Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

آخر کب تک تٗو ایسے ہی منہ لٹکائے بیٹھا رہے گا …….. ؟جتنی جلدی بتا دے گا اُتنی ہی جلدی میں تیری کچھ مدد کر سکوں گا ورنہ میرا کیا ہے ابھی دہی بھلے کھائے ہیں پھر چنا چاٹ، فروٹ چاٹ، گول گپے، فنگر چپس اور بھی جتنی چیزیں اس فاسٹ فوڈ کے مینو میں شامل ہیں سب پر ہاتھ صاف کرتا رہوں گا _ احمر تراب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بھی کچھ کھانا ہے کھا لے مگر میرا دماغ مت کھا. تراب نے بیزاری سے کرسی ساتھ ٹیک لگائی اور گلاس وال پر گرتی بارش کو دیکھنے لگا. او ہیلو مجھے اتنی بارش میں کسی سائیں بابا نے نہیں کہا تھا تیری شکل دیکھنے کو آپ جناب نے خودہی یہ آفر ماری تھی.
زویا کے مستقبل کو خطرے میں ڈال کر تجھ سے ملنے آیا ہوں اور اب تو ہی باتیں سنا رہا ہے احمر نے تراب کے آگے ٹیبل بجاتے ہوئے کہا
“زویا کے مستقبل کو خطرہ” میری وجہ سے کیسے ……؟ تراب اب احمر کے مقابل بلکل سیدھا بیٹھ گیا تھا.
ظاہری سی بات ہے میں ہی اب زویا کا مستقبل ہوں اور اگر مجھے اس بارش میں سردی لگ گئی تو اس کا مستقبل ہوا نہ خطرے میں احمر کے جواب پر تراب ہلکا سا مسکرایا جیسے زبردستی مسکرایا ہو۔
اب بتا بھی دے آخر مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے ایک بار پھر پوچھنا چاہا
یہی تو سارا مسئلہ ہے ” کہ مسئلہ کیا ہے”۔۔۔۔؟ تراب کے جواب پر احمر نے اسے غور سے دیکھا اور قہقہ لگایا۔
میرے خیال سے تیرے دماغ کو سردی لگ گئی ہے یہ بھلا کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے کرسی ساتھ ٹیک لگائی۔
کافی عجیب سی بات ہے مگر میرے ساتھ پتہ نہیں کیوں کچھ عجیب سا ہو رہا ہے
پھر آہستہ آہستہ تراب نے بوا کی تمام باتیں احمر کو بتا دیں۔
تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے ساری بات سن کر پوچھا
تو پھر کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔؟ تو میری بات سمجھ نہیں رہا یا سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ تراب نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا ۔
مجھے تو کچھ عجیب نہیں لگ رہا سوائے تیرے “رویے” کے احمر پر سکون سا تھا ۔
میرا رویہ عجیب ہے اور بوا کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب اب خود بھی حیران تھا۔
بیٹیوں والوں کو عادت ہوتی ہے لڑکے والوں پر رعب ڈالنے کی ۔اسی لیے مجھے بوا کی باتیں بالکل بھی عجیب نہیں لگیں
زویا مجھے ہر وقت تنگ کرتی رہتی ہے اس کے باوجود آغا جان مجھے ہر وقت اس کا خیال رکھنے کی نصیحت کرتے رہتے ہیں ۔
بیٹیوں کے والدین عادت سے مجبور ہوتے ہیں ان کی بیٹی جیسی بھی ہوں انہیں لگتا ہے کہ وہ مظلوم اور معصوم ہے جب کہ ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا کسی کسی کیس میں لڑکا بھی معصوم اور مظلوم ہو سکتا ہے احمر نے اپنے آپ کو انگلی لگاتے ہوئے معصومیت سے کہا
ہاں البتہ تمہارا “رویہ” ضرور عجیب ہے تم کیوں اتنے حساس ہو رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جب کہ بقول تمہارے تمہیں بھابھی سے کوئی غرض نہیں ۔احمر نے جان بوجھ کر لفظ “بھابھی” پر زور دیا۔
یار میں ایک عجیب سی صورتحال میں پھنس گیا ہوں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں
مجھے اس سے ذرا بھی محبت نہیں ہے۔ نہ ہی میں نے اس سے بڑے بڑے عہدوں پیماں کیے اور نہ ہی وہ میری بچپن کی منگیتر ہے تو پھر کیوں مجھے اس کے لئے برا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے بتائے۔
کل ماما جانی نے اسے کوئی بات کہی شاید دونوں میں بحث ہوئی ہوگی مگر جب میں پہنچا تو تراب نے احمر کی طرف دیکھا جو بہت دلچسپی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
ماما نے شاید غصے میں آکر اسے تھپڑ مارا پھر ان کی اپنی طبیعت بھی خراب ہو گئی مجھے ایک دم سمجھ نہیں آئی کہ میں کیسے دونوں کو اپنی اپنی جگہ پر تسلی دوں ۔
ہمممم اب تمہاری بات مجھے دلچسپ لگ رہی ہے “ماں” اور “محبوبہ” کے درمیان تم نے فیصلہ کیسے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے اپنی کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو آپس میں ملایا ۔ ماما جانی سے پوچھنے کی ہمت نہیں تھی اور عنزہ سے میں سب کے سامنے پوچھنا نہیں چاہتا تھا پھر مجھے یہی ٹھیک لگا کہ میں اسے ڈانٹ کر وہاں سے بھیج دوں کیونکہ اگر وہاں کھڑی رہتی تو ماما نے اسے مزید ڈاٹنا تھا _
تراب نے دکھ سے بتایا
تمہیں بھابھی کو ڈاٹنے کا دکھ ہے ۔۔۔۔۔؟ احمر نے کسی وکیل کی طرح پوچھا۔
ہاں تراب نے بغیر دیر لگائے جواب دیا تو سوری بول دو بات ختم
احمر نے اب غیر دلچسپی سے جواب دیتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی
میں نے اسے میسج کیا تھا مگر اس نے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ تراب نے بڑبڑانے والے انداز میں جواب دیا
یا تیری سٹوری تو بلکل جیو کے “ڈراموں” جیسی ہے جھلکیاں دیکھو تو زبردست ڈرامہ لگتا ہے۔ پورا دیکھو تو خالی بوریت _ مجھے ذرا بھی مزا نہیں آ رہا ۔میں نے سوچا تھا کوئی “پانی پت “کی لڑائی ہوئی ہوگی۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے منہ بنایا جس پر تراب نے اسے مینیو کارڈ اٹھا کر مارا میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے اور تجھے مزہ نہیں آیا ۔چل اب دفع ہو جا آئندہ میں تجھے کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔ تراب نے ویلٹ سے پیسے نکالتے ہوئے کہا
ویسے شکر کر کہ تجھے پتہ چل گیا ہے کہ تجھے محبت ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
کون سی محبت _ کیسی محبت میں تو “مذاق” کر رہا تھا ۔وہ دن کبھی نہیں آئے گا جس دن “میرتراب علی” کو محبت ہو گئی۔ تراب نے اپنے ازلی لہجے میں بات ختم کی۔
عموماً کہا جاتا ہے کہ انسان غصے میں سچ بولتا ہے ۔ لیکن میرے خیال میں انسان مذاق میں سچ بولتا ہے ۔
کیونکہ غصے میں انسان دل کی بھڑاس نکالتا ہے اس وقت اس کا دماغ صحیح طرح سے کام نہیں کررہا ہوتا اور اس وقت انسان اپنے حواس میں بھی نہیں ہوتا ۔
غصے میں سامنے والے کی “تضحیک” کی خاطر یا اپنی “انا” کی خاطر کچھ ایسا بھی کہہ جاتا ہے جو وہ حقیقت میں سامنے والے کے لیےایسا نہیں سوچتا۔
جبکہ مذاق میں انسان پورے ہوش میں ہوتا ہے اور وہ مذاق میں وہ سب بول دیتا ھے جو وہ سامنے والے کو حقیقت میں کہنا چاہ رہا ہوتا ہے۔
اور اپنی بات کو مذاق کا رنگ اس لئے دیتا ہے کہ کسی کو برا بھی نہ لگے اور اس کی بات کا اظہار بھی ہو جائے _ تھوڑا نہیں پورا سوچنا ابھی احمر نے اتنا ہی کہا تھا کہ تراب کے موبائل پر میسج ٹیون بجی۔ 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 عنزہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے آس پاس کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟کون آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟کون جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ کون رو رہا ہے ۔۔۔۔؟ کون ہنس رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ اسے معلوم تھا تو صرف اتنا کہ اس دنیا میں اس کے ناز اٹھانے والی “بوا ” اب نہیں رہیں۔ ایاز اور ان کی بیگم زارا اس وقت آنے جانے والوں سے مل رہے تھے۔ جب سے بوا فوت ہوئی ان کے “کفن دفن” سے لے کر اب تک عنزہ نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا اور نہ ہی کل سے اس نے کچھ کھایا پیا تھا ۔ اس چھوٹے سے گھر میں اسے جگہ جگہ بوا چلتی پھرتی اور بولتی نظر آ رہی تھیں۔ اتنے میں کسی نے اس کے آگے چاولوں کی پلیٹ رکھی اور اسے کھانے کے لئے کہا مگر عنزہ کے لیے اس لہجے میں نہ تو کوئی اپنائیت تھی نہ محبت بس ایک دنیاداری تھی۔ میں کھانا کھاؤں یا نہ کھاؤں کسی کو اب کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ ایک لمحے میں کیا سے کیا ہو جاتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا ۔کتنا اچھا ہوتا اگر وہ اپنے ساتھ مجھے بھی لے جاتیں۔ عنزہ کل سے اب تک صرف اپنے آپ سے ہی باتیں کر رہی تھیں اتنی دیر میں کسی نے اس کے کندھے کو ہلایا ۔ بھابی پلیز آپ کچھ کھالیں مجھے تراب بھائی نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ ہوش کریں ناااااا زویا کے محبت بھرے جملوں پر عنزہ کی آنکھیں چھلک پڑیں ۔
بھابی صبر کریں اور پلیز بوا کے لیے ہی کچھ کھا لیں اگر وہ زندہ ہوتیں تو آپ سے کتنا ناراض ہوتیں زویا نے لاڈ پیار سے چھوٹے چھوٹے چاولوں کے چمچ عنزہ کو کھلانا شروع کیے ۔
تم میرا دکھ کبھی نہیں سمجھ سکتی میں بالکل اکیلی رہ گئی ہوں میرا اس دنیا میں اب کوئی نہیں ہے عنزہ نے روتے ہوئے زویا کو گلے لگایا جس پر زویا نے تسلی دی ۔
کیا آپ کا دکھ ایک ایسی لڑکی سے بھی زیادہ ہے جس کو اپنے ماں باپ کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔؟ یہاں تک کہ لوگ اسے لاوارث اور ناجائز بچہ سمجھتے ہیں وہ ایک ایسے شخص کے گھر میں رہتی ہے جس کا اس سے کوئی خونی رشتہ نہیں۔ اگر آج اس رحم دل انسان کو کچھ ہو جائے تو کیا پتہ اس کی اولاد اس لڑکی کو اپنے گھر رکھے گی بھی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا کی بات پر عنزہ نے گیلی آنکھوں سے اسے دیکھا
پتہ ہے بھابھی وہ لڑکی کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے عنزہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے پوچھا
وہ لڑکی میں ہوں زویا نے خود کو انگلی لگائی جس پر عنزہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
مگر میں آپ کی طرح خود کو کسی سے کم تر نہیں سمجھتی اور نہ ہی میں ڈرتی ہوں کہ میں اکیلی ہوں
آپ کو بھی بہادر بننا پڑے گا “میر تراب علی” کی بیوی اور اتنی ڈرپوک آپ کے بہادر ہونے کے لیے تو تراب بھائی کا نام ہی کافی ہے۔ زویا ہلکا سا مسکرائی اور حوصلہ دیا ۔
وہ تو صرف ایک “سراب “ہے اس کا حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں
عنزہ نے دل میں سوچتے ہوئے بمشکل سر ہلایا۔
اس وقت احمر اور تراب باہر برآمدے میں ایاز ساتھ بیٹھے تھے جبکہ زارا وہاں قریب ہی چارپائی پر اپنے بچوں کو سلا رہی تھی ۔
اماں آپ لوگوں کا اکثر ذکر کرتی تھیں۔ آپ لوگوں کا بہت شکریہ کہ آپ نے آج اتنا خرچہ کیا۔ ہم لوگوں کو تسلی دی ۔آپ بڑے لوگ ہیں۔ آپ نے اماں کی بھی بہت خدمت کی ایاز نے تراب کو جی بھر کر مکھن لگایا۔
ہم نے نہیں انہوں نے ہماری خدمت کی تراب نے ہاتھ سے مچھر اڑاتے ہوئے ناگواری سے جواب دیا
ایک گلاس پانی مل سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے ایاز کی طرف دیکھ کر کہا جس پر وہ ہاں میں سر ہلاتا کچن کی طرف چل پڑا ۔
میرے خیال سے تجھے بھابھی کو ساتھ لے جانا چاہیے وہ یہاں کیسے رہیں گی میرا مطلب ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا
وہ اس گھر میں ہی رہتی تھی یہ سب اس کے لئے نیا نہیں ہے۔اسے عادت ہے یہاں کے ماحول کی بھی اور اپنے رشتے داروں کی بھی تراب نے جواب دیا ۔
یہ مزید کچھ پیسے رکھ لو تمہارے کام آئیں گے۔ احمر نے گلاس لیتے ہوئے پیسے اس کے ہاتھ پر رکھے جس سے ایاز کے چہرے پر چمک آ گئی۔
کافی رات ہو رہی ہے اب میں چلتا ہوں آغا جان پریشان ہو رہے ہوں گے ۔آپ اندر سے زویا کو بلوا دیں۔احمر نے پانی پیے بغیر گلاس نیچے رکھا اور کھڑا ہوگیا جبکہ توراب ابھی وہیں بیٹھا تھا ۔
زویا بی بی آپ کو باہر بلا رہے ہیں زارا نے کمرے میں آتے ہی کہا
اب میں چلتی ہوں کل پھر آؤنگی۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے عنزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور کمرے سے باہر آ گئی ۔
عنزہ تمہیں تو معلوم ہے تمہارے بھائی کی اتنی تنخواہ نہیں ہے۔ اماں نے اتنا عرصہ ان امیر لوگوں کے گھر ملازمت کی ہے۔بیگم صاحبہ کا بیٹا باہر بیٹھا ہوا ہے۔ تم اسے کہو نا کہ کچھ ہماری مالی مدد کر دے زارا کی بات پہ عنزہ نے اسے ایک حقارت بھری نظر سے دیکھا
مجھ سے یہ امید مت رکھنا کہ میں تمہارے فالتو کے نخرے اٹھاو گی ا۔گر تم بات نہیں کرنا چاہتی تو کوئی نہیں میں خود ہی بات کر لیتی ہوں ۔زارا کی بات پر عنزہ نے سر نفی میں ہلایا اور بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
میرے خیال سے اب یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے میں کل ہی کراچی کے ٹکٹ کروا لیتا ہوں۔ ایاز نے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے زارا سے کہا
عنزہ تمہارے سسرال سے کوئی نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے تو کوئی نئے لوگ نظر نہیں آئے۔ اگر تم مجھے ان کا نمبر دے دو تو میں تمہیں رخصت کرکے ہی یہاں سے جاؤں ایار نے سیدھا مدعے پر آتے ہوئے اپنی بات کی جس پر زارا نے اسے داد دی ۔
دیکھو تمہاری رخصتی کے لیے میرے پاس کوئی رقم نہیں ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں یہ گھر بیچ کر تمہیں جہیز دے دو اور عزت سے رخصت کروں۔ تم اب اکیلی یہاں کیسے رہو گی ۔۔۔۔۔۔۔؟ ایاز نے رک رک کر کہا
کس منہ سے ان لوگوں کو بتاؤں کہ میرے سسرال والے کون ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ اور گھر بیچ کر مجھے جو جہیز انھوں نے دینا ہے وہ میں اچھی طرح سے جانتی ہوں یا خدا میں اب کیا کروں ۔۔۔۔۔۔؟ عنزہ نے دل میں سوچا۔
بھائی آپ پریشان مت ہوں اگر آپ کراچی جانا چاہتے ہیں تو جا سکتے ہیں ۔میری فکر مت کریں۔ عنزہ نے اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا۔
ارے بی بی کیسے فکر نہ کریں جوان جہان ہوں۔کل کو کوئی “چاند” چڑھا دیا تو ہماری بھی “بےعزتی” ہوگی ۔اپنا نہیں تو بھائی کی عزت کا ہی خیال کر لو
زارا نے عنزہ کی طرف دیکھ کر اپنا غصہ نکالا
خاموش رہو میں بات کر رہا ہوں۔ ایاز نے قدر سخت لہجے میں زارا کو چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔
مجھ پر ہی رعب ڈالنا۔ بہن تو تم سے سنبھالی نہیں جاتی۔ اس مکان پر جتنا حق اس کا ہے اتنا ہی تمہارا بھی ہے پتہ نہیں کیسی بہن ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بہنیں دو بھائیوں پر جان دے دیتی ہیں اور یہ مکان سے حصہ نہیں دے رہی لالچی کہیں کی ۔
فون کرو اس کے سسرال والوں کو میں بھی دیکھوں کون لوگ ہیں اور بغیر جہیز کے اسے کیسے لے کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ زارا کی باتوں سے عنزہ کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گی۔
دیکھو عنزہ بات کو سمجھو۔ زارا کا لہجہ سخت ہے مگر بات وہ بالکل ٹھیک کر رہی ہے۔
تم اکیلی یہاں کیسے رہو گی۔۔۔۔۔۔؟ میں تمہارے سسرال والوں سے بات کرکے تمہیں رخصت کر جاتا ہوں۔ یہ گھر بیچ کر تمہیں جہیز دے دوں گا کچھ پیسوں کی مجھے ضرورت ہے تم ادھار سمجھ کر دے دینا ۔میں واپس کر دوں گا ایاز نے پیار سے عنزہ کے سر پر ہاتھ رکھا
میں تمہارا بھائی ہوں دشمن نہیں۔ میری بات کو سمجھو۔کیا میں تمہارا برا چاہوں گا۔۔۔۔۔؟ ایاز نے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
بھائی آپ اس گھر کو بیچنا چاہتے ہیں تو بیچ دیں مگر میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میرا نکاح اصل میں ایک ___
ابھی اللہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے