Kitab Muhabbat By Amna Mehmood Readelle50140 Last updated: 17 August 2025
Rate this Novel
Kitab Muhabbat
By Amna Mehmood
آفس میں قدم رکھتے ہیں احمر نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ نا ہی زویا ریسیپشن پر موجود تھی اور نہ اس نے صبح ساتھ جانے کے لئے ضد کی تھی مگر جس بات سے وہ پریشان ہو رہا تھا وہ یہ تھی کہ آج وہ حسب معمول بہت خاموش تھی۔کچھ سوچتے ہوئے اس نے تراب کے آفس کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔ دل تو نہیں کر رہا پر چل احمر ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صبح اس جنگیز خان کا دیدار کر لے کیونکہ اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔احمر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کلامی کی۔ تراب نے ایک نظر دروازے سے اندر آتے احمر کو دیکھا اور دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا ۔ مجھے آج اپنا صدقہ اتارنا چاہیے کوئی مجھے کچھ کہہ ہی نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟ ؟ احمر نے کن اکھیوں سے تراب کی طرف دیکھا میرے خیال سے آپ "بےعزتی" کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر ہم چاہیں بھی آپ کی صبح اچھی ہو تو یہ بات آپ کو پسند نہیں آتی دوسرے الفاظ میں آپ کو عزت "مافق" نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب کی نظر ابھی بھی لیپ ٹاپ پر تھی۔ یار باس کبھی تو نارمل لوگوں کی طرح بات کر لیا کریں ہر وقت ڈانٹتے یا طنز کرتے رہتے ہیں۔کبھی آپ کو بھی میری مدد کی ضرورت بھی پڑھ سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا اتنے تعلقات تو رکھیں نااااا بقول شاعر "ورنہ اتنے مراسم تو تھے کہ آتے جاتے" احمر کی بات پر تراب نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسے گھور کر دیکھا۔ تم اکیلے کیوں آئے ہو۔۔۔۔۔۔ زویا کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے کیوں نہیں ساتھ لائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب کے پوچھنے پر احمر نے کندھے اچکا دیے ۔ مطلب ۔۔۔۔۔؟ ویسے تو مجھے معلوم ہے کہ تمہاری گھر میں کتنی "عزت" ہے مگر پھر بھی کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ اس کے نہ آنے میں آپ کا کتنا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔۔؟ تراپ نے بظاہر سنجیدگی سے پوچھا مگر اس کی بات میں چھپے طنز کو احمر نے بخوبی محسوس کیا ۔ "ہمارا گھر ایک جمہوری حکومت رکھتا ہے اس لیے وہاں ہر کسی کو اپنی بات کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے جس کے دل میں جو آتا ہے وہی کرتا ہے۔ آپ کے "میرلاج" کی طرح "مارشل لاء" نہیں لگایا ہوا جہاں سانس لینے کے لیے بھی پوچھا جاتا ہے اور مرضی کے خلاف کام کرنے والوں کو سزا سنا دی جاتی ہے۔ " تراب نے احمر کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔ یہ عورتوں والی حرکتیں نہ کیا کرو تمہیں زیب نہیں دیتیں۔ یہ لگائی بجھائی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور نہ ہی میں غصے میں آ کر تمہیں نوکری سے نکالنے والا ہوں ۔لہذا اپنا سارا دھیان کام پر دو ۔میں سوچ رہا ہوں اس ماہ کے آخر میں آغا جان کو تمہاری رپورٹ دوں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح تراب نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔ تراب نے جملہ ادھورا چھوڑ کر احمر کے چہرے کے تاثرات دیکھے جو پل پل بدل رہے تھے۔ یار باس مجھے تیرے منہ سے جو لفظ سب سے برا لگتا ہے وہ "مگر" ہے ۔ستیاناس ہو اس لفظ کے بنانے والے کا اور کہنے ۔۔۔۔۔۔ احمر نے اپنی بات کے آخر میں شرارت سے تراب کی طرف دیکھا ہمممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ تم نے ابھی ابھی اپنے باس کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس لیے اب تمہاری رپورٹ اگلے مہینے دی جائے گی ،چلو جاؤ اور اب اچھے بچوں کی طرح کام کرو۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ تراب نے انتہائی سنجیدگی سے روک دیا ۔ میرا بہت اچھا دوست کہتا ہے "ستیاناس" ہو اس لفظ اور اس کے بولنے والے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے تراب کی بات سن کر نفی میں سر ہلایا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ لحاظ تو تمہیں چھو کر نہیں گزرا ۔اللہ پوچھے گا دیکھ لینا میرے بارے میں بھی اللہ تم سے پوچھے گا ۔۔۔۔۔۔؟ یہ جو تم مجھ پر اتنا ظلم کرتے ہو ناااا تمہیں جواب دینا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔احمر بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ نا چاہتے ہوئے بھی تراب نے موبائل کو اٹھا کر دیکھا جہاں فی الحال نہ تو کوئی مس کال تھی اور نہ ہی میسج ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے رسیور اٹھا کر ہمدانی کو کال کی ۔ ہیلو سر۔۔۔۔۔۔۔ ہمدانی کی آواز ایئر پیس سے ابھری ۔ ہمدانی میں ایک نمبر سینڈ کر رہا ہوں۔ مجھے اس کی مکمل تفصیل چاہیے۔ وہ بھی آج ہی نمبر کہاں کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کس کے نام پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے کہتے ساتھ ہی ہمدانی کا جواب سنے بغیر ہی رسیور پٹخ دیا ۔ دیکھتے ہیں کہ مس کون ہے جنہیں ہماری آواز بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی ہے کچھ سوچتے ہوئے اس نے نمبر ڈائل کیا ۔ عنزہ آج صبح سے پیکنگ میں بہت مصروف تھی۔ کہنے کو گھر کا سامان اتنا نہیں تھا۔مگر پھر بھی اسے سمیٹنے میں کل سارا دن لگ گیا تھا اور جو رہ گیا تھا وہ بوا نے اسے سمیٹنے کا کہا تھا۔ آج بوا کو میر لاج جانا تھا اس لیے وہ عنزہ کو کہہ گئی تھی کہ میرے آنے تک گھر کا سارا سامان اکٹھا کر کے کمرے میں رکھ دینا۔ کمرے کے ایک کونے میں سارا سامان باندھ کر رکھتے ہوئے عنزہ نے ہاتھ جھاڑ کر خود کو شاباش دی اتنی دیر میں موبائل بجا ۔ بغیر نمبر دیکھے عنزہ نے کال اٹینڈ کی مگر دوسری طرف کی آواز سن کے اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا "آپ ایک انتہائی بدتمیز انسان ہیں ۔اس لئے میں صرف خوبصورت آواز کے صدقے اپنی بےعزتی نہیں کرواسکتی۔ میں نے آپ کو تنگ کیا جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں ۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ آپ بھی مجھے دوبارہ کال نہ کرکے اپنے اعلی ذوق ہونے کا ثبوت دیں شکریہ " ایک ہی سانس میں بغیر تراب کی بات سنے عنزہ نے اپنی کہہ کر کال کاٹ دی جب کہ تراب فون بند ہونے کے باوجود ابھی تک سکتہ میں تھا ۔ 🍂🍃🍂🍃🍂🍃
