Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

تراب احمر کی کال بند کرنے کے بعد کچھ دیر بیڈ پر بیٹھ کر سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے ۔۔۔۔؟ پھر موبائل پر عنزہ کا نمبر ڈائل کیا ۔ایک _ دو تین اور پھر مسلسل دس منٹ تک مگر نہ تو کال اٹینڈ ہوئی اور نہ ہی کاٹی گئی ۔ اتنی پکی نیند تو وہ نہیں سوتی تراب نے خود کلامی کرتے ہوئے ہمدانی کا نمبر ڈائل کیا
جی سر اب کیا حکم ہے پہلی بل پر ہی ہمدانی نے کال اٹینڈ کی ۔
تم عنزہ بی بی کے کوارٹر کے باہر ہو ۔وہ ٹھیک ہیں کوئی ان کے پاس آیا یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب کے پوچھنے پر ہمدانی کا منہ کھل گیا
سر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ عنزہ بی بی کو تو تقریبا 20 منٹ پہلے آپ نے خود ہی میرلاج بلایا تھا۔بڑی بیگم صاحبہ نے مجھے خود کال کرکے کہا
ہمدانی کے جواب دے تراب نے حیرت سے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں اب رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔
کیابکواس ہے۔ میں کیوں بلواؤں گا اب کہاں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے لحاف ایک طرف پھینکتے ہوئے پاؤں میں سلیپر پہنے ۔
سر مجھے تو بیگم صاحبہ نے کل کے انتظامات دیکھنے کا کہا تھا میں تو اس وقت ڈیکوریشن اور کیٹرینگ والوں کے ساتھ بات کر رہا ہوں ۔ہمدانی نے شرمندگی سے جواب دیا
جب میں نے کہا تھا کہ بی بی کے کوارٹر سے کہیں مت جانا تو پھر تم مجھے بتائے بغیر کیوں گئے ۔۔۔۔۔؟ تراب تقریبا چلاتے ہوئے بولا
سر آپ کے نمبر سے ہی کال آئی تھی۔ میں سمجھا آپ بیگم صاحبہ کے ساتھ بیٹھے ہیں _ ہمدانی منمنایا جسٹ شٹپ تراب کال بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
عنزہ صوفے پر جہاں آرا بیگم کے بالکل سامنے بیٹھی تھی جبکہ ایک دودھ کا گلاس ان دونوں کے درمیان رکھا تھا ۔
کل سے تم اس خاندان کا حصہ بن جاؤں گی۔ تمہیں میر خاندان کی بہو ہونے کے ناطے کچھ چیزوں کا خیال رکھنا ہے ۔جہاں آرا بیگم نے بات شروع کی جبکہ عنزہ کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں ۔
اس سے پہلے کہ میں تمہیں اپنے خاندان کے متعلق کچھ ضروری باتیں بتاؤ پہلے تم مجھے سچ سچ یہ بتاؤ کہ تم تراب کو کب سے جانتی ہو اور کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم نے اپنے اندر کا وہم ختم کرنے کے لیے پوچھا
بیگم صاحبہ میں نے یہاں آنے سے پہلے صرف میر صاحب کا نام سن رکھا تھا وہ بھی اپنی بوا کے منہ سے میں انہیں نہیں جانتی نہ ہی میری کبھی ان سے بات ہوئی ہے ۔ عنزہ نے جھوٹ کا سہارا لیا کیونکہ اب اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔
ہممممم مطلب تمہارے ساتھ تراب کی کسی قسم کی کوئی “جذباتی وابستگی” نہیں ہے ۔جہاں آرا بیگم نے مزید تصدیق چاہی ۔
جی بالکل عنزہ کو اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ رات کے اس پہر اسے جہاں آرا بیگم نے کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
(اس کا مطلب یہ ہوا کہ تراب کا جذباتی پن محض اپنے رشتے کے لئے ہے ۔ورنہ وہ اس لڑکی سے دلی وابستگی نہیں رکھتا ۔پھر تو اس لڑکی کو راستے سے ہٹانا کافی آسان ہے ۔وہ یقینا کوئی ہنگامہ نہیں کرے گا ۔) جہاں آرا بیگم نے دل میں سوچا
تمہیں اس گھر کے ساتھ ساتھ دونوں بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا ہوگی جہاں آرا بیگم کی بات پر عنزہ نے ہاں میں سر ہلا دیا
مجھے تم کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہو ۔باتیں تو ہوتی رہیں گی تم ایسا کرو دوائی لے کر یہ دودھ پی لو _
جہاں آرا بیگم نے ہاجرہ بی کو اشارہ کیا جو ان کے پیچھے ہاتھ باندھے کر کھڑی تھی ۔
شکریہ بیگم صاحبہ مگر میں دودھ نہیں پیتی اور دوائی میں نے کھا لی تھی عنزہ نے دودھ کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا
دو تو تمہیں پینا پڑے گا ۔چلو گلاس اٹھاؤ اور ایک ہی سانس میں اسے ختم کر دو۔ یہ میرا حکم ہے ۔اب کی بار جہاں آرا بیگم نے قدرے ترش لہجے میں کہا
اس سے پہلے عنزہ دودھ کا گلاس پکڑتی۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور تراب سلیپنگ ڈریس پہنے اندر داخل ہوا۔
تم
اس وقت اور یہاں خیریت جہاں آرا بیگم کی مثال اس وقت ایسی تھی جیسے “کاٹو تو بدن میں لہو نہیں “۔ اور اگر آپ سب سے یہی سوال میں کروں تو تراب کہہ تو ماں سے رہا تھا مگر سرخ آنکھوں سے دیکھ عنزہ کو رہا تھا ۔
وہ میں عنزہ سے کچھ ضروری باتیں کر رہی تھی _ جہاں آرا بیگم نے گلا صاف کرتے ہوئے وضاحت دی جبکہ تراب چلتا ہوا اب عنزہ کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ میرے فون سے ہمدانی کو آپ نے کال کی تھی مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب کے سوال پر جہاں آرا بیگم نے اپنا پسینہ صاف کیا۔وہ اس وقت تراب سے ایسی کوئی امید نہیں رکھتی تھی۔ ہاں وہ میرے موبائل کے سگنل نہیں آرہے تھے تو میں نے ہاجرہ بی کو تمہارے کمرے میں بھیجا تھا کیوں کوئی مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جہاں آرا بیگم اب سنبھل چکی تھیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ بتائیں اگر آپ نے ضروری باتیں کر لیں ہوں تو میں اسے لے جاؤں _ تراب نے ایک نظر عنزہ کی طرف دیکھا جو خود میں سمٹی ہوئی تھی ۔
ہاں لے جاؤ، میں تو بس اسے کہہ رہی تھی کہ دودھ پی لے سارے دن کی تھکاوٹ اتر جائے گی۔مگر یہ کہتی ہے اسے دودھ پسند نہیں جہاں آرا بیگم نے بہت محبت سے تراب کو شکایت لگائی۔ کتنی دفعہ کہا ہے “ماما جانی” کی بات آرام سے مان لیا کرو۔مگر “آپ” کو اثر ہی نہیں ہوتا۔ چلو جلدی سے پیو تا کہ میں تمہاری بات زویا سے کرا دوں۔ وہ تمہیں یاد کر رہی ہے
تراب نے دبے دبے غصے سے کہتے ہوئے گلاس عنزہ کے ہاتھ میں دیا ۔
وہ میں عنزہ نے منمناتے ہوئے گلاس پکڑ لیا جب کہ جہاں آرا بیگم نے مسکرا کر ہاجرہ بی کو دیکھا اس دودھ میں “زہر” نہیں ہے جو تم اتنا ڈر رہی ہو۔ لاؤ میں پی لیتا ہوں تراب نے عنزہ کو کہتے ساتھ گلاس اس کے ہاتھ سے پکڑ لیا جب کہ جہاں آرا بیگم کا رنگ تراب کی بات پر فق ہو گیا ۔
یہ تمہارے لئے نہیں ہیں خبردار جو تم نے اس سے ایک گھونٹ بھی پیا تو
جہاں آرا بیگم نے چونکتے ہوئے تراب کو روکا
ماما جانی کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اگر وہ نہیں پی رہی تو میں پی لیتا ہوں آپ نے اتنی محبت سے دیا ہے۔اس کا علاج تو میں بعد میں کرونگا ۔تراب نے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
دودھ پینے کے بعد علاج کی ضرورت بھی آپ کو ہی ہوگی عنزہ نے دل میں سوچا۔ “پیو تو سہی لگ پتا جائے گا میر تراب علی” ۔
تراب نے کسی کو بھی موقع دیے بغیر ایک ہی سانس میں دودھ کا گلاس خالی کر دیا ۔جب کہ کمرے میں موجود تینوں نفوس “سکتہ” میں آ گے ۔
آپ لوگ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں کیا ہوا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور تمہیں یقین آگیا کہ میری ماں نے اس دودھ میں سوائے “محبت” کے کچھ نہیں ملایا تھا_
تراب نے جہاں آرا بیگم اور پھر عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جب کہ جہاں آرا بیگم ابھی تک “غیر دماغی” سے تراب کو دیکھ رہی تھیں۔
ہوش آنے پر انہوں نے اٹھ کر ترات کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ تم ٹھیک ہوناااا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
ماما جانی آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کیا ہو سکتا ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔اور مجھے سخت نیند آ رہی ہے صبح ملتے ہیں ۔
تراب نے جہاں آرا بیگم کو پیار کرتے ہوئے خود سے الگ کیا اور عنزہ کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا جس پر وہ مرے مرے سے قدم اٹھا کر چلنے لگی ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
احمد فون کرو نااااا
پتہ کرو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ ؟ مجھے تو بہت” تجسس” ہو رہا ہے۔ یقین مانو نیند ہی نہیں آرہی ۔زویا نے احمر ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھتے ہوئے کہا
تم نے اپنے ساتھ ساتھ میری نیند کا بھی ” بیڑہ غرق” کر دیا ہے ۔زویا بی بی تمہاری” ہڈی “کو چین نہیں ہے۔ احمر نے بالوں میں ہاتھ پھیرا
تم اتنے بور کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور میری ہڈی کے ساتھ ساتھ گوشت کو بھی آرام نہیں ہے۔زویا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
فون کرو ناااااا _ زویا نے احمر کے ہاتھ میں پکڑے فون کی طرف اشارہ کیا تراب کسی اور کو کچھ کہے یا نہ کہے مگر وہ صبح سب سے پہلا میرا قتل ضرور کرے گا ۔اتنی رات کو میں اسے بار بار فون نہیں کر سکتا۔ احمر نے معذرت کی ۔اس سے پہلے کہ زویا خود ہی فون کرتی احمر کا فون بجا تراب بھائی کا فون آگیا
زویا نے چیختے کہتے ہوئے کال اٹینڈ کی ۔
ہاں زویا تم کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ عنزہ کی نرم آواز سپیکر سے ابھری۔
شکر ہے بھابھی کے آپ بالکل ٹھیک ہیں ۔میں تو ڈر گئی تھی ۔ویسے یہ “بیان” آپ اپنی مرضی سے ہی دے رہی ہیں یا کوئی کنپٹی پر بندوق رکھ کر دلوا رہا ہے
زویا کی بات پر احمر کے ساتھ ساتھ تراب بھی گھوم گیا۔
زویا خدا کا خوف کرو۔ کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔؟ میں بالکل ٹھیک ہوں اور اب تم بھی سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو عنزہ نے تراب کے اشارے پر فون بند کر کے اس کے حوالے کردیا ۔ یہ کیا بکواس تھی ۔۔۔۔۔۔؟ احمر نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا یہ بکواس کسی کے بہت کام آنے والی ہے چلو اب مجھے بہت نیند آ رہی ہے ۔آگے ہی تمہاری دوستی کے چکر میں، میں نے اپنا کافی ٹائم ضائع کر دیا ہے۔زویا مصنوعی جمائی لیتے ہوئے چل پڑی ۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
ہاں تو “عنزہ توراب علی” اب آپ ذرا سیدھی ہوجائیں ۔مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے تراب نے عنزہ کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے کہا اور خود اس کے مقابل بیٹھ گیا ۔ جی پوچھیں عنزہ نے آہستہ آواز میں جواب دیا ۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتی ہے ویسے یہ بات اتنی پرانی نہیں ہے ۔ تب تک تو آپ کی زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ایک کے بعد ایک گھڑ گھڑ کے آپ مجھے جواب دیا کرتی تھیں۔ پھر آپ کیوں آپ کی بولتی بند ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
کیا میں یہ سمجھوں کہ وہ “فون والی” عنزہ اور جو میرے سامنے بیٹھی ہے یہ دو مختلف لڑکیاں ہیں۔۔۔۔۔۔؟ مجھے لڑکیوں کا شرمانا ،چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈر جانا ،جلدی رو پڑنا اچھا لگتا ہے۔کیونکہ یہ ان کی فطرت ہے ۔
مجھے کبھی بھی “ٹام بوائز” ٹائپ کی لڑکیاں اچھی نہیں لگیں۔ مگر پھر بھی مجھے فون والی بہادر اور مضبوط عنزہ پسند ہے مجھے اس کی “حاضر دماغی” اور “حسہ مزاح” دونوں ہی نا متاثر کیا ۔ مگر اب جو میرے سامنے عنزہ بیٹھی ہے یہ وہ نہیں ہے۔کم ازکم جس عنزہ کو میں جانتا تھا یہ وہ بالکل بھی نہیں ہے اگر برا نہ لگے تو آپ وضاحت دیں گی ۔
تراب کے طنزیہ لہجے پر عنزہ نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
اُس وقت کی بات اور تھی۔اس وقت میں نے زمانے کی سختیاں نہیں دیکھی تھیں۔ اور نہ ہی میں نے کچھ کھویا تھا
مگر اب میرے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے سوائے “آپ” کے اور میں “آپ” کو کھونا نہیں چاہتی۔اگر میری کسی بھی “بے وقوفی” کی وجہ سے آپ میری زندگی سے چلے گئے تو میں کیا کروں گی _ عنزہ نے کہتے ساتھ ہی رونا شروع کر دیا ۔ چپ بالکل چپ اگر تم نے ذرا بھی رونے کی کوشش کی تو میں نے چپ کرانے کی بجاۓ ایک زور دار تھپڑ تمہیں لگانا ہے۔
یہ صحیح ہے جیسے ہی کچھ پوچھو تم رونا شروع کر دیتی ہو اور بات وہاں کی وہاں ہی رہ جاتی ہے تراب نے غصے سے کہتے ہوئے عنزہ کی طرف دیکھا
آپ مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ عنزہ کے سوال پر تراب کو اس پہر اپنی نیند خراب ہونے کا دکھ بھول گیا
آج ڈانٹوں گا تو کل پیار بھی تو کروں گا ناااااا _ تراب کی ذومعنی بات پر عنززہ نے نظریں جھکا لیں دیکھو عنزہ میں یہ نہیں کہتا کہ تم ہر وقت “بدمعاش” بن کر رہو۔مگر یہ “رونا دھونا” ختم کر دو اور پہلے والی عنزہ بن جاؤ۔ مجھے “ڈرپوک بیوی” نہیں چاہیے اور میری “ماں” پر شک کرنا چھوڑ دو۔تم اسے میری درخواست سمجھو تراب نے منت بھرے لہجے میں کہا
سوری آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ عنزہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے مگر اب مجھ سے امید مت رکھنا کہ میں اتنی رات کو تمہیں کوارٹر چھوڑنے جاؤں گا ۔میں سونے لگا ہوں تم نے سونا ہے تو سو جاؤ نہیں سونا تو تمہاری مرضی ویسے مجھے تمہارے منہ سے اپنے لیے “اظہار محبت” بہت اچھا لگتا ہے مگر اب یہ مت سمجھنا کہ میں بھی تم سے ایسے ہی اظہار کروں گا۔
تراب نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں۔جبکہ عنزہ اس کی ادا پر مسکرا دی۔
“بس دل میں رکھیے
اظہار کو دفع کیجئیے”
میں اتنی رات کو کہیں جا بھی نہیں رہی
جیسے ہی تراب کی کان میں عنزہ کے الفاظ پڑے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
سیریسلی تراب نے بے یقینی سے پوچھا
بالکل سیریس _
عنزہ نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے