Kitab Muhabbat By Amna Mehmood Readelle50140 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
میر لاج میں آج معمول کے مطابق چہل پہل تھی. سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے. سوائے جہاں آرا بیگم کے _ وہ پیر جلی بلی کی طرح لاؤنچ میں چکر کاٹ رہیں تھیں. مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ساری رات تراب اس گندگی کے ڈھیر میں کیا کرتا رہا ہے …… ؟ ہمدانی کسی مجرم کی طرح سر جھکائے سن رہا تھا. اب اُس نے کب تک آنا ہے ………. ؟ فون کرو اُسے اور مجھے معلوم کر کے دو. جلدی کرو جہاں آرا بیگم نے حکم دیتے ہوئے ٹیبل پر موجود جوس کا گلاس منہ ساتھ لگایا.
جی بیگم صاحبہ جو حکم ہمدانی نے سر ہلاتے ہوئے اپنا موبائل نکالا تبھی تراب کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا.
گاڑی سے میرے کپڑے نکال لو. تراب نے ملازم کو کہتے ہوئے عنزہ کو باہر آنے کا اشارہ کیا اور خود آگے چل پڑا جبکہ عنزہ کا دل آنے والے وقت کا سوچ کر لرزنے لگا.
گڈ مارننگ سویٹ لیڈی تراب نے جھک کر ماں کو پیار کیا اور ہمدانی کی طرف دیکھا جو اسے کچھ کہنا چاہ رہا تھا.
کل بُوا فوت ہو گئیں تھیں تو تراب کی بات پر جہاں آرا بیگم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے مزید بولنے سے روکا.
مجھے معلوم ہے صبح صبح ایسی باتیں کر کے میرا اور اپنا دن خراب مت کرو. مجھے بھی افسوس ہے مگر ملازموں کے لیے اتنا نرم گوشہ رکھنا ایک “میر” کو زیب نہیں دیتا.
اگر گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے گا تو کھائے گا کیا …….. ؟؟؟ جہاں آرا بیگم کی بات پر تراب نے سر ہلایا.
چلو ناشتہ شروع کرو. میں نے رات بھی کچھ نہیں کھایا. آئندہ ایسی لاپرواہی مت کرنا _ جہاں آرا بیگم نے ٹیبل پر لگے ناشتے کی طرف اشارہ کیا. یہ عنزہ کہاں رہ گئی ہے …….. ؟ ہمدانی دیکھو عنزہ بی بی اگر باہر کھڑی ہیں تو انھیں اندر لے آؤ تراب کے جملوں پر جہاں آرا بیگم کا بی پی ہائی ہو گیا مگر وہ خاموشی سے دروازے کی طرف دیکھنے لگیں جہاں سے ابھی ابھی ہمدانی گیا تھا.
آؤ عنزہ ادھر میرے پاس تراب نے ہاتھ کے اشارے سے عنزہ کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا. لیکن عنزہ جہاں آرا بیگم کی طرف دیکھتی وہیں رک گئی.
یہ لڑکی ہمارے ساتھ اس ٹیبل پر ناشتہ کرنے کے قابل نہیں ہے. کیونکہ یہ “میر” خاندان کا حصہ نہیں ہے. جہاں آرا بیگم نے انتہائی غصے سے عنزہ کی طرف دیکھا
جی بہتر آپ جو بھی کہیں گئیں وہی ٹھیک اور بہتر ہو گا مگر مجھے صرف یہ بتا دیں اگر یہ لڑکی میر فیملی کا حصہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی تو آپ نے اسے میرے لیے کیسے پسند کیا کیسے ……….. ؟؟؟ تراب کا لہجہ کسی بھی قسم کی لچک سے پاک تھا جبکہ ہمدانی اور عنزہ دونوں ماں بیٹے کی گفتگو سن رہے تھے.
میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں. اکیلے میں بات کرتے ہیں. ابھی ناشتہ کرو اور تم بچوں پاس جاؤ جہاں آرا بیگم نے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں بھی اس وقت ناشتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں. لنچ پر ملتے ہیں. _ تراب کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا. یہ اس کا ایک انداز تھا اپنی ماں ساتھ ناراضگی ظاہر کرنے کا تراب کے جواب پر جہاں آرا بیگم نے ایک قہرآلود نظر عنزہ پر ڈالی.
آؤ بچوں سے ملتے ہیں وہ تمہیں یاد کر رہے ہوں گے. مجھے بھی کافی دن ہو گئے ان سے ملے ہوئے. تراب نے کہتے ہوئے عنزہ کی طرف اشارہ کیا جس پر وہ سر ہلاتی بچوں کے روم کی طرف چل پڑی.
اس سے پہلے کہ یہ ہڈی میرے گلے میں پھنسے مجھے اس کا بندوبست کر دینا چاہیے ……….. ؟ جہاں آرا بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے ہمدانی کی طرف دیکھا
یہ لڑکی اپنے کوارٹر میں ہی رہے گی اس پر خاص نظر رکھنی ہے. اگر یہ تراب کے کمرے میں جانے کی کوشش کرے تو فوراً مجھے بتانا جہاں آرا بیگم نے ایک غیر مرئی نقطہ کو گھورتے ہوئے ہمدانی سے کہا جس پر اس نے سر ہلا دیا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
آغا جان دیکھیں اب یہ بلکل غلط ضد کر رہی ہے میں ہرگز اس کی بات نہیں مانو گا _ احمر نے آغا جان کو لان میں آتا دیکھ کر دور سے ہی شور مچایا. اب کیا ہو گیا ہے ………… ؟ آغا جان کو ابھی ابھی جوگنگ کر کر آئے تھے تولیے سے اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے احمر کے پاس بیٹھ گئے. آغا جان میرا کمرہ نیچے ہے اور احمر کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور ہوا دار بھی ہے. کیونکہ اس کی کھڑکیاں لان میں کھلتیں ہیں اس لیے لوکیشن بھی زبردست ہے. میں نے تو بس یہی کہا ہے کہ تم میرے روم میں شفٹ ہو جاؤ اور اس نے میری بات کا بتنگڑ بنا دیا ہے. زویا نے احمر کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا. مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں تمہارے روم میں شفٹ ہو جاؤں. مجھے اپنا روم بہت پسند ہے. آپ اسے کہیں کہ یہ اوپر شفٹ ہو جائے _ احمر نے غصے سے آغا جان کی طرف دیکھا جس پر وہ بات سمجھتے ہوئے مسکرا دیے.
ویسے تو تم دونوں کا ایک ہی کمرے میں “سلامتی” سے رہنا ناممکن ہے مگر پھر بھی میرے خیال سے احمر بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے زویا بیٹا آپ کو احمر کی بات مان لینی چاہیے.
یہ ہوئی نااااا بات ……..!!! آغا جان آج آپ نے میرا “اکلوتا دل” جیت لیا ہے. احمر نے خوش ہوتے ہوئے آغا جان کو اپنے ساتھ لگایا.
اچھا ٹھیک ہے مگر پھر کمرے کی تمام سٹینگ اور چیزیں یعنی فرنیچر ، پردے، کارپٹس وغیرہ میری پسند کے ہوں گے. زویا نے روٹھے لہجے میں آغا جان کی طرف دیکھا جس پر انھوں نے مسکرا کر سر ہلا دیا.
میرا کمرہ ایک دم سیٹ ہے خبردار جو تم نے کسی بھی چیز کو ہاتھ لگایا تو احمر نے زویا کو آنکھیں نکالیں. اب تم لوگ اپنے جھگڑے بند کرو اور مجھے مہمانوں کی لسٹ دے دو. زویا ابھی چند ماہ پہلے ہی احمر نے اپنے روم کی ہر چیز تبدیل کی ہے تم دیکھ لو میرے خیال سے خامخواہ پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے _ آغا جان دونوں کو راضی کرنے کے چکر میں بری طرح ناکام ہو رہے تھے. کبھی ایک منہ بنالیتا تو کبھی دوسرا.
اس کی پسند اتنی عجیب سی ہے سارا کمرہ Blue theme میں ریکوریٹ ہے. جبکہ مجھے تو بلیو کلر ہی نہیں پسند _ مجھے کمرہ Pink theme میں چاہیے. زویا نے اب کی بار رو دینے والے انداز کہا آپ کی عقل کا شکریہ وہ میرا کمرہ ہے کسی pink panther کا نہیں احمر نے زویا کو چڑایا.
تو تم کونسا کسی pink panther سے کم ہو. زرا آئینہ میں خود کا جائزہ تو لو. بس دُم کی کمی ہے. تم چلتے بھی اسی طرح ہو زویا کی بات پر آغا جان بھی ہنسنے لگے جبکہ احمر غصے سے کھڑا ہو گیا.
آپ اپنی اس لاڈلی کو زرا “تمیز” بھی سکھائیں کہ مجھے “آپ” کہا کرے اور میرا “احترام” کیا کرے ورنہ میں نے عین “شادی” والے دن “انکار” کر دینا ہے احمر دھمکی لگاتا اندر کی طرف چل پڑا.
بیٹا تم بھی احتیاط سے کام لیا کرو. وہ تم سے بڑا ہے. اتنا تنگ کرنا اچھا نہیں ہوتا آغا جان کی بات پر زویا نے زیر لب pink panther دہرایا.
” عجیب عشق کی کرم نوازی ہے ہم پر
اک عشق اوکھادوجا یار انوکھا” 🍂🍃🍂🍃🍂🍃 تم دونوں کا ابھی صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں. اس لیے وہ تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی. _ اسے وہیں کوارٹر میں رہنے دو. میں ہاجرہ بی سے کہہ دوں گی کہ عنزہ ساتھ سو جایا کرے جہاں آرا بیگم نے تراب کی طرف دیکھتے ہوئے قدرے نرمی سے کہا
پہلے کی بات اور تھی مگر اب حالات بلکل مختلف ہو گئے ہیں. مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا کہ میری “منکوحہ” سرونٹ کوارٹر میں رہے یا تو وہ میرے کمرے میں رہے گی یا بچوں کے ……… مگر سرونٹ کوارٹر میں ہرگز نہیں _ تراب نے دوٹوک لہجے میں کہا
تم بات کو سمجھ کیوں نہیں رہے. ایسے کیسے وہ تمہارے کمرے میں رہ سکتی ہے ………… ؟ جہاں آرا بیگم کو تراب سے اس قسم کے رویے کی بلکل امید نہ تھی.
ایسے کیسے سے کیا مراد ہے ……….. ؟؟ سارے شہر کے سامنے ” نکاح” ہوا ہے. میں فضول قسم کی رسومات کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ہوں. وہ اب سے میرے ساتھ ہی رہے گی.
میں کسی پر کیسے اعتماد کر لوں………. ؟ آپ جانتی ہے میں خود سے جڑے ہر رشتے کے لیے بہت” محتاط” ہوں. تراب نے کھڑے ہوتے ہوئے بات ختم کی.
اچھا پھر تم مجھے کچھ دن دو. تم میرے اکلوتے بیٹے ہو اور تمہارے شادی کو لے کر میرے بھی کچھ ارمان ہیں.
میں جلد ہی تمہاری شادی کی ڈیٹ رکھ لیتی ہوں. میں دھوم دھام سے تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں. امید ہے تم ایک” ماں کی خواہش” کا احترام کرو گے جہاں آرا بیگم نے تراب کے ماتھے پر آئے بال درست کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی، مگر یاد رکھیے گا صرف چند دن اس کے بعد میں آپ کی بات نہیں سنوں گا. مجھے اس کے لیے بہت برا لگ رہا ہے. وہ بہت پریشان ہے. تراب کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا.
شکر ہے مان گیا _ چند دن بعد وہ زندہ رہے گی تو تمہیں ملے گی ناااااا _ اب وہ صرف” بُوا” کو ملے گی. کیونکہ وہ انھیں بہت یاد کر رہی ہے. پھر ایسا کرتے ہیں دونوں کو ملا دیتے ہیں جہاں آراء بیگم نے قہقہ لگایا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
عنزہ مرے مرے قدموں سے کوارٹر کی طرف جل رہی تھی. ہر قدم پر اسے بُوا کی یادیں غمزدہ کر رہیں تھیں. لرزتے ہاتھوں سے جیسے ہی اُس نے کوارٹر کا دروازہ کھولا اُس کا منہ بھی ساتھ ہی کھل گیا.
یہ سب کیا ہے ………؟ کوارٹر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا. پورا کوارٹر کارپیٹڈ ہو چکا تھا. دروازے اور کھڑکیوں پر دبیز اور قیمتی پردے لٹک رہے تھے. اعلیٰ فرنیچر کمروں میں اپنی چمک دمک سے مزید خوبصورتی کا باعث بن رہا تھا.
شاید میں اپنے خیالوں میں اتنی گم تھی کہ غلط کوارٹر میں آ گئی ہوں عنزہ خود کلامی کرتی ہوئی دروازہ بند کر کے پلٹی مگر ہمدانی کو دیکھ کر ڈر گئی.
میڈم یہ سب تراب سر کے کہنے پر ہوا ہے. آپ اندر جائیں وہ ابھی آتے ہی ہوں گے. ہمدانی کی بات پر عنزہ نے اسے الجھن سے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں.
کہیں یہ سب بڑی بیگم صاحبہ کی کوئی چال ہی نہ ہو. میں تو اندر بلکل نہیں جاؤں گی. عنزہ نے دل میں سوچا
میڈم آپ بےفکر ہو کر اندر جائیں. میرا کام آپ کی حفاظت کرنا ہے. تراب سر زرا بڑی بیگم صاحبہ کے پاس کسی کام سے گئے ہیں ابھی آتے ہی ہوں گے. ہمدانی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
نہیں وہ میں بس جا ہی رہی ہوں. عنزہ نے کچھ دیر سوچتے ہوئے دوبارہ اندر قدم رکھا. یہ کم از کم اندر سے ویسا تو نہیں ہے جیسا پہلے تھا. عنزہ چپ چاپ چلتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی جو اس وقت کسی “فائیو سٹار ہوٹل” کا کمرہ لگ رہا تھا. پتہ نہیں ابھی میرے نصیب میں اور کیا کیا دیکھنا لکھا ہے ………. ؟ بُوا آپ کیوں چلی گئی ہیں مجھے آپ کی بہت ضرورت ہے. مجھے اکیلے بہت ڈر لگ رہا ہے. اب میں کیا کروں کدھر جاؤں …….. ؟ عنزہ منہ پر ہاتھ رکھ کر چپ چاپ رونے میں مشغول تھی جب اسے تراب کی آواز سنائی دی. لگتا ہے آپ کو “ادھار پیسوں” کی ضرورت نہیں ہے ……. ؟ میں نے آپ کو رونے سے منع کیا تھا پھر بھی تراب اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا پوچھ رہا تھا.
مجھے یہاں بہت ڈر لگ رہا ہے. میں نے اپنے گھر واپس جانا ہے. آپ پلیززز مجھے واپس چھوڑ آئیں عنزہ نے فوراً بیڈ سے اٹھتے ہوئے منت بھرے لہجے میں کہا جس پر تراب نے افسوس سے سر ہلایا. آپ یہاں بیٹھیں اور میری بات غور سے سنییں. میں اپنی باتیں دہرانے کا قائل نہیں ہوں تراب نے عنزہ کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھایا.
یہ گھر آپ کا ہے اور اب آپ کو یہاں ہی رہنا ہے اور یہاں سے کہیں نہیں جانا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تراب نے رک کر عنزہ کے چہرے کا جائزہ لیا جو اُس کی بات سے بلکل بھی متفق نظر نہیں آ رہا تھا.
اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ میں آپ کے آنسوؤں سے پگھل جاؤں گا اور آپ کی بات مان لوں گا تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا.
میں ایک “سخت مزاج” دوسرے الفاظ میں “انتہائی سڑیل” انسان ہوں. مجھے لوگوں کے آنسو دیکھ کر “ترس” نہیں “غصہ” آتا ہے. لہذا اپنے آنسو اپنی مدد آپ کے تحت جلدی سے صاف کریں _ تراب نے آخری جملہ حکم دینے والے انداز میں ادا کیا جس پر عنزہ نے فوراً عمل کیا. میں نے آگے بھی کہا تھا اب آخری بار کہہ رہا ہوں. ڈرنے کی ضرورت کم از کم آپ کو بلکل بھی نہیں ہے. مجھے خود سے کہجڑے رشتوں کی حفاظت کرنا اچھے سے آتی ہے. میں نے ماما جانی سے بات کر لی ہے. اگلے ہفتہ ہماری شادی ہے. تب تک آپ میرے کمرے میں نہیں آ سکتیں مگر میں تو آپ کے کمرے میں آ سکتا ہوں. اس لیے آ گیا ہوں. تراب کی بات پر عنزہ نے اسے پریشانی سے دیکھا.
یعنی “نیکی کا زمانہ” ہی نہیں ہے. میں صرف آپ کی وجہ سے یہاں آیا ہوں ورنہ مجھے اپنے کمرے کے بغیر کہیں نیند ہی نہیں آتی ہے اور آپ اب بھی پریشان ہیں.
مہربانی فرما کر خود ہی بتا دیں کہ میں ایسا کیا کروں جس سے آپ کا ڈر اور پریشانی دونوں ختم ہو جائیں ………… ؟ تراب نے شرارت بھرے لہجے میں عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھے اندھیرے، بارش، تنہائی کے علاوہ آپ کی ماما جانی سے بھی بہت ڈر لگتا ہے عنزہ کی بات پر تراب نے بےساختہ قہقہ لگایا.
ماما جانی بہت اچھی ہیں. بس زرا غصے کی تیز ہیں. تم ان کی باتیں مانو گی تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گئیں. تراب نے پیار سے عنزہ کے بال پیچھے کرتے ہوئے سمجھایا.
“اچھی اور جہاں آرا بیگم” _ میرا دماغ ابھی بلکل ٹھیک ہے. “میر تراب علی” اپنی باتوں سے کسی اور کو” بےوقوف” بناؤ. میں اس وقت “صدمے” میں ہوں مگر اندھی نہیں مجھے سب دکھائی اور سنائی دیتا ہے. عنزہ نے تراب کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا
کچھ کہنا ہے …….. ؟ تراب نے خود پر مسلسل پڑتی عنزہ کی نظر سے محسوس کیا.
نہیں، میں اب ٹھیک ہوں. آپ جائیں. عنزہ نے بمشکل مسکراتے ہوئے جواب دیا.
پہلے ہم کھانا کھاتے ہیں پھر جب آپ سو جائیں گی تب میں چلا جاؤں گا. کوئی مسئلہ ……… ؟ تراب نے عنزہ کو فکرمند ہوتے دیکھ کر پوچھا
نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے.( عنزہ تجھے تو جہاں آرا قتل ہی کروا دے گی.) عنزہ نے منہ سے کچھ نہیں کہا مگر دل میں وسوسے جنم لے رہے تھے.
پھر مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ کو کوئی بات پریشان کر رہی ہے ……. ؟ تراب نے محبت سے عنزہ کا ہاتھ پکڑا
اب کیسے کہوں مجھے کوئی بات نہیں آپ کی “ماں” پریشان کر رہی ہے ……… ؟ عنزہ نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا.
آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں مگر میرا دل مطمئن نہیں _ تراب نے عنزہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے جواب دیا اور ہمدانی کو کھانا لانے کے لیے آواز دی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے
