No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
احمر کے گھر سے واپسی پر تراب گاڑی میں کافی خاموش تھا اور اس بات کو جہاں آرا بیگم محسوس کر رہی تھی تبھی کچھ سوچ کر کہا
میں نے محسوس کیا ہے جتنا تمہارا بزنس پھیلتا جا رہا ہے اتنا ہی تم زیادہ مصروف ہوتے جا رہے ہو جس کی وجہ سے تم اپنے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتے۔
میں چاہتی ہوں تم کچھ دنوں کے لیے گومنے پھرنے ملک سے باہر چلے جاؤ۔ماحول بدلے گا تو تمہاری صحت پر اچھے اثرات مراتب ہوں گے. ویسے بھی ہر وقت کام کرنا صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا جہاں آرا بیگم نے محبت سے تراب کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
ماما جانی آپ میری فکر مت کریں. میں بالکل ٹھیک ہوں. بس ویسے ہی تھوڑی سی تھکاوٹ ہے ابھی جا کر آرام کروں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔۔ تراب نے پیار سے ماں کا ہاتھ چومتے ہوئے جواب دیا
آپ نے بتایا نہیں پھر اس لڑکی کے بارے میں۔۔۔۔۔۔؟ کیسی لگی آپ کو ۔۔۔۔۔۔؟ تراب کو اچانک مسز اسد کی فیملی کا خیال آیا۔
ہممممم ۔۔۔۔۔۔ بس ٹھیک ہے ۔جہاں آرا بیگم کو یوں اچانک تراب کی طرف سے اس سوال کی امید نہ تھی اسی لیے وہ کوئی بہانہ نہ بنا سکیں۔
مطلب یہ کہ وہ آپ کو پسند نہیں آئی مگر اُس دن تو آپ کہہ رہیں تھیں کہ آپ کو لڑکی بہت پسند ہے پھر کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ تراب کو جہاں آرا بیگم کے لہجے میں صاف ناپسندیدگی کا عنصر دکھائی دیا ۔
ہاں وہ مجھے مسز عابد بتا رہیں تھیں کہ اُس لڑکی کا کردار اتنا اچھا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اب جہاں آرا بیگم تراب کو سچ بتانے سے تو رہیں ۔
اتنی دیر میں گاڑی “میر لاج” کے گیراج میں آ کر کھڑی ہوئی۔
چلیں ٹھیک ہے پھر صبح بات کرتے ہیں ۔ویسے بھی میں آج بہت تھک گیا ہوں ابھی آرام کرنا چاہتا ہوں ۔تراب نے معذرت کرتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا ۔
کوئی بات نہیں تم جاؤ آرام کرو میں تھوڑی دیر ابھی لاؤنچ میں بیٹھوں گی پھر سونے جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی دیر میں گارڈ نے گاڑی کا دروازہ کھولا
تراب کافی کا آرڈر دیتے ہوئے اپنے کمرے میں آگیا ۔ کچھ دیر آئینے کے آگے کھڑے ہوکر خود کو دیکھا پھر واش روم میں فریش ہونے چلا گیا ۔
جیسے ہی وہ فریش ہو کر باہر آیا دروازے پر ملازم نے دستک دی ۔
آجاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجازت ملنے پر کرمو بابا ہاتھ میں کافی لئے داخل ہوئے ۔
بابا آپ نے اتنی رات کو کیوں زحمت کی، کسی اور کو بھیج دیتے ۔۔۔۔۔ تراب نے سائیڈ ٹیبل پر کافی رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
میر صاحب مجھے آپ کا کام کرتے ہوئے خوشی ملتی ہے۔ اس لئے میں خود آ جاتا ہوں۔ اس بہانے آپ کو دیکھ بھی لیتا ہوں اور آپ سے بات بھی ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرمو بابا کہتے ہوئے واپس پلٹ گئے۔
ویسے آپ کے ہاتھ کی کافی “بابا” کی طرح مجھے بھی بہت پسند ہے. بہت مزیدار ہوتی ہے. کرمو بابا نے مسکرا کر شکریہ ادا کیے اور کمرے سے باہر چلے گئے.
تراب نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے عنزہ کا نمبر ڈائل کیا مگر نمبر بند جا رہا تھا _ ایک سیکنڈ کے اندر اندر تراب کو کافی بدمزہ لگنے لگی۔ ایک، دو، تین پھر کتنی ہی بار اُس نے نمبر ڈائل کیا مگر نمبر مسلسل بند جا رہا تھا ۔
آخر تنگ آ کر اس نے اپنا موبائل غصے سے دیوار پر دے مارا۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
میں نے تمہیں سارے گھر میں تلاش کر لیا ہے اور تم یہاں کھڑے ہو کر پودوں کو حسرت بھری نظروں سےدیکھ رہے ہو جیسے یہ تمہاری آخری خواہش ہو کبھی پہلے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔احمر جو لان میں پھولوں کی کیاریوں کی طرف کھڑا تھا زویا کی بات پر پلٹا
شکر کرو کہ صرف میں یہاں پر کھڑا ہوں ورنہ میرا دل تو “خود کشی” کرنے کو کر رہا ہے ۔
حد ہے یعنی اس اتنی بڑی دنیا میں کوئی بھی مجھے خوش نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔؟
یہ کیا بات ہوئی _ یہ کس طرح کی باتیں کر رہےہو اتنے مایوس کیوں ہو ۔۔۔؟ کہیں “عشق
” تو نہیں کر بیٹھے۔۔۔؟ زویا نے لان میں رکھے سنگ مرمر کے بینچ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
تم مجھے کچھ کرنے دو گی تو میں کچھ کروں گا ناااااا ۔۔۔۔۔ ہر وقت میرے ساتھ چپکی رہتی ہو ۔
سوچا تھا شادی ہو کر لندن چلی جاؤ گی تو میں بھی اپنی زندگی کے بقیہ دن اپنی مرضی سے گزار لوں گا مگر “دل ناداں تو اور تیری خوش فہمیاں”احمر نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا۔
اچھا اب اتنے اداس مت ہو۔اگر تم چاہو تو میں صرف تمہاری خاطر اپنی شادی جلدی کروانے کو تیار ہوں مگر اس کے لیے تمہیں میرا ایک چھوٹا سا کام کرنا پڑیگا ۔۔۔۔۔۔ زویا نے کن اکھیوں سے احمر کی طرف دیکھا جو اب اس کے سامنے کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔
زیادہ ڈرامے بازی کی ضرورت نہیں ہے زویا بی بی۔۔۔۔۔۔!!! میں تمہیں تب سے جانتا ہوں جب تم ” دودھ پیتی بچی” تھی ۔
اچھا چلو یہی سمجھ لو۔ تم نے میرا ایک کام کرنا ہے اور اگر تم میرا وہ کام کرو گے تو سمجھو تمہارا کام خودبخود ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا بھی اب ہر لحاظ سائیڈ پر رکھ کے سیدھی سیدھی بات کرنے کے موڈ میں تھی ۔
کیا کام کرنا ہے پتہ تو چلے ایسا کونسا تیر مروانے لگی ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ قسم سے زویا تم نے میرا اتنا “ناجائز” استعمال کیا ہے اتنا تو ہماری حکومت عوام کا نہیں کرتی۔
میری بات غور سے سنو تم ذیشان کو فون کرکے کہو گے کہ وہ تمہاری کزن یعنی کہ مجھے فون کرے ۔۔۔۔۔ زویا نے شہادت کی انگلی اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
کیابکواس ہے میں ذیشان سے کیوں کہوں کہ وہ میری کزن کو فون کرے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تمہارا دماغ تو جگہ پر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ابھی اتنا بھی “بے غیرت” نہیں ہوا ۔تھوڑی” رتی” غیرت کی ہے مجھ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے غصے سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔
بس ہوگیا تمہارا ڈرامہ یا ابھی مزید “ڈائیلاگ” بولنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا کی بات پر احمر نے اسے حیرت سے دیکھا
میرے پیارے اور اکلوتے کزن آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ذیشان میرا “منگیتر” ہے اور اپنے منگیتر سے بات کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔
اگر تم میری اس سے لائن سیدھی کرا دو گے تو تمہارا ہی فائدہ ہے۔ میں اسے جلدی شادی کرنے پر منا لوں گی۔
یوں میں لندن چلیں جاؤں گی اور تم پیچھے اس گھر میں اکیلے راج کرنا ۔۔۔۔۔۔ اپنی بات کی آخر میں زویا نے احمر کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا
بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر مجھے بہت عجیب سا لگ رہا ہے کسی کو کہنا کہ “تم میری کزن سے بات کر لو “۔
تم ایسا کرو کہ خود ہی اس کو فون کر لو ۔ یہ پھر بھی مناسب ہے۔ سوری یار اس معاملے میں میں تمھاری مدد نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے کندھے اچکائے ۔
یاد کزن فون تو میں اسے کرلوں لیکن پہلی دفعہ اسے مجھے فون کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔ آخر میں لڑکی ہوں تھوڑی سی شرم تو آتی ہے نااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے آپ نے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے کہا
شرم اور تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔ زویا بی بی تم اور میں یعنی ہم دونوں کزن تو رجسٹرڈ بے شرم ہیں۔ تمہارے منہ سے ایسی باتیں بالکل بھی اچھی نہیں لگتیں ۔
ایسی باتیں صرف معصوم سی، شریف سی، گھریلو لڑکیوں کے منہ سے اچھی لگتی ہیں ۔
چلو شاباش اب اپنے اصلی والے روپ میں واپس آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے مذاق اڑاتے ہوئے ہنسنا شروع کیا۔
میں سوچ رہی ہوں میرے جانے سے آغا جان بہت اداس ہو جائیں گے کیوں ناااا میں ذیشان سے کہوں کہ شادی کے بعد ہم یہیں رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم میرا کام نہیں کرو گے تو یہ والی آپشن valid ہے ۔
زویا کی بات نے سچ مچ احمر کے ہوش اڑادئیے مطلب “یک نہ شد دو شد”
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
ہوا آپ اسے کمرہ کہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہ کمرہ نہیں بلکہ ہال ہے وہ بھی بہت بڑا۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ بچوں کے کمرے میں ہکا بکا کھڑی تھی۔
بچوں کے کمروں کی دیواروں پر مختلف انگلش سٹوریز کے کریکٹرز بنے ہوئے تھے ۔
ایک طرف ان کے لیے جھولے لگے ہوئے تھے جس میں بعض اتنے خوبصورت اور رنگین تھے کہ وہ عنزہ کو بھی بہت اچھے لگے ۔
کمرے کی ایک سائیڈ پر بے شمار کھلونے رکھے ہوئے تھے جس میں سے کچھ سوفٹ تھے کچھ آٹومیٹک اور کچھ ریموٹ کنٹرول تھے۔
سینٹر میں بچوں کا بیڈ لگا ہوا تھا وہ بھی اتنا قیمتی تھا کہ عنزہ کے ہوش اڑانے کو کافی تھا ۔
کمرے کی چھت پر لکڑی کا کام ہوا تھا جس میں چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے بجلی کے بلب لگے ہوئے تھے ۔
فرش پر ڈبل کارپٹ بچھنے کی وجہ سے عنزہ جہاں پاؤں رکھتی اس کا پاؤں اندر دھنس جاتا۔
ہوا میں نے تو کبھی خواب میں بھی ایسا کمرہ نہیں سوچا تھا ___عنزہ حیرت سے ایک ایک چیز کو دیکھ رہی تھی۔
بس بیٹا سب پیسے کا کمال ہے کہتے ہیں ناااااا۔۔۔۔۔۔۔” پیسہ پھینک تماشہ دیکھ”۔۔۔۔۔بوا نے نرمی سے جواب دیا
عون تھوڑا سا شرارتی ہے وہ تین سال کا ہے اور حمنہ اڑھائی سال کی ہے۔ اس وقت وہ دونوں تراب بابا کے کمرے میں ہیں۔
تراب بابا ان دونوں بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اگر صبح ان سے ملاقات نہ کریں تو رات کو ضرور کرتے ہیں مگر وہ بچوں کے کمرے میں بہت کم آتے جاتےہیں ۔
تم صبح نو بجے تک آیا کرو گی اور رات کو سات بجے تک تمہاری ڈیوٹی ختم ہو جائے گی میں نے جہاں آرا بیگم سے بات کر لی ہے ۔
لیکن اگر غلطی سے کبھی تمہاری موجودگی میں تراب بابا کمرے میں آجائیں تو تم نے پوری کوشش کرنی ہے کہ ان سے کوئی بات نہ ہو۔
اور نہ ہی جہاں آرا بیگم صاحبہ کے سامنے زبان چلانے کی کوشش کرنی ھے۔ عنزہ میری بٹیا میں تیری زیادہ بولنے والی عادت سے بہت پریشان ہوں۔ بس تو ان دونوں ماں بیٹے سے فاصلے پر رہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ تجھے کسی بھی قسم کا کوئی نقصان پہنچے ۔
میں نے تیری بات صرف اس لئے مانی ہے کیونکہ میرے پاس تجھے یونیورسٹی میں داخل کرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور میری خواہش ہے کہ تو بہت زیادہ پڑھے اور آفیسر بن جائے ۔تاکہ میں تیری اچھی جگہ شادی کر دو اور قیامت والے دن تیرے ماں باپ کے آگے سرخرو ہو جاؤں۔
بوا زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔آپ بے فکر رہیں آپ کو میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔عنزہ نے بوا کے گلے لگتے ہوئے تسلی دی ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے
