Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

شام کے سات بج رہے تھے “میر لاج” دلہن کی طرح سج چکا تھا۔ ہمدانی نے آخری بار اپنی تسلی کرتے ہوئے تراب کو کال کی ۔
سر سارے انتظامات مکمل اور تسلی بخش ہیں۔ آپ جائزہ لے سکتے ہیں ……….. ؟کال اٹینڈ ہوتے ہی ہمدانی نے باادب لہجہ میں کہا
ٹھیک ہے میں ابھی تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔ تم آنے والے تمام مہمانوں کا خیال رکھو _ تراب نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے کہا اور فون بند کر کے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔ رائل بلیو تھری پیس سوٹ پہنے ، بال نفاست سے بناتے ہوئے بلاشبہ وہ انتہائی خوبصورت لگ رہا تھا ۔ ابھی وہ اپنی من پسند گھڑی کلائی پر باندھنے ہی لگا تھا کہ اس کا موبائل بجا۔ ویسے تو میرا ارادہ تیرے نکاح میں شامل ہونے کا بالکل بھی نہیں تھا ۔مگر پھر خیال آیا میرے بغیر تیرا نکاح کیسے ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس لئے میں مجبوراً آ رہا ہوں. اب تم بھی مجھے شرافت سے گیٹ پر رسیو کرنے تشریف لے آؤ. احمر کی بات پر تراب مسکرا دیا ۔ تم بے فکر رہو نہ تو تم دلہن ہو اور نہ ہی مولوی ……. اس لیے میرا نکاح تیرے بغیر بھی بڑے آرام سے ہو جائے گا ۔
دوسری بات میرے اوپر ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا کہ میں تجھ جیسے ویلے نکمے کو خود رسیو کرنے آؤں چپ کر کے لان میں جہاں جگہ ملتی ہے وہاں بیٹھ جا …………؟ تراب نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا.
میں نے آج تیرے نکاح پر خاص طور سے سفید “شلوار قمیض ” پہنی ہے پوچھے گا نہیں کہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے کہا
خود ہی بکواس کردے میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تراب نے خود پر پرفیوم چھڑکا ۔
شلوار قمیض کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ “اس میں جھولی اٹھا کے بدعا دینے کا آپشن ہمیشہ موجود ہوتا ہے”
اگر آج تو نے مجھے کچھ بھی ایسا ویسا کہا تو تیرے جاننے والوں کے سامنے میں نے اپنی جھولی اٹھا لینی ہے. احمر نے دھمکی دی جس پر تراب نے باقاعدہ قہقہ لگایا
ہمدانی نے “مرثیوں” کا انتظام کیا ہوا ہے اس لیے میرا نہیں خیال کہ تیرے اس آئٹم پر مراثی برادری تجھے اپنے حصے کے پیسے لوگوں سے لینے دیں گے آگے تیری مرضی جو مرضی کر میں تجھے کم از کم آج کے دن نہیں روکوں گا ………….. ؟تراب نے آخری بار خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
تو کنفرم بے حس انسان ہے اب مجھ سے امید نہ رکھیں کہ میں تجھے “نکاح” کی مبارکباد بھی دوں گا. احمر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی ۔ میں تجھ سے مبارکباد لوں گا بھی نہیں تراب نے موبائل بند کر کے پاکٹ میں رکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
آج میر لاج کی گہما گہمی دیکھنے کے قابل تھی. مختلف طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ مدعو تھے. سارا انتظام لان میں کیا گیا تھا. میر لاج اپنی چمک دمک سے آنے والوں کی آنکھوں کو دور سے ہی خیرا کر رہا تھا
آغا جان کتنی پیاری سجاوٹ ہے ہم بھی احمر کی شادی پر ایسے ہی اپنے گھر کو سجائیں گے زویا نے دور سے میر لاج دیکھتے ہی جوش سے کہا احمر کی شادی
احمر کی شادی _ یہ جملہ میں تب سے سن رہا ہوں جب میں سکول میں پڑھتا تھا. مگر جیسے کشمیر کے بارے میں تمام قراردادیں اقوام متحدہ کی فائلوں میں دب جاتیں ہیں بلکل ویسے ہی میری شادی اس ایک جملے کے نیچے دب جاتی ہے …….. احمر نے منہ بناتے ہوئے گاڑی موڑی. انشاءاللہ ہمارے گھر بھی جلد ہی رونق لگے گی آغا جان نے کہا جبکہ اھمر نے گاڑی میر لاج کے گیٹ پر روک دی.
ویسے پتہ نہیں لڑکی کون ہے …….؟ یقیناً بہت پیاری ہو گی. جہاں آراء آنٹی کسی عام لڑکی کو تو تراب بھائی کے لیے پسند نہیں کر سکتیں. زویا نے تبصرہ کیا.
عام لڑکی اُن ساتھ چل بھی نہیں سکتی ……. احمر کی بات پر دونوں نے قہقے لگائے جبکہ آعا جان نے انھیں گھورا.
تم نے یہاں گیٹ پر گاڑی کیوں روکی ہے. ہم اندر پیدل جائیں گے ……. ؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ مجھ سے اتنا پیدل نہیں چلا جاتا. آغا جان نے احمر کو گاڑی چلانے کا کہا
وہ کمینہ مجھے باتیں سنا رہا تھا. میں نے اندر نہیں جانا احمر نے منہ بنایا.
بیٹا یہ ڈرامے پھر کسی دن کر لینا ابھی گاڑی اندر لے چلو. تمہاری وجہ سے پیچھے گاڑیاں کھڑی ہیں. آغا جان نے احمر کی توجہ پیچھی کھڑی گاڑیوں پر دلوائی.
آغا جان آپ کو میری کوئی فکر نہیں ہے. نہ ہی آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں. احمر نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
عنزہ اب اٹھ بھی جا……. دو تین دفعہ بیگم صاحبہ تیرا پوچھ چکیں ہیں کہ تُو ابھی تک پارلر گئی ہے کہ نہیں بُوا نے عنزہ کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا
کیا ہے بوا …….؟ کچھ دیر آرام کرنے دو. اب بندہ اپنی شادی والے دن تو اپنی مرضی کر ہی سکتا ہے. ویسے بھی میرا فلحال کہیں جانے کو دل نہیں کر رہا …………. عنزہ نے لحاف سے منہ باہر نکالتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا.
کل تک تو تجھے شادی کی بہت جلدی تھی پھر اب کیا ہوا ……… ؟ بوا نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا
اچھا بوا یہ بتاؤ باہر کون کون آیا ہے میرا مطلب ہے کتنی رش ہے ……… ؟؟؟ عنزہ نے بیٹھتے ہوئے پوچھا
ارے بٹیا لوگوں کا کیا پوچھتی ہو …… ؟ باہر تو پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہے. ہمسائیوں کے علاوہ، تراب بابا اور بیگم صاحبہ کے جاننے والے تو ایک طرف رہ گئے وہ جن کے ہاتھوں میں کیمرے اور مائیک ہوتے ہیں ناااااا وہ بھی بہت زیادہ موجود ہیں کیا کہتے ہیں انھیں ……. ؟ بوا نے عنزہ کو بتاتے ہوئے پوچھا
“میڈیا کے لوگ” انھیں کہتے ہیں. اور یہ بتائیں کہ نکاح سب کے سامنے ہو گا ……؟ عنزہ نے قدرے اشتیاق سے پوچھا
باہر اتنا بڑا سٹیج سجایا ہوا ہے میرے خیال سے تو وہاں سب کے سامنے ہی ہو گا …….. ؟ بُوا نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا.
بوا اگر میں عین وقت پر نکاح سے انکار کر دوں تو …….. ؟ قسم سے بڑا مزہ آئے گا. عنزہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے پوچھا جس پر بوا کا سر گھوم گیا.
بٹیا زندگی اور موت اس رب کے ہاتھ میں ہے مگر آپ نے اس وقت کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو یہ لوگ ہمیں “کتے” کی موت مارے گے
بوا نے ڈرتے ہوئے آہستہ آواز میں جواب دیا.
ہممممم ……. ویسے میرا حق مہر کتنا ہے؟ عنزہ نے ایک اور سوال پوچھا
مجھے کیا پتہ، میں نے کونسا نکاح نامہ دیکھا ہے …… ؟ بوا کی لاپرواہی پر عنزہ کو حیرت ہوئی.
بوا آپ بھی کمال کرتیں ہیں. آپ سے پوچھے بغیر وہ لوگ نکاح نامہ کیسے پُر کر سکتے ہیں …….؟ خیر میں جب تک اپنا نکاح نامہ پڑھ نہیں لیتی میں سائن نہیں کروں گی …..؟ عنزہ نے دوبارہ لیٹتے ہوئے کہا
عنزہ میرے سفید بالوں کی طرف دیکھو اور مجھ پر رحم کرو. میں کہاں سے لاؤں گی نکاح نامہ ……..؟ بوا نے دکھی لہجے میں جواب دیا.
اچھا زیادہ دکھی مت ہوں اور میری ہمدانی سے بات کروا دیں _ اس کے بعد پکا میں پارلر چلی جاؤں گی. عنزہ نے کہتے ہوئے لحاف چہرے سے اتارا. بوا نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہمدانی کا نمبر ڈائل کیا اور فون عنزہ کو پکڑا دیا. جی بُوا کہیں کیا بات ہے …… ؟ ہمدانی کی آواز کمرے میں گونجی کیونکہ عنزہ نے سپیکر آن کر دیا تھا. ہمدانی صاحب میں آپ کی ہونے والی مالکن عنزہ علی بات کر رہی ہوں. مجھے اپنا نکاح نامہ دیکھنا ہے ابھی اور اسی وقت عنزہ کے اتنے پُر اعتماد لہجے پر ہمدانی کو حیرت کا جھٹکا لگا.
دیکھیں میڈم مجھے بیگم صاحبہ کی طرف سے حکم ہے کہ نکاح نامہ کسی کو بھی نہ دکھایا جائے. ہمدانی نے محتاط انداز میں جواب دیا.
ہمدانی صاحب آپ تراب کو بتا دیں کہ میں اپنا حق مہر خود لکھنا چاہتی ہوں اور اگر میری مرضی کے مطابق نکاح نامہ پُر نہ ہوا تو میں عین وقت پر “انکار” کر دوں گی. آگے آپ کی مرضی عنزہ نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی. ارے بٹیا یہ کیا کہا ہے
بوا حیرت ذرہ تھیں.
بوا ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے بہت مزہ آنے والا ہے اور اگر مزہ نہ آیا تو پیسے واپس ……؟ عنزہ نے ہنستے ہوئے بوا کے آگے اپنا ہاتھ کیا.
اللہ خیر کرے _ بوا نے عنزہ کے ہاتھ کو پیچھے کیا. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 جہاں آرا بیگم اس وقت میں میڈیا کے سامنے اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑی عورتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر گفتگو کر رہی تھیں۔ دیکھیں ہمیں خود سے شروع کرنا ہے. پھر دوسروں کو دعوت دینی ہے. آج میں اپنے اکلوتے بیٹے “میر تراب علی” کی شادی ایک غریب یتیم بچی کے ساتھ کرکے ایک نئی روایت کی بنیاد رکھ رہی ہوں۔ اس کے بعد میں پورے ملک میں ایک مہم چلاؤں گی. جس میں یتیم بچیوں کے نکاح اچھے گھرانوں میں کرائے جائیں گے جہاں آرا بیگم نے فخر سے گردن اکڑاتے ہوئے کہا جس پر سب نے تالیاں بجائیں اور جہاں آرا بیگم کی تعریفیں کیں ۔
جہاں آرا بیگم نے کچھ سوالات کے مزید جوابات دیئے اور پھر معذرت کرتی ہوئیں ایک طرف بڑھ گئیں۔
لڑکی تم اتنی دیر سے کیوں آئی ہو. میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی. تم میرا ایک کام کر دو پلیز ۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم نے پیار سے زویا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
جی انٹی بتائیں میں حاضر ہوں۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے خوش دلی کا مظاہرہ کیا
تم ایسا کرو عنزہ کو لے کر پارلر چلی جاؤ. مجھے تم پر اعتبار ہے. ویسے بھی تم فیشن کی سوجھ بوجھ رکھتی ہو. جہاں آرا بیگم نے اسے عنزہ کے بارے میں مختصرا بتاتے ہوئے کہا ۔ ٹھیک ہے آنٹی
آپ پریشان مت ہوں. میں دیکھ لیتی ہوں مگر وہ ہے کہاں ……… ؟ زویا نے مسکراتے ہوئے حامی بھری.
تم یہاں رکو. میں بوا کو بلواتی ہوں. ایک تو ہمدانی آج پتہ نہیں کدھر مر گیا ہے ….. ؟ جہاں آرا بیگم نے لان میں نظریں گھمائیں۔
آنٹی آپ فکر مت کریں. میں خود ہی بوا کو تلاش کر لیتی ہوں۔ زویا کے کہنے پے جہاں آرا بیگم نے اسے تشکر بھری نظروں سے زویا کو دیکھا
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
تم سب سے الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔؟ تراب نے احمر کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
اگر تم نے مجھے دوبارہ اپنی شکل دکھائی تو میں اٹھ کے چلا جاؤں گا ……. ؟احمر نے اپنا غصہ نکالا
رئیلی _ تم سچ کہہ رہے ہو تراب نے بے یقینی سے پوچھا
میں بالکل درست کہہ رہا ہوں. میں یہاں سے اٹھ کر چلا جاؤں گا. احمر نے اپنی بات دہرائی
ویسے کہاں جاؤ گے تمہارے گھر والے تو سب یہیں پر ہیں …..؟ تراب نے احمر کو تنگ کیا
تم بے فکر رہو. میں گھر نہیں جاؤں گا بلکہ یہاں سے اٹھ کر وہاں بیٹھ جاؤنگا _ احمر نے انگلی سے دوسری طرف اشارہ کیا جہاں اس وقت باربی کیو بن رہا تھا ۔ اچھا تو تم وہاں جاؤ گے. تراب نے سر ہلایا ۔ کس سے شادی کر رہے ہو۔۔۔۔۔؟ کہیں وہ “فون والی” محترمہ تو فون سے باہر نہیں نکل آئی احمر کے سوال پر تراب کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی۔
وہی ہے جناب مگر نکلی نہیں بلکہ آپ کے دوست نے خود نکالی
آج تک ایسا ہوا ہے کہ میر تراب علی کسی چیز کی خواہش کرے اور وہ اس سے محروم رہ جائے تراب نے جیت کے نشے میں چور ہوتے ہوئے جواب دیا. کیا واقعی ہی وہ فون وال میرے گناہ گار کانوں نے جو ابھی سنا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ احمر اب پورے کا پورا تراب کی طرف گھوم گیا تھا۔
جی بالکل آپ کے گناہگار کانوں نے جو ابھی ابھی سنا وہ بالکل درست ہے تراب نے سر کو خم دیا
یار میری ایک بات مانے گا …….. ؟ اب احمر منت بھرے لہجے میں بولا
ہاں بول
تراب نے کسی کو مسکرا کر ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا
وہ سِم مجھے کچھ دنوں کے لیے دے. جس پر تجھے رونگ کال آئی تھی۔۔۔۔۔۔؟ احمر کے سوال پر تراب کو حیرت ہوئی۔
تُو نے اس کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔؟ تراب پوچھے بغیر نہ رہ سکا
یار میں نے کچھ دن اسے “تعویذ” بنا کر اپنے موبائل میں رکھنا ہے. امید ہے اُس سِم کی برکت سے کوئی نہ کوئی حسینہ میری زندگی میں ضرور انٹری مارے گی اور میرا گھر بھی بس جائے گا _ احمر نے آہ بھری جس پر تراب ہنس پڑا ۔ اتنی دیر میں ہمدانی نے تراب سے رابطہ کیا اور تراب کے ایئر بیس میں ہمدانی کی آواز ابھری۔ ہاں ہمدانی بولو کیا مسئلہ ہے ……… ؟ تراب کہتا ہوں احمر کے پاس سے اٹھ گیا. سر وہ “عنزہ بی بی” اپنا نکاح نامہ دیکھنا چاہتی ہیں. بلکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا “حق مہر” خود اپنی پسند سے لکھنا چاہتی ہیں ……… ؟ہمدانی کی بات پر تراب کے ماتھے پر بل پڑے. ٹھیک ہے تم انہیں نکاح نامہ دے دو اور اس بات کا علم ماما جانی کو نہیں ہونا چاہیے. مگر جیسے ہی وہ اپنا حق مہر لکھ دیں فوراً نکاح نامہ میرے پاس لے آنا (میں بھی تو دیکھو انھیں کیا چاہیے ….؟) تراب نے کہتے ہوئے بات ختم کی ۔ تراب ہمدانی سے بات کرنے کے بعد اب لان میں مختلف لوگوں سے مل رہا تھا. جب دور بیٹھیں مسز اسد نے اسے حسرت سے دیکھا. پتہ نہیں کس کی لاٹری نکلی ہے اتنا اچھا لڑکا ہاتھ سے نکل گیا. مسز اسد نے افسوس سے پاس بیٹھی اپنی بیٹی صائمہ کو دیکھا.
تراب بظاہر مہمانوں میں مصافہ کر رہا تھا مگر اس کا مکمل دھیان ہمدانی کی طرف تھا. آس پاس سے گزرتے لوگ تراب کو رشک کی نظر سے دیکھ رہے تھے. اتنے میں دور سے ہمدانی تیز تیز قدم اٹھاتا نظر آیا.
سر انھوں نے حق مہر لکھ دیا ہے مگر ہمدانی نے نکاح نامہ تراب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا مگر کیا……؟ تراب نے پوچھتے ساتھ ہی نکاح نامہ کھول کر دیکھا اور پھر ہنسنے لگا. سر اگر بیگم صاحبہ کو اس بات کا پتہ چل گیا تو ……؟ ہمدانی کا رنگ اڑا ہوا تھا. تم ماما سے یہ بات نہیں کرو گے اور نکاح ہوتے ہی اس نکاح نامہ کو غائب کر دینا باقی میں سنبھال لوں گا. اب تراب بلکل سنجیدہ تھا. ہمدانی کے جاتے ہی تراب نے میر لاج کی عمارت کو دیکھا. تو “مس عنزہ علی” کو میر لاج چاہیے……. ؟ بےوقوف لگتی تمہیں کیا لگتا ہے میں یہ دے دوں گا……؟ ؟؟ عنزہ بی بی تمہارے پاس مجھے تنگ کرنے کے لیے صرف “چند گھنٹے” ہیں جبکہ میرے پاس پوری زندگی _ تراب نے سوچتے ہوئے اپنے ارد گرد لوگوں کو دیکھا. 🍂🍃🍂🍃🍂🍃 جاری ہے. ہمارے شہر کا موسم بہت سرد ہو گیا ہے. مجھے سردی کی وجہ سے بخار ہے. میں نے کبھی ایسی پوسٹ نہیں لگائی جس میں بخار وغیرہ کا بہانہ ہو. _ کل بھی شاید میں نہ بتاتی مگر کچھ ریڈرز پریشان تھے کہ ایپی کیوں نہیں آ رہی. اس لیے سوچا بتا دوں چند ریڈرز کو چھوڑ کر باقیوں کے کومنٹس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا ہم اسے مذہب کے پیروکار ہیں جس میں بیمار کی عیادت پر بھی ثواب ملتا ہے _
وقت ملے تو سوچیے گا…..؟
صحت مند رہیں 💝💝💝💝 خوش رہیں.