Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

جی آغا جان آپ نے مجھے بلوایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمر نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے پوچھا
ہاں اندر آ جاؤ اور دروازہ بند کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا جان کے سنجیدہ سے جواب پر احمر کو حیرت ہوئی مگر وہ خاموش رہا
میں اب تھکنے لگا ہوں اس لئے سوچا ہے کہ کیوں نہ تمہارے حوالے اب بزنس کر دو۔ دوسرے اور سادہ الفاظ میں اب تم تراب کی بجائے صبح سے میرے آفس آؤ گے۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ آغا جان نے احمر کی طرف دیکھ کر کہا
پہلی بات تو یہ کہ آپ بالکل بھی بوڑھےنہیں ہو رہے اور دوسرا میں کیوں آپ کا آفس جوائن کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مجھے آپ کے بزنس کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ میں تراب کی طرح پراپرٹی کا کام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر کے جواب پر آغاجان مسکرائے
تمہاری بات اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے ۔مگر تم فی الحال میرے آفس صبح سے آؤ گے میں تمہارے حوالے اپنا آفس کرکے خود سیاست میں عملی طور پر قدم رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ آغاجان نے اسے سمجھایا
پتا نہیں ہمارے بزرگوں کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ؟ اِدھر آپ اور اُدھر تراب کی ماما کو سیاست جوائن کرنے کا شوق چڑھا ہوا ہے
پرانے زمانے میں بزرگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ بچوں کی جلد از جلد شادی کریں اور خود عمرے یا حج پر چلے جائیں مگر اب ۔۔۔۔۔۔۔احمر نے افسوس سے سر ہلایا۔
زویا بالکل ٹھیک کہتی ہے تمہیں ہر وقت مذاق سوجھتا رہتا ہے کبھی تو سیریس ہو جایا کرو۔ اور ہاں میں نے اور زویا نے تمہارے لئے ایک لڑکی دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔ آغاجان کی بات پر احمر چونکا
اتنی جلدی لڑکی کیسے دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ لڑکی مجھے کیوں نظر نہیں آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
مجھے بھی نہیں پتا مگر زویا کی کوئی دوست ہے کافی لائق بچی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آغا جان کی بات پر احمر نے مشکوک نظروں سے گھورا
زویا کی دوست اور لائق۔۔۔۔۔۔۔ اغاجان مذاق مت کیا کریں ۔احمر نے ان کی بات پر قہقہہ لگایا
بس مجھے نہیں پتا تم اتوار کو تیار رہنا ہم نے ان لوگوں کی طرف جانا ہے اور ہاں اپنا منہ بند رکھنا میں اور زویا بات کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ آغا جان نے احمر کوتنبہہکی جو ان کی بات پر مسلسل مسکرا رہا تھا۔
اور کوئی حکم کہ میں اب جاؤں ۔۔۔۔۔۔ ؟احمر نے اجازت طلب کرتے ہوئے زویا کے کمرے کا رخ کیا
میں نے سنا ہے کہ تم نے میرے لئے ایک عدد لڑکی دیکھی ہے۔ جو سراسر میرے ساتھ زیادتی ہے۔۔۔۔۔۔ کم از کم دس بارہ لڑکیاں دیکھو پھر میں ان میں سے ایک کا انتخاب کروں گا۔۔۔۔۔۔ احمر نے بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹتے ہوئے کہا
زیادتی تو اس لڑکی کے ساتھ ہے تمہارے ساتھ تو خیر کوئی زیادتی کر ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔ دوسرا یہ بستر میرا ہے جس پر آپ اتنی بری طرح آ کر گئے ہیں جیسے کوئی مصیبت آتی ہے ۔۔۔۔۔۔ زویا جو آئینے میں بال بنا رہی تھی اچانک سے احمر کی آمد پر خفا ہوئی۔
اچھا چھوڑو ان فضول باتوں کو یہ بتاؤ تم نے جو لڑکی میرے لیے دیکھی ہے وہ کون ہے۔۔۔۔۔۔ کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ؟ کیونکہ میں تمہاری تمام دوستوں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔اس میں تو ایک بھی ڈھنگ کی لڑکی نہیں تھی۔ احمر نے تجسس سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
وہ “عائشہ” یاد ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔جو ہمارے ساتھ کالج میں ہوتی تھی۔ زویا نے مسکراہٹ دبا کر آئینے میں احمر کا عکس دیکھا
اچھا وہ جو انگلش سرائیکی لہجے میں بولتی تھی ۔جسے سن کر خود انگریز بھی پریشان ہوجائیں کہ “یہ زبان میں نے کہیں سنی رکھی ہے” ۔۔۔۔۔۔احمر کو حیرت کا جھٹکا لگا
جی ہاں وہی سادہ سی لڑکی۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی وہ تمہیں بہت زیادہ پسند کرتی تھی میرے خیال سے وہ تمہارے لئے بالکل ٹھیک رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔زویا اب اپنے ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی ۔
پاگل ہو گئی ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اس سے تو اچھا ہے کہ میں “کنوارہ” ہی مر جاؤں۔۔۔۔۔۔ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی اور خبردار جو اب تم نے مزید کوئی لڑکی میرے لیے پسند کی ہو۔ میں خود ہی دیکھ لوں گا۔ احمر غصے سے کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا جب کہ زویا نے اس کے پیچھے زور سے قہقہہ لگایا ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
ہاں تو پھر تم نے کیا سوچا ہے کوئی لڑکی دیکھی ہے تراب کے لئے۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ مسز عابد لان میں بیٹھی جہاں آرا بیگم سے پوچھ کر رہیں تھیں ۔
کیا بتاؤں مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے۔ اندر سے دل پریشان ہے کہیں ایسا کرنے سے میں اپنے بیٹے سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھوں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
وہ کیا سوچے گا میرے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔ ؟ جہاں آرا بیگم نے پریشانی سے لان کے ارد گرد لگے سفیدے کے درختوں کو دیکھا جو تیز ہوا کی وجہ سے ہل رہے تھے ۔
تم تو خوامخواہ پریشان ہو رہی ہو۔اگر تمھارا دل مطمئن نہیں ہے تو بیشک مسز اسد کی بیٹی سے تراب کی شادی کر دو۔ مگر دیکھ لینا تراب کو صائمہ بھی کبھی پسند نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔؟ مسز عابد نے بڑے اعتماد سے کہا
اتنی دیر میں عنزہ کوارٹر سے نکل کر “میرلاج “میں داخل ہوئی۔ ہلکے سبز پرنٹ سوٹ پر شفون کا دوپٹہ اوڑھے وہ اس وقت اس ہرے بھرے خوبصورت لان کا ہی حصہ لگ رہی تھی ۔
عنزہ دونوں بیگمات کو سلام کرتی اندر بچوں کے روم کی طرف بڑھ گئی جب کہ دونوں میں سے کسی نے بھی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا ۔
یہ کون ہے میں نے اسے پہلے کبھی یہاں نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔؟ مسز عابد نے بڑے غور سے عنزہ کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
شفقت بوا کی بھتیجی ہے۔ بیچاری یتیم ہے ۔میں نے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے رکھ لی ہے ویسے کافی لائق ہے ۔۔۔۔۔؟؟جہاں آرا بیگم نے سرسری انداز میں عنزہ کا تعارف کروایا
یہ تو وہی بات ہوئی” بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں”_ ارے تمہارے مطلب کی ہے یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز عابد نے مسکراتے ہوئے جہاں آرا بیگم کو دیکھا کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ ؟ اگر میں صحیح سمجھی ہوں تو تمہارا اشارہ تراب کی طرف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں آرا بیگم نے شکی نظروں سے اس طرف دیکھا جہاں ابھی ابھی عنزہ گئی تھی تم بالکل ٹھیک سمجھی ہو ۔ دیکھو تھوڑا بہت بڑی لکھی بھی ہے ۔آگے پیچھے بھی کوئی نہیں۔ بچے ویسے بھی اس سے مانوس ہو گئے ہوں گے۔ بس اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تراب سے بات کرو ۔ یقین مانو یہ لڑکی ہمارے لئے ایک دم موزوں ہے بلکہ میں تو کہتی ہوں اللہ نے تمہارے لیے ہی بنایا ہے اسے۔۔۔۔۔۔ موقع ضائع مت کرو۔ مسز عابد کی بات پر جہاں آرا بیگم نے خاموشی اختیار کر لی۔ پھر کیا سوچا ہے تم نے ۔۔۔۔۔۔؟ جب کافی دیر تک جہاں آرا بیگم کچھ نہ بولیں تو مسز عابد نے پوچھا مجھے نہیں لگتا تراب مانے گا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔؟؟ جہاں آرا بیگم خود بھی کنفیوز تھیں۔ تم خود نہیں مان رہی اور نام تراب کا لگا رہی ہو۔ سیدھی طرح کیوں نہیں کہتی کہ یہ لڑکی تمہیں پسند نہیں۔۔۔۔۔ ؟ مسز عابد نے منہ بنایا دیکھو لوگ کیا کہیں گے اتنے بڑے گھر کی بہو اور” یہ” ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یوں تو ہماری ناک کٹ جائے گی اور یہ ملازمین میرے سر پر چڑھ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں آرا بیگم نے گیٹ کی طرف نفرت سے دیکھا جہاں اس وقت کچھ ملازمین اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔ ناک کٹے گی نہیں بلکہ عزت میں خوب اضافہ ہوگا سوچو جب ہم اس بات کو سوشل میڈیا پر کوریج دیں گے تو تمہارا امیج کتنا اچھا پڑے گا ۔
ویسے بھی عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں تمہارا کافی نام ہے۔ اوپر سے جب تم اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے ایک غریب یتیم بچی بیاہ کر لاؤ گی تو تمہاری تو ہر طرف واہ واہ ہو جائے گی ۔
اور یہ واہ واہ تمہیں اپنے سیاسی کیریئر میں بہت مدد دے گی ۔دل سے نہیں دماغ سے کام لو کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔؟ مسز عابد نے جہاں آرا بیگم کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا ۔
آج تراب آتا ہے تو بات کرتی ہوں۔ ویسے دل ڈر سا رہا ہے.پتا نہیں کیسا behave کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟جہاں آرا بیگم نے دل میں سوچا .
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
شام کے وقت ٹریفک کا رش زیادہ ہی بڑھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس وقت احمر اور تراب گاڑی ساتھ ٹیک لگائے سڑک کنارے کھڑے تھے ۔
یہ بتانے کے لئے تو نے مجھے بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ احمر نے حیرانگی سے تراب کی طرف دیکھا جہاں مزاق کی رمق تک نہ تھی ۔
نہیں یہ تو میں نے ویسے ہی کہا ہے ۔۔۔۔۔۔ تراب نے جواب دیا
جو بات بتانی ہے وہ بتاااااا ۔۔۔۔۔۔مجھے یوں سڑک کے کنارے کھڑا ہونا عجیب سا لگ رہا ہے۔ احمر نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا
ایسا کر تو بیٹھ جا پھر عجیب نہیں لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔ تراب کے سنجیدگی سے جواب دینے پر احمد تپ گیا۔
بےعزت کرنے کے لیے بلوایا ہے ویسے تو یہ کام فون پر بھی کر سکتا تھا۔خوامخواہ میرے آنے میں وقت ضائع ہوا ۔۔۔۔۔ احمر نے منہ بنا کر اسے دیکھا
یار وہ لڑکی تو کافی عجیب سی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ اس نے مجھے کافی ڈسٹرب کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد تراب نے کہا
“کافی” کے ساتھ” زیادہ “کا اضافہ کر لیں کیونکہ صرف “کافی” آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی احمر کے جواب پر تراب نے اسے گھور کر دیکھا
پہلے اس نے خود ہی بات شروع کی اور پھر بغیر کسی وجہ کے خود ہی ختم بھی کر دی ہے نااااا عجیب بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب اب پھر سامنے سڑک کو دیکھ رہا تھ
“عجیب” کا تو پتہ نہیں مگر “غریب” بات ہے۔ احمر کے جملے پر تراب نے اسے یکدم مڑ کر دیکھا
تجھے کیسے پتا کہ وہ غریب ہے۔۔۔۔۔ ؟ تراب کے سوال پر احمر چونکا
اگر تو مجھے مارے گا نہیں اور واپسی پر عزت سے (جس کے چانسز صفر ہیں) گھر چھوڑ دے گا۔ تو میں کچھ عرض کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر کی بات پر تراب نے اسے ایک مکا مارا
پہلے یہ بتا اس نے کیا کہا اور کیسے۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر اب تراب کی طرف منہ کر کے ذو معنی انداز میں مسکرا رہا تھا۔
دانتوں سمیت گھر جانا ہے یا ان کے بغیر اس بات کا فیصلہ تو نے خود کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ تراب کے سنجیدگی سے پوچھنے پر احمر اس کی بات کا مطلب سمجھتا سیدھا ہوگیا۔
میں اب صرف کانوں سے سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔احمر نے کمر گاڑی ساتھ لگاتے ہوئے بازو سینے پر باندھ لیے ۔
وہ کہتی ہے کہ اسے “مجھ سے محبت ہے”
ابھی تراب نے اتنا ہی کہا تھا کہ احمر اپنے پاؤں پر گھوم گیا ۔
نہ کر یار تجھ جیسے کھڑوس کو بھی کہہ دیا اب تو مجھے نہ پکڑی میں خود کشی کرنے لگا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آج اس گاڑی کے نیچے آ کر جان دے دوں گا احمر نے غمزدہ ہونے کی ایکٹنگ کی۔
جا میں نے تجھے نہیں پکڑا مگر پہلے میری پوری بات سن لے ۔وہ کہتی ہے اسے مجھ سے محبت ہے مگر میرا سٹیٹس اسے زیادہ متاثر کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اب کی بار تراب تلخی سے مسکرایا اور احمر نے حیرت سے اسے دیکھا
یہ کیا بات ہوئی پاگل ہے کیا۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے تراب سے کہا جس پر اس نے کندھے اچکا دیے ۔
مگر ایک اور بات جو مجھے اس کی عجیب لگی وہ یہ ہے کہ اسے میری “آواز” سے زیادہ میری “شکل” پسند ہے۔
سوچنے والی بات ہے کہ اس نے مجھے کہاں دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے احمر کی طرف دیکھ کر پوچھا
پھر تو یقیناً تیرے جانے والوں میں سے ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے جواب دیا
مگر وہ تو غربت کا بہت رونا رو رہی تھی اور میرے جاننے والوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جیسا وہ نقشہ کھینچ رہی تھی۔ تراب نے سوال کیا
لڑکی یا تو سچی ہے یا ضرورت سے زیادہ ہوشیار۔ احمر نے تبصرہ کیا
ہو سکتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اب اس کا نمبر بند ہے اور مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے بےبسی سے گاڑی پر مکا مارا
لوکیشن معلوم کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر نے حل بتایا
اتنا بھی آسان نہیں جتنا تو سمجھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمدانی کو لگایا ہے میں نے اس کام پر ۔وہ کچھ نہ کچھ تو کرے گا ۔تراب کی بات پر احمر نے سر ہاں میں ہلا دیا
اب ہم تین منٹ مزید آپ کی محبت میں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ پھر آپ بھی اعلی ظرف ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مجھ ناچیز کو کچھ کھلا پلا کر گھر چھوڑ دیں سیشن ختم ہوا ۔احمر نے ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے دعا کی جبکہ تراب اسے گھورتا ہوا گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولنے لگا
مہربانی پیارے اللہ جی۔۔۔۔۔۔ اتنی جلدی میری دعا سن لی شکریہ احمد کہتا ہوا اس کے برابر سیٹ پر بیٹھ گیا۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
تراب کہاں سے آرہے ہو۔۔۔۔۔ آج اتنی دیر کردی۔۔۔۔۔؟؟؟ جہاں آرا بیگم نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
(احمر کو گھر اتارنے کے بعد تراب خود سڑکیں ناپتا ہوا ایک بجے گھر پہنچا تھا )
ماما جانی آج میرے سر میں بہت درد ہے ۔تھوڑی دیر ہوا کھانے لونگ ڈرائیو پر چلا گیا تھا ۔مگر آپ کیوں اتنی دیر تک جاگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں نے میسج کر کے بتا دیا تھا کہ دیر ہو جائے گی تراب کہتا ہوا ماں کے کندھے پر سر رکھ کر جہاں آرا بیگم کے برابر بیٹھ گیا۔
تمہیں دیکھے بغیر نیند کہاں آتی ہے۔خیر یہ بتاؤ کھانا لگواؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جہاں آرا بیگم نے تراب کی گال تھپکتے ہوئے پوچھا
نہیں دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر کے ساتھ برگر کھایا تھا۔ کافی بھی پی لی ہے۔ بس اب آرام کروں گا۔
ہممممم۔۔۔۔ چلو پھر آرام کر لو۔ ویسے تو آج میں نے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی تھی مگر اب کل سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم کی بات پر تراب نے ان کی طرف دیکھا
آپ کہیں میں سن رہا ہوں ایسی کون سی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم نے تراب کی بات پر مسکراتے ہوئے اس کے بال درست کیے۔
وہ میں سوچ رہی تھی کہ یہ جو بچی ہم نے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے رکھی ہے بہت ہی شریف اور نیک بچی ہے۔
ویسے بھی شفقت بوا تمہارے باپ کے زمانے سے ہماری ملازم ہیں کرمو بابا جو کسی کام سے لاؤنچ میں آئے تھے جہاں آرا بیگم کی بات سن کر نفی میں سر ہلانے لگے.
ہاں دیکھا ہے میں نے اسے اس رات لان میں کھڑی تھی. پاگل سی ہے۔ جلدی نہ بات سنتی ہے نہ ہی جواب دیتی ہے تراب نے بیزاری سے جواب دیا.
ارے نہیں تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی
وہ بچی تو بہت ہی ذہین اور تمیزدار ہے. میٹرک اور Fsc میں سکالرشپ لی ہے. بچے بھی اس سے بہت مانوس ہو گئے ہیں۔ تراب کی بات پر جہاں آرا بیگم کو اپنا پلان فیل ہوتا ہوا محسوس ہوا.
اچھا پھر تراب نے اپنی کنپٹی دبائی.
بچے اس کے ساتھ بہت مانوس ہو گئے ہیں بیچاری یتیم بھی ہے تو میں سوچ رہی تھی کیوں نااا اس کی شادی تم سے کر دی جائے. اس طرح میں بچوں کے ساتھ ساتھ تمہاری طرف سے بھی بےفکر ہو جاؤں گی.
یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کا بہت ثواب ہے. آخرت بھی بن جائے گی اور دنیا بھی _
جہاں آرا بیگم ابھی اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھی کہ اچانک تراب غصے سے کھڑا ہو گیا.
مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ ایسا سوچنا بھی مت۔میں دوبارہ یہ بات نہ سنو ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ تراب انگلی اٹھا کر کہتا اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگا اس کے کمرے کا دروازہ اتنی زور سے بند ہوا کہ جہاں آرا بیگم نیچے بیٹھیں کانپ گئیں.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے۔