Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

یار ویسے تو مجھے کوئی حق حاصل نہیں کہ میں تیری ذاتی زندگی میں دخل اندازی کروں مگر میرے خیال سے تجھے آج رات یا تو عنزہ بھابھی ساتھ یہاں رہنا چاہیے یا انہیں میر لاج لے جانا چاہیے ۔
مجھے تو ان کے بھائی اور بھابھی دونوں کا رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں لگ رہا آگے تیری مرضی احمر نے تراب کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا جو اس وقت گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بارش کی ننھی بوندوں سے گیلا ہو رہا تھا
تمہارا کیا خیال ہے تراب بھائی تمہاری بات مانیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر جیسے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا زویا نے تراب کی گاڑی کی ہیڈ لائٹس آن ہوتے دیکھ کر پوچھا
تمہارے کہنے پر میں نے اسے کہ تو دیا ہے مگر وہ جہاں آرا کا بیٹا ہے جنہیں بات ” ماننے “کی نہیں “منوانے” کی عادت ہے ۔احمد نے ونڈ اسکرین وائیپر چلاتے ہوئے جواب دیا
اب تم کیوں منہ بنا کر بیٹھ گئی ہو تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے خاموشی سے بیٹھی ہوئی زویا کو دیکھ کر پوچھا
مجھے بھابھی کے لئے بہت برا لگ رہا ہے میں نے غلطی کی آج مجھے نہیں آنا چاہیے تھا انہی کے پاس رات رک جاتی ۔۔۔۔۔۔ زویا نے افسوس سے اپنا سر ہلایا
تم کیوں اتنی اداس ہو رہی ہوں جسے ہونا چاہئے وہ تو مزے سے اپنے محل جا رہا ہے
تراب کی گاڑی پاس سے گزری تو احمر نے غصے کا اظہار کیا
عجیب بات ہے مجھے تو کہہ رہے تھے کہ اسے جا کر دیکھو ٹھیک ہے اور خود اب گھر جا رہے ہیں حالانکہ اس وقت سب سے زیادہ انہیں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھابھی کا خیال رکھیں۔ زویا کی بات پر احمر نے ہاں میں سر ہلایا
تم تو کہہ رہے تھے تراب بھائی انھیں بہت پسند کرتے ہیں مگر مجھے تو یہاں کوئی چکر نظر نہیں آ رہا
زویا نے احمر کے بازو پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا
چلو یہ بھی اب میرا ہی گناہ ہے تم مجھ پر اتنا تشدد کیوں کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جو اس نے کہا تھا وہ میں نے بتا دیا اب میں اور کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔؟ محبت کوئی اور کرتا ہے اور رگڑا کسی اور کو لگتا ہے یہ کیسا زمانہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے ناگواری سے جواب دیا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
اس وقت کون ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ایاز نے زارا اور عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
محلے سے کوئی ہو گا حالانکہ میں نے سب کے گھروں میں چاول بھجوا دیے تھے ۔میں بچوں کے پاس باہر سونے جا رہی ہوں اگر تم نے بھی باہر سونا ہے تو آ جاؤ _ زارا ناگواری سے کہتی ہوئی ایاز کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی جب کہ عنزہ نے تھک کر اپنے گھٹنوں پر سر رکھ دیا ۔ میر صاحب آپ اور اس وقت ، یہاں خیریت دروازے کے باہر کھڑے تراب کو دیکھ کر ایاز کو حیرت ہوئی
میں اندر آ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بارش کو دیکھتے ہوئے تراب نے جواب کی بجائے سوال کرنا مناسب سمجھا ۔
جی صاحب جی آپ اندر آئیں۔ ایاز نے فورا راستہ دیا ۔
میں عنزہ سے ملنا چاہتا ہوں اس وقت بہت لوگ تھے تو مجھے مناسب نہیں لگا ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے میرے خیال سے ایک شوہر اپنی بیوی سے کسی بھی وقت مل سکتا ہے ۔ کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے تراپ نے ایاز کے پیچھے کھڑی اس کی بیوی کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے کہا ہاں ہاں ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ کا ہی نکاح عنزہ سے ہوا تھا۔ زارا کی نظریں تراب کا سر سے پاؤں تک جائزہ لے رہی تھیں۔ اس کی ضرورت تو نہیں ہے مگر پھر بھی آپ کی تسلی کے لئے _ تراب نے اپنے موبائل کی گیلری آن کرکے ایاز کو دے دی ۔جس پر دونوں میاں بیوی کے رنگ ایک دفعہ اڑ گئے۔
بجلی کی گرج چمک اور بارش کی آواز عنزہ کو خوف میں مبتلا کر رہی تھی ۔ تبھی اسے اپنے اردگرد ایک مخصوص خوشبو کا احساس ہوا ۔ کاش اس خوشبو والے کو بھی میرا اسی طرح خیال ہوتا جیسے ہر وقت مجھے اس کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔؟ گھٹنوں میں سر دیئے عنزہ نے دل میں سوچا تراب کچھ دیر تو عنزہ کے پاس خاموش کھڑا رہا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے تسلی دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ پھر ہمت کرکے اس نے اپنا ہاتھ عنزہ کے سر پر رکھا۔ آپ اور یہاں عنزہ نے بے یقینی سے تراب کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
آپ کو اچھا نہیں لگا میرا آنا ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب کہتے ہوئے عنزہ کے سامنے بیٹھ گیا ۔
نہیں وہ اصل میں یہ جگہ آپ کے قابل نہیں ہے اور بارش میں تو اور بھی زیادہ یہاں کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔عنزہ کی بات پر تراب نے کمرے کا جائزہ لیا۔چھت بھی کہیں کہیں سے ٹپک کر رہی تھی ۔ اور بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری تھی ۔
شاید بارش کی وجہ سے آپ کے کپڑے گیلے ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ عنزہ نے تراب کے کوٹ کی طرف اشارہ کیا ۔
شاید نہیں یقینا ،وہ گاڑی گلی کے اندر تک نہیں آتی اسی لئے
تراب نے عنزہ کے کہنے پر اپنا کوٹ اتار کر بیڈ کی سائیڈ پر رکھا اور شرٹ کے بازو بھی کھول کر فولڈ کر لئے ۔اب وہ جوتے اتار رہا تھا جبکہ عنزہ اسے فرصت سے دیکھ رہی تھی ۔
بیگم صاحبہ آپ سے بہت ناراض ہوں گی آپ نے انہیں بتایا ہے کہ آپ کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عنزہ کی بات پر موزے اتارتے تراب کے ہاتھ رکے ۔
وہ مجھے کچھ نہیں کہتیں، ویسے بھی میں کوئی چھوٹا سا بچہ تھوڑا ہوں جو گم جاؤں گا تراب نے موزے اتار کر اپنی پینٹ کے پائنچے فولڈ کئیے اور پھر بیڈ کے اوپر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔
اب دونوں ایک دوسرے کے برابر مگر مخالف سمت میں تھے ۔کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر عنزہ نے بجلی چمکنے پر سر اوپر اٹھا کر تراب کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
مجھے شروع سے ہی بارش اور اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے اس دن بھی بوا گھر پر نہیں تھیں۔ دیر ہونے کی صورت میں انہوں نے مجھے آپ کا نمبر دیا تھا عنزہ نے بیڈ کی چادر پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنا شروع کیا میں نے کسی بھی خاص مقصد کے لیے آپ کو کال نہیں کی تھی مگر بوا کہ منہ سے آپ کی تعریفیں سن کر مجھے آپ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا _ عنزہ کی بات پر تراب نے اسے غور سے دیکھا جو بیڈ کو ایسے گھور رہی تھی جیسے کوئی کتاب پڑھ کر سنا رہی ہو ۔
میرا شمار ان بیوقوف لڑکیوں میں ہوتا ہے جیسے ایک انسان سے محبت ہوئی صرف اس کی آواز سن کر
مجھے آپ سے بات کرنا اچھا لگتا تھا میری کوئی دوست نہیں ہے بوا بھی اکیلا چھوڑ کر چلی جاتی تھیں۔ عنزہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہنا شروع کیا ۔
میر لاج بھی وہ میرے کہنے پر شفٹ ہوئیں وہ خود وہاں جانا نہیں چاہتی تھیں۔ میں نے اپنی ضد میں آ کر انہیں مار ڈالا ورنہ وہ آج زندہ ہوتیں میرے ساتھ ہوتیں بولتے بولتے عنزہ کی آواز بند ہو گئی اور اس نے سسکیوں سے رونا شروع کر دیا جبکہ تراب اسے بہت فرصت سے سن اور دیکھ رہا تھا یہ گھر میرے نام ہے اور ایاز بھائی چاہتے ہیں کہ میں اسے بیچ کر انہیں پیسے دے دو یہ کوئی بہت قیمتی گھر نہیں ہے نہ ہی یہ بہت مہنگا بکے گا ۔مگر میری خواہش ہے کہ آپ مجھے کچھ پیسے ادھار دے دیں جو میں ایاز بھائی کو دے سکوں کیونکہ میں یہ گھر بیچنا نہیں چاہتی ۔
آپ کے لیے یہ محض اینٹوں کا ڈھیر ہے مگر میرے لیے یہ گھر بہت قیمتی ہے کیونکہ میں نے یہاں اپنے بچپن کے دن گزارے ہیں اور میں یہاں بوا کی محبت میں پل کر جوان ہوئی ہوں ۔آپ مجھے ادھار پیسے دیں گے نااااا عنزہ نے امید بھری نظروں سے تراب کی طرف دیکھا
اگر میں آپ کو ادھار پیسے دے دوں تو آپ مجھے کب اور کیسے وہ پیسے واپس کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے سنجیدگی سے پوچھا
یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ کب واپس کروں گی مگر یہ پکا وعدہ کہ واپس کر دوں گی۔ عنزہ کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے ۔
اس طرح تو میری رقم ڈوب جائے گی اور میں ہرگز وہاں سرمایہ کاری نہیں کرتا جہاں رقم ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے مگر ایک شرط پر میں آپ کو پیسے دینے پر تیار ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب کو عنزہ کے چہرے پر آتے جاتے رنگ اچھے لگ رہے تھے۔
کیسی شرط اگر میں پوری نہ کرسکی تو ۔۔۔۔۔۔۔؟ عنزہ کو اس وقت اپنے اوپر سخت غصہ آیا ۔کیا ضرورت تھی ان سے پیسے مانگنے کی ۔ آپ کھانا کھا کر ابھی دوا لیں گئ ۔مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی اور صبح میرے ساتھ میرلاج چلیں گئیں۔ منظور
تراب نے کہتے ساتھ اپنا ہاتھ عنزہ کے آگے پھیلایا
باقی تو سب ٹھیک ہے مگر اب میں میرلاج کبھی نہیں جاؤں گی ۔میں بوا کے بغیر وہاں کیسے رہوں گی ۔مجھے ڈر لگتا ہے۔ عنزہ نے تراب کے پھیلے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
میرلاج اب آپ کا ہے اور وہ اپنی مالکن کے بغیر اداس ہو جائے گا۔رہی بات آپ کو ڈر لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟ تو حیرت ہے میرے ہوتے ہوئے آپ کو میرے علاوہ بھی کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہے _ تراب نے مسکراتے ہوئے خود ہی دوسرے ہاتھ سے عنزہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا جو آگ کی طرح جل رہا تھا ۔ بیگم صاحبہ بہت ناراض ہوں گئیں۔انہوں نے مجھے سختی سے منع کیا ہے کہ میں آپ کے پاس بھی دکھائیں نہ دوں۔عنزہ کی بات پر تراب کو حیرت ہوئی۔ وہ میرا مسئلہ ہے آپ بے فکر رہیں۔ میں آپ کا یہ مکان دوبارہ بناؤں گا۔ ایاز کو اپنے آفس میں رکھ لیتا ہوں ۔وہ بھی کہیں نہیں جائے گا تاکہ آپ کا یہ گھر آباد رہے اور آپ کی یادیں ہمیشہ زندہ تراب کے جواب پر عنزہ کو ایک بار پھر رونا آیا ۔
اب رونا نہیں ہے ۔میں نے بھی کچھ نہیں کھایا ۔اس سے پہلے کہ مجھے اتنی بھوک لگے کہ میں آپ کو کھا جاؤں۔ ہم کھانا کھا لیتے ہیں تراب نے اپنا موبائل نکالا اور ہمدانی کو گاڑی سے کھانا لانے کا کہا
مجھے آپ سے محبت تھی تو نہیں مگر لگتا ہے کہ ہوتی جا رہی ہے ویسے ایک بات سچ سچ بتاؤ تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے اور کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے آہستہ سے عنزہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
وجہ تو معلوم نہیں بس” بعض باتوں میں انسان کو اپنے اوپر اختیار نہیں ہوتا اور مجھے بھی آپ کے معاملے میں خود پہ کوئی اختیار نہیں ہے”۔
عنزہ نے کہتے ہوئے نظریں جھکا لیں جب کہ تراب کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تمہاری بولتی کیوں بند ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے زویا کو صوفے پر خاموش بیٹھا دیکھ کر پوچھا
تم مانو یا نہ مانو مگر تراب بھائی عنزہ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور کرنی بھی چاہیے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا کے خاموش ہوتے ہی احمر نے اسے گھورا ۔
ایک تو یہ کہاں لکھا ہے کہ “اگر” یا “مگر” کے بعد چپ ہو جاؤ
سخت یہ دو “لفظ” مجھے برے لگتے ہیں ۔یہ اردو زبان کے “سپیڈ بریکر” ہیں۔ احمر کی بات پر زویا نے اسے مکا مارا۔
اپنی بکواس تھوڑی دیر کے لئے بند کرو اور میری غور سے سنو زویا کی بات پر احمر نے قہقہ لگایا ۔
میں چاہتی ہوں مجھے بھی تم سے “محبت” ہوجائے اور تمہیں مجھ سے
اس کے لئے کچھ کرو نااااا کیا ہم “محبت” کے بغیر ہی ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیں گے ذرا مزہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے منہ بنایا
میں تمہیں شاپنگ کرا سکتا ہوں اس پڑتی بارش میں آئسکریم لا کر دے سکتا ہوں مگر محبت اور وہ بھی تم سے اچھا کوشش کرتا ہوں چلو میں تمہیں ایک محبت بھری نظم سناتا ہوں۔ احمر نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا
پہلے مسکرانا تو بند کرو اور چہرے پر سنجیدگی لاؤ زویا نے اسے ٹوکا
پہلی پہلی دفعہ کوشش کر رہا ہوں ۔اگر غلطی ہو تو معاف کر دینا ۔ٹھیک ہے
احمر نے اپنے ہاتھوں سے منہ کو دبا کر اپنی مسکراہٹ ختم کی اور نیچے دیکھتے ہوئے کہا
میری طرف دیکھو ناااااا ورنہ مجھے تم سے شرم کیسے آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں نے شرمانا بھی تو ہے ناااااا۔ اپنی تعریف تمہارے منہ سے سن کر ، اور ہاں میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑوں اس طرح زرا رومینٹک محسوس ہوتا ہے زویا نے اسے پھر ٹوکا
اچھا بابا ٹھیک ہے لاؤ اپنا ہاتھ مجھے دو اور اب تم چپ کر کے میری نظم سنو گی اگر تم نے بیچ میں ٹوکا تو میں آئندہ کوشش بھی نہیں کروں گا تم سے محبت کرنے کی آگے تمہاری مرضی ، احمر کی بات پر زویا نے سر ہلایا
“تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو کھانا بھول جاتا ہوں
نوالا منہ میں رکھتا ہوں چبانا بھول جاتا ہوں
وہ کیا انگلش میں کہتے ہیں پھلوں کے نام ہوتے ہیں
میں ایپل بھول جاتا ہوں بنانا بھول جاتا ہوں
میں سبزی کی دکانوں سے جلیبی پوچھ لیتا ہوں
کٹانے بال جاتا ہوں کٹانا بھول جاتا ہوں
کتابیں سامنے رکھ کر تمہیں میں یاد کرتا ہوں
تمہیں جب یاد کرتا ہوں بھلانا بھول جاتا”
بتاؤ تمہیں میری نظم کیسی لگی ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر نے اشتیاق سے پوچھا
پہلے میرے ہاتھ چھوڑو پھر بتاتی ہوں کہ کیسی لگی۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا کی بات پر احمر نے مسکین سی شکل بنائی ۔
یہ تو زیادتی ہے یار ___
احمر مسلسل شور مچا رہا تھا جبکہ زویا اسے ہاتھ چھوڑنے کا کہہ رہی تھی ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے