Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

یہ کیا بات ہوئی …….. ؟ تم نے چیٹنگ تو نہیں کی تھی. احمر نے لیپ ٹاپ کی سکرین کو گھورتے ہوئے پوچھا
مجھے کیا پڑی تھی چیتنگ کرنے کی _ جیسا تم نے کہا میں نے بلکل ویسا ہی فارم پُر کیا تھا. اب تمہارے جیسا نمونہ دنیا میں اور کہیں نہیں پایا جا رہا تو میں کیا کروں ……… ؟ زویا نے کندھے اچکائے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں میرا match ہی نہ ہو. احمر نے خود کلامی کی. خیر چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ میرا match کیسا ہے …… ؟ یہ لڑکا ناروے کا رہنے والا ہے. پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے. پیارا بھی بہت ہے. زویا نے ایک براؤن بالوں والے لڑکے کی تصویر دکھاتے ہوئے پوچھا مجھے تو بلکل بھی پسند نہیں آیا. اگر تمہیں پسند ہے تو ٹھیک ہے ویسے اس کا مذہب ضرور چیک کر لینا مجھے تو شکل سے مسلمان نہیں لگ رہا. احمر نے کہتے ہوئے پیچھے ٹیک لگائی. یہ تم نے کام کی بات کہی ابھی چیک کرتی ہوں. مگر جیسے ہی اس نے مزہب کے خانے پر کلک کیا اس کا منہ حیرت سے کھل گیا. جبکہ احمر نے زور زور سے قہقے لگانا شروع کر دیے. عیسائیت ہاہاہا
چلو میرا match تو ہے ہی نہیں مگر تمہارے جیسا دوسرا بندہ اب تم اپنی حرکتیں دیکھ لو کن لوگوں سے ملتی ہیں. احمر اب صوفے پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا جب آغا جان کی بات پر چپ کر کے زویا کی طرف دیکھنے لگا.
آغا جان کیا ہوا
؟ دونوں ایک ساتھ بھاگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے.
تم لوگ میرے آس پاس رہا کرو پتہ نہیں مجھے آج کل کیسے عجیب وہم ہو رہے ہیں. آغا جان نے اپنے بازو دونوں کے گرد پھیلائے.
اوہو آغا جان کیا ہو گیا ہے. کیوں اتنے جذباتی ہو رہے ہیں …….. ؟ احمر نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو اس وقت رونے کی تیاری میں تھے.
مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا مگر تم دونوں کی فکر کھائے جا رہی ہے. بس میری زندگی میں تم دونوں کی شادی ہو جائے. آغا جان کی بات پر احمر مسکرایا.
اگر تم دونوں مجھ سے ناراض نہ ہو تو ایک بات کہوں …….. ؟ آغا جان نے باری باری دونوں کی طرف دیکھا جو انھیں ہی دیکھ رہے تھے.
پہلے تو نہیں مگر کل تراب کے نکاح پر جہاں آرا کی بات نے مجھے سچ مچ کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے. بلکہ یوں سمجھو یہ بات انھوں نے ہی کہی ہے جس میں مجھے کوئی خرابی نظر نہیں آ رہی آغا جان کی اتنی بڑی تمہید پر احمر اور زویا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
تم اسی میری خواہش سمجھو. میں چاہتا ہوں اگر تم دونوں اپنی باہمی رضامندی سے ایک دوسرے ساتھ شادی کر لو. تو مجھے دلی خوشی ہو گی. آگے تمہاری مرضی میں زبردستی نہیں کرتا
آغا جان کی بات سن کر دونوں نے ایک ساتھ “آغا جان” کہا
اس طرح میرا بیٹا اور پیاری بیٹی ہمیشہ میرے پاس ہی رہیں گے. آغا جان نے قدرے دھیمے لہجے میں کہا
جہاں آرا آنٹی کی کھوپڑی میں پتہ نہیں ایسے خیالات کہاں سے آتے ہیں ………. ؟ زویا سر نفی میں ہلاتی کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ احمر آغا جان پاس بیٹھا ان کی بات سننے لگا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
تراب اس وقت نیم تاریک کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر اپنے نکاح کی ویڈیو دیکھ رہا تھا. بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ صرف “عنزہ” کو ہی دیکھ رہا تھا.
ویڈیو کے بعد اب لیپ ٹاپ پر عنزہ کی تصویریں چلنے لگیں. انتہائی مطمئن اور پُر سکون، مسکراتا چہرہ _ وہ تراب کے برابر بیٹھی بلاشبہ اس کی پرسنیلٹی کو چار چاند لگا رہی تھی. “حسن لاجواب تھا نہ ادائیں باکمال تھیں. تم سے محبت کےلیے میرے دل نے چلی چال تھی.” سکرین پر نظریں جمائے تراب نے اپنا موبائل آن کیا. کچھ دیر سکرین کو گھورنے کے بعد عنزہ کا نمبر ڈائل کیا جو حسبِ روایت بند ملا. بےتابی سے موبائل کو ہاتھ میں گھمایا پھر چند سیکنڈ بعد ہمدانی کو کال کی. جی سر حکم ہمدانی نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا.
کل ماما جانی کو دو نمبر نکاح نامہ اور اس کی کاپیاں دے دینا. اور اصل نکاح نامہ صبح میرے آفس لے آنا. خیال رہے یہ کام بہت احتیاط سے کرنا کسی کو شک نہ ہو. مولوی صاحب کو بھی خوش کر دینا.
جی بہتر آپ بے فکر رہیں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہو گا. ہمدانی نے ہمیشہ کی طرح اب بھی ہاں میں ہاں ملائی.
اور ہاں جس نمبر سے عنزہ بی بی نے تم سے اس دن بات کی تھی وہ نمبر بھی مجھے سینڈ کر دو ابھی اور اسی وقت سر وہ بوا کا نمبر تھا میں سینڈ کرتا ہوں. ہمدانی نے تراب کی بات سن کر فوراً جواب دیا. ٹھیک ہے اب تم آرام کرو صبح بات کرتے ہیں اور نکاح کے انتظامات بہت اچھے تھے. ہمدانی مجھے تم پر فخر ہے
تراب نے ہمدانی کی تعریف کرتے ہوئے کال کاٹ دی.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
کافی کا بھاپ اڑاتا کپ جیسے ہی زویا کے سامنے آیا اس نے نظر اٹھا کر کپ والے کو دیکھا
“ایک تم ہو اور _ نخرے تمھارے ایک ہم ہیں کہ صدقے تمھارے”
میں نے سوچا تمہیں اس وقت اس کی ضرورت ہو گی. ویسے میں کافی بہت اچھی بنا لیتا ہوں. احمر شرارت سے مسکراتا ہوا زویا کے پاس بیٹھ گیا.
میں اس وقت بہت ڈسٹرب ہوں برائے مہربانی مزید مت کرنا اور ہاں کافی کے لیے شکریہ اگر ساتھ کھانے کے لیے بھی کچھ لے آتے تو مزہ آجاتا _ زویا نے کافی کا کپ ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے کہا میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے اور یقین مانو میں اس وقت بلکل سیریس ہوں. احمر نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا “میں نے ساری رات بہت سوچا ہے اور اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے تم سے شادی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے” تم یہی کہنا چاہ رہے ہو ناااااا زویا کی بات پر احمر نے حیرت سے اسے دیکھا
ہاں بلکل مگر تمہیں کیسے معلوم ……. ؟ احمر نے زویا کی طرف مکمل گھومتے ہوئے پوچھا
کیونکہ میں نے بھی رات یہی فیصلہ کیا ہے مگر زویا نے کافی کا کپ نیچا رکھا اور اپنے بازو اپنے گھٹنوں کے گرد باندھ لیے.
مگر کیا ……….؟ احمر نے تجسس سے پوچھا
میری شروع سے ہی خواہش تھی کہ جس شخص سے میری شادی ہو وہ تھوڑا “ہیرو” ٹائپ ہو. یعنی اس کا بڑا سا بزنس ہو
دیکھنے میں بہت پیارا ہو میرے بہت ناز نخرے اٹھائے
مجھ سے عمر میں بڑا ہو _ میں اسے اپنے بچپن کے جھوٹے سچے قصے سناؤں اور اور بھی بہت کچھ ہے. زویا نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور کافی کا کپ اٹھا لیا.
میرے ساتھ بھی بلکل تمہارے جیسا ہی ہے. میں نے بھی سوچا تھا کوئی بھولی بھالی لڑکی میری زندگی میں آئے گی ہر وقت مجھے آپ، آپ کہہ کر بلائے گی میں اس پر رعب ڈالوں گا تو ڈر جائے گی میری ہر بات مانے گی میں اسے متاثر کرنے کے لیے لپنے اپنے بچپن کے جھوٹے سچے قصے سناؤں گا. احمر نے اپنی بات ختم کر کے زویا کو دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی.
ہم دونوں کسی بھی طرح ایک دوسرے کے آئیڈیل نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں. زویا کی بات پر احمر نے سر ہلایا.
اور اگر اب ہماری آپس میں شادی ہو جاتی ہے تو یہ دنیا کی “بور” ترین شادی ہو گی. ہم بہت ساری خوشیوں سے محروم رہ جائیں گے. جیسے میں تمہیں “منہ دکھائی” کیسے دوں گا ……. ؟ احمر نے افسوس سے اسے دیکھا
اور میں بھی تمہیں کبھی ” آپ” نہیں بول سکتی اور نہ ہی تمہاری فضول قسم کی “فرمانبرداری” کر سکتی ہوں. زویا بھی اداس ہو گئی.
یار کیا ہے ……. ؟؟؟ پتہ نہیں کون لوگ ہوتے ہیں جنھیں اپنے کزن سے محبت ہو جاتی ہے مجھے تو تم سے بلکل بھی نہیں ہو رہی. حالانکہ میں نے رات کو کافی کوشش کی تھی کہ تمہارے بارے میں “ایسا ویسا” سوچو زویا نے ہار ماننے والے لہجے میں اقرار کیا.
جو انسان آپ کے سامنے بڑا ہوا ہو. اس کی تمام “خوبیاں خامیاں” آپ کے سامنے ہوں. اس سے کیسے محبت ہو سکتی ہے ناممکن ………. ؟ محبت ہمیشہ ایسے انسان سے ہوتی ہے جو ہماری نظروں میں پرفیکٹ ہو. احمر نے زویا کی تائید کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی.
چلو ایسا کرتے ہیں ہم ایک کوشش کرتے ہیں ایک دوسرے سے محبت کرنے کی شاید کامیاب ہو جائیں. ویسے بھی کون سے ہمارے رشتوں کی لائن لگی ہوئی ہے
ہو سکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں. ہماری شادی کے ہمیں جو نقصانات ہیں وہ اپنی جگہ مگر کچھ فائدے بھی تو ہونگے زویا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
فائدے تمہیں ہی ہونگے مجھے تو صرف نقصانات ہی نظر آ رہے ہیں. احمر کہتا ہوا آٹھ کھڑا ہوا.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
ہاں ایاز بیٹا کیسے ہو ….؟ میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ میں نے عنزہ کا نکاح کر دیا ہے. اب میں اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئی ہوں. جلد ہی اسے رخصت کر کے ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس رہنے آجاؤں گی. ویسے بھی اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں مجھ سے زیادہ کام نہیں ہوتا. میں اپنی زندگی کے آخری دن اپنے بیٹے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں. بُوا نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا جبکہ پاس بیٹھی عنزہ ان کی بےوقوفی پر مسکرا دی.
یہ تو بہت اچھی بات ہے مگر اماں آپ کو زارا کی عادت کا تو پتہ ہی ہے پھر بھی میں کوشش کرتا ہوں آپ کو جلد اپنے پاس بُلا لوں. ایاز نے قدرے جھجھکتے ہوئے جواب دیا.
یہ لے اپنی بہن سے بھی بات کر کے اسے مبارک باد دے. بوا نے ایاز کو کہتے ساتھ فون عنزہ کی طرف بڑھا دیا جس پر عنزہ کے منہ پر مختلف ناپسندیدہ زاویے بننے لگے.
بھائی آپ کیسے ہیں اور بھابی بچوں کی “خیر خبر” کبھی خود بھی دے دیا کریں ہم دونوں انھیں بہت یاد کرتے ہیں. چھٹیوں میں چکر لگائیں ناااااا بہت عرصہ ہو گیا ننھے منوں کو دیکھے ہوئے عنزہ نے ناچاہتے ہوئے بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا تاکہ بوا ناراض مت ہوں.
تمہیں بہت بہت مبارک ہو میں اور زارا جلد چکر لگائیں گے اور یہ لو اپنی بھابی سے بات کر لو. ایاز نے فون زارا کو پکڑا دیا جس پر عنزہ نے موبائل کا سپیکر کھول کر موبائل اپنے اور بوا کے درمیان کر لیا.
کیسی ہو یہ بتاؤ تمہارا منگیتر کیا کرتا ہے ………. ؟ زارا کے سوال پر عنزہ نے منہ پر انگلی رکھ کر بوا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا.
کیا بتاؤں بھابی کچھ عجیب سے لوگ ہیں کام کاج تو کرتے نہیں بس فارغ بیٹھ کر باتیں بناتے رہتے ہیں. عنزہ کے جواب پر بوا نے اسے گھورا
اچھا چلو کوئی بات نہیں آج کل اچھے رشتے ملتے ہی کہاں ہیں …… ؟ زارا کے جواب پر عنزہ مسکرائی.
ہاں بھابی آپ نے بلکل ٹھیک کہا تھا مجھ جیسی معمولی شکل و صورت والی لڑکی کو پڑھا لکھا رشتہ کیسے مل سکتا ہے ……. ؟میں آپ کی طرح خوبصورت جو نہیں ہوں. عنزہ نے مسکین سی شکل بنائی.
شکر کرو پھر بھی تم سے زیادہ پیاری اور اچھی لڑکیاں گھر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتیں ہیں. مجھے تو ابھی تک یقین نہیں ہو رہا کہ تمہارا رشتہ ہو گیا ہے بھلا تم سے شادی کر کے کسی کو کیا ملنا ہے …….. ؟ زارا کی بات پر عنزہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی روکی
اچھا بھابی کسی کی کال آ رہی ہے میں پھر آپ سے بات کرتی ہوں. عنزہ نے فون بند کر کے خوب اونچے اونچے قہقے لگائے.
“خود پسندی کی تمام حدیں زارا بھابی ایک منٹ میں توڑ دیتی ہیں.” عنزہ ہنسے جا رہی تھی.
جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں زرا شرم نہیں آتی. بُوا نے افسوس سے سر ہلایا اور کچن میں چلی گئیں جبکہ عنزہ نے گھڑی کو دیکھا جو رات کے دس بجا رہی تھی اتنی دیر میں فون دوبارہ بجا.
کس کا فون آ رہا ہے اٹھا کیوں نہیں رہی. بس گھورتی جا رہی ہو ……. ؟ بوا نے عنزہ کو ڈانٹا
بُوا آپ کے اکلوتے داماد کال کر رہے ہیں. کرنے دیں. ویسے بھی فلحال میرا اُن سے بےعزت ہونے کا پروگرام نہیں ہے ابھی ابھی آپ کی “بہو” نے جتنا بےعزت کیا وہی کافی ہے. لائٹ آف کر دیں مجھے نیند آ رہی ہے. عنزہ نے لیٹتے ہوئے فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا.
ابھی وہ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ میسج ٹون نے اس کی توجہ حاصل کی.
“انسان کو اپنی اوقات اور دوسرے کا مرتبہ یاد رکھنا چاہیے.اس سے زندگی آرام سے گزرتی ہے. ”
میسج پڑھتے ہی اس کی نیند بھک سے اڑ گئی اور وہ بیڈ ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی.
اوقات اور مرتبے بدلتے رہتے ہیں لیکن محبت کرنے والے نہیں بدلتے ……… میسج سینڈ کر کے عنزہ جواب کا انتظار کرنے لگی.
” ایسی محبت کا کیا کرنا جو مال و دولت سے ہو. ایسی محبت کو سرعام اتنا ذلیل کرناچاہیے کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں.” تراب کا جواب کافی تلخ تھا.
میر لاج کے جانے کا دکھ بول رہا ہے اتنا ظرف نہیں تھا تو مت لکھتے حق مہر میں عنزہ نے سوچتے ایموجی ساتھ ریپلائی کیا.
میر لاج کہیں نہیں جا رہا جہاں تھا وہاں ہی ہے اور رہے گا مگر مجھے کچھ لالچی لوگوں کا پتہ چل گیا. تراب کو عنزہ کے جواب نے دکھ دیا.
ہممممم __
آپ نے ٹھیک کہا مگر میرے نزدیک وہ شخص ایک لالچی انسان سے زیادہ گھٹیا ہے جو اپنی بیوی کو اپنے ہی گھر میں عزت نہ دے سکے. عنزہ کے جواب نے تراب کا سخت موڈ خراب کر دیا اس لیے اس نے مزید میسج کی بجائے فون ہی بند کر دیا.
“بس یونہی چپ ہیں سبب کچھ بھی نہیں
پہلے کچھ تھا بھی تو اب کچھ بھی نہیں”
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے