Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

آغا حسن صاحب کے گھر سے کل کھانے کا دعوت نامہ آیا ہے میرے خیال سے زویا کو کچھ لوگ دیکھنے آ رہے ہیں ۔ اب کوئی بہانہ مت بنانا اور تم بھی رات میں تیار رہنا ۔جہاں آرا بیگم نے تراب سے کہا
اچھا میں بھی کہوں آج زویا آفس کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پھر یہی بات ہو گی۔ چلیں اچھا ہوگیا ہے۔ احمر کی تو “عید” ہی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے مسکراتے ہوئے ماں کو جواب دیا وہ دونوں ماں بیٹا اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔
ہاں ایک بات اور بھی بتانی تھی۔ میں نے بوا کی فیملی کو کوارٹر میں شفٹ کر دیا ہے۔ غریب لوگ ہیں بے چارے۔ چلو دو ٹائم کا اچھا کھانے کو مل جائے گا دعائیں دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم نے احسان جتلانے والے لہجے میں کہا
ماما ایک تو آپ بہت رحم دل ہیں ۔پتا نہیں بوا کی فیملی میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ بغیر مجھے بتائے انہیں کوارٹر میں رکھ لیا ۔اگر ان میں سے کوئی دہشت گردوں کے ساتھ ملا ہوا یا واردات کرتا ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
آپ کی ہمدردی میرے گلے ہی نہ پڑ جائے۔ پہلے ایسے لوگوں کی اچھے سے تصدیق کرتے ہیں اور پھر ان کو گھر میں جگہ دیتے ہیں۔ ہم صرف شفقت بوا کو جانتے ہیں ان کے پورے خاندان کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ماں کی بات پر تراب کا سخت موڈ خراب ہوا کھانا چھوڑ کر نپکن سے منہ صاف کرنے لگا ۔
اپنی ماں کو بیوقوف سمجھتے ہو ۔میں نے سب پتا کر لیا تھا۔ زیادہ لوگ نہیں ہیں۔ ایک ہی یتیم بھتیجی ہے وہ بھی میں نے اس لیے رکھ لی ہے کہ چلو عون اور حمنہ کی دیکھ بھال کرے گی۔ ویسے بھی ہمیں ایک آیا کی ضرورت تھی ۔ چلو اس بہانے ان کی ضرورت بھی پوری ہوجائے گی اور ہمارا کام بھی چل جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم نے تراب کو جان بوجھ کے اصل بات نہیں بتائی ۔
جو بھی ہے مگر آپ مجھ سے پہلے پوچھ تو لیا کریں۔ ماما جیسا آپ سمجھتی ہیں دنیا ویسی نہیں ہے۔ یہ غریب لوگوں کی شکلیں اوپر سے بہت معصوم ہوتیں ہیں اندر سے یہ بہت چالاک ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنا غصہ نکالا
اچھا بس کرو ناا اب اور کل رات تیار رہنا ہم نے آغا حسن صاحب کے گھر جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب سیڑھیاں چڑھنے لگا اور جہاں آرا بیگم کی بات پر ہلکا سر کو ہلایا۔
کمرے میں آتے ہی پورے زور سے دروازہ بند کیا تاکہ جہاں آرا بیگم کے ساتھ ساتھ نوکروں کوبھی اچھے سے اندازہ ہو جائے کہ اس وقت میر تراب کا موڈ بہت خراب ہے اور کوئی مجھے تنگ نہ کرے ۔
کافی دیر بیڈ پر کروٹیں بدل بدل کے جب تراب تھک گیا تو اٹھ کر بیڈ کراؤن ساتھ ٹیک لگا لی۔ آج شدید ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے شاید نیند نہیں آ رہی ۔ (تراب نہیں خود کلامی کی) اتنے میں اس کا موبائل بجنے لگا ۔
سر جیسا آپ نے کہا تھا میں نے معلوم کر لیا ہے وہ نمبر کراچی کا ہے کسی “ایاز علی ” کے نام پر رجسٹر ہے ۔ اور ایازعلی کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں معمولی کلرک ہے جو بچے ہیں اس کے اور فیکٹری کے دیئے ہوئے کوارٹر میں رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمدانی نے ایک ہی سانس میں ساری تفصیل بتائی۔
ہممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بیوی کیا کرتی ہے ۔۔۔۔۔؟ تراب نے بائیں ہاتھ سے اپنی آنکھوں کو مسلتے ہوئے پوچھا
سر گھر پر ہی ہوتی ہے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہمدانی کو تراب کی ذہنی حالت پر شک ہوا ۔
چلو ٹھیک ہے۔کال بند کرتے ہی تراب اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
کون ہو سکتی ہے اور اسے میرا نمبر کہاں سے ملا ۔ کچھ عجیب سی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ دل میں سوچتے ہوئے تراب نے عنزہ کا نمبر ڈائل کیا اور ساتھ ہی دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے دو بج رہے تھے۔
عنزہ جو اس وقت برآمدے میں بیٹھی آسمان کے تارے گنتے ہوئے میر لاج کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ موبائل کی بل پر چونک پڑی ۔
یہ کوئی ٹائم ہے کسی کو فون کرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی میں نے آپ کو اتنے بجے مس کال دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟
عنزہ کے اس قدر بے تکلف لہجے پر تراب ایک سیکنڈ کے لئے حیران رہ گیا ۔
میرے خیال سے محترمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کال اٹینڈ کرتے ہی سب سے پہلے سلام کرتے ہیں یا کم ازکم دوسرے کو کرنے کا موقع دیتے ہیں ۔ مگر آپ تو نہ خود سلام کرتی ہیں اور نہ دوسرے کو کرنے کا موقع دیتی ہے ۔میں نے صبح بھی آپ سے بات کرنا چاہئی مگر آپ نے اپنی کہہ کر کال کاٹ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے نرم لہجے میں کہا
دیکھیں مسٹر پہلے تو آپ اپنی اصلاح کرلیں یا مجھے “محترمہ” کہیں یا “مس “۔۔۔۔۔۔۔۔۔عنزہ اب بالکل نارمل تھی ۔
محترمہ اور مس میں کیا فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ اپنے انتہائی بچکانہ سوال پر تراب کو خود ہی ہنسی آئی ۔اگر اس وقت احمر اس کے منہ سے یہ سوال سن لیتا تو اس کا حلیہ بگاڑ دیتا۔
ارے آپ کو اتنا نہیں معلوم محترمہ “م” سے شروع ہوتا ہے جبکہ مس” م” سے ۔۔۔۔۔۔۔۔جیسا سوال تراب نے پوچھا تھا بالکل ویسا ہی جواب عنزہ نے دیا نہ چاہتے ہوئے دونوں ہی ہنس پڑے ۔
میرا نام میر تراب علی ہے۔ کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گی کہ آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا یا کس نے دیا اور کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟تراب اب کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اب میں بھی آپ کو اپنا نام بتا دوں گی تو آپ بالکل غلط ہے ” میر صاحب “۔۔۔۔۔۔۔ ہاں آپ کی آسانی کیلئے میرے اور آپ کے نام میں ایک لفظ “کامن” ہے۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کی شرارتی حسہ اپ مکمل طور پر بیدار ہو چکی تھی۔
آپ مجھے صرف “تراب” کہہ سکتی ہیں اور دوسری بات میرے اور آپ کے نام میں “علی” کامن لفظ ہے۔
ارے واہ آپ تو بڑے ذہین ہیں ۔۔۔۔۔ عنزہ متاثر ہوئی ۔
ذہین تو نہیں ہوں مگر کیونکہ یہ سِم ایاز علی کے نام ہے اور آپ اس کی یقیناً “کچھ” لگتی ہوں گی۔ تو اس حساب سے آپ اور میرے نام میں جو لفظ کامن ہے وہ “علی” ہی بنتا ہے ۔
اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کی ان باتوں سے میں آپ سے ڈر جاؤں گی تو غلط فہمی ہے آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ حقیقت میں عنزہ کو بہت شاک لگا تھا ۔
میں آپ کو “ڈرانے” کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا میں صرف بتا رہا ہوں اور آپ نے ابھی تک میری بات کا جواب نہیں دیا آپ کو یہ نمبر کہاں سے ملا ۔۔۔۔۔۔۔ چلتے چلتے اب تراب آئینے کے آگے رک کر اپنا عکس دیکھ رہا تھا۔
مجھے یہ نمبر کسی نے دیا تھا کہ “ایمرجنسی” کی صورت میں ڈائل کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے بوا کا نام حضف کر کے باقی بات سچ سچ بتا دی۔
ایمرجنسی کی صورت میں میرا نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب کو اس قسم کے جواب کی امید نہ تھی ۔
میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ تراب کے لہجے کی بے یقینی عنزہ کو مزا دے رہی تھی۔
اس سے پہلے تراب مزید کچھ کہتا اس کے موبائل کی بیٹری لو ہونے کی وجہ سے فون بند ہوگیا ۔
او شٹ ۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے زور سے موبائل بیڈ پر پھینک دیا ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
چل احمر بچے پیارا سا تیار ہوجا ۔۔۔۔۔۔ ویسے تو میں بہت خوبصورت ہوں۔ بلکہ اپنی طرف سے تو بالکل” شہزادہ” ہوں ۔مگر پھر بھی تھوڑا سا اپنا منہ اور بال ٹھیک کر لے اور مکھن بھرے لہجے سے جا کر نیچے بیٹھے مہمانوں کو خوب مکھن لگا ۔
کیونکہ ان کا تیری زندگی پر “احسان عظیم “ہے۔ بالآخر وہ تیری “شناختی نشانی ” کو ہمیشہ کے لئے اپنے گھر لے جارہے ہیں ۔آج سے آغا جان کی “محبت” پر صرف اور صرف احمر درانی کا حق ہوگا ۔
تیری “آزادی” کے دن شروع ہونے والے ہیں۔ پھر تُو ہوگا ۔۔۔۔۔۔ یہ گھر ہو گا ۔۔۔۔۔ آغا جان کی جائیداد ہو گئی اور تیری عیاشیاں ۔۔۔۔۔ کوئی تیری شکایت لگانے والا نہ ہوگا ۔ احمر نے آئینے میں دیکھتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا
رائل بلو کلر کا تھری پیس سوٹ پہنے ،بال سٹائل سے بنائے جیسے ہی احمر نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تو آغا جان کے چہرے پر نظر پڑی جو جو خوشی سے چمک رہا تھا ۔
اس وقت ڈرائنگ روم میں ظفر صاحب کی پوری فیملی یعنی ان کی بیگم ،دو بیٹیاں ان کے داماد اور ایک بیٹا ذیشان موجود تھا۔
احمر نے باری باری سب مردوں سے ہاتھ ملایا جبکہ ذیشان کے ہاتھ کرنے پر احمد نے اسے گلے ملنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔ یار تیرا تو مجھ پر “حق “ہے بلکہ تیرا مجھ پر “احسان” ہے ۔۔۔۔۔۔ گلے ملنے کے بعد احمر نے شرارت سے کہا جس پر آغاجان نے اسے گھورا ۔
آپ کی اماں صاحبہ نہیں آئیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ تو اپنی بیگم صاحبہ کو ہی لے آتے۔۔۔۔۔۔۔؟ اب اکیلے تم کہیں آتے جاتے اچھے لگتے ہو۔۔۔۔۔۔؟ خیر اکیلا تو میں بھی اچھا نہیں لگتا لیکن میں تو بہت جلد اللہ کے حکم سے میرڈ ہو جاؤں گا۔ تم لگتا ہے ” سنگل” ہی رہو گے۔۔۔۔۔۔احمر نے تراب کے برابر بیٹھتے ہوئے گوہر افشائی کی۔
احمر کی بات پر تراب نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔چلو دیکھتے ہیں کون پہلے میرڈ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
تیری مہربانی تم نا کسی پہ ظلم کریں ۔مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ تو بیوی سے کیا باتیں کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اب کی بار احمر نے اپنا خود ساختہ امڈنے والا قہقہ روکا جب کہ تراب نے اسے گھور کر دیکھا۔
میرا مطلب ہے تیرا رومنس سے کچھ لینا دینا نہیں ۔۔۔۔۔۔ تو تم دونوں کے درمیان حالات حاضرہ پر ہی گفتگو ہوا کرے گی ۔
اس سے پہلے کہ تراب احمر کی بات کا جواب دیتا۔ جہاں آرا بیگم زویا کو لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں۔
جہاں آرا بیگم نے میرون کلر کی گولڈن کام والی ساڑھی پہن رکھی تھی جو ان کی شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی ۔جب کہ زویا نے سادہ سا گلابی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ احمر نے ایک نظر زویا کی طرف دیکھا اور پھر تراب کے کان میں سرگوشی کی ۔
زویا کے مقابلے میں مجھے تو آنٹی زیادہ خوبصورت اور پرکشش دکھائی دے رہی ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ زویا کی جگہ آنٹی کو پسند کر لیں اور تُو ایک عدد جوان اور خوبصورت باپ کا بیٹا بن جائے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟احمر کی بات پر تراب نے اسے کہنی ماری۔
جہاں آرا بیگم نے زویا کو ظفر صاحب کی بیگم کے ساتھ بیٹھا دیا اور خود بھی ان کے برابر بیٹھ گئیں۔
تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں بالآخر ظفر صاحب نے باقاعدہ طور پر زویا کا ہاتھ اپنے بیٹے ذیشان کے لئے مانگا کیونکہ آغاجان ظفر صاحب کی فیملی کو بہت عرصے سے جانتے تھے اس لئے انھوں بغیر وقت مانگے “ہاں” کر دی۔
سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ظفر صاحب کی بیگم نے زویا کا ماتھا چوما اور اسے پیار کیا ۔جہاں آرا بیگم نے بھی زویا کو اپنے ساتھ لگا کر دعائیں دیں۔
مگر اس وقت جتنی خوشی احمر کو ہو رہی تھی وہ بیان سے باہر تھی ۔
میری مانیں تو آغاجان شادی کی تاریخ بھی طے کر لیتے ہیں کیا خیال ہے آپ لوگوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے بآواز بلند کہا جس پر سب نے اسے گھور کر دیکھا جبکہ زویا نے نیچے منہ کرکے ہنسنا شروع کر دیا ۔
ویسے احمر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ہم دو مہینے کے لیے آئے ہیں پھر دوبارہ واپس چلے جائیں گے۔ شادی نہیں میرے خیال سے “نکاح” کر لیتے ہیں۔ اس عرصے میں زویا کے کاغذ بھی بن جائیں گے اور بچے بھی آپس میں ایک دوسرے کو سمجھ لیں گے ۔پھر اگلی بار ہم اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ ہی لے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ظفر صاحب نے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔
اس بات پر احمر نے منہ بنا کر زویا کی طرف دیکھا جو اسے چڑا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کب جان چھوڑے گی۔۔۔۔۔۔ اگلی دفعہ سال بعد آئیں گے یا۔۔۔۔۔۔ احمر کے اداس ہونے پر تراب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی ۔جب کہ ذیشان نے محبت بھری نظروں سے زویا کی طرف دیکھا ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے۔