No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
جہاں آرا بیگم نے اپنے آپ کو آخری نظر آئینے میں دیکھتے ہوئے پرفیوم کی آدھی بوتل خود پر سپرے کی.
کوئی میرا مقابل نہیں _ اور دل ہی دل میں مسکرائی اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی. جس سے ان کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئی.
بیگم صاحبہ مسز عابد آئیں ہیں ……. کرم بابا نے ادب سے عرض کیا.
مسز اسد……. کہنا چاہ رہے ہیں. جہاں آرا نے مصروف سے انداز میں مقابل کو شرمندہ کرنا چاہا.
نہیں بی بی جی آپ کی سہیلی مسز عابد آئیں ہیں. کرمو بابا کے دوبارہ کہنے پر جہاں آرا چونکی مگر اظہار نہیں کیا.
ٹھیک ہے میں آ رہی ہوں اور ہاں جیسے ہی تراب آئے اسے ڈرائنگ روم میں بھیج دینا اور خود اپنے ہاتھوں میں کنگن پہننے لگی.
مسز عابد قیمتی اشیاء سے سجائیں گے اس مہمان خانے کو حسرت سے دیکھ رہی تھیں تبھی انہیں جہاں آرا بیگم اندر داخل ہوتی ہوئیں نظر آئی.
ہائے سویٹی کیسی ہو……؟ مسکرا کر فخر سے جہاں آرا نے مسز عابد کو خوش آمدید کہا
تمہاری چوائس بلاشبہ ہر چیز میں ہی بہت اعلی ہے. کمال کی سجاوٹ ہے. جس چیز کو دیکھو نگاہ پلٹنا ہی بھول جاتی ہے……… وہ دونوں ایک دوسرے کے آس پاس مخالف سمت میں بیٹھی تھی.
تمہیں پتہ تو ہے عام سی چیزیں مجھے پسند نہیں آتیں. میں ہر معاملے میں انتہائی بلکہ بہترین چیزوں کی قائل ہوں اور پھر ایک جاندار قہقہ لگایا
تم بتاؤ کیسے آنا ہوا یوں اچانک…… ؟؟؟
کیا مطلب کیسے آنا ہوا……. ؟؟؟ مسز عابد نے ناراضگی کا اظہار کیا.
میرا مطلب تھا کہ آج میں نے “مسز اسد* کی فیملی کو ڈنر پر بلوایا ہے………… جہاں آرا بیگم نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے اطلاع دیں. اتنی دیر میں نوکر لوازمات سے بھری ٹرالی مسز عابد کے سامنے چھوڑ کر چلا گیا.
کیوں……. ؟ تمہیں کب سے وہ کرنل کی مسز پسند آ گئی ہے…… ؟ مسز عابد کو یوں جہاں آرا کا انہیں کھانے پر بلانا کچھ خاص پسند نہ آیا.
مجھے ان کی بیٹی اچھی لگی ہے. اصل میں آج کل میں تراب کے لئے لڑکیاں دیکھ رہی ہوں. وہ کافی تیز اور سمجھدار ہے. میرے سوشل ورک میں کافی مددگار ثابت ہو سکتی ہے…….. جہاں آرا بیگم کی بات پر مسز عابد نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا ۔
مجھے کم از کم تم سے اس بے وقوفی کی امید نہ تھی. تم تو خود اپنے پاؤں پر ” کلہاڑی” مار رہی ہو. اس نے آکر تمہیں “آؤٹ” کر دینا ہے……….. مسز عابد نے مسکراتے ہوئے جہاں آرا بیگم کی طرف دیکھا
مجھے “آؤٹ” کرنا اتنا آسان نہیں ہے.ویسے بھی میرا بیٹا میری حکم کا پابند ہے اور تراب کو کوئی لڑکی قابو کرے ناممکن میری جان ہو ہی نہیں سکتا_ جہاں آرا بیگم کو بات بری تو لگی مگر وہ اپنے تاثرات چھپا گی. تمہیں آج کل کی لڑکیوں کا پتہ نہیں ہے اور وہ مسز اسد خود اتنی تیز ہے. سوچو ان کی بیٹی کیا چیز ہو گی……؟ یہ نہ ہو کہ وہ تراب کو لے اڑے اور تم خالی ہاتھ ملتی رہ جاؤ. اس دفعہ مسز عابد کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا اچھا تو پھر اس ڈر سے تراب کو کنوارہ ہی مرنے دوں………. جہاں آرا بیگم نے خفگی کا اظہار کیا یار کسی مڈل کلاس کی نارمل سی شکل و صورت والی گریجویٹ پاس لڑکی دیکھ کر اس سے تراب کی شادی کر دو………… شان بے نیازی سے مشورہ دیا گیا دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا…….. میرا تراب دیکھا ہے…….. جہاں آرا بیگم کا اس بات سے سخت موڈ خراب ہوا اب وہ بیزار نظر آ رہی تھی. دیکھو میری بات غور سے سنو _ اگر تم میرے مشورے پر عمل کرو گی تو تمہارا ہی فائدہ ہے.
معمولی شکل و صورت کی میڈل کلاس لڑکی کبھی بھی تراب جیسے شخص کو اپنا گرویدہ نہیں بنا سکتی۔ وہ یہاں کے طور طریقے سیکھتے سیکھتے ہی مر جائے گی.
دوسرا ساری زندگی تمہارے اشاروں پر چلے گی. اس کی اتنی ہمت ہی نہیں ہوگی کہ تمہارے سامنے سر اٹھا سکے کیونکہ بیگراونڈ بہت کمزور ہو گا. جو اسے سپورٹ کرے. تراب بھی اسے سپوٹ نہیں کرے گا وہ ساری زندگی تمہارے ہی رحم و کرم پر رہے گی.
اس طرح تراب کا گھر بھی بس جائے گا اور تمہارے “تخت” کو بھی کوئی خطرہ نہیں رہے گا. آگے تمہاری مرضی جیسا اچھا لگے ویسا کرو۔
مسز عابد کی بات پر جہاں آرا بیگم کے چہرے پر ایک شاطرانہ سی مسکراہٹ ٹھہر گی۔
تمہاری بات مجھے پسند آئی ہے مگر تراب نہیں مانے گا وہ کبھی بھی معمولی چیزوں پر کمپرومائز نہیں کرتا ۔اسے بہترین چاہیے ہوتا ہے۔
پھر وہ ایک ایسی لڑکی سے شادی کیوں کرے گا……. ؟ جب کہ وہ بقول تمہارے خوبصورت بھی نہ ہو. جہاں آرا بیگم کو یہ آئیڈیا پسند تو آیا تھا مگر یہ نکتہ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
یہ تو اب تمہارا مسئلہ ہے کہ تم کس طرح اسے بلیک میل کرتی ہو۔ مسز عابد اپنی ذہانت پر مسکرا رہی تھی.
خیر یہ تو ہے میں کوئی بات کہوں اور وہ نہ مانیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا…….. مگر میری خواہش تھی کے میں تراب کے لیے “چاند” جیسی بیوی لاؤں آخر میرا بیٹا “سورج” کی طرح ہے جہاں آرا نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
سوچ لو کہیں ایسا نہ ہو کہ چاند جیسی بہو کے ساتھ ساتھ تمہیں تارے بھی نظر آنے لگ جائیں ۔
ہممممم……… مسز عابد کی بات پہ جہاں آرا نے پر سوچ انداز میں کہا
خیر بعد میں دیکھتے ہیں تم چائے تو لو ناااااا……. باتیں تو ہوتی رہیں گی
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
عنزہ کے ہاتھ تو ایک طرح کی سرگرمی ہی لگ گئی تھی اب وہ جب بھی فری بیٹھتی تو تراب کو مس کالز کرتی ۔
آج موسم بہت خوبصورت تھا۔ بوا میر لاج گی ہوئی تھی ۔گرے بادلوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔
عنزہ نے ایک کپ چائے کا بنا کر موسم کو انجوائے کرنے کے لیے چھت کا رخ کیا
کیا مزے کا موسم ہے مگر ہم غریب لوگ اس موسم سے کہاں لطف اندوز ہوسکتے ہیں…….. ؟ ابھی بارش شروع نہیں ہوگی کہ بجلی چلی جائے گی…….. عنزہ نے سوچتے ہوئے چائے کا گھونٹ بھرا اور ساتھ ہی ہونٹوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔ چائے کا کپ سائیڈ پر رکھا اور تراب کے نمبر پر بیلززز دینا شروع کر دیں۔
ایک بیل بجتے ہی وہ کال کاٹ دیتی اور پھر نمبر ڈائل کرنے لگی. اس طرح پوری سو کالز کرنے کے بعد مسکراتے ہوئے چائے پینے لگی.
لے بھئی عنزہ بی بی آج میر صاحب ضرور کال کریں گے پھر ان کے بیلنس پر ان سے بات کرنے کا الگ ہی مزا ہوگا.
آہستہ آہستہ شام اپنے پر پھیلا رہی تھی اور وہ سورج کو ڈوبتا دیکھ رہی تھی. ساتھ ہی سوچ رہی تھی کہ کال آنے پر کیا بات کرے گی……. ؟
تراب آفس سے سیدھا بچوں کے کمرے میں چلا گیا اس لیے اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے. ان کے ساتھ کچھ ٹائم گزارنے کے بعد ابھی وہ بچوں کے کمرے سے اپنے کمرے میں آیا تھا۔
پہلے فریش ہونے کے لیے واش روم چلا گیا گرے ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ پہن کر اب وہ کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا ۔بالوں میں برش کیا تھوڑی دیر شیشے میں اپنا آپ دیکھا اور سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاتا ٹیرس پر آگیا.
ٹھنڈی ہوا اور بارش کی بوندوں نے تراب کا استقبال کیا. وہ ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا. کچھ دیر گرتی بارش کو دیکھتا رہا پھر اپنا موبائل آن کر کے میسج پڑھنے لگا مگر جیسے ہی اس نے موبائل آن کیا اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
سو کالززز……. وہ بھی ایک انجان نمبر سے………. کچھ دیر سوچنے کے بعد تراب نے نمبر ڈائل کیا.
تیسری بل پر کال اٹینڈ ہوگئی اور انتہائی خوبصورت اور مترنم آواز میں کسی لڑکی نے ہیلو کہا
دیکھیں مس آپ جو کوئی بھی ہیں. میں آپ کو نہیں جانتا لیکن آپ مجھے پچھلے کچھ دنوں سے بہت تنگ کر رہی ہیں آخر آپ کا مسئلہ کیا ہے…… ؟ تراب نے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا
مجھے آپ کی آواز بہت اچھی لگتی ہے. صرف آپ کی آواز سننے کے لیے کال کرتی ہوں میرا نہیں خیال کہ اس میں آپ کو کوئی مسئلہ ہونا چاہیے…….. عنزہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اچھا پھر تو آپ کی آواز بھی بہت خوبصورت ہے مجھے کسی چوک پے آپ کا نمبر لکھ دینا چاہیے تاکہ لوگ آپ کو کال کر کے آپ کی آواز سے “فیضیاب” ہوں……….تراب نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا
میں نے کہا مجھے آپ کی آواز پسند ہے میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ میری آواز کا اشتہار بنا دیں عنزہ کو تراب سے اس قسم کے جواب کی امید نہ تھی سو غصے سے کال کاٹ دی.
برا منا گئیں شاید …….. تراب نے کندھے اچکائے اور فون بند کر کے گرتی بارش کو دیکھنے لگا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے
