Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

شادی کا ہنگامہ ” میر لاج ” میں بھرپور طریقے سے جاری تھا. ہر کوئی جوش تھا سوائے ایک نفوس کے _ جو صرف دنیا کے لیے خوش ہونے کا دکھاوا کر رہا تھا. مگر اصل میں وہ ان ہنگاموں سے شدید پریشان تھا. اور وہ کوئی اور نہیں میر تراب علی کی پیاری “ماما جانی” تھیں. مجھے اس لڑکی سے تراب کا نکاح نہیں کرنا چاہیے.تھا . یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے. دیکھنے میں کتنی معصوم لگتی ہے مگر یہ مجھ سے میرا بیٹا چھین رہی ہے. جو میں کسی بھی صورت ہونے نہیں دوں گی جہاں آرا بیگم نے عنزہ کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا جو آج “مایوں کے پیلے جوڑے” میں بہت پیاری لگ رہی تھی.
کیا سوچ رہی ہو ……. ؟ مسز عابد نے جہاں آرا کی سوچ میں مداخلت کی.
کچھ نہیں بس اپنے بیٹے کی مہندی انجوائے کر رہی ہوں. جہاں آرا بیگم نے زبردستی مسکراتے ہوئے جواب دیا.
تراب نے سفید شلوار قمیض پر پیلا دوپٹہ جبکہ عنزہ نے پیلے سوٹ پر سبز دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا. اسٹیج پر اس وقت مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی.
ویسے کیا یہ ضروری ہے کہ تم ہر کام میرے سے پہلے کرو
احمر نے پوچھتے ہوئے مہندی اس کے ہاتھ پر لگائی.
ہاں کیونکہ تم ابھی بچے ہو اور تمہیں مجھ سے سیکھنے کی ضرورت ہے. تراب نے جلتی پر تیل کا کام کیا.
تیل تمہارے سر پر لگاؤ یا احمر نے بات ادھوری چھوڑی.
جہاں مرضی لگا دو مگر یاد رکھنا کل یہی رسم تمہاری طرف بھی ہے اور “ادھار” میں نہیں رکھتا. تراب کے جواب پر احمر نے چپ چاپ رسم نبھائی اور خاموشی سے بیٹھ گیا.
آپ تو اپنی مہندی پر بہت پیاری لگ رہی ہیں پتہ نہیں میں کیسی لگوں گی …………. ؟ میں آپ سے “کھلم کھلا” جیلس ہو رہی ہوں. زویا نے عنزہ کو ابٹن لگاتے ہوئے سرگوشی کی.
میں تو لگ رہی ہوں مگر تم تو ہو ہی پیاری، اس لیے بےفکر رہو. عنزہ آج بہت خوش تھی اس لیے بات بے بات مسکرا رہی تھی اور اُس کی یہی مسکراہٹ کسی کو “زہر” لگ رہی تھی.
تراب ابھی عنزہ کو مسکراتا دیکھ کر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ ہمدانی کی کال پر اسٹیج سے نیچے اتر گیا.
خیریت تم نے اتنی ایمرجنسی میں کیوں کال کی. کچھ دیر انتظار کر لیتے ……… ؟ تراب سخت بدمزہ ہوا تھا.
سر بات ہی کچھ ایسی تھی ورنہ میں آپ کو ڈسٹرب نہ کرتا. ہمدانی نے عاجزی سے جواب دیا.
اب بول بھی دو ایسا کیا ہوا ہے جو تم اتنی تمہید باندھ رہے ہو ……….. ؟ تراب نے اکتاہٹ سے پوچھا
سر بات دراصل کچھ یوں ہے کہ _ جوں جوں ہمدانی بتاتا جا رہا تھا تراب کے چہرے کے تاثرات بگڑتے جا رہے تھے. اس نے ایک نظر اسٹیج پر بیٹھی عنزہ کو دیکھا
تمہیں یقین ہے کہ یہ سب سچ ہے. تم نے اپنے کانوں سے سنا ہے کوئی اور گواہ تراب نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا. سر میں نے آپ کو ایک فوٹیج سینڈ کی ہے آپ وہ دیکھ لیں. ہمدانی نے ادب سے جواب دیا. ہمدانی یہ بات ہم دونوں کے لیے اور کس کس کے علم میں ہے ……. ؟ تراب نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا. دو اور لوگوں کو
ہمدانی نے نظریں چرائیں.
وہ دونوں کون ہیں ……. ؟ تراب نے اگلا سوال پوچھا
سر فوٹیج میں آپ دیکھ سکتے ہیں. میں آپ کا وفادار ہوں اور ہمیشہ رہوں گا. اگر میری بات زرا بھی غلط ثابت ہوئی تو میں سزا کے لیے تیار ہوں. ہمدانی نے تراب کے تیور دیکھ کر مودب لہجے میں جواب دیا.
اچھا ٹھیک ہے تمہیں اب پہلے سے زیادہ محتاط رہنا ہو گا. غلطی کی گنجائش نہیں ہے. میں ائیر پیس لگا رہا ہوں. مجھے پل پل کی خبر دیتے رہنا _ تراب کی ہدایت پر ہمدانی نے سر ہلایا. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 کیا بات ہے ابھی کچھ دیر پہلے تو بہت چہک کر رہے تھے پھر اب نظر لگ گئی ہے کسی حسینہ کی جو منہ بنا لیا ہے احمر نے حلوہ پوری پلیٹ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
میرے خیال سے آج پہلی بار تو نے درست اندازہ لگایا ہے تیرا دوست کیونکہ بہت پیارا ہے تو اسے نظر لگ گئی ہے تراب نے بات مذاق میں اڑائی
سچ نہیں بولنا تو مت بولو مگر جھوٹ بول کر اپنی شخصیت خراب مت کرو ۔تم پریشان ہو اور یہ واقعہ بالکل تازہ تازہ ہے
احمر نے نوالہ لگایا جبکہ تراب نے اسے حیرت سے دیکھا
ارے واہ تم تو چہرہ شناس ہو گئے ہو۔ یہ ہنر کب سیکھا ۔۔۔۔۔؟ تراب بھی اب اس کی پلیٹ سے کھارہا تھا ۔
لوگ دولہے کا جھوٹا کھاتے ہیں تاکہ ان کی شادی جلدی ہو جائے اور تم میرا کھا رہے ہو تاکہ تمہاری شادی کینسل ہو جائے احمر کی بات پہ تراب نے قہقہ لگایا
ہاں ایسا تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا ۔ خیر اگر کینسل بھی ہوگی تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں کونسا شادی کے لئے مرا جا رہا ہوں۔ تراب پھیکا سا مسکرایا ۔
اور مرنا کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ ابھی نکاح کو مہینہ بھی نہیں ہوا اور تم نے شادی کی دیگیں کھڑکا دیں۔
احمر کی بات پر تراب نے ہنستے ہوئے اسٹیج کی طرف دیکھا جہاں عنزہ لڑکیوں کے درمیان بیٹھی کسی بات پر ہنس رہی تھی ۔
وہ تو مجھے اس پر رحم آگیا ہے وہ اکیلی ہو گئی ہے تو سوچا اسے سہارا دے دو
پر لگتا ہے اسے سہارا دینے کے چکر میں کہیں میں خود بے سہارا نہ ہو جاؤں تراب کے لہجے میں اچانک دکھ اتر آیا ۔
تراب خیریت ہے نا یارررررر _ احمر تراب کے اس طرح بولنے پر تھوڑا سا خوف زدہ ہوا ۔
ہاں خیر ہے تو آرام سے کھا پی میں ذرا ہمدانی سے بات کر لو تراب احمر کا کندھا تھپکتا ہمدانی کی طرف چل پڑا۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
بیگم صاحبہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنا کام کر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ہاجرہ بی نے رازداری سے پوچھا
ابھی نہیں ابھی بہت لوگ ہیں اور تراب بھی بالکل اس کے قریب ہی ہے ۔وہ تمہیں ایک سیکنڈ میں پکڑ لے گا عقاب جیسی نگاہیں ہیں اس کی
جہاں آرا بیگم نے ساڑھی کے پلو سے اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے جواب دیا
پھر کب جی کل تو بارات ہے اس کے بعد میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گی ۔میر صاحب کے کمرے میں جانا نا ممکن سی بات ہے ۔ہاجرہ بی نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
ہاں یہ تو ہے۔ تم ایسا کرنا کہ جب یہ فنکشن ختم ہوجائے تب اپنا کام شروع کر دینا ۔میں تراب کو سنبھال لوں گی
جہاں آرا بیگم نے کہتے ہوئے ہاجرہ بی کو جانے کا اشارہ کیا ۔
ماما جانی آپ یہاں پر اکیلی کھڑی کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ میں نے سارا گھر چھان مارا ہے ۔تورات کی آواز پر جہاں آرا بیگم جلدی سے پلٹی ۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے تھوڑی تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی اس لیے یہاں آ کر بیٹھ گئی ۔جہاں آرا بیگم نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا
ماما جانی سب آپ کو وہاں بلا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ نے ابھی تک مجھے اور عنزہ کو مہندی بھی نہیں لگائی ہے ۔میں آپ سے ناراض ہو گیا ہوں ۔ تراب نے ماں کا بازو پکڑ تے ہوئے لاڈ سے کہا
اچھا تم چلو میں آرہی ہوں۔تراب سے بازو چھڑاتے ہوئے جہاں آرا بیگم نے جواب دیا
آپ رسم کرلیں تو بس پھر عنزہ کو کوارٹر میں بھیج دیتے ہیں ۔وہ کافی تھک گئی ہے ۔ویسے بھی بہت دیر ہو گئی ہے ۔جب تک وہ اسٹیج پر بیٹھی رہے گی لوگوں کا رش کم نہیں ہوگا۔ کیا خیال ہے آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے کہتے ساتھ ماں کی طرف دیکھا جو اس کی بات پر کھل سی گئیں ۔
تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو ۔میں بھی یہی کہنے والی تھی ۔جہاں آرا بیگم نے جواب دیتے ہوئے لان میں ہاجرہ بھی کو تلاش کیا
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
احمر تم نے غور کیا کہ آج تراب بھائی کچھ ڈسٹرب تھے۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے چائے کا کپ اس کے آگے رکھتے ہوئے کہا
ہاں بالکل ایسا ہی ہے ۔میں نے پوچھا بھی تھا مگر وہ بات کو ٹال گیا احمر کی بات پر زویا نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
اچھا مگر تمہارے خیال سے کیا بات ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔؟ زویا نے کچھ سوچنے کے بعد کہا
شاید کوئی بزنس کے متعلق ہو کیونکہ گھر کے بارے میں تو کچھ ایسا نہیں لگتا۔اس کی پسند کی شادی ہے اور آنٹی بھی بہت خوش ہے
احمر نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے جواب دیا
پتا نہیں شاید میرا وہم ہو مگر میں نے تمہیں ایک بات بتانی ہے ۔زویا نے سوچتے ہوئے کہا جس پر احمر چونک پڑا
کہیں تم مجھ سے “اظہار محبت” تو نہیں کرنے لگیں ۔اگر ایسا ارادہ ہے تو کل تک صبر کرو ۔ہماری شادی میں کچھ بھی نیا نہیں ہے ۔چلو یہی سہی احمر نے مسکراتے ہوئے کہا
بکواس بند کرو اپنی اور میری بات غور سے سنو ۔پہلے میں نے سوچا تھا کہ عنزہ کو بتا دو۔پھر مجھے تراب بھائی کا خیال آیا ۔مگر انہیں ڈسٹرب دیکھ کر میں چپ کر گئی ۔
تو اب مجھے کیوں بتا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اب بھی چپ کر جاؤ ۔میں آگے ہیں بہت تھکا ہوا ہوں۔_
احمر نے جمائی لیتے ہوئے کہا
کم کھاتے نااااا کھا کھا کر تھک گئے ہو ۔اب اگر تمہیں “لوز موشن” لگ گئے۔ تو کتنا برا لگے گا دولہا بار بار واش روم جاتا ہوا زویا نے قہقہ لگایا۔
ہممممم ویری فنی میرا تو ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ہے ۔احمر نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے مذاق اڑایا
اچھا سنو ناااااا بہت ضروری بات ہے ۔تم ایسا کرو ابھی تراب بھائی کو فون کرو اور میری عنزہ سے بات کراؤ _
زویا کی بات پر احمر نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا “پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے”
رات کے اس پہر میں نے تراب کو فون کیا تو اول وہ میرا فون اٹھائے گا ہی نہیں دوم اگر اس نے اٹھا لیا تو عنزہ سے بات کروانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا احمر نے نفی میں سر ہلایا
بات کو سمجھو، اچھا سنو اصل میں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے زویا نے اپنے روشن خیالات سے احمر کے چودہ طبق روشن کر دیئے اور وہ فورا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
امید ہے آپ مجھے “گالیاں” نکالنے کو بے تاب ہوں گے مگر میں کیا کروں جب مجھے کوئی چین سے نہیں رہنے دے گا تو میں کیسے کسی کو چین سے سونے دے سکتا ہوں _
احمر کی آواز پر تراب نے سخت کوفت سے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کا 1 بج رہا تھا۔
احمر اگر کوئی خاص بات یا کام ہے تو کرو ورنہ مجھے بہت سخت نیند آ رہی ہے ۔پلیز ڈسٹرب مت کرو میں بہت تھکا ہوا ہوں تراب نے جمائی روکتے ہوئے کہا
اصل میں زویا نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ وہ ڈر کر اٹھ گئی ہے۔ اور اب وہ بار بار عنزہ بھابھی سے بات کرنے کی ضد کر رہی ہے ۔تم مجھ معصوم پر احسان کرتے ہوئے اس کی بات کرا دو پلیز احمر کے بہانے پر زویا نے اس کا کندھا تھپک کر اسے شاباش دی ۔
اس وقت کیسے بات کرا سکتا ہوں ۔وہ کون سا میرے پاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ تو کوارٹر میں ہے اور مجھے جاتے جاتے پندرہ منٹ لگ جائیں گے۔ تم زویا کو کہو کہ اس کے نمبر پر کال کر لے اب تراب تھوڑا نارمل ہوا ۔
پلیز تراب بھائی وہ میرا فون نہیں اٹھا رہی اور مجھے وہم ہو رہا ہے آپ بات کروا دیں یا کم از کم دیکھ کر بتائیں کہ وہ ٹھیک ہے _ زویا کی بات پر تورات کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
اچھا میں دیکھتا ہوں تم فون بند کرو ۔ تراب کے جواب پر زویا نے خوشی سے احمر کو دیکھا
چلو اب ہم سوتے ہیں۔ ہمارا کام ہو گیا۔ اب تراب بھائی خود ہی سب دیکھ لیں گے
ہم صبح “خبر “،پڑھ لیں گے کہ کہاں “دھماکہ” ہوا اور کون کون زخمی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زویا کے قہقہ پر احمر نے نفی میں سر ہلایا
تم نے کیا دماغ پایا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اگر اس کے ساتھ ساتھ تم نے ایک محبت بھرا ” دل” بھی پایا ہوتا تو میری زندگی میں بھی محبت کے رنگ بکھر گئے ہوتے احمر نے آہیں بھرتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔
رنگ صرف محبت میں نہیں ہوتے “پٹاخوں” کے بھی ہوتے ہیں۔ جو آج “میر لاج” میں بکھرنے والے ہیں۔کاش تم مجھے اس وقت وہاں لے جاسکتے ۔ live دیکھنے کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے زویا کی بات پر احمر نے اسے مڑ کر شکی کی نظروں سے دیکھا
احمد کیا زبردست آئیڈیا ہے چلیں ” میرلاج “_
زویا نے پرجوش ہوکر کہا جس پر احمر اپنا سر پکڑ تا ہوا سیڑھیوں میں بیٹھ گیا ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے