Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ایک تو میرا اس لڑکی نے دماغ خراب کیا ہوا ہے پتا نہیں کہاں سے آئی تھی اور کہاں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی۔ سب کچھ درہم برہم ہوگیا ہے ۔میں یعنی “میر تراب علی ” اس معمولی سی لڑکی کے لئے تڑپ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے زور سے سٹول کو ٹھوکر ماری ۔
اوپر سے ماما کو پتہ نہیں ان غریبوں سے اتنی ہمدردی کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پہلے سندس کو بھائی کے ساتھ باندھ دیا اور اب میرے پیچھے پڑ گئیں ہیں۔ میں کوئی گرا پڑا ہوں جو ایک غریب یتیم معمولی شکل کی پاگل لڑکی سے شادی کر لوں ۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے قیمتی پرفیومز کو ہاتھ مار کر گرا دیا۔ جس سے پورے کمرے میں رنگ برنگی خوشبو پھیل گئی۔
مجھے کیا سمجھ رکھا ہے۔ میں کوئی کھلونا ہوں۔ کہ جس کا دل کرے مجھ سے کھیل کر چلا جائے اور اس غریب لڑکی کی تو وہ بینڈ بجاؤں گا کہ یاد کرے گی ۔۔۔۔۔؟
تراب نے دو منٹ کے اندر اندر اپنے کمرے کی حالت بدل کر رکھ دی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید حشر خراب کرتا اس کے موبائل کی گھنٹی بجی ۔
رات کے اس پہر کیا تکلیف ہے آرام کیوں نہیں کرنے دیتے ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے کال اٹینڈ کرتے ہی ہمدانی پر اپنا باقی غصہ نکالا
سر میں نے معلومات مکمل کرلیں ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ ہمدانی رکا
مگر کیا بکواس کرو ۔۔۔۔۔۔؟ کون ہے وہ اور اس وقت کہاں ہے۔۔۔۔۔۔ ؟ تراب تقریباً چلا رہا تھا۔ زندگی میں پہلی بار وہ بے بس ہوا تھا۔
ہمدانی کی بات سنتے ہی اُس کے چہرے پر پہلے غصے نے اور پھر اس کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی ۔۔۔۔۔۔ تمہیں یقین ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تراب نے تصدیق کی ۔
جی سر بالکل درست بات ہے۔ میں آپ کو کچھ سکرین شارٹس بھیج رہا ہوں انہیں دیکھ کر آپ کو میری بات پر مکمل یقین آ جائے گا ۔ویسے بھی میں آپ سے جھوٹ نہیں بولتا ۔۔۔۔۔ ہمدانی نے آخر میں اپنی صفائی دی۔
مجھے بس پچھلے دو مہینے کی کالز کا ریکارڈ چاہیے ۔میرے لئے اتنا ہی کافی ہے اور صبح میرے آفس کی میز پر یہ ریکارڈ موجود ہو ۔۔۔۔۔۔ تراب نے حکم دیتے ساتھ ہی کال کاٹ دی ۔
اچھا تو عنزہ بی بی۔۔۔۔۔۔۔۔ !!! آپ کا کھیل اب ختم ہوا اور تراب کا شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں سے کس کا کھیل زیادہ دلچسپ ہو گا ۔
یہ کھیل تم نے شروع کیا تھا مگر ختم اس کو میں کروں گا۔ آغاز کا تو پتا نہیں مگر اختتام کمال ہو گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے ہنستے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور فریش ہونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جہاں آرا بیگم ناشتے کی میز پر ابھی یہ سوچ ہی رہی تھیں کہ آج تراب کا موڈ کیسا ہوگا ۔۔۔۔۔؟ اور ساتھ ہی ساتھ دل میں خود کو کوس بھی رہی تھیں کہ میں نے کیوں مسز عابد کی بات کو مان کر اپنے بیٹے کو ناراض کیا ۔
گڈ مارننگ میری پیاری ماما جانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں تراب کی محبت بھری آواز جہاں آرا بیگم کو سنائی دی۔
تراب نے ماں کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے چوما اور خود ناشتہ کرنے کے لیےکرسی پر بیٹھ گیا۔
ارے تم کب آئے مجھے پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جہاں آرا بیگم تراب کے خوشگوار موڈ پر شدید حیران تھی۔ کیونکہ اس کا غصہ اتنی جلدی ختم نہیں ہوتا تھا۔ پھر آج کیسے اتنی جلدی اتر گیا۔۔۔۔۔؟
جب آپ اپنے خیالوں میں گم تھیں _ براؤن تھری پیس سوٹ پہنے، وائٹ شرٹ پر گولڈن ٹائی لگائے وہ ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم ناشتہ نہیں کر رہی تھیں۔انہیں کچھ گڑبڑ لگ رہا تھا ۔ آخر ماں تھی اور اپنے بیٹے کے موڈ سے واقفیت رکھتی تھی ۔یوں اچانک بغیر کسی وجہ کے موڈ کا خوشگوار ہو جانا حیران کن تھا۔ ایک دم ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ناشتہ کریں نااااا یوں کیوں بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ ؟ زیادہ نہیں تو جوس ہی پی لیں۔ تراب بالکل نارمل انداز میں بات کر رہا تھا۔ اتنے میں شفقت بوا نے سلام کرتے ہوئے گرما گرم پراٹھے میز پر رکھے ۔ یہ کس کے کہنے پر بنائے ہیں پتہ بھی ہے میں اور تراب صبح صبح اتنا ہیوی ناشتہ نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم نے پراٹھے دیکھتے ہوئے شفقت بوا کو ڈانٹا۔ ماما میں نے بنوائے ہیں۔بس دل کر رہا تھا آج کھانے کو رات میں کھانا نہیں کھایا تھا تو بھوک بہت لگی ہوئی ہے بلکہ یوں سمجھیں آج کافی دنوں بعد بھوک لگی ہے۔ تراب نے بوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جہاں آرا بیگم کو جواب دیا۔
اتنی دیر میں ڈرائیور نے ہمدانی کے آنے کی اطلاع دی ۔جس پر تراب نیپکن سے اپنا ہاتھ منہ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا ۔جہاں آرا بیگم اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھیں۔
اچھا ماما جانی میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا اور میری فکر مت کرے میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔ تراب نے ماں کو ساتھ لگاتے ہوئے تسلی دی۔
اور ہاں وہ جو آپ رات کو کہہ رہی تھیں۔ میری طرف سے “ہاں” سمجھیں۔ جیسا آپ کو ٹھیک لگتا ہے ویسا ہی کریں۔ ماں کو ناراض کرنا کا میں نے کبھی نہیں سوچا اور نہ ہی آئندہ کروں گا ۔آپ خوش تو میں خوش تراب کی بات پہ جہاں آرا بیگم کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری اور گردن غرور سے اور تن گئ۔
مجھے یقین تھا تم ایسا کبھی کر ہی نہیں سکتے کہ میری بات کو رد کر دو ایک غرور ،ایک ناز ،ایک خاص ادا، ایک فرمابرداری
جو جہاں آرا بیگم کو ہمیشہ تراب کی طرف سے ملتی تھی۔
بوا آپ ناشتے سے فارغ ہو کر میرے کمرے میں آئیں۔ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔جہاں آرا بیگم نے تراب کے جاتے ہی بوا سے کہا جس پر انہوں نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا مگر منہ سے کوئی جواب نہ دیا
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
آخر تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔؟ جو بات بھی زویا بیٹی کہتی ہے تم اس میں کیڑے نکالنے لگتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا جان نے اس وقت احمر کے “انکار” پر اسے ڈانتے ہوئے پوچھا ۔
اگر یہ اپنے دماغ سے ایک “کیڑا” نکال دے تو میں بھی اس کے کاموں میں کیڑے نکالنا چھوڑ دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے چڑانے والے انداز میں جواب دیا۔
ایک کپڑا کونسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے آہستہ آواز میں پوچھا
مجھے تنگ کرنے والا _ احمر نے اونچی آواز میں جواب دیا ۔جس کا مطلب صاف تھا کہ اب وہ ڈرنے والا نہیں ہے ۔ اگر میں ایک نکال بھی دوں تب بھی باقی جو آدھا درجن بچ جائیں گے وہ تو اپنا کام کرتے رہیں گے ناااا
زویا نے افسوس کا اظہار کیا ۔
میں اب تم دونوں کی لڑائیوں سے بہت پریشان رہنے لگا ہوں۔ اور ان لڑائیوں کا ایک ہی حل ہے کہ تم دونوں کی شادی کر دی جائے ۔
مگر جو بھی رشتہ تم دونوں کا کیا جاتا ہے۔ تم لوگ یا تو اس میں کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کرلیتے ہو یا مسئلہ خودبخود پیدا ہوجاتا ہے ۔یہ بات میں آج تک سمجھنے سے قاصر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ آغا جان نے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا
میں آج تم دونوں کو ایک مہینہ دے رہا ہوں۔ تم دونوں اس ایک مہینے کے اندر اندر اپنی پسند تلاش کر کے بتاؤ گے۔ دوسری صورت میں میں تم دونوں کی شادی اپنی پسند سے کردوں گا اور تم میں سے کوئی بھی اعتراض نہیں کرے گا منظور کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آغا جان نے باری باری دونوں کی طرف دیکھا
مجھے منظور ہے
احمر نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے جواب دیا ۔
مگر مجھے منظور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں خود کیسے۔۔۔۔۔ ؟آغا جان آپ کو کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ زویا نے روٹھے لہجے میں شکایت کی۔
بیٹا آپ لوگوں نے صرف اپنی پسند بتانی ہے ۔باقی کام میرا ہے۔ میں تم دونوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتا۔ اگر آج تمہاری دادو زندہ ہوتی یعنی میری بیگم صاحبہ تو مجھے اتنی پریشانی نہ ہوتی آغا جان نے محبت بھری نظر سے زویا کی طرف دیکھ کر جواب دیا
جس طرح آپ زویا کو دیکھتے ہیں کیا اس طرح مجھے دیکھنے پر آپ کی آنکھوں میں درد ہوتا ہے یا آپ کی نیت میں فتور ہے۔۔۔۔۔ ؟؟؟ احمر نے گلا کیا ۔
آغا جان لگتا ہے کہیں آگ لگی ہے اور بہت زور سے پھیل رہی ہے۔ کتنی تیز بُو آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زویا کی بات سمجھتے ہوئے آغا جان مسکرائے
احمر تم اگر ابھی اسی وقت پانی پیو گے تو یقین مانو تمہارے اندر سے “چُھو چُھو” کی آوازیں آئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا اب باقاعدہ قہقہ لگا رہی تھی ۔
میری طرف سے تو تم “دفع” ہی ہو جاؤ۔ پلکہ تم نے تو ہونا نہیں ہے ۔تو یہ کام میں خود ہی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر کہتا ہوں اٹھ کھڑا ہوا ۔
“دفع ہونے والے تجھے رب دیاں رکھاں”
زویا احمر کو جاتا دیکھ کر گانا گانے لگی جبکہ جاتے جاتے احمر نے اسے کشن اٹھا کر مارا۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
میرے ہی گھر میں رہ کر۔۔۔۔۔ میرا ہی کھا کر۔۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا تھا تم مجھے بے وقوف بنا لو گی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور مجھے پتا بھی نہیں چلے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ تراب اس وقت اس کے سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
آگے سے ہٹیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے باہر جانا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔عنزہ کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی تاثر نہ تھا جو تراب کو مزید غصہ دلا گیا ۔
کھیل ختم
مجھے تمہاری اصلیت معلوم ہوگئی ہے۔ویسے تمہارے حوصلے کی داد دینی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے تالی بجائی۔
پہلے بھی مجھے غریب لوگوں سے نفرت تھی مگر اب شدید ہو گئی ہے۔ کیونکہ تم لوگ اچھی زندگی گزارنے کے لئے محنت کرنے کی بجائے ہم جیسے امیر اور شریف لوگوں کو بیوقوف بناتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب جو اس وقت بچوں سے ملنے آیا تھا عنزہ کو وہاں بیٹھا دیکھ کر بھڑک اٹھا ۔
آپ جیسے شریف لوگ۔۔۔۔۔ عنزہ طنزاً مسکرائی۔
یہ شرافت ہی ہے جو آپ یہاں عزت سے کھڑی ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب کی اونچی آوازیں سن کر جہاں آرا بیگم بھی لاؤنچ سے اس طرف آگئیں۔
یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہوا ہے ادھر ۔۔۔۔۔؟؟؟ جہاں آرا بیگم نے دونوں کو آمنے سامنے کھڑا دیکھ کر پوچھا ۔
چاچو آپی کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں ان کو کیا ہوا ہے جب کہ آپی نے تو کچھ کہا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ عون نے عنزہ کے پیچھے چھپتے ہوئے معصومیت سے جواب دیا ۔
تم چپ کرو اور چھوڑ اس کا ہاتھ۔۔۔۔؟؟؟ جہاں آرا بیگم نے زور سے عون کو عنزہ سے پیچھے کیا ۔
تراب یہ کیا بتمیزی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ دروازے سے ہٹو اور اس لڑکی کو راستہ دو _
تراب کچھ دیر عنزہ کو گھورتا رہا ۔پھر ایک نظر جہاں آرا بیگم پر ڈال کر تیزی سے مڑ گیا جبکہ عنزہ تقریباً بھاگتی ہوئی کوارٹر میں آگئی ۔
یا اللہ یہ کیا ہو گیا ہے میں نے ایسا تو کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب بوا مجھے نہیں چھوڑیں گی ۔ عنزہ کا ڈر سے برا حال تھا اور تراب کا غصے سے بھرا چہرہ اسے بار بار یاد آرہا تھا ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.