Kitab Muhabbat By Amna Mehmood Readelle50140 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
عنزہ نے بہت خوبصورت اورنج، گرین اور ریڈکلر کا کامدار فراک، چوڑی دار پاجامے ساتھ گولڈن دوپٹہ پہنا ہوا تھا. اوپر سے قیمتی جیولری اور میک اپ نے رہتی سہتی کسر بھی نکال دی تھی.
مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا کہ یہ میں ہوں …..؟ عنزہ نے خود کو دیکھتے ہوئے زویا سے کہا
یہ تو آپ اپنے ساتھ اب زیادتی کر رہیں ہیں. آپ ہیں ہی بہت پیاری _ ہاں یہ بات الگ ہے کہ آپ اس وقت ہم دونوں سے اپنی تعریف کرانے کے موڈ میں ہیں. زویا نے گجرے بیوٹیشن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے میری رنگت سانولی ہے تو …….. ؟ عنزہ نے نامکمل بات چھوڑ دی.
سانولی رنگت پر ہی میک اپ زیادہ اچھا لگتا ہے اور سانولے لوگوں کی تصویریں بھی بہت اچھی آتیں ہیں. بلکہ آج کل سانولا رنگ فیشن میں بہت in ہے یورپ میں تو باقاعدہ لوگ سرجری کروا کے رنگ کو سانولا کر رہے ہیں. بیوٹیشن کی بات پر زویا نے سر ہاں میں ہلایا جبکہ عنزہ یہ سب سن کر بہت حیران تھی.
آپ دونوں کی سوچ بہت اچھی ہے ورنہ میری بھابی تو اس رنگت کی وجہ سے بہت باتیں سناتیں ہیں. عنزہ مسکرائی
اچھے لوگوں کو ہی دوسرے اچھے لگتے ہیں ورنہ تو سب ایک جیسے ہیں. زویا کی بات پر عنزہ نے جان پکڑ لیے.
چلیں ٹھیک ہے. میں اب مزید کچھ نہیں کہتی. آپ پلیز کان چھوڑ دیں. میں احمر کو بلا لیتی ہوں. ڈرائیور ساتھ جانا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا. میرا مطلب ہے کہ سیکورٹی پرابلم ہو سکتی ہے. زویا نے کہتے ہوئے احمر کا نمبر ڈائل کیا.
تم ایسا کرو جلدی سے اس ایڈریس پر آجاؤ جو میں نے تمہیں ابھی ابھی بھیجا ہے احمر نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی زویا کا حکم سنائی دیا. زویا بی بی تم کیا اوپر سے لکھوا کر آئی ہو کہ مجھے کہیں چین سے رہنے نہیں دینا. کبھی تو میری جان چھوڑ دیا کرو. اچھا خاصا رنگ برنگی پریوں میں بیٹھا ہوں. پیارے پیارے خوشبودار پھول کھلے ہوئے ہیں احمر کے جواب پر زویا کو شدید غصہ آیا.
احمر اگر تم تھوڑی دیر تک ہمیں لینے نہیں پہنچے تو میں نے تمہارے پھول گملے سمیت توڑ دینے ہیں. شرم نہیں آتی غیر لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے ……… ؟ زویا نے دانت پیس کر جواب دیا.
شرم کی کیا بات ہے اپنے لیے لڑکی تلاش کر رہا ہوں. مجھے اس کا پورا حق حاصل ہے. احمر نے بحث کی.
احمر پلیززز آ جاؤ نااااا میرا ڈرائیور کے ساتھ جانے کو دل نہیں کر رہا. زویا نے منت کی.
اچھا آ جاتا ہوں مگر یاد رکھنا تمہارے لیے نہیں آ رہا میں صرف تراب کی بیگم صاحبہ کی وجہ سے آ رہا ہوں. آخر مجھے اس سے حساب بھی تو برابر کرنا ہے. احمر نے کہتے ہوئے کال بند کر دی جبکہ زویا اس کی بات کا مطلب سمجھنے لگی. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 رنگ برنگی لائٹوں کی روشنی میں تراب اور عنزہ کا نکاح شروع ہوا. اس وقت ہر طرف مختلف کیمروں اور موبائل کے ساتھ لوگ سٹیج کے گرد موجود تھے. عنزہ کی سوچ سے کئی گنا زیادہ یہ منظر خوبصورت تھا بلکل اس کے خوابوں جیسا وہ ان لمحات میں کھو گئی تھی. ہوش اسے تب آیا جب زویا نے اس کا بازو ہلا کر توجہ مولوی صاحب کی طرف دلائی جو اس کی رضامندی مانگ رہے تھے.
ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے اس نے نکاح نامے کو غور سے دیکھا پھر حق مہر کی تسلی کرتے ہوئے سائن کر دیے تھوڑی دیر میں “مبارک ہو” کی صدائیں فضا میں گونجیں. یہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے بہت خوبصورت اور مکمل لگ رہے ہیں. احمر دیکھو کتنا پیارا کپل ہے زویا نے اسٹیج کی طرف دیکھتے ہوئے احمر سے کہا اگر یہ کھڑے بھی ہو جائیں تو تب بھی خوبصورت ہی لگیں گے خیر مجھے کیا ……….. ؟ احمر نے منہ بنا کر جواب دیا. تم جیلس ہو رہے ہو مجھے یقین نہیں آ رہا ……؟ زویا نے اب اس کی طرف مُڑتے ہوئے پوچھا ہر کنوارہ شادی شدہ سے اور ہر شادی شدہ کنوارے سے جیلس ہوتا ہے. یہ ایک فطری عمل ہے. احمر کے جواب پر زویا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا چلو مان لیتے ہیں. گھر چلو تمہارے لیے ایک خوش خبری ہے. کل ویب سائٹ کا تمہارے نام میسج آیا تھا. زویا نے چسکے لیتے ہوئے بتایا. یہ بات تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی ……. ؟ احمر کی بےچینی دیکھتے ہوئے زویا ہنسی (جب تم رزلٹ دیکھو گے تو خود ہی جان لو گے) اچھا زیادہ بحث نہیں ابھی مجھے فنکشن انجوائے کر لینے دو. زویا کی بات پر احمر منہ بناتا ہوا اسٹیج کی طرف چل پڑا. جہاں آرا بیگم نے ” ہیروں کا ہار” عنزہ کو تحفے کے طور پر دیا. جس پر میڈیا کے ساتھ ساتھ وہاں پر موجود سب ہی لوگوں نے خوب داد دی کہ “ساس تو آپ جیسی ہونی چاہیے” جبکہ عنزہ حیرت زدہ تھی. عنزہ کو ملنے والے تمام تحفے اور پیسے میرے کمرے میں پہنچ جانے چاہیے جہاں آرا بیگم نے ہمدانی کو رازداری میں حکم دیا اور خود اسٹیج سے نیچے اتر گئیں.
ویسے تم کمال کی” اداکارہ” ہو میری مانو تو سیاست چھوڑ کر” شوبز” جوائن کر لو بہت ترقی کرو گی. مسز عابد نے جہاں آرا کو داد دی جو آج پہلے سے بھی زیادہ پرکشش لگ رہیں تھیں.
میں سیاست کروں یا شوبز میں جاؤں ترقی میرا مقدر ہے. خیر میں تمہاری بہت مشکور ہوں تم نے مجھے بلکل درست مشورہ دیا. ورنہ آج صورتحال مختلف ہوتی. جہاں آرا بیگم نے مسز عابد کا کندھا تھپکا.
کوئی بات نہیں دوستوں میں یہ شکریہ کہاں سے آگیا ……..؟ اور تم نے نوٹ کیا کہ تراب نے ایک بار بھی نظر غلط اس لڑکی پر نہیں ڈالی حالانکہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے. مسز عابد نے اسٹیج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں تراب اپنے کسی جاننے والے سے گفتگو میں مصروف تھا. ہاں میں نے یہ بات نوٹ کی ہے اور مجھے اس پر حیرت بھی ہے کم از کم آج کے دن تو ………. جہاں آرا بیگم کی بات پر مسز عابد مسکرا دیں. وہ بےشک خوبصورت لگ رہی ہے. گر تراب کے برابر سٹیٹس نہیں رکھتی. اس لیے وہ تراب کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور نہ ہی کبھی رکھے گی. مرد کو اپنے سے کمتر عورت کبھی پسند نہیں آتی جب تک اسے” محبت” نہ ہو بس تم مجھے یاد رکھنا مسز عابد مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئیں جبکہ جہاں آرا بیگم کچھ پریشان ہو گئیں.
اگر ایسا ہے تو تراب نے اس لڑکی ساتھ شادی میں اتنی جلدی کیوں کی اور اب اس سے اتنا بیگانہ کیوں بنا ہوا ہے کہیں اسے اس لڑکی سے “محبت” تو نہیں ہو گئی محبت کا بھوت کبھی بھی چڑ سکتا ہے. توبہ کرو جہاں آرا کیا فضول سوچ رہی ہو …….. ؟ جہاں آرا نے اپنے خیال پر خود ہی جھرجھری لی اور آگے برھ گئیں.
بوا دور دور سے عنزہ کو دیکھ دیکھ کر دعائیں بھی دے رہی تھیں اور جوش بھی ہو رہیں تھی.” اللہ کرے تراب بابا ہمیشہ عنزہ کو خوش رکھے آمین.” اگر آج اس کے ماں باپ ہوتے تو بہت خوش ہوتے. بوا نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سوچا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
تقریب کے اختتام پر آغا جان نے جہاں آرا بیگم کو مبارک باد دیتے ہوئے اجازت چاہی جبکہ زویا نے عنزہ سے ملنے کے لیے اسٹیج کی طرف قدم بڑھا دیے.
اچھا بھابی اب میں چلتی ہوں امید ہے کہ آپ سے ہماری ملاقات جلدی جلدی ہوتی رہے گی. زویا کے کہنے پر عنزہ نے اسے گھور کر دیکھا
ابھی کچھ دیر پہلے تک تو آپ مجھے عنزہ کہہ رہی تھیں اور اب کیا ہوا …….. ؟ عنزہ نے آبرو اچکا کر پوچھا
ظاہری سی بات ہے تب نکاح نہیں ہوا تھا اور اب ہو گیا ہے تو آپ ہماری بھابی ہوئیں. ویسے آپ مجھے بہت پسند آئیں ہیں. زویا نے پیار سے کہتے ہوئے عنزہ کو ساتھ لگایا
زویا کے اسٹیج سے اترتے ہی ہمدانی کے کہنے پر ایک ملازمہ نے عنزہ کو اپنے ساتھ نیچے اترنے کا کہا جسے عنزہ نے بغیر کسی حجت کے مان لیا.
تراب نے آغا جان کو گلے لگا کر شکریہ ادا کیا جبکہ احمر ابھی تک ناراض نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا.
چل اب بس بھی کر دے اتنا غصہ تیرے منہ پر اچھا نہیں لگتا ………. ؟ تراب نے مسکراتے ہوئے احمر کو بھی گلے لگایا (جبکہ جہاں آرا بیگم کا سارا دھیان اس وقت اسٹیج سے اترتی عنزہ پر تھا.)
یہی بات ساری زندگی میں تجھے کہتا رہا ہوں مگر تجھے زرا برابر اثر نہیں ہوا اور آج تُو مجھے یہ سب کہہ رہا ہے کمال ہے احمر کے جواب پر تراب نے صرف مسکرا کر سر کو خم دیا مگر منہ سے کچھ نہ کہا
جب تک گیٹ سے احمر کی گاڑی نکل نہیں گئی تراب کھڑا دیکھتا رہا پھر غیر ارادی طور پر مڑتے ہی اسٹیج پر دیکھا جہاں اس وقت عنزہ موجود نہیں تھی.
یہ کہاں گئ ابھی تو یہیں تھی ……. ؟ تراب دل میں سوچنے لگا اس وقت لان مہمانوں سے خالی ہو رہا تھا ہر طرف ایک گہما گہمی تھی. تراب نے ایک نظر پورے لان پر ڈالی مگر اسے وہ کہیں نظر نہ آئی.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
احمر جلدی گاڑی چلاؤ اور شیشے کھول دو آغا جان نے رک رک کر کہا جس پر احمر کے ساتھ ساتھ پیچھے بیٹھی زویا بھی پریشان ہو گئی.
پلیز آغا جان فلموں کے ” دادا جان ” کی طرح اب یہ مت کہنا کہ “میری طبیعت خراب ہو رہی ہے اور لگتا ہے کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے.” احمر نے آغا جان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر زویا نے پیچھے سے اسے ایک زوردار مکا مارا. آغا جان میرے خیال سے گھر کی بجائے ہسپتال چلتے ہیں. مجھے تو آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی زویا نے فکرمندی سے کہا
طبیعت تو میری بھی ٹھیک نہیں ہے اب” میر لاج” کا کھانا ہضم کرنا آسان تھوڑی ہے _ اللہ جانے ان لوگوں نے کس کس کا حق کھایا ہوا ہے ……… ؟ میں تو جب بھی تراب کی طرف سے کچھ کھا کر آتا ہوں. ہمیشہ بیمار پڑ جاتا ہوں. لہذا زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. ویسے بھی میں نے آغا جان کو ہرن کے گوشت ساتھ انصاف کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے. اب ہرن اندر اچھل کود کر رہا ہو گا تو آپ کو گھبراہٹ کا احساس ہو رہا ہے. میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے. لیکن اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ہسپتال لے چلتا ہوں. احمر نے کہتے ہوئے اپنی قمیض کا بٹن کھولا ہاں شاید یہی بات ہے میرے خیال سے گھر جا کر آرام کروں گا تو بلکل ٹھیک ہو جاؤں گا. تم بھی پریشان مت ہو آغا جان نے کہتے ہوئے اپنی سیٹ ساتھ چپکی زویا کا سر تھپکا
ہممممم …….. اچھا آپ کہتے ہیں تو میں مان لیتی ہوں لیکن اگر آپ چیک اپ کروا لیتے تو اچھا ہی تھا _ ویسے آغا جان عنزہ بہت پیاری اور معصوم ہے نااااا آپ کو کیسی لگی ……. ؟ زویا نے اشتیاق سے پوچھا ساری بیٹیاں معصوم اور پیاری ہوتیں ہیں. آغا جان نے قدرے دھیمے لہجے میں جواب دیا ایک تو آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے دوسرا آپ جھوٹ بھی بول رہے ہیں اس طرح تو زیادہ طبیعت بگڑ جائے گی ساری بیٹیاں کہاں معصوم ہوتیں ہیں اپنی زویا کو ہی دیکھ لیں. احمر شرارت سے زویا کی طرف دیکھ کر کہا
احمر شرارت مت کرو اور سارا دھیان ڈرائیونگ پر دو. ہر وقت زویا کے پیچھے مت پڑے رہا کرو. آغا جان نے ڈانٹا
اس وقت تو دیکھ لیں وہ میرے پیچھے ہے. احمر نے اپنی سیٹ کے پیچھے اشارہ کیا جبکہ زویا نے ایک اور مکا اس کے بازو پر مارا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
اس وقت جہاں آرا بیگم کے کمرے میں بلا کی خاموشی تھی. عنزہ اور بُوا صوفے پر جہاں آرا بیگم کے سامنے کسی مجرم کی طرح بیٹھیں تھیں.
یہ سارا زیور، سلامی کے پیسے اور گفٹس _ ان تمام چیزوں پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے. اس لیے یہ تمام چیزیں میں اپنے پاس رکھ رہی ہوں. اپنی حیثیت بھولنے کی کبھی غلطی مت کرنا ورنہ بہت پچھتاؤ گی. تمہارے حق میں یہی بہتر ہو گا کہ تم میرے تمام احکامات کو من و عن قبول کرو. اور ہاں ایک بات اور تراب سے تمہارا رشتہ صرف کاغذ تک ہے اسے حقیقت سمجھنے کی کبھی غلطی مت کرنا کیونکہ حقیقت کا اس رشتے سے کچھ لینا دینا نہیں. اس نے صرف میرے کہنے پر تم سے نکاح کیا ہے ورنہ وہ تم جیسی لڑکیوں کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا.
ویسے تو تمہیں تراب کے رویے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا. تم کافی عقل مند ہو. نکاح سے لے کر اس وقت تک اُس نے ایک دفعہ بھی تمہاری طرف نہیں دیکھا. ساتھ ساتھ جہاں آرا بیگم نے اپنی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی کو گھمایا.
جہاں آرا بیگم کی باتیں بوا کو سخت ناگوار گزر رہیں تھیں جبکہ عنزہ کا چہرہ بلکل نارمل تھا.
اب تم دونوں جا سکتی ہو اور ہاں آئندہ میرے برابر بیٹھنے کی غلطی مت کرنا. آج پہلی بار تم لوگوں نے ایسا کیا ہے اس لیے میں معاف کرتی ہوں.
آخر آج میرے اکلوتے بیٹے کا نکاح تھا اور میں اس کے لیے بہت خوش ہوں کمرے میں داخل ہوتے ہوئے تراب نے یہ الفاظ بخوبی سنے اور جہاں آرا بیگم نے اسے ہی دیکھ کر ایسا کہا
ایک لمحے کے لیے عنزہ اور تراب کی نظریں آپس میں ٹکرائیں پھر دونوں نے ہی سمت بدل لی. تراب چلتا ہوا ماں کے پاس آگیا جبکہ وہ دونوں کمرے سے باہر چلی گئیں.
تراب اچھا ہوا تم آ گئے. میں ابھی تمہیں ہی بلوانے لگی تھی. مجھے نکاح نامے کے ساتھ ساتھ اس کی تمام کاپیاں بھی چاہیں. جہاں آرا بیگم اب کی بار بہت سنجیدہ تھیں.
جی بہتر ماما جانی اور کوئی حکم تراب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
یہ گفٹس اور پیسے یہاں کیوں ہیں …….؟ ہم لوگوں کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں. تراب نے کارپٹ پر پڑے پیسوں کے سفید لفافوں اور گفٹس کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
مجھے بھی ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے …….. ؟میں تو بس لسٹ بنوانا چاہتی تھی تاکہ مجھے اندازہ ہو سکے کہ کس نے کیا دیا ہے آخر میں لوگوں سے اتنا لین دین کرتی رہیں ہوں _ جہاں آرا بیگم نے فوراً بہانہ بنایا.
ٹھیک ہے مگر آپ یہ چیزیں مت رکھنا. جس کی ہیں اسے دے دینا. میں نہیں چاہتا کوئی یہ کہے کہ “میر لاج” والے اتنی گھٹیا اور نیچ حرکتیں کرتے ہیں. تراب کہتا ہوا اٹھ گیا جبکہ جہاں آرا بیگم نے سر ہلا دیا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.
