Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

عنزہ اس وقت حمنہ کے بال برش کر رہی تھی جب عون نے اس سے سوال کیا ۔
آپ ہماری کیا لگتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟کیوں روز روز ہمارے کمرے میں آ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ پلیز آپ یہاں سے چلی جائیں۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے غور سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھا جو اپنی چھوٹی سی ناک غصے سے لال کر رہا تھا ۔
میں آپ کی نئی دوست ہوں اور آپ سے کھیلنے کے لئے آئی ہوں۔ کیا آپ مجھ سے دوستی کریں گے ۔جیسے حمنہ نے کی ہے۔۔۔۔۔؟ عنزہ نے حمنہ کے گال پر پیار کیا۔
ہم کسی کو دوست نہیں بناتے۔ ہمارا کوئی نہیں ہے۔ ہمارے امی ابو اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔ اب ہم دونوں بالکل اکیلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ عون کے لہجے میں عنزہ کو غصے کے ساتھ ساتھ دکھ بھی محسوس ہوا ۔
ماں باپ تو میرے بھی اوپر چلے گئے ہیں۔ میں تو آپ سے بھی زیادہ اکیلی ہوں۔ کیونکہ میری تو کوئی بہن بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے عون کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا ۔
مگر آپ تو بہت بڑی ہیں آپ کو کسی کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔؟ عون نے سٹول پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
کیوں نہیں ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ہر وقت ایک دوست کی ضرورت رہتی ہے۔ جو میرے ساتھ کھیلے کودے اور میری باتیں سنے۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے عون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کیا آپ ہمارے ساتھ کھیلی گئی ۔۔۔۔۔؟ عون نے پوچھا
بالکل میں آپ کے ساتھ کرکٹ _ لڈو فٹبال ویڈیو گیمز سب کھیلوں گی اور آپ کو Disney land کی سٹوریز بھی سناؤں گی ۔۔۔۔۔۔ مگر اس سب کے لئے آپ کو میرے ساتھ دوستی کرنا پڑے گی. عنزہ نے دوستی کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔ ٹھیک ہے مگر پھر میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔؟ عون نے عنزہ کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے کہا جس پر عنزہ نے اسے حیرت سے دیکھا اتنا سا بچہ اور شرط ۔۔۔۔ ؟
آپ یہ سب باتیں جہاں آرا بیگم کو نہیں بتائیں گی۔۔۔۔۔۔ ؟عون نے سنجیدگی سے کہا
میں بیگم صاحبہ کو نہیں بتاؤں گی کہ میں تم دونوں کے ساتھ کھیلتی ہوں مگر وہ تمہاری دادو ہیں تم نے انہیں جہاں آرا بیگم کیوں کہا ۔۔۔۔۔؟ عنزہ نے تجسس کے مارے پوچھا
کیوں کہ وہ میری ماما کو برا کہتی ہیں اور چاچو کو بھی ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں دیتی۔۔۔۔۔اب عون بھی سٹول سے اٹھ کر عنزہ کے قریب بیٹھ گیا تھا ۔
ہمممم آپ نے اپنی ماں کو دیکھا ہے ۔۔۔۔۔؟ عنزہ کے سوال پر عون نے اس کی طرف افسوس سے دیکھا آپ کو اتنا بھی نہیں پتا کہ جب لوگ مر جاتے ہیں تو انہیں دیکھا نہیں جا سکتا ہاں البتہ میں نے ان کی تصویر دیکھی ہے کافی پیاری تھی مگر پاپا سے کم ۔۔۔۔۔۔ عون کے جواب پر عنزہ نے اس ذہین بچے کو دیکھ کر سوچا کہ بچے چاہیے جتنا بھی چھوٹے ہوں یا بڑے ۔۔۔۔۔۔ ماں سے محبت ایک فطری عمل ہے وہ کم از کم اپنی ماں کی برائی برداشت نہیں کر سکتے ۔ میں آپ کو کیا کہہ کر بلاؤں۔۔۔۔۔؟ عون نے عنزہ کو کھوئے ہوئے دیکھ کر پوچھا جو مرضی بلا لو چاہے تو آیا ۔۔۔۔۔ آپی ۔۔۔۔ میڈم یا پھر عنزہ ۔۔۔۔۔ سب چلے گا میں دوست کی بات کا برا نہیں مانتی۔۔۔۔۔ عنزہ نے مسکراتے ہوئے اس کے بال انگلیوں سے ٹھیک کیے۔ آپی ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر سوچ ک عون نے جواب دیا۔ تم تو بہت ذہین ہو۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے ہنستے ہوئے کہا جس پر اس نے منھ بنایا ۔ اب کیا ہوا ہے منہ کیوں بنا لیا ہے۔۔۔۔؟ عنزہ نے پوچھا چاچو بھی اسی طرح تعریفیں کرتے ہیں مگر پھر کئی کئی دن غائب ہو جاتے ہیں. اگر آپ کا بھی ایسا ارادہ ہے تو بتا دیں پھر میں آپ کا انتظار نہیں کروں گا اور دوستی تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عون نے اپنے ہاتھوں سے کراس بنایا ۔ بے فکر ہو
میں عنزہ ہوں تمہارا چاچو نہیں، مجھے کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا میں بالکل فارغ ہوتی ہوں اسی لیے میں تمہارے پاس ہی رہا کروں گی پکا وعدہ ۔۔۔۔۔۔ عنزہ کے یقین پر ان نے سر ہلایا جب کہ حمنہ اس کی گود میں کھیلنے لگیں.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
سر میں نے تمام معلومات حاصل کر لیں ہیں وہ نمبر جیسا کہ پہلے میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایاز نامی آدمی کے نام پر رجسٹر ہے۔
ہاں اب آگے بھی بولو مجھے کچھ کام ہے ۔۔۔۔۔ تراب نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔
وہ نمبر اس کی والدہ کے استعمال میں ہے. وہ سلام آباد ہوتی ہیں. ان کے گھر کا ایڈریس میں نے حاصل کر لیا ہے مگر ایک بات جو مجھے عجیب لگی ہے وہ یہ ہے کہ اس عورت کے گھر کا ایڈریس جس محلے کا ہے وہاں شفقت بوا رہتی ہیں۔۔۔۔۔ ہمدانی کے لہجے میں تشویش تھی ۔
تمہارا مطلب ہے کہ شفقت بوا نے میرا نمبر کسی کو دیا ہے جبکہ وہ خود اپنی فیملی سمیت یہاں میرے ہی کوارٹر میں شفٹ ہے ۔
سر میں نے یہ تو نہیں کہا مگر۔۔۔۔۔۔۔ ہمدانی رکا
کرمو بابا اور شفقت بوا ہمارے سب سے پرانے ملازم ہیں اور اپنے ملازموں پر شک کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔خیر پھر بھی تم اپنی تسلی کر لو۔۔۔۔۔ تراب نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔
چلو شکر ہے یہ مسئلہ بھی ختم ہوا یہ کال محض ایک اتفاق تھا اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ تراب سوچتے ہوئے ٹیرس کا رخ کیا۔
آسمان پر تارے چمک رہے تھے چاند کی شاید 10 تاریخ تھی چاندنی نیچے لان میں پھیلی ہوئی تھی اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اپنے کمرے میں واپس آتا اس کی نظر کیاریوں کے قریب کھڑی ایک لڑکی پر پڑی جس پر وہ چونک پڑا ۔
رات کے اس پہر لڑکی ۔۔۔۔۔ وہ بھی لان میں ۔۔۔۔ میں نے نشہ تو نہیں کیا ہوا مگر ۔۔۔۔ تراب نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ دیکھا لڑکی اپنی جگہ پر موجود تھی کچھ سوچتے ہوئے اس نے نیچے کا رخ کیا
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
ظفر اور مسز ظفر اس وقت آغا جان کے ساتھ ڈرائنگ روم میں موجود تھے ۔سامنے کھانے پینے کا سامان پڑا تھا مگر کسی نے بھی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا ۔
احمر نے اندر داخل ہوتے ہوئے انتہائی خوش اخلاقی سے سلام کیا. پھر آغا جان کے قریب بیٹھ گیا. جب کہ آغا جان کو اس وقت احمر کا آنا سخت ناگوار گزرا۔
تم آج آفس نہیں گئے۔۔۔۔۔۔۔ ؟ انہوں نے تعجب سے پوچھا
گیا تھا مگر جلدی آ گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ احمد نے آغا جان کو اگنور کرتے ہوئے ظفر صاحب کی طرف دیکھا
احمر تم اندر جا کر آرام کرو۔ ہم ضروری بات کر رہے ہیں۔ بڑوں کی بات میں چھوٹوں کا کام نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔ آغا جان نے احمر سے کہا جو اب مزے سے چائے اپنے کپ میں ڈال رہا تھا ۔
بیٹھا رہنے دیں ۔۔۔۔۔۔۔ مسز ظفر نے احمر کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا
ہم کل بھی اچھے دوست تھے اور آج بھی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی رہیں گے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے جس کے لیے میں آپ سے شرمندہ بھی ہوں کہ میں آپ کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے کے لئے نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفر صاحب نے آہستہ آواز میں نظر جھکا کر کہا جس پر آغا جان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا مگر وہ خاموش رہے ۔
یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ اس دن تو آپ اس رشتے پر بہت خوش تھے۔ پھر اب ایسا کیا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر نے چائے کا سیپ لیتے ہوئے نہایت آرام دے انداز میں پوچھا
چھوڑ بیٹا ان کی مرضی ہماری زویا کے لئے کون سے رشتوں کی کمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغاجان کی بات پر مسز ظفر طنزاً مسکرائیں ۔
میرے خیال سے آغا حسن صاحب آپ کو اب اپنے بچوں کو سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے پوتے کو تو سچ بتا دینا چاہیے ۔ مسز ظفر کی بات پر آغا جان نے ظفر کی طرف دیکھا جبکہ احمر مسکرا کر مسز ظفر کو ہی دیکھ رہا تھا۔
آپ کو کیا لگتا ہے آغاجان نے ہمیں کچھ نہیں بتایا ہوگا ہمارے آغاجان نے ہم سے کبھی بھی کچھ نہیں چھپایا ۔۔۔۔۔۔۔ احمر کے جواب پر آغاجان چونکے اتنے میں زویا بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔
آؤ زویا ۔۔۔۔ آؤ۔۔۔۔۔ ادھر آ کر بیٹھو ۔۔۔۔۔۔پتا ہے مسز ظفر کہہ رہی ہیں کہ آغا جان کو ہمیں سب بتا دینا چاہیے وہ سمجھتی ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں اب تم ہی بتاؤ نااااا ۔۔۔ احمر نے زویا کی طرف دیکھ کر کہا
آنٹی ۔۔۔۔۔ !!! آغاجان نے ہم دونوں سے کبھی کچھ نہیں چھپایا ۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے مسکراتے ہوئے ظفر اور پھر مسز ظفر کی طرف دیکھا جب کہ آغا جان نے اپنے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا
یا اللہ میرے بچوں کے سامنے میری لاج رکھنا ۔جو راز آج تک میرے دل میں دفن تھا ۔اب سارے شہر کو معلوم ہو جائے گا۔ پتا نہیں بچوں کا کیا ردعمل سامنے آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا جان نے دل میں دعا مانگی
بیٹا آپ کو نہیں پتا میں بتاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔مسز ظفر نے جان بوجھ کر آغا جان کی طرف دیکھا اور کہنا شروع کیا جبکہ ظفر صاحب نے انہیں گھورا
آنٹی پہلے ہم بتاتے ہیں جتنا ہمیں معلوم ہے پھر جو رہ جائے گا وہ آپ بتا دینا کیوں احمر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے احمر کی طرف دیکھا جو سر ہاں میں ہلا رہا تھا ۔
آغا جان نے ہمیں بتایا تھا کہ کس طرح ” آپ نے اپنے ماں باپ کے خلاف بھاگ کر ظفر انکل سے شادی کی تھی” اور اس کے لئے آپ کے ماں باپ نے آپ کو مرتے دم تک معاف نہیں کیا اور نہ ہی آپ کی شکل دیکھی۔
اب بھی آپ کے بہن بھائی آپ سے ملنا پسند نہیں کرتے۔ویسے بڑی ہمت ہے انکل ظفر کی آپ جیسی لڑکی ساتھ ساری زندگی گزار دی۔ گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اچھی نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے افسوس کا اظہار کیا اور احمر نے دبا دبا سا مسکرا کر اس کا ساتھ دیا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مسز ظفر غصے سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
آنٹی اگر آپ کسی کی عزت اچھالیں گئی تو یہ مت سوچنا دوسرا خاموش رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغاجان نے ایک “لاوارث” کو پال کر نیکی کی۔ مگر آپ ان کی نیکی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔
میں جائز ہو یا ناجائز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا آپ کا بیٹا اس قابل ہی نہیں کہ “زویا احمد” سے شادی کرے۔
آپ تشریف لے جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں ایک بات یاد رکھنا اگر ہمیں” بد نام” کرنے کا سوچا تو ہم آپ کو کتنا “بد نام” کر سکتے ہیں یہ سوچ ہے آپ کی۔۔۔۔ ہم نئے زمانے کے بچے ہیں۔ تھوڑا سا سوشل میڈیا کا سہارا لیں گے تو بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی ڈرامے میرے اور زویا پر ختم ہیں۔
احمر نے بھی مصالہ لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ آغا حسن ساری صورت حال کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
ظفر صاحب اور مسز ظفر کے جاتے ہی زویا اور احمر _ آغا حسن کے پاؤں میں بیٹھ گئے اور ان کے گھٹنوں پر سر رکھ دیا ۔ ہمیں آپ سے محبت ہے اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں __ آغاحسن نے دونوں بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرانے لگے جب کہ ان کی آنکھیں نم تھیں ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے