Kitab Muhabbat By Amna Mehmood Readelle50140 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
جو کام میں تمہیں کہہ رہی ہوں تم نے بہت احتیاط سے کرنا ہے اور اگر تم اس کام میں کامیاب ہو گئی تو بدلے میں _ میں تمہیں مالا مال کر دوں گی اور تمہارے بیٹے کی نوکری بلکل پکی _ جہاں آرا بیگم نے ہاجرہ بی کو لالچ دیتے ہوئے کہا
بیگم صاحبہ آپ بلکل بےفکر رہیں. یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا ہے. بس یہ بتا دیں کہ کب کرنا ہے ………. ؟ ہاجرہ بی نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
ابھی کچھ دنوں میں تراب کی شادی کے فنکشن شروع ہو جائیں گے. ہر طرف گہما گہمی ہو گئی. تراب کو میں مصروف کر دوں گی تم نے بس مہندی والے دن سمجھ گئیں ناااااا کہ کیا کرنا ہے ……. ؟ جہاں آرا بیگم نے اپنے گلے میں پہنی گولڈ کی چین کو گھماتے ہوئے کہا
جی بیگم صاحبہ میں سمجھ گئیں ہوں. اب مجھے اجازت دیں. انشاءاللہ آپ کا کام ہو جائے گا اور کسی تو کانوں کان خبر بھی نہیں ہو گی _ ہاجرہ بی اجازت لیتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئ. تم کیا سمجھتی ہو ……….. ؟ تم اتنی آسانی سے مجھ سے میرا بیٹا چھین لو گی اور میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی. عنزہ بی بی میں تو تمہاری جان لے لوں گی. سمجھ کیا رکھا ہے مجھے _ جہاں آرا بیگم خود کلامی میں اتنی مصروف تھیں کہ تراب کے آنے کا پتہ ہی نہیں چلا.
کیا بات ہے کس سے باتوں میں مصروف ہیں کہیں ڈیڈ تو یاد نہیں آ رہے ………. ؟ تراب نے شرارت سے جہاں آرا بیگم کے پیچھے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
انھیں سے باتیں کر رہی تھی. وہ آج زندہ ہوتے تو کتنے خوش ہوتے جہاں آرا بیگم نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے غمزدہ لہجے میں جواب دیا.
اوہ ماما جانی اداس مت ہوں. پتہ جب آپ اداس ہوتیں ہیں تو میں بھی اداس ہو جاتا ہوں. تراب نے جہاں آرا بیگم کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیا.
اچھا زیادہ مسکا تم لگاؤ اور سیدھی طرح بتاؤ کہ کیسے آنا ہوا ……… ؟ جہاں آرا بیگم نے تراب کو خود سے الگ کرتے ہوئے پوچھا
یہ محض اتفاق ہے کہ زویا اور احمر کی شادی بھی اگلے ہفتے ہے تو میں چاہ رہا تھا کہ عنزہ کو زویا ساتھ شاپنگ پر بھیج دیں. وہ بھی اپنے لیے اس کے ساتھ مل کر آسانی سے شاپنگ کر لے گی. آپ کا کیا خیال ہے …….. ؟ تراب کی بات جہاں آرا کو بری تو بہت لگی مگر انھوں نے زبردستی مسکراتے ہوئے تراب کا ہاتھ تھپکا
شکریہ ماما جانی آپ اس دنیا کی سب سے اچھی ماما ہیں. مجھے پورا یقین تھا کہ آپ نہ نہیں کریں گی.
پتہ نہیں کیوں عنزہ آپ سے اتنا ڈرتی ہے. حالانکہ میرے خیال سے اس دنیا میں جتنی بھی “میٹھی چیزیں” ہیں “میری ماں” ان سب سے زیادہ میٹھی ہے _ تراب نے ایک بار پھر محبت سے ماں کو گلے لگایا.
میر تراب علی اب بس کریں. زیادہ مکھن مت لگائیں. میں آگے ہی کافی موٹی ہوتی جا رہی ہوں. جہاں آرا بیگم اپنی تعریف پر کھل کر مسکرائیں.
آپ جتنی بھی موٹی ہو جائیں. خوبصورت کی خوبصورت ہی رہیں گی. آخر ماں کس کی ہیں ………… ؟ تراب نے سر پر پیار دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا.
“شادی کی شاپنگ” گئی بھاڑ میں اس کے لیے کپڑوں کی نہیں کفن کی ضرورت ہے. خیر تم اپنا شوق پورا کر لو. میں اپنے بیٹے کو تو منع نہیں کر سکتی.
جتنے پیسوں کی وہ اُس “کم ذات” کو شاپنگ کرائے گا اتنے تو میں تراب کے سر سے وار کے پھینک دوں جہاں آرا بیگم نے اپنی ساڑھی کا پلو درست کرتے ہوئے سوچا
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
زویا تم یہ ڈریس پہنو گی شادی والے دن احمر نے سرخ رنگ کے لہنگے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
نہیں، میں تو پینٹ شرٹ پہننے کے بارے میں پوچھ رہی تھی. زویا کے جواب پر عنزہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی روکی.
یہی تو میں سوچ رہا تھا کہ تم کب سے ایسے کپڑے پسند کرنے لگی _ احمر کے جواب پر زویا نے اسے ایک زور دار مکا رسید کیا.
عنزہ اسے چھوڑو اور تم بتاؤ یہ ڈریس کیسا ہے ……… ؟ زویا نے اورنج رنگ کے ڈریس کے بارے میں پوچھا
جو آپ کو ٹھیک لگتا ہے وہ لے لیں عنزہ کے جواب پر تراب نے اسے غصے سے دیکھا
اپنی پسند بتاؤ ناااااا ہر بات پر “جو آپ کو اچھا لگتا ہے” یہ کیا بات ہوئی …….. ؟تراب نے دبے دبے سے لہجے میں ڈانٹا
احمر یہ دیکھو آف وائٹ کلر کا فراک کیسا ہے ………… ؟ زویا نے ایک کامدار فراک کی طرف اشارہ کیا جس پر احمر نے فوراً حامی بھر لی.
یہ دونوں کتنا لڑتے ہیں ……….. ؟ عنزہ کی بات پر تراب مسکرایا.
اسے لڑنا نہیں کہتے اسے انگلش میں understanding بولتے ہیں. ان دونوں کا ایک دوسرے بغیر گزارا نہیں ہے. یہ ایک دوسرے کے لیے” لازم و ملزوم” ہیں. تم ان کی لڑائی پر دھیان مت دو اور زویا کی مدد سے اپنےیے بھی ڈریس لے لو تراب نے خلافِ معمول بہت آرام سے جواب دیا جس پر عنزہ نے حیرت سے اس مغرور شہزادے کو دیکھا
زویا پلیززز تم اس کے لیے بھی کوئی ڈریس دیکھ لو مجھے آفس جانا ہے دیر ہو رہی ہے. تراب نے زویا کو مخاطب کیا جس پر احمر بپھر گیا.
کیوں جی زویا کیوں پسند کرے ……… ؟ اپنی بیگم کے لیے خود پسند کریں. زویا بیچاری اکیلی کیا کیا کرے ……… ؟ اس نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے ہر کسی کی شاپنگ کا احمر کی بات پر عنزہ کا منہ کھل گیا.
زویا دیکھو احمر کیا کہہ رہا ہے …… ؟ تراب نے مدد طلب نظروں سے زویا کی طرف دیکھا.
وہ بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے. آپ اپنی بیگم کے لیے خود شاپنگ کریں یا پھر آنٹی جہاں آرا سے مدد لیں. ان کی چوائس بہت اچھی ہے.
مجھے تو اپنے ساتھ ساتھ آغا جان اور اس “بندر” کی بھی ساری شاپنگ کرنی ہے. زویا کے لفظ بندر استعمال کرنے پر احمر چیخ پڑا.
بندر کسے کہا ہے ………. ؟ جبکہ عنزہ اور تراب ہنس رہے تھے.
تم دونوں ہر وقت اور ہر جگہ “بندر کا تماشا” لگا لیتے ہو اور تمہیں شرم بھی نہیں آتی ویسے کمال کرتے ہو تراب نے کہتے ساتھ ایک گرین رنگ کا کامدار فراک پسند کرتے ہوئے سیل میں کو پیک کرنے کا کہا
بندر کا تماشا احمر اور زویا نے ایک ساتھ دہرایا
عنزہ میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہیے. آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے. تراب کی بات پر عنزہ نے سر ہلایا اور کھڑی ہو گئی.
احسان فراموش باس نما دوست احمر کی دہائی پر تراب نے بل دیتے ہوئے اسے گھورا
کم از کم کھانا تو کھلاتا جا احمر نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لنچ کا کہا
میری شادی پر جی بھر کر کھا لینا. ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے. کسی کو ٹائم دیا ہوا ہے. سوری تراب نے کہتے ساتھ آنکھوں پر گلاسس لگائے
بھابی بہت پیاری ہیں ناااااا زویا نے عنزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے احمر سے پوچھا
بھائی جو چنگیز خان ہے احمر نے ناگواری سے تراب کو دیکھا جو اس وقت گاڑی ریورس کر رہا تھا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
تمہیں کتنے پیسے چاہیے ………. ؟ میرا مطلب ہے کہ میں نےاس “ٹوٹے پھوٹے” مکان کی مالیت کا پتہ لگوایا ہے. کیونکہ میں خود بھی پراپرٹی کا کام کرتا ہوں تو مجھے اندازہ ہے خیر تم اپنی “ڈیمانڈ” بتاؤ _ تراب نے اپنے سامنے بیٹھے اُس لالچی ایاز علی سے پوچھا
سر مجھے “دس لاکھ” چاہیں . ایاز نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا
میں تمہیں” تیس لاکھ” دوں گا مگر پھر کبھی بھول کر بھی تم عنزہ سے رابطہ نہیں کرو گے اور نہ ہی اسے ملنے کی کوشش کرو گے. سمجھے تراب نے ٹیبل پر ہاتھ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے سر مجھے منظور ہے. ایاز کی آنکھوں میں تیس لاکھ کا سن کر چمک آ گئی تھی.
دو دن بعد ہماری شادی ہے اور تم اپنی فیملی ساتھ شرکت کرو گے. واپسی پر میرا ملازم تمہیں کراچی کی ٹرین پر پیسوں سمیت چھوڑ آئے گا. مڑ کر کبھی پیچھے مت دیکھنا ورنہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہو گے. مجھے پسند نہیں کہ تم جیسے لوگ. میری بیوی کے رشتے دار کہلائیں _ تراب نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے حقارت سے کہا آپ بلکل بےفکر رہیں. میرا گھر اور نوکری کراچی میں ہی ہے میں یہاں آ کر کیا کروں گا. مگر پیسے اگر پہلے مل جاتے تو _ ایاز کی لالچ اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی.
ہمدانی زرا اندر آؤ تراب نے انٹر کام پر کہا
تم نے عنزہ سے وہی کہنا ہے جو ہمدانی تمہیں سکھائے گا تراب نے آفس میں داخل ہوتے ہمدانی کی طرف اشارہ کیا جس پر ایاز نے سر ہلا دیا.
ہمدانی یہ ایاز ہیں انھیں آپ اپنے ساتھ لے جائیں آدھی رقم آج دے دیں اور آدھی شادی والے دن دے دینا. تراب نے سنجیدگی سےکہتے ہوئے ایاز کو باہر جانے کا اشارہ کیا.
بڑے بڑے لالچی اور خود غرض لوگ زندگی میں دیکھے ہیں مگر اس جیسا “بیٹا” اور “بھائی” نہیں دیکھا تراب دل میں ایاز کو جاتا دیکھ کر سوچ رہا تھا اس بات سے بے خبر کہ اس کے اپنے گھر میں بھی ایک ایسا شخص موجود ہے.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
احمر نے جیسے ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا. گلاب کے پھولوں کی تیز مہک نے اُس کا استقبال کیا. ہر طرف گلاب کے پھول اور پتیاں بکھری پڑیں تھیں.
یہ سب کیا ہے اور کیوں …….. ؟ احمر نے کارپٹ پر احتیاط سے پاؤں رکھے اور زویا کے قریب پہنچ کر پوچھا جو اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر چڑھی ہوئی تھی.
ہائے اللہ …..! تمہاری نظر کمزور ہو گئی ہے. مجھے تو پہلے ہی تم پر شک تھا یہ جو تم آئے دن رنگ برنگے “لینز فیشن” کے نام پر لگاتے تھے. وہ سب اصل میں نظر کے تھے زویا کی دہائی پر احمر نے اپنا ماتھا پیٹ لیا.
زویا …!!! کیا بکواس ہے یارررر میں ان پھولوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں. احمر نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا
اتنی جلدی تمہاری “نظر” ٹھیک ہو گئی. اتنی جلدی تو فلموں میں” ہیرو ” کی یاداشت بھی ٹھیک نہیں ہوتی.
کچھ دیر تو اور “ڈرامہ” کر لیتے. سچی اتنی “بور* ہو رہی تھی. سوچا اب کچھ دیر تو” شغل” لگا رہے گا مگر تم نے سب ختم کر دیا. زویا منہ بناتی نیچے اتر آئی.
تم نے میرے کمرے کو اچھی خاصی” درگاہ” کا رنگ دے دیا ہے. یقین مانو صرف ” اگر بتی” اور ایک” ملنگ بابا” کی کمی ہے _ احمر نے ناراضگی کا اظہار کیا. اگر بتی میں ابھی لا کر لگا دیتی ہوں اور ملنگ بابا کی کمی تو تم پوری کر ہی دو گے. زویا اب ڈریسنگ ٹیبل ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھی. زویا میں سیریس ہوں. تم نے کمرے کا یہ کیا حال بنا دیا ہے. احمر نے تھکے انداز میں بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا میں دیکھ رہی تھی کہ کیسی ڈیکوریشن ٹھیک رہے گی ……… ؟ بس اچانک ہی میرے ذہن میں یہ آئیڈیا آیا. آغا جان سے میں نے پوچھا تھا کہ آپ کے زمانے میں لوگ دلہن کا کمرہ کیسے سجاتے تھے. تو انھوں نے کچھ ایسا ہی بتایا تھا. میں نے سوچا تمہیں اچھا لگے گا. 1980 کے زمانے کی سجاوٹ زویا نے پرجوش لہجے میں بتایا.
کمرے کے ساتھ ساتھ اگر دلہن بھی 1980 کے زمانے والی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر کمرہ 1980 کا اور دلہن 2080 کی یہ کیا جوڑ ہوا….؟
2080……….. زویا نے حیرت سے پوچھا
ہاں تو تم جیسی دلہن فلحال میں نے تو کہیں نہیں دیکھی. زرا جو اپنے ہونے والے “سہاگ” سے شرم آئے. لڑکیاں تو شرما شرما کر ٹماٹر ہو جاتیں ہیں اور یہاں تم کیسے میرے سامنے “چٹر پٹر” کر رہی ہو. احمر نے منہ بنایا
کتنے مشکل لفظ بول رہے ہو تم اپنے لیا _ سہاگ سے اگر “ہ” نکال دی جائے تو وہ مجھے پسند ہے . زویا کی شرارت پر احمر نے مصنوعی ہنسنے کی ایکٹنگ کی.
سنو آج میں بھی تمہیں ایک نظم سناؤں ………. ؟ زویا نے لجاجت سے پوچھا
نہیں، آپ کی محبت کا بہت بہت شکریہ. مجھ ناچیز سے آپ کا محبت نامہ برداشت نہیں ہو گا. اس لیے مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں. احمر نے زویا کو بازو سے پکڑ کر کمرے سے باہر نکال دیا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.
