو میں نے بھی سیکھا ہو گا. آغا جان کے جواب پر زویا اور احمر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا “ڈرامے باز بچے” یعنی ہم دونوں……..
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
عنزہ نے کمرے میں قدم رکھا تو بوا کو کسی کے ساتھ فون پر غصے سے بات کرتے ہوئے سنا. لگتا ہے آج کا دن ہی خراب ہے پہلے جہاں آرا اور اب بوا پتہ نہیں صبح صبح کس کی شکل دیکھ لی تھی. پھر تراب کا خیال آتے ہی چہرے کے بگڑے تاثرات نرم پڑے اور وہ بیڈ پر بیٹھ گئی.
نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ……. ؟؟؟ بجائے اس کے کہ تم اسے کچھ اپنے پاس سے دو جو اس کا ہے وہ بھی چھین رہے ہو. تمہیں شرم آتی ہے یہ بات تمہارے دماغ میں زارا نے ڈالی ہوگی. بوا کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا.
اماں آپ تو خوامخواہ زارا کے پیچھے پڑی رہتی ہیں. یہ سب اس نے نہیں کہا بلکہ میں کہہ رہا ہوں. جب ہم میں سے کسی نے وہاں رہنا ہی نہیں ہے تو پھر اس مکان کا کیا فائدہ آپ بھی اس کی شادی کے بعد میرے پاس آجائیں گی تو یہی بہتر ہے کہ ہم وہ گھر بھیج دیں. آپ ذرا ٹھنڈے دل سے میری بات پر غور کریں. ایاز نے پہلے غصے سے پھر قدرے نرم لہجے میں کہا
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی. تم مجھے نہیں رکھنا چاہتے تو نہ سہی. میں ابھی اتنی بھی بوڑھی نہیں ہوئی کہ اپنا بوجھ خود اٹھا نہ سکوں. تم رہو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ میں اپنا بندوبست کر لوں گی اور خبردار جو آئندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو بوا نے غصے سے فون بند کیا تو ان کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا جبکہ ماتھے پر پسینہ بالکل واضح تھا.
آپ ان سے بات کیوں کرتی ہیں جب پتہ ہے کہ وہ آپ کا دل ہی دکھاتے ہیں ……….. ؟ عنزہ نے بوا کو بیڈ پر بیٹھا کر پانی پلایا.
میں نے اپنی زندگی میں اتنا لالچی انسان نہیں دیکھا. مجھے تو لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ میرا اپنا بیٹا ہے بوا نے ایک ہی سانس میں سارا پانی پی لیا.
اچھا بتائیں نا بھائی نے کیا کہا ہے کیوں اتنا غصہ کر رہی ہیں ……. ؟ عنزہ نے گلاس سائیڈ پر رکھتے ہوئے پوچھا
اس کی بیگم صاحبہ نے اس کے دماغ میں یہ بات ڈالی ہے کہ (کیونکہ تمہاری شادی ہونے والی ہے تو) وہ مکان بیچ کر میں انہیں پیسے دے دو حالانکہ میں نے بتایا بھی ہے کہ وہ مکان تمہارا ہے. اس پر کسی اور کا کوئی حق نہیں مگر بوا نے افسوس سے سر ہلایا
ظاہری سی بات ہے آپ نے جب یہ کہا تھا کہ آپ ان کے پاس کراچی رہنے آرہی ہیں تو بھابھی نے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا.
مگر آپ پریشان مت ہوں. میں ہوں ناااااااا میں آپ کو کہیں بھی نہیں جانے دوں گی. ہم دونوں ہمیشہ اکٹھے رہیں گے. عنزہ نے پیار سے انھیں گلے لگایا. یہ تمہاری گال پر کیا ہوا ہے ……. ؟ بوا کے ہوش جگہ پر آئے تو انہیں عنزہ کی گال بھی دکھائی دینے لگی. کیا بتاؤں آج بیگم صاحبہ آؤٹ آف کنٹرول ہو کر مجھ سے ٹکرا گئیں بالکل ویسے ہی جیسے ٹرک کسی ٹیکسی سے ٹکرا جاتا ہے. عنزہ نے مذاق میں بات کو ٹال دیا. سچ سچ بتاؤ کہ کیا ہوا ہے ……. ؟ بوا کے ماتھے پے بل پڑے. عنزہ نے بوا کی طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختصراً سب بتا دیا اور آخر میں بوا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی. مجھے کم از کم تراب بابا سے ایسی امید نہ تھی. اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تمہاری شادی تمہارے مستقبل کو محفوظ نہیں بلکہ خطرے میں ڈال سکتی ہے. مجھ سے ایک بار پھر غلط فیصلہ ہو گیا ہے. بوا سخت رنجیدہ ہوئی. ہم دونوں کو اس شادی کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہے. اس لئے خود کو دھوکا دینے کا کیا فائدہ ………. ؟ جتنی جلدی انسان حقیقت کو تسلیم کر لیتا ہے. اتنا ہی وہ فائدے میں رہتا ہے. خیر چھوڑیں اور کچھ کھانے کو لائیں بہت بھوک لگ رہی ہے. عنزہ کے کہنے پر وہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں. آج عنزہ کو اپنا وہ ٹوٹا پھوٹا گھر بہت یاد آ رہا تھا. جہاں اس کی اپنی حکومت تھی. اچانک دل نے خواہش کی کہ وہ یہاں سے غائب ہو کہ کچھ ٹائم کے لیے وہاں چلی جائے. بوا ہم اس ویک اینڈ پر اپنے گھر جائیں گے. مجھے وہ بہت یاد آرہا ہے. بوا کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر عنزہ نے کہا جس پر بوا نے سر ہلایا مگر انہوں نے خود سے ایک فیصلہ کر لیا تھا. 🍂🍃🍂🍃🍂🍃 تراب اس وقت ٹیرس پر بیٹھا لان میں موجود مختلف روشنیوں کو دیکھ رہا تھا. میرے آس پاس اتنی روشنیاں ہیں مگر میرے اندر ایک دم کتنا اندھیرا ہو گیا ہے. ابھی صبح تک تو میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھا. مگر ابھی کچھ دیر پہلے بوا سے بات کر کہ میرا دم کیوں گھٹنے لگا ہے. تراب نے اپنی شرٹ کا بٹن کھولا کاش میں نے بوا کی باتیں نہ سنی ہوتیں. کبھی کبھی نیکی اور مروت بھی گلے پڑ جاتیں ہیں اور ابھی ابھی میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے. “وہ ایک یتیم بچی ہے. خوابوں میں رہتی ہے مگر مانتی نہیں دل کی بہت صاف ہے زبان کی اس سے بھی زیادہ جو جیسا لگے کہنے میں دیر نہیں لگاتی. اپنے آپ کو بہت سمجھدار سمجھتی ہے مگر حقیقت میں بہت بیوقوف ہے مجھے نہیں معلوم آپ نے اس سے شادی کیوں کی ہے ……. ؟ بس ایک درخواست ہے اس کا انجام سندس بی بی جیسا نہ ہو. ورنہ میرے ساتھ ساتھ آپ بھی حشر کے میدان میں جواب دیں ہوں گے.”
یہ تمام باتیں بوا نے تراب کی اجازت سے اسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کہیں تھیں.
” ماں کا درجہ بہت بڑا ہے اور میں جانتی ہوں کہ آپ کو اپنی ماں سے بہت محبت ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ ان کی محبت میں اتنے اندھے ہو جائیں کہ دوسرے کا دکھ دکھائی نہ دے.”
بوا کی باتیں تراب کے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھیں.
ماما جانی بالکل ٹھیک کہتی ہیں ان” دو ٹکے” کے لوگوں کو منہ نہیں لگانا چاہیے ورنہ یہ دماغ خراب کر دیتے ہیں.
تراب مسلسل اپنی کنپٹی دبا رہا تھا مگر دل ہزار دلیلوں کے باوجود بھی سکون محسوس نہیں کر رہا تھا.
تمہاری چھوٹی سی شرارت نے میری پوری زندگی کا سکون برباد کر دیا ہے. اچھا خاصا ایک نارمل زندگی گزار رہا تھا مگر تم نے آکر سب درہم برہم کردیا تراب کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو عنزہ کو میسج کر کے اپنا غصہ نکالا
کیا ضرورت تھی ماما جانی سے بحث کرنے کی. وہ بڑی ہیں اگر تمہیں کچھ کہہ رہی تھیں تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہوگا. اپنے ساتھ ساتھ سب کی صبح خراب کردی تراب سے صبر نہ ہوا تو ریپلائی کا انتظار کیے بغیر مزید میسج سینڈ کر دیا.
جب کافی دیر انتظار کرنے کے باوجود بھی عنزہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو تراب نے احمر کو میسج کیا.
بات ہوسکتی ہے ………. ؟ تراب نے احمر کے موبائل پر میسج سینڈ کیا اور ایک منٹ کے اندر اندر ریپلائے بھی آ گیا.
“بات” کی کیا “اوقات” جو نہ ہو سکے میں تو کہتا ہوں” ملاقات” بھی ہو سکتی ہے اگر تم چاہو تو احمر کے ریپلائے نے تراب کو مسکرانے پر مجبور کر دیا.
ٹھیک ہے میں کمرشل آ رہا ہوں تو بھی آجا پندرہ منٹ تک ملتے ہیں تراب نے میسج سینڈ کر کے ایک بار پھر عنزہ کا سٹیٹس چیک کیا جو ابھی تک آف لائن آ رہا تھا.
” بڑے ہی پختہ مزاج ہیں وہ
یاد رکھتے ہیں کہ یاد نہیں کرنا”
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
بوا مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی اوپر سے موسم بھی دیکھیں کیسا ہو رہا ہے ………. ؟ ایسا لگتا ہے کہ بارش ہونے والی ہے. عنزہ نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں کالے بادل پوری آب و تاب سے گرجنے کے لئے تیار تھے.
میں بالکل ٹھیک ہوں اور ہم آج ہی اپنے گھر جائیں گے. (بوا کی تراب سے بات کرنے کے بعد طبیعت مزید خراب ہوگئی تھی اور اب وہ یہاں رکنا نہیں چاہتی تھیں. )
تم اپنے اور میرے کچھ کپڑے شاپر میں رکھ لو اگر کل بارش ہوئی تو ہم پھر اتوار والے دن ہی واپس آئیں گے. بوا نے عنزہ سے کہا
آپ نے بیگم صاحبہ کو بتا دیا ہے کہیں وہ غصہ نہ کریں آج تو ابھی جمعرات ہے اور ہم نے ویک اینڈ پہ جانے کا کہا تھا ……….. ؟ عنزہ نےاپنا خدشہ ظاہر کیا
میں نے تراب بابا کو بتا دیا ہے کہ ہم آج اپنے گھر جا رہے ہیں اتوار تک واپس آجائیں گے. بوا نے عنزہ سے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا.
آپ کی تراب سے کب بات ہوئی آپ نے پہلے تو ذکر نہیں کیا عنزہ کو بوا کی حرکتیں مشکوک لگ رہی تھیں.
ابھی شام میں بات ہوئی ہے. میں کوارٹر کی طرف آ رہی تھی تو وہ مل گئے بوا کے جواب پر عنزہ مطمئن نہیں ہوئی مگر ان کی طبیعت کی وجہ سے خاموش ہو گئی.
گرجتے برستے موسم میں( بوا کی ضد کی وجہ سے) ابھی ابھی وہ دونوں رکشے سے اتر کر اپنے گھر کا تالا کھولنے لگیں.
دیکھا آپ نے ہم دونوں اتنی سی دیر میں گیلی ہو گئی ہیں جاتی سردیوں کی بارش صحت کے لیے خطرناک ہوتی ہے. اگر ہم دونوں بیمار پڑگئی تو کون ہمارا خیال کرے گا ………. ؟ عنزہ نے کہتے ہوئے گھر میں قدم رکھا
بے فکر رہو تمہیں کچھ نہیں ہوگا رہی میری بات تو میرا وقت پورا ہو گیا ہے بوا گیلی ہونے کی وجہ سے کانپ رہی تھی.
اگر آپ نے مجھے ذرا سا بھی اس خطرناک موسم میں ڈرانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا عنزہ نے بوا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میری بچی آج صبح سے میرا دل بہت پریشان ہے اسی لیے میں اپنے گھر آئی ہوں مجھے غیروں کے گھر میں نہیں مرنا.
یہ میرا گھر ہے. یہاں کے لوگ میرے ہیں. مجھ سے محبت کرتے ہیں. کم از کم یہ لوگ میرے مرنے پر مجھے نفرت اور حقارت سے نہیں دیکھیں گے. بوا نے بستر پر بیٹھتے ہوئے اپنی چادر اتاری.
اتنی دیر میں بجلی چلی گئی اور گرج چمک سے بارش میں مزید تیزی آ گئی. عنزہ ڈر کے مارے بوا کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی.
پلیز بوا ایسی باتیں مت کریں میں آپ کے بغیر کیا کروں گی ……… ؟ میرا تو اس دنیا میں آپ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے. آپ کو معلوم ہے مجھے اندھیرے سے کتنا ڈر لگتا ہے اوپر سے آپ ایسی باتیں کر کے میرے ہوش اڑا رہیں ہیں.
عنزہ میری بیٹی یہ مکان تمہارا ہے اور کسی بھی قیمت پر تم نے اسے ایاز کو نہیں دینا سمجھیں میرا دل کہتا ہے تراب بابا تمہارے لیے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ ضرور رکھتے ہیں. مجھے ان کی آنکھوں میں تمہارے لئے محبت دکھائی دی ہے.
بوا مسلسل باہر پڑتی بارش کو دیکھ کر بول رہیں تھیں جس کی وجہ سے ان کا گلا سوکھ گیا اور وہ کھانسنے لگیں.
بس کریں دیکھیں آپ کو کھانسی لگ گئی ہے. میں آپ کے لئے پانی لاتی ہوں. عنزہ کہہ کر بستر سے اترنے لگی جب بوا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جو برف کی طرح ٹھنڈا تھا.
کہیں نہیں جاؤ میرے پاس بیٹھو. مجھے آج تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں. بوا نے اکھڑتی سانسوں ساتھ عنزہ کو روکا
بوا آپ کی طبیعت تو مزید خراب ہوگئی ہے. میں کچھ کرتی ہوں _ عنزہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے شاپنگ بیگ سے موبائل نکالا اور اسے آن کیا.
موبائل آن کرتے ہی تراب کے میسجزززز اسے نظر آئے مگر اس وقت ان کو پڑھنے کے لئے اس کے پاس وقت نہیں تھا اس نے فوراً 1122 پر کال کی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.
