No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
”لٙا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا
غم نہ کرو ، بیشک اللہﷻ ہمارے ساتھ ہے.”
دیوار پر لگی اس آیت کو پڑھتے ہوئے شفقت بُوا نے جائے نماز طے کر کے رکھی اور اپنی چادر اتار کر عنزہ کو آوازیں دینے لگیں.
لڑکی اب اٹھ بھی جا _ ادھر نماز کا وقت ختم ہوتا ہے اُدھر تم بستر سے باہر نکل آتی ہو. صبح اللہ کے ذکر سے شروع کرنے میں بڑی برکت ہے. خاص طور پر فجر کی نماز تو ہمارے لیے اس “سوہنے رب” کا تحفہ ہے. شفقت بُوا بولتے بولتے کچن کی طرف بڑھ گئیں جبکہ عنزہ نے لحاف سے منہ باہر نکال کر کمرے کا جائزہ لیا. پتہ نہیں ان “بزرگوں” ساتھ کیا مسئلہ ہوتا ہے….؟خود تو انھیں نیند نہیں آتی اور ہم جیسے معصوم لوگوں کو بھی سونے نہیں دیتے. قسم سے پیارے اللہ جی مجھے آپ سے بہت “محبت” ہے مگر یہ “وضو” میری اور آپ کی محبت میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے. اتنی سردی میں گرم بستر سے نکل کر ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بہت مشکل ہے مگر میں پھر بھی کوشش کرتی ہوں صرف آپ کے لیے………. روز کی طرح عنزہ نے گھڑی دیکھتے ہوئے سوچا ابھی تک اُٹھی نہیں ….. عنزہ میں تجھ سے بہت تنگ آ گئی ہوں کہ بتا نہیں سکتی. سوچا تھا بڑھاپے میں آرام سے اللہ توبہ کروں گی مگر تیرے ماں باپ مجھے جاتے جاتے تیری ذمہ داری سونپ گئے. اگر وہ اوپر نہ جاتے تو میں اپنے بیٹے پاس کراچی میں اپنے آخری ایام سکون سے گزار رہی ہوتی بوا ناشتا بناتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہیں تھیں.
کتنا اچھا ہوتا اگر میرے والدین اوپر جاتے جاتے آپ کو بھی ساتھ لے جاتے مگر افسوس عنزہ تیری قسمت……… عنزہ بھی برابر بڑبڑاتے ہوئے بستر سےباہر آ گئی.
اچھا اللہ تعالیٰ جیسے آپ کی مرضی…… ایک سرد آہ اوپر کی طرف دیکھ کر بھری اور صحن میں لگے نلکے سے وضو کرنے لگی.
ہائے لڑکی بیمار پڑ کر میرے لیے نئی مصیبت کھڑی کرنی یے. میں نے لوٹے میں تیرے لیے گرم پانی رکھا تھا. شفقت بوا اسے نلکے سے وضو کرتا دیکھ کر تاسف سے بولیں.
بس کریں بوا……. آپ تو ایسے کہہ رہیں ہیں جیسے میں نے کبھی ٹھنڈا پانی استعمال ہی نہیں کیا. عنزہ دوپٹے سے اپنا منہ صاف کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی.
اللہ جانے کس پر گئی ہے…..؟ اس کے والدین تو بہت قناعت پسند اور اللہ کے شکرگزار بندے تھے. بوا دل میں سوچتی ہوئی ناشتا لے کر کمرے میں داخل ہوئی.
چل بیٹا اب جلدی سے ناشتا کر لے مجھے آج جلدی جانا ہے.
اسے ناشتا کہتے ہیں….؟ بوا آپ کی اطلاع کے مطابق اسے صرف “گھی والی روٹی” اور “چائے” بولتے ہیں. ناشتا تو امیر لوگ کرتے ہیں. کیسے پورا ٹیبل مزے مزے کی چیزوں سے بھرا ہوتا ہے. ہائے _ عنزہ نے حسرت بھری نظروں سے بوا کی طرف دیکھا. بیٹا ایسے نہیں سوچتے بری بات ہے. اوپر والے کی ہم پر بہت رحمت ہے اپنے گھر میں رہتے ہیں. دو وقت کی تازی روٹی کھاتے ہیں. بوا نے محبت بھری نظروں سے عنزہ کی طرف دیکھا جو منہ بنائے ناشتے کو دیکھ رہی تھی. آپ اس “کھنڈر” کو گھر کہتی ہیں. بوا آپ بھی کمال کرتی ہیں. دو مرلے کا یہ مکان، ٹوٹے پھوٹے فرش، بغیر پلستر کی دیواریں، ایک چھوٹا سا کچن اور وہ کونے والی لیٹرین جہاں رات میں جاتے ہوئے ویسے ہی ڈر لگتا ہے. بجلی آتی ہی نہیں، پانی کی بھی اپنی مرضی ہے. نہ دھوپ سے بچاتا ہے اور نہ بارش سے، چھت دیکھیں اگر ذرا سا بھی جھٹکا لگا تو ہم دونوں آپ کے مرحوم بھابی بھائی کے پاس پہنچ جائیں گے عنزہ کہتے ساتھ جائے نماز طے کرنے لگی. بیٹا جیسا بھی ہے اپنا تو ہے ناااااا…….. میری دعا ہے تیری شادی کسی بڑے سے آفیسر یا شہزادے سے ہو تو محل میں جائے. راج کریں بوا نے پیار سے عنزہ کی طرف دیکھا
بوا بس کرو اس جگہ کوئی “چور” نہ اور تم شہزادے آفیسر کی دعائیں مانگ رہی ہو. محل اور کوٹھیوں کی نوکرانیاں بھی مجھ سے اچھے حلیے میں ہوتی ہیں. عنزہ کہتے ہوئے زمین پر آلتی پالتی مار کر بوا کہ برابر بیٹھ گئی.
بوا ویسے ایک بات کہوں مجھے “شادی” کا بہت شوق ہے مگر صرف کسی “امیر انسان” کے ساتھ……… اگر تم نے میری شادی کسی غریب سے کرنے کا سوچا تو میں نے اسے مار دینا ہے ۔۔۔۔۔ عنزہ اپنی بات کے آخر میں زور سے ہنسی اور چائے کا کب بوا کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوئے اٹھایا.
ارے تجھے دن بدن کیا ہوتا جا رہا ہے. کچھ تو خدا کا خوف کر…….. ہر وقت پتا نہیں کیا سوچتی رہتی ہوں……؟ اللہ تیری نصیب اچھے کرے. جلدی سے اب ناشتہ ختم کر. مجھے میر صاحب کے گھر بھی جانا ہے. آج بیگم صاحبہ نے جلدی آنے کا کہا تھا اگر دیر ہوگئی تو وہ بہت غصہ کریں گی. شفقت بوا کہتے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی.
بوا آج چھٹی ہے. میں بھی چلو آپ کے ساتھ…….. مجھے بڑے بڑے گھر دیکھنے کا بہت شوق ہے. پلیز عنزہ نے لجاجت سے پوچھا
نہیں بیٹا تمہارا وہاں کیا کام میں نہیں چاہتی کہ تم کبھی وہاں جاؤ ۔۔۔۔وہ جگہ تمہارے لئے مناسب نہیں ہے. بوا نے پیار سے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
سورج کی کرنیں آج پھر میر لاج کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی اس کے ہرے بھرے لان کو ایک اور روشن دن کی نوید سنا رہی تھیں.
میر لاج میں ہر صبح کی طرح آج بھی گہما گہمی عروج پر تھی. مالی ولاز کے چاروں طرف پھیلے ہرے بھرے لان کی دیکھ بھال میں مصروف تھے.
گیراج میں گاڑیاں باوردی ڈرائیور کے ساتھ تیار کھڑی تھیں.
کچن سے مزے دار رنگ بھرنگے کھانوں کی خوشبوئیں بھی آرہی تھیں.
ایسے میں جہاں آرا بیگم گولڈن براؤن کلر کی ساڑھی زیب تن کئے ایک ادا سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ناشتے کی ٹیبل تک پہنچیں.
شفقت بوا ناشتہ لگا دیں. جہاں آرا بیگم نے موبائل پر دیکھتے ہوئے دھیمے مگر رعب دار لہجے میں کہا
جو حکم بیگم صاحبہ……… شفقت بوا نے اپنی چادر کندھوں پر درست کرتے ہوئے باادب جواب دیا اور چل منٹوں کے اندر اندر ٹیبل کھانے کی چیزوں سے سج گیا.
کرموبابا جا کرتراب کو بلا لائیں تاکہ ہم ناشتہ شروع کریں. مجھے آج ایک سیمینار پر جانا ہے. دیر ہو رہی ہے. جہاں آرا بیگم نے ایک نظر تراب کی خالی کرسی کو دیکھتے ہوئے کہا اور دوبارہ موبائل میں مصروف ہوگئیں. جبکہ شفقت بوا سمیت تین اور ملازمہ ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی تھیں.
ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا وہ معمول کے مطابق اپنے عکس کو دیکھتا مسکرا رہا تھا.
کیا چیز ہو تم “میر تراب علی”…..؟
پرفیوم کے دھواں دار سپرے نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لیا. اب وہ اپنا کوٹ پہن رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی.
اندر آجائیں…….
باوجود غرور اور خودی پسندی کی انتہا ہونے پر بھی ملازموں سے دائرے اخلاق میں بات کرنا اسے پسند تھا.
میر صاحب بڑی بیگم صاحبہ ناشتے پر بلا رہی ہیں….؟ کرمو بابا جو شاید تراب کے والد کے زمانے کی” آخری نشانی” اس گھر میں موجود تھے اور اس خاندان کے تمام اتار چڑھاؤ دیکھتے آئے تھے اپنی عمر اور سامنے والے کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گویا ہوئے.
بابا آپ تو کم از کم مجھے صاحب مت کہا کریں. میں نے صرف آپ کو اجازت دے رکھی ہے. مجھے “تراب” کہنے کی اور آپ ہیں کہ…….. تراب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کوٹ کا بٹن بند کیا.
آپ کی محبت ہے ورنہ……. کرمو بابا کے الفاظ پوری طرح ادا بھی نہیں ہوئے تھے کہ تراب کی آواز کمرے میں گونجی
محبت…… نہیں…. احترام…..
اپنے الفاظ درست کریں. مجھے محبت صرف اپنے فیملی ممبرز سے ہے اس کے علاوہ کسی سے نہیں. سنجیدہ لہجہ میں کہتے ہوئے کرمو بابا کو شرمندہ کیا اور خود باہر نکل گئے.
بلکل بڑے” میر صاحب” کا عکس ہیں. یہ لوگ نہیں بدل سکتے. کرمو بابا سوچتے ہوئے خود بھی باہر چل دیے.
اپنی پوری شان و شوکت اور مردانہ وجاہت کے ساتھ تراب نے جیسے ہی لاؤنچ میں قدم رکھا ایک ساتھ وہاں موجود تمام ملازموں نے اسے سلام کیا. جس پر وہ سر ہلانے کے ساتھ ساتھ منہ سے جواب دیتا ہوا اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.
کتنی دفعہ کہا ہے نوکروں کو صبح صبح منہ مت لگایا کرو مگر تمہیں پتہ نہیں کیوں میری باتیں اثر نہیں کرتیں اپنی صبح بھی خراب کرتے ہو اور میری بھی…….. جہاں آرا بیگم نے ناگواری سے کہتے ہوئے اپنے گلاس میں جوس انڈیلا.
ماما جانی میری صبح خراب نہیں ہوتی کیونکہ میں صبح صبح یہ حسین چہرہ دیکھتا ہوں .تراب نے ماں کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئے سلائس پر مکھن لگایا .
سلائس پر مکھن لگاؤ ماں کو نہیں تراب کے جواب پر جہاں آرا بیگم مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے ملازموں کو حقارت سے دیکھنے لگیں. اس سے پہلے کے تراب سلائس کھاتا اسے اپنے پیچھے حمنہ کی آواز آئی اور وہ سلائس واپس پلیٹ میں رکھتا ہوا آٹھ کھڑا ہوا. یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے تمہارا سارا سوٹ اس نے خراب کر دینا ہے…….. ؟ جہاں آرا بیگم نے تراب کو حمنہ اٹھاتے دیکھ کر غصے سے کہا کہاں مر گئی ہے اس کی آیا….؟ نمک حرام، کام چور، دو ٹکے کے لوگ……… ابھی وہ مزید لغویات بکتیں اس سے پہلے ایک درمیانی عمر کی خاتون لاؤنچ میں داخل ہوئی. معافی چاہتی ہوں بیگم صاحبہ وہ میں عون بابا کے کپڑے تبدیل کر رہی تھی تو یہ کمرے سے باہر آ گئی. بس بس تم لوگ اور تمہارے بہانے….. کتنی دفعہ کہا ہے بچوں کو کمرے تک رکھا کرو اور خاص طور پر صبح کے وقت…… سارے ناشتے کا بیڑہ غرق کر دیا ہے. بس کریں نااااا…… کیوں اتنا غصہ کر رہیں ہیں. اور آپ جائیں. تراب نے حمنہ کو گود میں لیتے ہوئے دوبارہ اپنی کرسی سنبھالی اور آیا کو جانے کا اشارہ کیا. جس پر اس نے شکرگزار نظروں سے تراب کو دیکھا. تم کب یہ مڈل کلاس لوگوں کی طرح behave کرنا چھوڑو گے…..؟ دیکھو وہ کس طرح اپنے گندے ہاتھ تمہارے کوٹ پر لگا رہی ہے…… جہاں آراء بیگم نے حقارت سے حمنہ کی طرف دیکھا. میں سوٹ بدل لوں گا آپ اس کی فکر نہ کریں اور پلیززززز ہینڈسم لیڈی ناشتہ کریں. تراب نے سلائس حمنہ کے منہ میں ڈالتے ہوئے مسکرا کر ماں کی طرف دیکھا. میں مزید یہ سین نہیں دیکھ سکتی…… وہ کہتی ہوئیں لاؤنچ سے باہر چلی گئیں. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 آغا جان اب ناشتہ شروع بھی کر دیں اور اگر آپ نے آج ناشتہ نہیں کرنا تو پلیز مجھے ہی کرنے دیں. احمر نے مسکین سی شکل بنا کر ناشتے کی طرف دیکھا صبر کرو بٹیا کو تو آنے دو……. زویا بٹیا آ جاؤ…….. ناشتا “ٹھنڈا” ہو رہا ہے اور احمر “گرم”…… اپنی بات کے آخر میں آغا جان نے قہقہ لگایا جبکہ احمر نے منہ بناتے ہوئے موبائل پکڑا. “میں آج آقا جان کی وجہ سے لیٹ ہو جاؤں گا. ان کی لاڈلی ابھی اٹھی نہیں تو کوئی ناشتہ نہیں کر سکتا. لہذا اگر تم نے باحیثیت باس مجھے آج سب کے سامنے کوئی سزا دی تو سمجھ لو ہماری دوستی ختم” احمر نے واٹس ایپ تراب کو کیا اور موبائل بند کر کے ٹیبل پر رکھ دیا. اگر مزید” پانچ منٹ” تک آپ کی کچھ لگتی ناشتے پر نہیں آئی تو میں ناشتہ کئے بغیر آفس چلا جاؤں گا. احمر نے دھمکی دینے والے انداز میں آغا جان کی طرف دیکھا. ٹھیک ہے برخوردار تم جا سکتے ہو مگر ایک بات یاد رکھنا اگر ناشتہ کئے بغیر گئے تو پھر تمہیں “گاڑی” نہیں ملے گی “پیدل” جانا ہوگا اور ناشتہ صرف اس صورت میں ملے گا جب بٹیا آئیں گی……. آغا جان نے بھرپور احمر کی نقل اتارتے ہوئے جواب دیا آغا جان……….. احمد نے تقریبا چیختے ہوئے احتجاج کیا. اس سے پہلے کہ آغا جان کچھ کہتے ہیں “صبح بخیر آغا جان” کی آواز کانوں میں پڑی. آگئی میری شہزادی بٹیا، اپنے آغا جان کی جان……… آغا جان نے لاڈ سے زویا کو سر پر پیار کیا اور وہ احمر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی. تمہیں کیا ہوا ہے، صبح صبح یوں منہ بنایا ہوا ہے……. ؟؟؟ زویا نے کپ میں چائے ڈال کر آغا جان کے آگے رکھتے ہوئے احمر سے پوچھا مجھے آپ کے ہوتے ہوئے کیا ہو سکتا ہے……. ؟ ویسے مہربانی فرما کر رات کو جلدی سو جایا کریں اور اگر یہ نہیں کر سکتی تو کم از کم صبح جلدی اٹھ جایا کریں. عین نوازش ہو گئی……… اب اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ “زہر مار” کر لوں. احمر کے سوال پر آغاجان اور زویا نے ایک ساتھ قہقہ لگایا جب کہ وہ منہ بنا کر ناشتہ کرنے لگا. آغا جان میں سوچ رہی تھی کہ میں کیوں نہ احمد کے ساتھ تراب بھائی کا آفس جوائن کر لوں سارا دن گھر پر پڑی بور ہو جاتی ہو………. ؟ زویا کی بات پہ آغا جان میں سوچ رہی تھی کہ میں کیوں نہ احمد کے ساتھ تراب بھائی کا آفس جوائن کر لوں سارا دن گھر پر پڑی بور ہو جاتی ہو ۔۔۔۔۔۔ زویا کی بات پہ آغا جان مسکرانے لگے جب کہ احمر نے اس کے آگے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے. او بی بی بس کرو…….. اب میری جان چھوڑ بھی دو. تم کیا ہر جگہ میرے ساتھ “چپکی” رہتی ہو. مجھے لگتا ہے جلد ہی میرے “شناختی کارڈ” پر “علامتی نشان” کے آگے “تمہارا نام” ہوگا………. احمر کی بات پر آغاجان نے اسے گھور کر دیکھا احمر مرمرمرمر……….. ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کیا سوچ کر آپ کے بیٹے نے میرا نام رکھا تھا. “اح” پرکم اور “مر” پر ہر کوئی زیادہ زور دیتا ہے۔ احمر نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے اپنے ہاتھ نپکن سے صاف کیے اور آٹھ کھڑا ہوا. اگر اس نے تراب کا آفس جوائن کیا تو پھر مجھ سے گلہ مت کرنا میں وہاں کام نہیں کروں گا. احمر انگلی کے اشارے سے دونوں کو وارن کرتا باہر نکل گیا. جبکہ زویا مسکرانے لگی. مت تنگ کیا کرو…….. آغا جان نے ہلکی سے چت زویا کے سر پر لگاتے ہوئے تنبہہ کی. مُجھے غرض ہے مٹھاس سے
چائے ہو یا _: تمھاری باتیں
زویا نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے.
