Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

عنزہ کو دن میں گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں تھی. مگر وہ رات میں “میرلاج” کے لان میں تسلی سے واک کرتی تھی۔کرمو بابا، مالی، گارڈز، ڈرائیورز یہاں تک کہ دیگر ملازمین جن کی رات کو ڈیوٹی ہوتی وہ بھی اسے کچھ نہیں کہتے تھے ۔
عنزہ آج بھی اپنے ہی دھیان میں کھڑی ان دو رنگی پھولوں کو غور سے دیکھ رہی تھی جو جہاں آرا بیگم نے خاص طور پر” ترکی” سے منگوائے تھے۔کب میر تراب اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا اسے پتہ ہی نہیں چلا۔
آپ کون ہیں اور یہاں اس وقت کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ انتہائی سنجیدگی اور رعب دار آواز میں پوچھا گیا یہ سوال سچ میں عنزہ کا ہوش اڑا گیا.
“پیچھے مڑ کر نہ دیکھی ہو سکتا ہے کوئی بھوت ووت ہو” ۔۔۔۔ دل میں عنزہ نے خود کو مخاطب کیا ۔
کون ہو تم ۔۔۔۔۔بہری ہو کیا۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار تراب نے غصے سے پوچھا ۔
عنزہ نے پلٹ کر آواز دینے والے کی طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکانا بھول گئی ۔
بلیک ٹراؤزر پر گرے ٹی شرٹ پہنے۔ ۔۔۔۔ کشادہ پیشانی پر بکھرے کچھ کالے بال۔ ۔۔۔۔ دودھیا سفید رنگت۔۔۔۔۔ دراز قد اس پر سنجیدہ مزاج ۔۔۔۔۔۔اور چاندنی رات ۔۔۔۔۔۔۔
“محبت نہیں دیکھتی کہ سامنے کون ہے…… ؟ اسے دراز قد، چوڑی پیشانی یا گہری آنکھوں سے فرق نہیں پڑتا.
یہ بس ہوجاتی ہے ، لمحے کے ہزارویں حصے میں کسی معجزے کی مانند.
کسی کی آواز، کسی کے الفاظ ، تو کبھی کسی کی خاموش نظر ہی دل پہ نقش ہوجاتی ہے.
پھر چاہے ملک چھوڑ دیں کہ دنیا…… محبت کی اسیری سے نجات ممکن نہیں.”
پہلی نظر کی محبت اپنا وجود رکھتی ہے وہ بھی اتنی طاقت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ اس بات کا اندازہ آج عنزہ کو ہوا تھا ۔
او۔ ۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔ تراب نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی اور عنزہ اس مغرور شہزادے کے سحر سے باہر نکل آئی ۔
سوری…. شدید شرمندگی نے گھیرا مگر محبت “عزت دار” کم ہی رہنے دیتی ہے. محبت کرنے والوں کو اپنی ذات کی نفی کرنی پڑتی ہے اور اپنے محبوب سے کرائی گئی بےعزتی بھی محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔۔”لعنت ایسی محبت پر” عنزہ دل ہی دل میں مسلسل بول رہی تھی.
آپ کچھ بولنا پسند کریں گی یا میں بلوانے کے لیے گارڈ کو آواز دو ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ تراب کو یہ سانولی سے بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی دماغی طور پر بھی معذور لگی۔
میں وہ یہ پھول دیکھنے آئی تھی۔۔۔۔۔۔ بمشکل عنزہ کے منہ سے یہ جملہ نکلا جسے بکواس کرنے میں مہارت حاصل تھی ۔
اب میں کیا کروں زندگی میں کبھی اتنا خوبصورت انسان نہیں دیکھا وہ بھی اتنے قریب سے ۔۔۔۔۔۔۔عنزہ خود کو تسلی دی۔
جی بالکل وہ تو میں دیکھ ہی رہا ہوں کیونکہ میری آنکھیں اور کان بالکل درست کام کرتے ہیں مگر میرا سوال یہ تھا کہ آپ کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب دونوں ہاتھ ٹراوزر کی جیب میں ڈالے قاعدہ تفتیش پر اتر آیا تھا ۔
ان سے فون پر بات کرنا تو بہت آسان لگتا تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔ خیر میر صاحب حساب کا بےعزت کریں ورنہ میں رونے لگ جاؤں گی. عنزہ نے دل میں کہتے ہوئے اپنا گلا صاف کیا ۔
میں شفقت حوا کی بیٹی ہوں وہ کوارٹر میں دل گھبرا رہا تھا تو یہاں آ گئی آئندہ نہیں آؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔سر جھکائے جواب دیا عنزہ کی بات سے تراب کے تنے اعصاب ڈیلے پڑے ۔
نوکروں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی کام کے “میر لاج” میں قدم رکھیں۔ بوانے نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا اب اس کی دلچسپی اس لڑکی میں ختم ہوچکی تھی ۔
بتایا تھا مگر۔۔۔۔۔۔ عنزہ کا دل کیا کہ وہ اس بےعزتی پر بھاگ کر کہیں چھپ جائے ۔
میں تمہیں دوبارہ یہاں نہ دیکھو سمجھیں۔۔۔۔۔۔ تراب کہتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔ غرور بے شک اس شہزادے پر سج رہا تھا۔ عنزہ اس کی کمر دیکھ کر سوچنے لگی ۔
کیا ہوگیا تھا مجھے۔۔۔۔۔ میں ایسی تو نہ تھی۔۔۔۔۔ پھر آج کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔ اچھی اور قیمتی چیزیں اور لوگ سب کو ہی اچھے لگتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ سب کو مل بھی جاتی ہیں ۔
اگر اپنے آپ کو تکلیف سے بچانا چاہتی ہوں تو اپنی اور تراب کی حیثیت کا گراف یاد رکھنا فائدہ میں رہوں گی ۔
عنزہ خود کلامی کرتی ہوئی کوارٹر کی طرف چل پڑی مگر یہ بھی سچ تھا کہ وہ دل کو بہت اچھا لگا تھا اس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ ۔۔۔۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
آغا جان بس بھی کریں نااااا میں نے آج تک آپ کو اتنا اداس نہیں دیکھا اگر اب بھی آپ نے اپنا موڈ ٹھیک نہیں کیا تو میں رونے لگی۔۔۔۔۔۔ زویا نے رونے والی شکل بناتے ہوئے آغا جان کی طرف دیکھا ۔
توبہ ان لڑکیوں کی چالاکیوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16 سال سے لے کر 60 سال کے آدمی کو منٹوں میں بیوقوف بنا لیتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ مرد سخت دل اور ظالم ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے زویا کی ایکٹنگ پر سر نفی میں ہلایا ۔
آغا جان پلیز کھانا کھا لیں آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب احمر بھی آغاز ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔
مجھے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ آج میں نے ایک سچے اور وفادار دوست کو کھو دیا ہے کاش میں اسے اپنا ہمراز نہ بناتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آغاجان نے دکھ سے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا
وہ سچا اور وفادار تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ُ اس لئے دل جلانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے احمر تم لائٹ جلاؤ اور ہم مل کر کھانا کھانے لگے ہیں زویا نے احمر کی طرف مسکراہٹ اچھالتے ہوئے حکم دیا پتہ تھا اس وقت احمر لڑائی کی نہیں بلکہ حکم ماننے کی پوزیشن میں ہے.
تم مجھے احمر سے بھی زیادہ پیاری ہو کبھی میری طرف سے اپنا دل برا مت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ آغا جان نے زویا کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا.
پتہ ہے لیکن اگر پھر بھی “یقین” نہیں آرہا تو اپنی بیٹی کو یقین دلانے کے لیے “پینا فلیکس” بنا کر اس گھر کے کونے کونے میں لگا دیں.
بلکہ یوں کریں کہ ایک بڑا سا “بینر” بنوا کر گیٹ کے اوپر آویزاں کریں اور ہر جانے والے کو پڑھنے پر “سو روپیہ” انعام دیں امید ہے اس سے آپ کی اور آپ کی بیٹی کی تسلی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے لائٹ آن کرتے ہوئے جل کر مشورہ دیا
بہنوں کے بارے میں ایسے الفاظ اچھے بھائیوں کو زیب نہیں دیتے. انہوں نے چلے جانا ہوتا ہے_ وہ مہمان ہوتی ہیں چڑیاں ہوتی ہیں آغا جان نے احمر کو گھورتے ہوئے جواب دیا
کب جائے گی اپنے گھر
میرے تو بال بھی سفید ہونے لگ گئے ہیں اور مہمان تین دن کا ہوتا ہے تین صدیوں کا نہیں مجھے لگتا ہے کہ میں نے اس گھر سے چلے جانا ہے اور یہ لومڑی بقول آپ کے “چڑیا” یہاں ہی “گھونسلہ” بنا کر رہے گی_ احمر کے جواب پر زویا نے شکایت بھری نظروں سے آغا جان کی طرف دیکھا ۔ چلی جائے گی تو سب سے زیادہ تمہیں ہی یاد آئے گی ہر وقت اسے تنگ کرتے رہتے ہو آغا جان نے ڈانٹا
“تنگ” کرنے کے باوجود ان کا volume دن بدن پھیلتا جا رہا ہے زویا نہ ہوئی پاکستان کی “مہنگائی” ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر کے جواب پر زویا کی رنگت غصے سے لال ہو گئی.
زیادہ “لال” ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر تم “لال” ہونے کی بجائے “پیلے” ہونے کی فکر کرو تو شاید کچھ ہو اور میری بھی باری آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔احمر کے جواب پر زویا سے صبر نہ ہوسکا تو بول پڑی.
آغا جان ایسا کرتے ہیں پہلے احمر کی شادی کر دیتے ہیں کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟؟ اس کے لیے لڑکی تلاش کریں ۔۔۔۔۔۔ ؟ زویا کی بات پر آغا جان نے اسے دیکھا جبکہ احمر کھل پڑا.
اپنی 25 سالہ زندگی میں آج پہلی بار تمہارے منہ سے اپنے لئے کوئی بھلا لفظ سنا ہے اب مہربانی کرکے اس پر عمل بھی کرنا۔ صرف کاغذی کاروائی تک محدود نہ رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر مسکراتے ہوئے کہا
احمر کے بچے ۔۔۔۔۔۔ !!! تم دیکھتے جاؤ میں تمہاری دلہن کیسی لاتی ہوں ساری زندگی یاد کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ بظاہر مسکراتے ہوئے زویا نے دل میں سوچا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
کتنی دیر سے کال کر رہا تھا مگر تم نے فون نہیں اٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے بے چینی سے پوچھا
میں نے آپ کو بتایا ہے کہ میں دن میں “جاب” کرتی ہوں اس لیے رات میں ہی بات ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے اداسی سےجواب دیا
کیوں جاب کرتی ہو میرا مطلب ہے شوق ہے یا ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب کو عنزہ سے بات کرنے کی عادت سی ہوگئی تھی مگر انتظار برا لگتا تھا.
ہمارے ہاں شوق سے نہیں ضرورت سے لڑکیاں جاب کرتی ہیں. میرا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے ہے جہاں دو وقت کی روٹی کمانا ہی سب کچھ ہوتا ہے
عنزہ آج تراب کو سچ بتانا چاہتی تھی کیونکہ کل اس نے تراب کی آنکھوں میں بوا کی بیٹی کے لیے ناپسندیدگی دیکھی تھی کبھی نہ کبھی سراب نے ٹوٹنا تھا پھر آج ہی سہی.
مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ تراب نے نا سمجھی سے پوچھا
میں ایک انتہائی غریب خاندان کی معمولی شکل و صورت رکھنے والی ایک یتیم لڑکی ہو ۔خوش قسمتی سے اللہ نے ذہین پیدا کیا ہے مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں اعلی تعلیم حاصل نہیں کر سکتی.
میرا گھر دو مرلے پر مشتمل ہے. فرش کچے دیواروں اور چھت کی حالت اتنی خستہ ہے وہ کہ نہ بارش روک سکتیں ہیں اور نہ ہی دھوپ
بجلی پانی کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے.
گھر کے ساتھ ساتھ محلہ ایسا ہے کہ وہاں سوائے “مچھروں اور چوہوں” کے کوئی باعزت انسان قدم نہیں رکھتا یعنی انتہائی غریب بستی ہے وہ بھی خستہ حال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امیدوار بھی الیکشن میں نظر نہیں آتے.
عنزہ نے سچ گوئی کی انتہا کر دی اب وہ خاموشی سے تراب کا ردعمل سننا چاہتی تھی.
مجھے ان سب باتوں سے کیا لینا دینا الحمدللہ میں بہت اچھے گھر میں رہتا ہوں۔ اچھا کھاتا پیتا ہوں۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے اور جو نہیں ہے وہ بھی اللہ جلدی دیئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے بالکل نارمل انداز میں بتایا.
لیکن مجھے فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟لڑکیوں کے خواب بلکل مکڑی کے جالے جیسے نازک ہوتے ہیں. وہ بہت جلد خواب بُن لیتی ہیں۔
جن کے ٹوٹنے پر بہت تکلیف ہوتی ہے اس لیے میں نے آج کے بعد آپ سے بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. پلیز آپ بھی کال مت کیجئے گا عنزہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی.
بات کرنے میں پہل آپ نے کی تھی میں نے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو اتنا مصروف رہتا ہوں کہ اپنی بھی ہوش نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں لیکن اتنا ضرور ہے کہ آپ کی حسہ مزاح کیونکہ بہت زبردست ہے تو مجھے آپ سے بات کرنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے عنزہ کی باتیں سن کر کہا
ایک اور بات بلکہ “آخری بات” مجھے آپ کی “آواز” سے زیادہ آپ کا “چہرہ” پسند آیا ہے آپ بہت خوبصورت ہیں. وہ جو لوگ کہتے ہیں نااااا “جادوئی پرسنلٹی” بلکل ویسے ہیں آپ عنزہ نے رک کر سانس لیا .
مجھے آپ سے “ان دیکھی” محبت ہو گئی ہے یعنی one sided love مگر پھر بھی میں نے رات کو اپنا اور آپ کا گراف بنایا تو پتہ چلا میری محبت میں آپ کا سٹیٹس “قیدو” کا کردار ادا کر رہا ہے.
اس سے پہلے کہ یہ محبت مجھے پاگل کردے میں اس کو خود ہی ختم کر دو تو بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اب عنزہ کی باتیں تراب کو شدید حیران کر رہی تھیں.
آپ اسے میری طرف سے محبت کا اظہار بھی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ میں دل میں باتیں نہیں رکھتی۔۔۔۔۔۔۔۔ غریب لڑکی کا دل بھی بہت چھوٹا ہوتا ہے اتنی بڑی بڑی باتیں نہیں رکھ سکتا۔
اتنی جلدی کسی کو کسی سے محبت نہیں ہوتی آپ پلیز مجھے بیوقوف مت بنائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
(ان بڑے لوگوں کی ہنسی بھی کمال ہے. ہم غریبوں کو ہنسے کا بھی سلیقہ نہیں پورا منہ کھول کر دوسروں کو ڈرا دیتے ہیں. عنزہ نے تراب کی ہنسی سنتے ہوئے سوچا.)
آپ نے بلکل درست کہا میں نے رات اپنے سے سوال کیا کہ محبت اس بندے سے ہے یا اس کے سٹیٹس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یقین مانے سٹیٹس نے محبت کی نسبت زیادہ نمبر حاصل کیے. عجیب بات ہے ناااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کی بات پر تراب کو شدید حیرت ہوئی۔
مطلب مجھ سے زیادہ آپ کو میرا سٹیٹس پسند آیا. جس سے آپ کو بقول آپ کے محبت ہے تراب نے آئینہ کے آگے کھڑے ہو کر خود کا جائزہ لیا.
ہاں میرے خیال سے اگر آپ غریب ہوتے تو میری محبت میں اتنی شدت نہ ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہرحال جو بھی ہے مجھے یہ محبت پریشان کر رہی ہے جو میں ہونا نہیں چاہتی.
میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ میری طرف سے معزرت قبول کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔عنزہ نے بات سمیٹی اس سے پہلے دل بغاوت کرے.
معزرت کی ضرورت نہیں بلکہ میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ میری 27 سالہ زندگی میں آپ پہلی لڑکی ہیں جس نے مجھ سے “اظہارِ محبت” کی
اگرچہ طریقہ کافی “بھونڈا” تھا مگر پھر بھی ۔۔۔۔۔۔ تراب نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا.
آپ مجھے دل میں” بدعائیں” تو دیں گی کیونکہ میں بقول آپ کے آپ کی دسترس سے بہت دور ہوں ۔۔۔۔۔۔۔تراب نے ماحول سے اداسی ختم کرنا چاہی.
محبت میں “بددُعا” کا تصور نہیں ہوتا، جو دسترس سے نکل گیا خُدا “خوش” رکھے اُس کو اور جس کی دسترس سے نکلا خُدا “صبر” دے اُس کو……. عنزہ نے تراب کو واقعی ہی لاجواب کر دیا.
ہمممم….. آپ مجھے اپنے فیصلے پر بہت اداس لگ رہی ہیں. آپ جب چاہیں مجھے کال کر سکتی ہیں. ویسے وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے. میں اس “فلسفہ محبت” پر یقین نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔۔۔ تراب پتہ نہیں کس کو تسلی دے رہا تھا۔
یہ جو لوگ ہیں نہ ، جو كسى كے بچھڑنے كے بعد کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا ، اس سے بہتر كوئى مل جاۓ گا—- یہ جانتے ہی نہیں ہم محبت کرنے والوں کو، کچھ ٹھیک كچھ بہتر نہیں چاہئے ہوتا—-!!
ہمیں صرف وہی خراب شخص، وہی دل دکھانے والا شخص، وہی تکلیف پہنچانے والا شخص، وہی بات بات پہ لڑنے والا اور پھر منانے والا شخص، ناز نخرے اٹھانے والا شخص، وہی محبت، جى وہی محبت کرنے والا شخص چاہئے ہوتا ہے۔
کیونکہ وہ ایک شخص نہیں، پوری دنیا، پوری كائنات، پورى زندگی ہوتا ہے ہماری اور اگر وہ نہ ملے ناں، تو ہمیں کسی چیز کی آرزو نہیں رہتی ، دراصل وہ لاحاصل شخص ہی، ہماری ساری آرزو ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہی شخص ہوتا ہے کل کائنات کاروان عشق میں قافلہ کہاں ہوتا ہے۔ عنزہ نے کب ان الفاظ کے ساتھ فون بند کیا تراب کو پتہ نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اب بھی فون کان ساتھ لگائے کھڑا تھا. 💐 “‏جتنا ہنسنا تھا ، ہنس چکے ہم لوگ 🌹 اب تماشائے کُن تمہارے لیے
💐ہم بہت خوش مزاج تھے نہ رہے.
🌹سورۃِ فاتحہ ہمارے لیے

🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے