Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

احمر اپنے اور زویا کے لئے آئس کریم لے رہا تھا جب تراب کی آواز پر مڑا.
عون دیکھو احمر چاچو بھی آئس کریم کھانے آئے ہیں حالانکہ یہ اتنے بڑے ہیں. تراب نے چھیڑا.
ظاہری سی بات ہے جب سارا دن باس کی بکواس سے دماغ پک رہا ہو تو ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے…… احمر کے جواب پر تراب نے قہقہ لگایا.
یار لگتا ہے تو آج بہت سخت ناراض ہوگیا ہے مگر میں اس وقت تیرا دوست ہوں باس نہیں …… تراب نے مسکراتے ہوئے پوچھا جبکہ احمر نے تراب کو نظر انداز کرتے ہوئے عون کو گود میں لیا.
چھوٹے میر صاحب آپ کیسے ہیں……. احمر نے عون کے گال پر پیار کیا.
چل میں تجھے آئسکریم کھلاتا ہوں. امید ہے آئسکریم کھانے سے تیری ناراضگی ختم ہو جائے گی……. تراب نے کہتے ہوئے آئس کریم کا آرڈر دیا.
میں کوئی تیری” بیوی” ہوں جو تجھ سے آئسکریم کھا کر راضی ہو جاؤں گی……. احمر نے تراب کی آفر کو ٹھکراتے ہوئے جواب دیا.
احمرررررررررر……. تراب نے “مر” کو لمبا کیا.
میرے خیال سے پہلی فرصت میں مجھے اپنا نام تبدیل کرنا چاہیے. ورنہ جس رفتار سے لوگ مجھے “مر” کہہ رہے ہیں میں نے سچ مچ ہی “مر” جانا ہے…….. کیا پتا کون سی گھڑی قبولیت کی ہو اور میرا اوپر کا ویزے کنفرم ہو جائے……؟
تراب آئسکریم لیتے ہوئے احمر کے ساتھ پارکنگ ایریے میں آگیا. جہاں زویا نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا.
آپ بھی آئیں ہیں……… تراب نے ایک آئس کریم اس کی طرف بڑھا دی اور خود پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہو گیا.
جی یہ میرے ساتھ میرے ” دادا” کو فری میں ملی تھی……… اصل میں اس وقت یہ “سکیم” تھی. ایک بیٹے ساتھ ایک “بیٹی” بالکل فری لیں…….. احمد نے اشتہار کی طرح نقل اتاری.
یہ میں ہوں _ یہ میرا کزن ہے اور اب ہم مل کر اسے بےعزت کرنے لگے ہیں زویا نے موبائل سے ویڈیو بنائی جس بر تراب نے بے ساختہ قہقہ لگایا خبردار…….!!! جو تم لوگوں نے میرے ساتھ “ذرا ” سی بھی بدتمیزی کی تو…………. احمر نے عون کو گاڑی کے بونٹ پر بیٹھاتے ہوئے کہا ہم “ذرا سی” نہیں بلکہ” پوری” طرح کریں گے اور آئسکریم احمر کی طرف اچھال دی. زویا کی حرکت پر احمر جلدی سے پیچھے ہٹا مگر اس سارے چکر میں اس کی اپنی آئسکریم بھی گر گئی. یا اللہ تو اپنے نیک بندوں کے اتنے امتحان کیوں لیتا ہے……. ایک “کزن” ہی کافی تھی اوپر سے “باس جیسا دوست” بھی بھیج دیا…… احمد نے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں کنفرم جنتی اور اللہ کا پسندیدہ بندہ ہوں. تم صرف اللہ کے ہی نہیں ہمارے بھی” پسندیدہ” ہو مگر…….. تراب نے سوچنے کی ایکٹنگ کی. مگر……….. ضرور لگانا جملے کے آخر میں……… تاکہ اگلے بندے کو “سچی خوشی” نصیب نہ ہو ……….. احمر نے تراب کا جملہ پورا کیا جس پر زویا اور تراب ہنس پڑے. ابھی میں تیرا باس نہیں ہوں تو میرے قریب کھڑا ہو سکتا ہے میں کچھ نہیں کہوں گا……. تراب نے بونٹ پر احمر کو بیٹھتے دیکھ کر کہا تمہارے چاچو کو گھر میں بھی “دورے” پڑتے ہیں یا یہ صرف جب میرے ساتھ ہوتے ہیں تو ایسا کرتے ہیں……. ؟؟؟ احمر نے عون کو پیار کرتے ہوئے لاڈ سے پوچھا گھر میں بھی پڑتے ہیں…….. عون کے معصوم جواب پر اب احمر قہقہ لگا رہا تھا جبکہ تراب نے حیرت سے عون کی طرف دیکھا خبردار……..!!! جو بچے کو ہراساں کیا تو…….. احمر نے جلدی سے عون کو گود میں اٹھا لیا . تراب بھائی اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں بھی آپ کا آفس جوائن کر لوں. میرے لیے بھی کوئی جگہ اپنے آفس میں نکالیں ناااااا……. زویا کی بات پر تراب نے اس کی طرف دیکھا. دیکھا میں نے کہا تھا نااااا……. کہ یہ میرے ساتھ فری میں ملتی ہے. بالکل ایسے ہی جیسے پیزے کے ساتھ کیچپ اور آئس کریم کے ساتھ ٹیشو پیپر احمر اس وقت ٹیشو پیپر سے اپنے اور عون کے ہاتھ صاف کر رہا تھا. ہو گیا اب میں بات کر لوں……… زویا آپ میرے آفس میں کیا کروں گی……؟ ؟؟ وہاں صرف لڑکوں کا کام ہے…… ؟؟؟ تراب نے آرام سے زویا کو جواب دیا ہاں تو یہ کون سی لڑکی ہے…. ؟ ذرا اس کا ایک ” مکا” کھا کر تو دیکھ……… میں تو روز کھاتا ہوں مجھ سے پوچھ……. اور رہی بات کہ یہ کیا کرے گی……… ؟؟؟ تو یہ مجھے بےعزت کرے گی جب تُو تھک جایا کرے گا تب……. بہت مہارت رکھتی ہے اس کام میں…… یقین جان تجھے زرا مایوسی نہیں ہوگی. ویسے بھی ہمارے پاکستان میں “شہرت” صرف دو لوگوں کو ہی نصیب ہوتی ہے ایک “مرنے والے” کو اور دوسرا “بےعزت ہونے” والے کو……….. اور مجھے لگتا ہے کہ جس رفتار سے میں ہر چگہ بےعزت ہو رہا ہوں میں بہت جلد مشہور ہو جاؤنگا………. احمر نے غصے سے زویا اور تراب کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہے تھے. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 بُوا یہ سندس کون تھی…….. ؟کافی دیر جب بوا چپ رہیں تو عنزہ نے ہمت کر کے پوچھا سندس کر موبابا کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی. بوا نےعنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا. اچھا پھر اسے کیا ہوا تھا…….. ؟؟؟ عنزہ کے سوال پر بُوا نم آنکھوں سے مسکرائیں. وہی جو عموماً غریب لڑکیوں کو “امیر لڑکے” دیکھ کر ہوتا ہے. محبت عنزہ نے فوراً بُوا کا جملہ پورا کیا. جس پر انہوں نے ہاں میں سر ہلا دیا
بُوا اب آپ زیادتی کر رہی ہیں. لڑکیوں کو صرف امیر لڑکوں سے محبت تھوڑا ہوتی ہے. اگر ایسا ہوتا تو پاکستان میں صرف دس فیصد لڑکوں کو محبت نصیب ہوتی………… پتہ نہیں کیوں مگر عنزہ کو بہت برا لگا.
بات کڑوی لگی ناااا……… مگر بیٹا یہ سچ ہے. تم نے کبھی ڈرامے، فلم یا ناول میں کسی لڑکی کو موچی
نائی _ سویپر ترکھان کنجڑا یا دھوبی سے عشق ہوتے ہوئے دیکھا ہے. نہیں ناااااا……… محبت ہمیشہ ڈاکٹر انجینئر آرمی آفیسر سیاستدان یا وڈیرے سے ہوتا ہے. یہ عشق بھی کتنا چالاک ہے………. معصوم لڑکیوں کے دل سے کھیلتا ہے .
اچھا بُوا چھوڑے ناااااا…… آپ بتائیں پھر کیا ہوا….؟
ہونا کیا تھا………. وہ بیچاری میٹرک کے پیپرز دے کر فری تھی. اس لیے اپنے بابا ساتھ گاؤں سے کچھ دن شہر گزارنے آگئی. مگر پھر اس فریب چشم “میرلاج” میں پھنس گئی.
بڑے میر یعنی تراب صاحب کے بھائی میر اضرار صاحب پیدائشی طور پر ” ذہنی معذور” تھے. ڈاکٹرز نے انہیں علاج کے لئے “پاگل خانے” داخل کرانے پر بہت زور دیا.
مگر بیگم صاحبہ نے اس بات کو اپنی “انا” کا مسئلہ بنا لیا وہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو پتہ چلے کہ ان کا بیٹا ذہنی معذور ہے.
وقت کے ساتھ ساتھ مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے بڑے میر کی بیماری میں شدت آتی گئی. وہ خوبصورتی میں تراب سے کئی گناہ زیادہ آگے تھے۔
سندس ایک معصوم اور خوبصورت شکل و صورت کی بچی تھی. اسے بڑے میر سے پہلی نظر میں ہی محبت ہو گئی. کچھ دنوں میں وہ بڑے میر سے باتیں کرنے لگی جس کی وجہ سے بڑے میر سندس کی توجہ پا کر کافی بہتر ہوں گے.
گھر پر بڑے میر کا ڈاکٹروں سے علاج جاری تھا. ڈاکٹر نے جب میر صاحب کی حالت میں بہتری دیکھیں تو بیگم صاحبہ کو مشورہ دیا کہ سندس کو بڑے میر کی “کئیر ٹیکر” کے طور پر رکھ لیا جائے.
بیگم صاحبہ نے سوچا کہ پیسے خرچ کرنے کا کیا فائدہ…….. ؟انہوں نے کرمو بابا کی مرضی کے خلاف زبردستی سندس کا “نکاح” بڑے میر سے کر دیا. اور یوں انھیں ایک بھولی بھالی مفت کی نوکرانی مل گئی.
وہ دن رات بڑے میر کی خدمت بھی کرتی اور جب بڑے میر کو دورہ پڑتا تو ان سے مار بھی کھاتی.
اللہ نے انہیں باری باری دو بچوں کی نعمت سے نوازا مگر وقت کے ساتھ بڑے میر کی جنونی کیفیت میں شدت آتی گئی جس سے سندس تنگ پڑنے لگی.
اُس نے بار بار بیگم صاحبہ کو کہا کہ بڑے میر کو علاج کیلئے ہسپتال داخل کرا دیں مگر نہ تو بڑی بیگم صاحبہ نے سنا اور……. اس سے پہلے بوا کچھ کہتیں عنزہ بول پڑی.اور میر تراب نے بھی کچھ نہیں کیا. (عنزہ کو اچانک تراب کا خیال آیا. )
عنزہ کے سوال پر بُوا خوب ہنسیں ……… تراب بالکل بیگم صاحبہ کا عکس ہے. فرق صرف دونوں کے “اخلاق” کا ہے. بیگم صاحبہ کے منہ سے ہر وقت آگ برستی ہے جبکہ تراب بظاہر منہ سے تو بھول ہی جھڑتا ہے مگر حقیقت میں وہ بیگم صاحبہ سے کم نہیں ہے.
سندس نے دونوں کی منتیں بھی کی مگر جب دونوں ماں بیٹا اس کی بات سنی ان سنی کرتے رہے تو اس نے بالآخر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا.
بیگم صاحبہ سے یہ کب برداشت ہوتا ہے کہ کوئی ان کے سامنے اپنی مرضی کرے……… اس لئے انہوں نے سندس کےگھر سے باہر جانے پر پابندی لگا دی بلکہ اسے بڑے میر کے کمرے میں بند کر دیا مفت کا نوکر جو تھا بلکہ غلام…….. کرمو بابا مجبور تھے کچھ نہیں کر سکتے تھے.
بالآخر ایک دن بڑے میر نے غصے میں آکر سندس کا گلا دبا دیا اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی.
مجھے آج بھی وہ ہولناک دن یاد ہے جب میرلاج سندس کی چیخوں سے گونجا تھا.
کرمو بابا اور پولیس کو تراب نے سنبھال لیا وہ اپنی فیملی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے. بس پھرکچھ بھی نہ ہوا…….. بوا کے چپ کرتے عنزہ نے ایک گہرا سانس لیا.
امیر لوگ اپنے “پاگل لڑکوں” کے لئے بھی “پری” تلاش کرتے ہیں اور غریبوں کی” حور” جیسی بچیاں بھی انہیں “کوڑا” لگتی ہیں.
بوا نے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے جہاں آرا بیگم کے الفاظ پر غور کیا.
آپ بے فکر رہیں میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوگا میں عنزہ ہوں
سندس نہیں.؟؟
عنزہ کے معنی” نیزہ” ہیں اور پتہ ہے نیزہ کتنے زور سے لگتا ہے.
سوچ لے، مجھے تو پتا نہیں کیوں عجیب ڈرسا لگ رہا ہے……. ؟ بُوا نے عنزہ کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا
میرے خیال سے اب ڈرنے کی باری جہاں آرا بیگم کی ہے. عنزہ نے دل میں سوچتے ہوئے بوا کو تسلی دی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.