Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

بیگم صاحبہ، حمنہ بی بی کو بخار بہت زیادہ ہے دو دن ہو گئے ہیں. مگر کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔میرے خیال سے جن کی رات کو ڈیوٹی ہے وہ بچوں کا صحیح خیال نہیں رکھتے…….. آیا نے اپنے آپ کو جہاں آرا بیگم کے غصے سے بچانے کے لیے سارا ملبہ رات والی آیا پر ڈال دیا۔
ہممممم…….. یہ تو ہے. بچوں کو ماں سے زیادہ کون سنبھال سکتا ہے…. ؟ جہاں آرا بیگم نے دل میں سوچتے ہوئے آیا کی طرف دیکھا مگر منہ سے کچھ نہ کہا
تم ہمدانی کے ساتھ حمنہ کو ہسپتال لے کر جاؤ. میں وہاں کی چائلڈسپیشلسٹ ڈاکٹر نرگس سے بات کر لیتی ہوں. اس دکھانا اور جیسا وہ کہیں بلکل ویسا ہی کرنا. میں آج بہت تھک گئی ہوں. ورنہ میں چلی جاتی.
آیا کے جاتے ہی جہاں آرا بیگم نے سامنے دیوار پر لگی اپنے بڑے بیٹے کی تصویر کو پر سوچ انداز میں دیکھا. تبھی دستک کی آواز کے ساتھ بوا کافی لیے داخل ہوئیں.
بُوا بیٹھو……. تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے. بوا نے ٹیبل پر کپ رکھا اور احتراماً ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئیں۔
بُوا مجھے آپ پر اپنے سب ملازموں کی نسبت زیادہ اعتبار ہے. میں چاہتی ہوں کہ عون اور حمنہ کی دیکھ بھال آپ کریں.
کیا ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ آپ یہیں سرونٹ کوارٹر میں شفٹ ہو جائیں….. ؟
بظاہر تو جہاں آرا بیگم نے بُوا سے پوچھا تھا مگر بُوا جانتی تھی کہ یہ ” پوچھنا” کم ہے اوع “بتانا” زیادہ ہے.
بیگم صاحبہ میں تو دل و جان سے یہاں شفٹ ہو جاؤں مگر ایک تو میں بوڑھی ہوں. بچوں کے ساتھ بھاگ دوڑ نہیں کر سکتی. دوسرا میری ایک یتیم بھتیجی ہے جس کا میرے سوا کوئی اور نہیں ہے. میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی. بُوا نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا.
تم اپنی بھتیجی کو اپنے بیٹے کے پاس کراچی بھجوا دو یا پھر اُس کی شادی کر دو.
آج کل کرمو بابا اور ڈرائیور شوکت بھی اپنے بیٹے کے لیے رشتے دیکھ رہے ہیں. تم غریبوں کی شادیوں کا کون سا مسئلہ ہوتا ہے…… ؟ کہیں بھی بیٹیوں کو دے دیتے ہو.
کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے جہاں آرا بیگم نے کافی سے زیادہ کڑوی بات بُوا کے کانوں میں انڈیلی.
بی بی جی وہ شادی کے قابل نہیں ہے ابھی بہت چھوٹی ہے. دوسرا شروع سے میرے ساتھ ہی رہی ہے تو میرے بغیر اداس ہو جاتی ہے………… بوا کے لہجے میں عنزہ کے لیے محبت ٹپک رہی تھی.
ایک تو تم غریبوں کے چونچلے…… خیر میں چاہتی ہوں کل تم اپنی بھتیجی کے ساتھ سرونٹ کوارٹر میں شفٹ ہو جاؤ. وہ جوان ہے بچوں کی دیکھ بھال کر لے گی. میں تنخواہ بھی ڈبل دوں گی اور رہائش بہت مفت ملے گی.
کھانا پینا ویسے بھی تم یہاں سے ہی کرتی ہو. جہاں اتنے غریب کھاتے ہیں وہاں ایک تمہاری بھتیجی کے کھانے سے کون سا ہمارے خزانے میں کمی آ جائے گی……. آخری جملہ حقارت سے کہا گیا تھا.
بُوا…… جہاں آرا بیگم کے کمرے سے نکل کر لاؤنج میں کھڑی اپنی بےبسی پر آنسو بہا رہیں تھیں جب میر تراب اندر داخل ہوا.
سلام صاحب ……! بوا نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کیں.
وعلیکم اسلام…… بوا اب حمنہ بی بی کی طبیعت کیسی ہے…..؟ تراب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے آرام سے پوچھا
صاحب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی اس لیے بیگم صاحبہ کے حکم پر ہمدانی اور آیا اسے ہسپتال لے کر گئے ہیں.
اللہ بچی کے حال پہ رحم کرے اور اسے صحت عطا کرے. بوا نے دعا دی.
اچھا اور عون کدھر ہے……. ؟تراب فورا صوفے سے کھڑا ہو گیا.
عون بابا تو اپنے کمرے میں ہی ہیں. صبح سے چپ چاپ سے ہیں. نہ کوئی شرارت کی ہے اور نہ ہی کھیل رہے ہیں.
اچھا میں دیکھتا ہوں اور ہمدانی آئے تو اسے میرے پاس بھیجنا…… تراب کہتا ہوا بچوں کے کمرے کی طرف جانے لگا مگر پھر رک کر بُوا کو دیکھا
آپ نے کچھ کہنا ہے………. تراب کے یوں اچانک پوچھنے پر بُوا نے پہلے “ہاں” میں سرہلایا مگر پھر سنبھل کر “نفی” میں سر ہلاتی کچن میں چلی گئی.
ہاں….. نہیں…… یہ کیا بات ہوئی. بُوا کو اس عمر میں کیا ہو گیا ہے. تراب خود کلامی کرتا ہوا آگے بڑھ گیا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جیسے ہی بلیک civic گیراج میں آکر رکی. تو زویا نہیں گھڑی کی طرف دیکھا.
آج دیر نہیں کر دی تم نے آنے میں……..؟؟؟ لانچ میں داخل ہوتے احمر کو دیکھ کر زویا نے پوچھا
شکر کرو کہ آ گیا ہوں. میرا آج ویسے ہی بہت دماغ خراب ہے تم پلیز اس میں اضافے کا باعث مت بنو……. احمر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے شوز اتار کر ایک دائیں اور دوسرا بائیں جانب پھینکتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا.
یہ کیا حرکت ہے جوتے اتارنے بھی بھول گئے ہو……. ؟زویا نے غصے سے احمر کی طرف دیکھا جو اب اسی انداز میں موزے اتار رہا تھا.
زویا بی بی……!!! کتنا اچھا ہو کہ تم میرے گھر سے کہیں اور شفٹ ہو جاؤ تاکہ میں صرف “جوتے” ہی نہیں بلکہ “کپڑے” بھی اتار کر آزادی سے پورے گھر میں گھوم پھر سکوں……. احمر غصے سے کہتا ننگے پاؤں کچن کی طرف چل پڑا.
ہاں ایسا ہو سکتا ہے اگر تم میرے لیے ایک خوبصورت اور امیر لڑکا تلاش کر دو پھر…… زویا نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر جواب دیا
کیوں گود لینا ہے…… احمد اب فریج کا دروازہ کھول کر پانی کی بوتل نکال رہا تھا
میں نے “لڑکا” بولا ہے ” بچہ” نہیں……. زویا نے لفظ بچہ پر زور دے کر اپنی الفاظ دہرائی.
ٹھیک ہے. پھر تم میرے لیے ایک پیاری سی لڑکی تلاش کرو. اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تم شادی کر کے عیش کرو اور میں کنوارہ تراب کے آفس میں مر جاؤں……… احمر کا غصہ اب کافی حد تک ختم ہو چکا تھا.
تراب بھائی سے سختی کرنے کو آغاجان نے بولا ہے ورنہ وہ تو آپ سے بہت پیار کرتے ہیں. زویا نے اب دوستانہ لہجہ اپنایا
ہاں مجھے معلوم ہے وہ اور اس کی محبت……… ان دونوں ماں بیٹے کو اس لفظ “محبت” کے ہجے بھی نہیں آتے. مطلب تو بہت دور کی بات ہے.
آنٹی جہاں آرا نے نیم کے پتوں سے تراب کو گھٹی دی تھی. احمد ایک بار پھر بولتا بولتا لاؤنج میں آ بیٹھا.
اچھا اب جانے بھی دو اور مجھے آئسکریم کھلا کر لاؤ. میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی. قسم سے آج بہت دل کر رہا ہے………. زویا بھی اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی.
کیا جانے دوں……. ؟ اس نے مجھے جانے دیا تھا…..؟ تراب نے مجھے آج سارا دن باہر دھوپ میں گھمایا ہے. اتنی گرمی اور دھول…… اوپر سے وہ “ریموٹ” میرا سر ابھی بھی سائیں سائیں کر رہا ہے.
اچھا میں آغا جان سے بات کرتی ہوں کہ اب وہ تمہیں اپنا بزنس شروع کرنے دیں. تم اپنا آفس کھول لینا…… اب خوش….. زویا نے ہمدردی کی.
سیریسلی، تم ایسا ہی کروں گی یا مذاق کر رہی ہو……؟ احمر نے زویا کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھا
ہاں اب میں تمہارے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتی. آخر کو تم تمہارے اکلوتے کزن ہوں. زویا نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا اگر تم سچ کہہ رہی ہو جس کا مجھے 100 فیصد بھی یقین نہیں ہے. پھر بھی میں تمہیں آئسکریم کھانے لے چلتا ہوں.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
عون میری جان ادھر آؤ…… میرے پاس، کیوں اتنا منہ بنایا ہوا ہے…..؟ ؟؟
تمہیں معلوم ہے نہ کہ چاچو تم سے کتنا پیار کرتے ہیں…….. تراب کب سے عون کی منتیں کر رہا تھا جو اس کی طرف منہ موڑ بیٹھا تھا.
آپ میرے چاچو نہیں ہیں. آپ بہت گندے ہیں. حمنہ اتنی بیمار ہے مگر آپ اسے دیکھنے تک نہیں آئے. نہ ہی آپ ہمارے ساتھ اب کھیلتے ہیں. نہ ہمیں گھمانے لے کر جاتے ہیں…….. عون نے منہ بنا کر جواب دیا
اچھا سوری یار میں کافی مصروف تھا مگر اب غلطی نہیں ہوگی. ہر اتوار تمہارے ساتھ گزاروں گا اور آج رات تمہارے کمرے میں تمہارے ساتھ سوؤں گا اب تو چاچو کو معاف کر دو……. تراب نے کہہ کر عون کے کان پکڑ لیے.
اپنے کان پکڑیں، میرے کیوں پکڑ رہے ہیں…..؟ ؟؟ عون نے غصے سے تراب کے ہاتھ ہٹائے.
یہ بھی میرے ہی کان ہیں. پلیز اب معاف بھی کر دو. چلو میں تمہیں آئسکریم کھلا کر لاتا ہوں.
اور حمنہ……. ؟ عون نے معصومیت سے تراب کی طرف دیکھا
وہ اب پہلے سے کافی بہتر ہے میری ہمدانی سے بات ہوئی ہے.
او کے….. چلیں پھر….. عون نے تراب کی گود میں بیٹھتے ہوئے کہا
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
بوا کافی دیر سے جائے نماز پر سر جھکائے خاموشی سے بیٹھیں تھیں.
عنزہ چپ چاپ بیڈ پر بیٹھی ہوئی ان کا جائزہ لے رہی تھی. جب کافی دیر یوں ہی گزر گئی تو وہ اٹھ کر بوا کے برابر زمین پر آ بیٹھی.
آپ جب سے میر لاج سے واپس آئیں ہیں بہت خاموش ہیں. کیا بیگم صاحبہ سے کسی بات پر ڈانٹ پڑی ہے….. ؟
عنزہ کے سوال پر بُوا نے اس کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا
میں اب بڑی ہو گئی ہوں. لہذا مجھ سے کچھ مت چھپائیں. ہم دوست بھی تو ہیں ناااااا…… عنزہ کی بات پر بُوا پھیکا سا مسکرا ئی.
میں اس کو آج فون کروں گی. اسے خود تو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ ماں کا حال پوچھ لے. پھر انھوں نے ایک گہرا سانس لیا.
ہم یہاں نہیں رہیں گے بلکہ کراچی چلے جائیں گے…… بُوا کی بات پر عنزہ کو حیرت کا جھٹکا لگا
مگر بھابھی تو آپ کو پسند نہیں کرتیں اور نہ ہی ایاز بھائی آپ کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں پھر یوں اچانک…….. عنزہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی.
غیروں سے “بے عزت” ہونے سے بہتر ہے کہ اپنوں سے ہوا جائے……… بُوا کھویا کھویا سا بول رہی تھیں.
کھل کر بات بتائیں ناااااا…… پہیلیاں کیوں بھجوا رہی ہیں. عنزہ نے پیار سے بُوا کاہاتھ اپنےدونوں ہاتھوں کے درمیان لیا.
مجھے آج بیگم صاحبہ نے کہا ہے کہ…… بوا نے ایک ایک حرف جہاں آرا بیگم کا دہرا دیا .
اچھا پھر …… عنزہ کے پوچھنے پر بُوا نے اسے حیرانگی سے دیکھا.
پھر کیا……. ؟اگر ہم ان کی بات نہیں مانیں گے. تو وہ مجھے نوکری سے نکال دیں گئیں. پھر یہاں رہنا بہت مشکل ہو جائے گا.
اور اگر ہم ان کی بات مان لیں تو پھر…… عنزہ نے آبرو آچکا کر پوچھا
توبہ کرو……. تم ان لوگوں کو نہیں جانتی. میں تو کبھی بھی تمہیں ان گندے لوگوں میں نہ لے کر جاؤں…….. میری بات اور ہے میں تو بوڑھی ہون مگر تم…… کیا منہ دکھاؤں گی قیامت والے دن تمہارے ماں باپ کو…….. بُوا نے توبہ کرنے والے انداز میں اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگایا
میرے خیال سے آپ کو بیگم صاحبہ کی بات مان لینی چاہیے. اگر دیکھا جائے تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے……… عنزہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
وہ کیسے……… ؟ بُوا نے کسی چھوٹے بچے کی طرح سوال کیا.
وہ ایسے میری بھولی بُوا……… وہاں نہ بجلی جائے گی اور نہ ہی پانی کا مسئلہ بنے گا _ نہ بلززز کی ٹینشن اور نہ ہی کھانے پینے کی صاف ستھرے کوارٹر میں رہیں گے.
رہی بات بچوں کی تو بچے مجھے ویسے بھی بہت پسند ہیں ان کے ساتھ کھیل کود میں سارا دن گزر جایا کرے گا
اور میں آپ کی آنکھوں کے سامنے بھی رہوں گی.
یہ مکان ہم کرائے پر دے دینگے. تنخواہ ڈبل ملے گی. تو یوں مجھے یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے گا کیوں کہ تنخواہ اور مکان کے کرائے سے ہمارے پاس اتنے پیسے جمع ہو جائیں گے کہ میں آگے اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں.
بدلے میں تھوڑی سی “بےعزتی” میں برداشت کر لوں گی. مصیبت کے وقت گدھے کو باپ بنا لینا چاہیے کیا خیال ہے آپ کا……. ؟
اپنی بات کے آخر میں زویا نے بُوا کی طرف دیکھا جو بالکل بھی مطمئن نظر نہیں آرہی تھی.
لیکن اگر ہم ایاز بھائی کے گھر گے _ اول تو وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر ہی نہیں جائیں گے _ اور اگر ہم ضد کرکے چلے بھی جائیں تو بھابھی ہر وقت ہمیں طعنے دے دے کر مار دیں گی.
ابھی تک تو آپ ان کو ہر مہینے اپنی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ بچا کر بھیجتی ہیں پھر جب ہم ان پر بوجھ بن جائیں گے تو سوچیں وہ ہمارا کیا حشر کریں گی.
بیٹا تیری سوچ ہے………. وہ بیگم صاحبہ بہت ظالم ہیں……… بوا نے جھرجھری لی.
آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے انہوں نے کسی کا “قتل” کیا ہو. زویا نے ہنسنا شروع کر دیا.
قتل ہی تو کیا تھا اس معصوم سی “سندس” کا __
بوا کے اس جملے پر عنزہ کی ہنسی کو بریک لگی. جب کہ وہ اپنے آنسو صاف کرنے لگیں.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.