Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

آغا جان میرے خیال سے اب احمر کو اپنا بزنس شروع کرنا چاہئے آپ کیا کہتے ہیں……. ؟زویا نے آغا جان کو سیب کاٹ کر دیتے ہوئے پوچھا
نہیں بٹیا ابھی نہیں……. جب تک تراب نہیں کہہ دیتا میں اسے بزنس کی اجازت نہیں دے سکتا. آغا جان نے سنجیدگی سے جواب دیا
چلیں آپ کی مرضی ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب وہ اپنا بزنس اچھے سے چلا سکتا ہے زویا نے سیب والی پلیٹ آغا جان کے سامنے میز پر رکھ دی.
بیٹاخیریت ہے……. ؟ آج اس ” بندر” کی کچھ زیادہ ہی حمایت کر رہی ہو……. ؟آغا جان نے مسکراتے ہوئے سیب کی قتلی منہ میں ڈالی.
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس مجھے جو لگا میں نے کہہ دیا……. زویا نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے
بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ آپ ایک خوبصورت اور اچھے شخص کی جگہ” بندر” کے دادا بننا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس سے پہلے زویا مزید کچھ کہتی احمر نے لان میں قدم رکھا
برخوردار…..!!! جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو صبح تم ایک عدد گاڑی میں گئے تھے اور اب “پیدل” تشریف لا رہے ہو. آغا جان نے گیٹ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
اس لیے کہ میں اندر اپنے کمرے سے آرہا ہوں باہر سے نہیں اور میرا نہیں خیال کہ یہ لان میرے کمرے سے اتنا دور ہے کہ یہاں پہنچنے کے لئے مجھے گاڑی کی ضرورت پڑے.
احمر کے جواب پر زویا نے اسے سراہا اور وہ زویا کے قریب ہی شکریہ ادا کرتا ہوں بیٹھ گیا.
تم آج گھر پر تھے…..؟ آغا جان نے سوالیہ انداز میں زویا اور پھر احمر کی طرف دیکھا
تراب آج چھٹی پر تھا تو میں نے بھی موقع کا فائدہ اٹھایا ورنہ وہ ہمدانی مجھے ہدایت دے دے کر پاگل کر دیتا. احمر کے جواب دے آغاجان نے ہاں میں سر ہلا دیا.
اگر تم صبح جلدی واپس آ گئے تھے تو مجھے بتا دیتے میں نے مارکیٹ جانا تھا……. زویا نے منہ بنایا
سوری مس زویا…!!! آپ اپنے لئے کسی اور کا بندوبست کر لیں. میں بہت تھک جاتا ہوں. آپ کے فضول کام کرتے کرتے……. احمد نے بیزاری سے جواب دیا
کر دو ناااا پھر کوئی بندوبست……. زویا نی شرارت سے سرگوشی کی.
بےشرم……. احمر نے آنکھیں دکھائیں.
تعریف کا شکریہ مگر تم سے کم ہی ہوں…… زویا کب کسی کا ادھار رکھتی تھی.
ارے تم تو ابھی سے تھکنے لگے ہوں. ابھی تو تم “جوان” ہو. “نوجوان” بھی نہیں ہوئے……. تمہارا بڑھاپے میں کیا بنے گا…..؟ بوڑھے لوگوں کی طرح باتیں کرتے ہو. آغا جان نے چشمہ درست کرتے ہوئے احمر کی طرف دیکھا .
میں “نوجوان” نہیں بلکہ “10 جوان ” ہوں احمر کی بات پر زویا نے قہقہ دیا.
تم نے آج اردو گرامر کا ستیاناس کر دیا ہے “نوجوان” میں ” نو” اردو گنتی والا نہیں ہے بلکہ یہ پورا ایک لفظ ہے اور “دس جوان” آج تک میں نے کہیں نہیں پڑھا.
چلو پڑھا نہیں مگر “سن” تو لیا ہے ناااا…… اب تمہیں میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے تمہاری معلومات میں اضافہ کیا ہے. احمر نے گردن اکڑاتے ہوئے زویا کو جواب دیا.
ویسے بڑے بڑے “ڈھیٹ” اور “بے شرم” لوگ دیکھیں ہیں مگر یقین مانیں آپ کا “لیول” ہی الگ ہے……. اس بات کو اب دل پر نہ لے لینا. زویا نے طنز کیا
میں نے ذرا بھی دل پر نہیں لیا یہ بتاؤ کہ تم نے آغا جان سے بات کی ہے یا صرف سیب ھی کھلا رہی ہو……؟ احمر نے بظاہر جیب سے موبائل نکالتے ہوئے پوچھا
سوری یہ سروس فی الحال آپ کو میسر نہیں بیلنس ری چارج کرنے کے بعد دوبارہ ٹرائی کریں. شکریہ…… سویا کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
تراب کہاں جا رہے ہو ادھر آؤ مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے……. ؟ تراب جو جلدی سے باہر کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں آرا بیگم کی بات سن کر رک گیا.
میں نے مسز اسد اور ان کی بیٹی کو رات کھانے پر بلایا ہے اور میں چاہتی ہوں تم ہمیں جوائن کرو _ جہاں آرا بیگم نے اپنے ناخنوں پر پالش لگاتے ہوئے کہا ماما جانی میں کیا کروں گا آپ لوگوں کے درمیان…… ؟ ویسے بھی میری کچھ لوگوں سے آج رات بہت ضروری میٹنگ ہے ایک بہت بڑے کمرشل پلاٹ کی ڈیل کرنی ہے کروڑوں کا فائدہ ہونے والا ہے اور میں کسی بھی صورت یہ ڈیل کرنا چاہتا ہو ں. تراب نے بیزار لہجے میں جواب دیا.
اچھا یہ بات ہے…….. مگر میں چاہتی تھی کہ تم ایک نظر ان کی بیٹی کو دیکھ لیتے. مجھے وہ تمہارے لئے بہت پسند آئی ہے. اگر تم “اوکے” کرو تو میں آگے بات کروں……… میرے خیال سے تمہیں اب شادی کر لینی چاہیے. وہ اب پالش بند کر رہی تھی.
اگر آپ کو وہ اچھی لگتی ہے تو اسے “اوکے” کر دیں. مجھے آپ پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے.
ہاں مگر کوشش کریں کوئی آپ جیسی ہو تو مزہ آ جائے……….!!! تراب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا مجھے بس اُس دن بتا دینا جس دن “بارات” لے کر جانی ہو. میں تیار ہو جاؤں گا مگر فی الحال میں شادی نہیں کرنا چاہتا ابھی مجھے بہت کچھ کرنا ہے. آگے آپ کی مرضی جو دل میں آئے وہ کریں. مجھے اب اجازت دیں. تراب نے جاتے جاتے محبت سے ماں کے ہاتھ کو چوما اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا. جہاں ڈرائیور اور ہمدانی تیار کھڑے تھے. گارڈ نے تراب کو دیکھتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا ہمدانی……!!! ہماری تیاری کیسی ہے…… ؟؟؟ تراب نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سوال کیا. سر ہر طرح کا پیپر ورک مکمل ہے اور ان کی سوچ سے زیادہ ہم کیش لے کر جا رہے ہیں. جیسے ہی پارٹی مانیں گی اسی وقت کیش دے کر پیپر سائن کر لیے جائیں گے. گڈ ورک……!!! ہمدانی مجھے تمہارے کام کا یہی انداز پسند ہے. تم میرے اشارے کو بھی سمجھتے ہو……… ابھی توراب نے اتنا ہی کہا تھا کہ گاڑی میں اس کے موبائل کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا. عنزہ موبائل پر گیم کھیل کر بور ہو گئی تھی اچانک اس کے دل میں پتہ نہیں کیا خیال آیا کہ تراب کا نمبر ڈائل کر دیا. انجان نمبر…… ماتھے پر سلوٹیں ڈالتے ہوئے کال اٹینڈ کی مگر دوسری طرف مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی. دو تین بار ہیلو کرنے کے بعد تراب نے کال کاٹ دی جبکہ عنزہ نے ہنستے ہوئے موبائل اپنے ساتھ لگا لیا. آواز تو بہت پیاری ہے مگر بوا کہتی ہیں بہت “سخت دل” اور “ظالم” ہیں. چلو ایک کھیل کھیلتے ہیں جو جیتا وہی سکندر _ عنزہ نے کچھ سوچتے ہوئے موبائل بیڈ پر اچھال دیا ۔ 🍂🍃🍂🍃🍂🍃 اس وقت ہوٹل کے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی. ایک طرف احمر، تراب اور ہمدانی جبکہ دوسری طرف ایک سرکاری ٹیم کے کچھ ممبر بیٹھے تھے. ہم یہاں “یوگا” کرنے آئیں ہیں…..؟ احمر نے تراب کے کان میں سرگوشی کی جس پر تراب نے اسے گھور کر چپ رہنے کا اشارہ کیا. مگر جب خاموشی نے طوالت اختیار کی تو تراب نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے خاموشی کو توڑا. میرے خیال سے ہمیں بالکل صاف صاف بات کرنی چاہیے یہ جو “ٹینڈر “ہے یہ ہمیں چاہیے……؟ میں آپ لوگوں کو منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہوں. مجھے وہ زمین ہر قیمت پر چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ جو نئی “سڑک” حکومت نے منطور کی ہے وہ بھی اسی زمین کے قریب سے گزرنی چاہیے…..؟؟ ؟ ترات نے اپنی بات کے آخر میں سامنے موجود چار لوگوں کی طرف دیکھا جو عمر میں اس سے زیادہ بڑے تھے مگر اعتماد میں بہت کم. میر تراب اب آپ زیادہ “ڈیمانڈ” کر رہے ہیں. ہماری ہمدانی سے صرف پلاٹ کی بات ہوئی تھی. سڑک کی نہیں ایک آفیسر نے جواب دیا. ہمدانی……!!! تراب کے اشارے پر کالے رنگ کے چار بیگ ان چاروں کے آگے رکھے اور ساتھ ہی چار اسٹامپ پیپر بھی جنہیں دیکھ کے ان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھری. پیپرز پڑھ کر سائن کر دیں اور بے فکر رہیں یہ سب “رازداری” میں رہے گا کیونکہ “رازداری” ہی میرے بزنس کا پہلا اصول ہے……… تراب کے کہنے پر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا. اگر ہم کبھی بھی کہیں بھی “پھنس” گیا تو یاد رکھے گا میر صاحب آپ بھی ہمارے ساتھ ہی ہوں گے ان میں سے ایک نے کہا اور پیپرز پر سائن کر دیے۔ اس کی پیروی میں باقیوں نے بھی یہی کیا
آپ کو بہت مبارک ہو……… تراب نے کہتے ہوئے ہمدانی کو اشارہ کیا جس پر اس نے پیپرز لے کر اپنے پاس رکھ لیے.
میٹنگ ختم ہوئی اور میرے خیال سے اب ہم دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے _ تراب کہتا ہوا کھڑا ہو گیا اس کے ساتھ ہی ہمدانی اور احمر بھی……. میر صاحب کم از کم میٹنگ کی کامیابی پر آپ ہمیں کچھ چائے پانی یا ڈنر ہی کرادیں. اس سے پہلے تراب کمرے سے باہر نکلتا ایک آفیسر کی بات سن کر رکا……… بیگ میں آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے خاندان والوں کے ڈنر کا بھی بندوبست کر دیا ہے. تراب نے بغیر مڑے کہا اوع کمرے سے باہر نکل گیا.
راہداری میں چلتے ہوئے احمر نے تراب کی طرف دیکھا جہاں بلا کی سنجیدگی تھی.
یہ آج کیا ہوا ہے……. ؟مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا…….. ؟احمر کے سوال پہ تراب مسکرایا
آگے سمجھ آتی ہے ……. ؟ میرا مطلب ہے آجائے گی اتنی بھی کیا جلدی ہے اور ہاں میں نے تمہاری “اسسٹنٹ” کے طور پر زویا کو اپنے آفس میں رکھ لیا ہے.
کیا…….. ؟ احمر تقریباً چلایا
تیرا دماغ خراب ہے کیا……. ؟ احمر کی شکل اس وقت دیکھنے کے لائق تھی.
میرا تو بالکل ٹھیک ہے البتہ تیرے بارے میں اس وقت مجھے شکوک و شبہات نے گھیر لیا ہے ۔
ظاہری سی بات ہے جو آپ نے ابھی ابھی فرمایا ہے اس کے بعد میرا دماغ تو کیا پورا “سرکٹ” ہی شاٹ ہو گیا ہے. تجھے مجھ پہ ذرا بھی ترس نہیں آتا. آخر میں تیرا دوست ہوں……… تراب کی بات کے جواب میں احمر نے مسکین سی شکل بنائی.
اتنی دیر میں دونوں گاڑی کے قریب پہنچ گئے تم خود جاؤ گے یا میں ڈراپ کروں……. ؟؟ تراب نے گاڑی ساتھ ٹیک لگا کر پوچھا
قسم سے بندہ اتنی وفا تو “کوٹھے والی” سے بھی دکھا دیتا ہے جتنی تو میرا “دوست” ہو کر بھی نہیں دکھاتا _ ساتھ لایا ہے تو ساتھ لے کر بھی جا……. تراب نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا جبکہ احمر گھوم کر جلدی سے دوسری طرف آ گیا تھا.
ابھی گاڑی چلی ہی تھی کہ تورات کا موبائل بیچنے لگا
انجان نمبر……… افففففف اب کیا مصیبت ہے…… ؟؟؟ باوجود تھکاؤٹ کے تراب نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے ہیلو کہا مگر ہمیشہ کی طرح اب بھی عنزہ نے آواز سن کر کال کاٹ دی.
کون……؟ احمر نے تراب سے پوچھا
(تراب کا ارادہ ہمدانی کو یہ نمبر دے کر اس کی معلومات نکالنے کا تھا مگر احمر کی موجودگی کا سوچ کر چپ کر گیا. )
پتہ نہیں…… اور کندھے اچکا کر باہر دیکھنے لگا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂