Kitab Muhabbat By Amna Mehmood Readelle50140 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
تراب مسلسل اپنے موبائل کو گھور رہا تھا جو میز پر بلکل سیان سکرین کے ساتھ پڑا تھا.
تیرے گھورنے سے کم از کم یہ بلکل ڈرے گا نہیں کیونکہ یہ ایک بغیر دل رکھنے والی ڈیوائس ہے _ احمر نے میز کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا مگر تراب خلافِ معمول خاموش رہا. کیا “مراقبہ” ہو رہا ہے. مگر یہ مراقبے کی کونسی قسم ہے………. ؟ احمر نے اپنی شہادت والی انگلی ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے شرارت سے پوچھا کیا مسئلہ ہے تو اپنے کیبن میں کیوں نہیں رہتا…..؟ ہر وقت 32 دانتوں کی نمائش کرتا رہتا ہے. تراب نے گہرا سانس لیتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگا لی. لہجہ خلافِ معمول اداس سا تھا. میرے 32 دانت تو تجھے نظر آتے ہیں مگر میرا پریشان چہرہ کیوں دکھائی نہیں دیتا. احمر نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا کیا تو اس وقت پریشان ہے…… ؟؟؟ تراب نے تصدیق چاہنے کے لیے پوچھا نہیں “تُو” پریشان ہے ظاہری سی بات ہے کہ میں یعنی “احمر درانی” بہت پریشان ہوں. بلکل ٪ 100 پریشان ہوں. میں نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے اور رات نیند بھی نہیں آئی. _ احمر نے آگے کی طرف جھکتے ہوئے کہا خیریت……؟ ؟؟ ایسا کیا ہو گیا ہے کہ تیری راتوں کی نیندیں اڑ گئیں ہیں. سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے تراب نے پوچھا یار وہ زویا ہے نااااا…… قسم سے وہ چین نہیں لینے دیتی. بہت پریشان کرتی ہے. کہتی ہے میں اس کی بات اُس کے منگیتر سے کرواؤں حد ہے ناااا یہ کوئی بات ہوئی. یقین مان اپنا آپ میراثی سا محسوس ہو رہا ہے. شریف لوگوں والی کوئی بات ہی نہیں. احمر نے پیپر ویٹ کو میز پر گھمایا.
بس اتنی سی بات میں سمجھا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے. یہ تو کوئی ایسی ویسی بات نہیں جس پر تو اتنا جذباتی ہو رہا ہے. بات کروا دے آخر کو “آزادی” کی قیمت تو دینی پڑتی ہے……. تراب مسکرایا.
وہ تو ہے خیر تیری طبیعت ٹھیک ہے مجھے تو تُو بہت اداس لگ رہا ہے.
تجھے کیا ہوا ہے جو یوں منہ بنایا ہوا ہے…….. شکر ادا کر کہ تیری کوئی کزن نہیں ہے. ورنہ ساری زندگی روتے گزرتی احمر نے بات مذاق میں کی تھی مگر تراب نے سچ مچ سر “ہاں” میں ہلا دیا.
مطلب تُو سچ مچ پریشان ہے. ایسا کیا ہوا ہے جس نے میر تراب علی کو پریشان کر دیا. عام طور پر یہ ڈیپارٹمنٹ آپ کے پاس ہوتا ہے تو مجھے زیادہ ہی حیرت ہو رہی ہے بلکل یوں سمجھ حیرت سے زیادہ میں اس شخص کا نام جاننا چاہتا ہوں جس نے تجھے پریشان کرنے کی ہمت کی ہے……… احمر کی بات پر تراب نے برا منائے بغیر سب سچ سچ بتا دیا.
یہ کیسے ہو سکتا ہے ماننے والی بات نہیں کم از کم مجھے تو یقین نہیں آ رہا……. احمر کے جواب پر تراب نے کندھے اچکائے.
ہممممم…… تیرے خیال سے کوئی تجھے پیسوں کے لیے trap کر رہا ہے. احمر نے کچھ سوچتے ہوئے اپنی رائے دی.
ہو سکتا ہے. آج کل ہماری سوسائٹی میں ناقابلِ یقین واقعات ہو رہے ہیں. اس لیے کچھ بھی ہو سکتا ہے. میں “وثوق” سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر” گڑبڑ” تو ہے. ورنہ نمبر بند نہیں جاتا.
ویسے بھی سوچنے والی بات ہے اگر میرا نمبر غلطی سے کسی سے ڈائل ہوا تھا تو بار بار ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا.
یہ جو بار بار ہو رہا ہے ناااااا یقیناً کسی planning کا حصہ ہے. یعنی جان بجھ کر کوئی ایسا کر رہا ہے. تراب نے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بتایا. ہاں اور اس مقصد کے لیے لڑکی کو استعمال کیا گیا ہے احمر کی بات پر تراب نے ہلکا سا سر ہلایا.
پھر اب کیا کرنے کا ارادہ ہے…….. ؟؟؟
میں ہمدانی کو آج کراچی بھیج رہا ہوں. یہ جو بندہ ایاز ہےوہی اب سچ بتائے گا میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا. دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے اور میرے تو سبھی دشمن طاقتور ہیں…….. تراب کے جواب پر احمر نے سر ہلا دیا.
ویسے تجھے کس پر شک ہے…… ؟ احمر اب بلکل سیریس تھا.
کیا کہہ سکتا ہوں……. تراب نے اداسی سے جواب دیا.
میرے اندازے کے مطابق اداسی کسی اور بات کی بھی ہے یقیناً اس کی وجہ موبائل تو نہیں ہو گا وہ تو آپ جیسا بندہ بدلتا ہی رہتا ہے………. احمر کے ذومعنی انداز پر تراب نے مسکراتے ہوئے ایک نظر اس کی طرف دیکھا
تیری آواز بہت خوبصورت ہے مجھے کیوں اتنے عرصے میں پتہ نہیں چل سکا احمر نے اپنے کان کھجاتے ہوئے تراب کی طرف دیکھا اب تو زیادہ مت پھیل اور یہاں سے نکل اس سے پہلے کہ میں ایک باس کا روپ دھار لوں تراب کی بات پر احمر نے قہقہ لگایا.
جب میں چھوٹا تھا تو” عمرویار” کی کہانیاں بہت پڑھتا تھا. وہ اکثر ایک دیو کو پرندہ یا بونا بنا کر اپنی زنبیل میں ڈال لیتا تھا. تیری بات سے مجھے اس کی ایک کہانی یاد آ گئی ہے جس میں وہ ایک ظالم دیو کو چوہا کا روپ دھارنے پر مجبور کر دیتا ہے _ احمر نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ تراب نے انٹر کام اٹھا کر ہمدانی کو اندر بلایا. جا رہا ہوں جا رہا ہوں _ ضروری تو نہیں کہ ہر بار مجھے ذلیل کر کے ہی نکالا جائے…….. ؟ احمر کہتا ہوا آٹھ کھڑا ہوا جتنی دیر میں ہمدانی نے اندر قدم رکھا احمر باہر نکل چکا تھا. ہمدانی تمہیں آج پہلی فلائٹ سے کراچی جانا ہو گا اور جو ایڈریس تم نے مجھے اس دن دیا تھا اس کی معلومات ……. جی سر میں سمجھ گیا کہ کیا کرنا ہے. ہمدانی نے فوراً بات سمجھ کر کہا شاباش ویسے تو میرے کافی جاننے والے ہیں جن کی مدد سے میں سم کی لوکیشن معلوم کر سکتا ہوں مگر پھر ان لوگوں کے ہاتھ میری کمزوری آ جائے گی جو میں نہیں چاہتا.
اگر تمہارا کوئی وفادار کراچی میں ہے جس پر تم مکمل اعتماد کر سکتے ہو تو اسے یہ کام کہہ دو کیونکہ تمہارے بغیر مجھے اپنا آپ ادھورا لگتا ہے………. تراب نے کچھ وقفے کے بعد کہا جس پر ہمدانی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
ظفر تم میرے بہت پرانے دوست ہو. میں تم سے کچھ چھپانا نہیں چاہتا کیونکہ سچ پتہ چل ہی جاتا ہے.
میں نکاح کا فنکشن خاموشی سے کرنا چاہتا ہوں. بلکہ یوں سمجھ لو کہ تمہارے اور میرے گھر والوں کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہ ہو _ جیسے ہی آغا حسن نے یہ جملے ادا کیے ظفر صاحب نے حیرانی سے انھیں دیکھا. میں تمہارے بات سمجھ نہیں پا رہا ہوں. تم اتنے غریب یا کنجوس تو نہیں کہ اکلوتی بیٹی کے نکاح پر 100 لوگوں کو کھانا نہ کھلا سکو…… ظفر صاحب نے ہنستے ہوئے کہا میری طرف سے بارات پر سارے شہر کو ساتھ لے لینا مگر نکاح خاموشی سے کرنے کی ایک بہت ہی خاص وجہ ہے جو میں تمہیں یہ سوچ کر بتا رہا ہوں کہ تم میری بات کو سمجھو گے اور کسی قسم کا ہنگامہ نہیں کرو گے آغا حسن کی بات پر احمر جو کمرے میں داخل ہو رہا تھا وہیں رک کر باتیں سننے لگا.
تم بات تو بتاؤ اور میری طرف سے بےفکر رہو. میں کل بھی تمہارا دوست تھا اور آج بھی ہوں اور زویا کا سسر بننے کے بعد بھی رہوں گا……..!!! ظفر صاحب کی بات پر آغا جان نے مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا.
یہ بات صرف چند لوگوں کو معلوم ہے کہ میری صرف ایک ہی اولاد تھی یعنی احمر کا باپ اور میرا اکلوتا بیٹا “حسین درانی ” (پھر ایک لمبا سانس لیا جیسے خود کو ہمت دے رہے ہوں کہ کچھ نہیں ہو گا سچ بول دو. )
میری کوئی بیٹی نہیں ہے. آغا جان کی بات پر ظفر صاحب کے ساتھ ساتھ باہر کھڑے احمر کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا.
مگر زویا تو تمہاری نواسی ظفر صاحب نے پوچھنا چاہا. ایک منٹ میری بات ابھی پوری نہیں ہوئی ہے. تم تحمل سے سنو میں بتا رہا ہوں. آغا جان نے انھیں خاموش کرا دیا جبکہ احمر سانس روکے کسی انہونی کو محسوس کر رہا تھا. احمر اس وقت 3 سال کا تھا جب ہم دونوں دادا پوتا مری سیر کے لیے گئے. احمر سڑک پر بال ساتھ کھیل رہا تھا ہم کھلتے کھیلتے کافی ویران جگہ پر نکل گئے. احمر نے بال کو زور سے کک ماری تو وہ دور جھاڑیوں میں جا گری. میں بال نکالنے کی غرض سے جھاڑیوں کے قریب جا رہا تھا کہ مجھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دی. اس سے پہلے کہ میں دیکھتا کون کہاں رو رہا ہے……… ؟؟؟ آغا جان دیکھیں یہاں ایک “بےبی” ہے میں احمر کی آواز پر چونک پڑا.
میں نے احمر کی بتائی ہوئی جگہ پر دیکھا تو وہاں ایک رنگین کپڑے میں لپٹا بچہ جو بمشکل 20 دن کا ہو گا رو رہا تھا.
مجھے بال تو بھول گئی میں نے جلدی سے اسے اٹھا لیا وہ سردی سے نیلا پڑ رہا تھا میری آغوش کی گرمی نے اسے راحت دی تو چپ کر گیا.
اللہ جانے کسی نے دشمنی میں آ کر کسی ماں کی گود اجاڑی تھی یا کسی کا گناہ _ خیر جو بھی تھا میں اور احمر پورا مہینہ وہاں رک کر اس کے وارث تلاش کرتے رہے. مگر کوئی دعوےدار سامنے نہ آیا. بالآخر ہم اسے لے کر اسلام آباد آگئے. اتنے عرصے میں وہ بےبی ہم سے کافی مانوس بھی ہو گیا تھا آغا جان نے اپنے خشک حلق کو تر کرنے کے لیے پانی کا گلاس لبوں کو لگایا جبکہ ظفر صاحب اور احمر اس وقت بلکل “بت” بنے ہوئے تھے.
میں نے اپنے وکیل سے مشورہ کیا تو اس نے کہا آپ اس بچے کی ولدیت میں میری بیٹی اور داماد کا نام لکھ دیں تاکہ اسے معاشرے میں عزت مل سکے. بعد میں اس کی بیٹی کو طلاق ہو گئی.
تمہیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ کبھی زندگی کے کسی موڑ پر یہ حقیقت کھل جائے تو بدگمان مت ہونا. میں نے اسے احمر سے زیادہ چاہا ہے.
میرے خیال سے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں رہی کہ وہ بچہ کون تھا…..؟ آغا جان نے امید بھری نظروں سے ظفر صاحب کی طرف دیکھا
نکاح نامہ میں اپنے وکیل سے بنواؤں گا اس میں بہت سی قانونی پیچیدگیاں ہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کوئی اور نکاح نامہ نہ دیکھے.
رہی بات زویا کی تو وہ میری ذات کا حصہ ہے میں نے اپنی آدھی جائیداد اس کے نام کر دی ہے تاکہ کل احمر بھی اسے تنگ نہ کر سکے. وہ مجھے بہت عزیز ہے. کوئی اسے تکلیف دے مجھ سے برداشت نہ ہو گا.
میں نے یہ باتیں اپنے بچوں کو بھی نہیں بتائیں. امید ہے تم بھی کسی سے نہیں کرو گے. اپنی بات کے آخر میں آغا حسن نے ظفر صاحب کو دیکھا جن کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا.
بڑی ہمت سے گلا صاف کیا اور صرف اتنا ہی بول پائے _ کیا وہ کسی کی ناجائز اولاد ہے؟؟؟ وہ صرف میری بیٹی ہے وہ کیا تھا اسے بھول جاؤ وہ کیا ہے بس یہ یاد رکھو آغا جان کے جواب پر انھوں نے سر ہلایا.
میں اپنی بیوی اور بیٹے سے بات کر کے تمہیں بتاتا ہوں. آخر ان کے علم میں ہونا ضروری ہے.
جیسے تمہاری مرضی آغا جان نے ظفر صاحب کو جواب دیا. ویسے تم احمر ساتھ اس کی شادی کیوں نہیں کر دیتے گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی کسی کو کچھ معلوم نہیں ہو گا…….. ؟؟؟ ظفر صاحب کی بات پر آغا حسن کے ساتھ ساتھ احمر بھی چونک پڑا. یہ کیسی باتیں کر رہے ہو. میں نے انھیں بہن بھائی کی طرح پالا ہے….. آغا جان کو بہت غصہ آیا مگر ضبط کر گئے. بہن بھائی کی طرح ہیں مگر بہن بھائی نہیں ظفر صاحب کہاں چپ رہنے والے تھے.
مطلب میں تمہاری طرف سے انکار سمجھو……. آغا حسن نے بہت دکھ سے پوچھا
مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ زویا کس کی بیٹی ہے میرے لیے تمہارا حوالہ ہی کافی ہے مگر پھر بھی فیملی کو ت اعتماد میں لینا ہے نااااا ظفر صاحب کے جواب پر آغا حسن کے ساتھ ساتھ احمر نے بھی سکھ کا سانس لیا. احمر نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر لمبے لمبے سانس لیے اورخود کو نارمل کرتا ہوا مڑا اور ساتھ ہی پورا گھوم گیا کیونکہ اس کے پیچھے زویا آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی تھی. 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 بوا مجھے تمہاری بھتیجی سے ملنا ہے ایسا کرو اسے ایک کپ کافی کا دے کر میرے پاس بھیجو. میں زرا اس کا انٹرویو کرنا چاہتی ہوں. پتہ نہیں تم نے اس کی تعلیم کے بارے میں سچ بھی کہا ہے یا نہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی جہالت میرے بچوں میں ٹرانسفر کر دے. جہاں آرا کی بات پر بوا کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ کنٹرول کر گئیں.
بیگم صاحبہ وہ ابھی ابھی کوارٹر میں گئی ہے میں دیکھتی ہوں اگر وہ سو نہیں گئی تو آپ کے پاس بھیج دیتی ہوں…… بوا نے بہانہ بنایا.
چلو رہنے دو مگر صبح یاد سے بھیج دینا. میں دیکھو تو کیا چیز ہے جس کی تم اتنی تعریفیں کرتی ہو. جہاں آرا بیگم کی بات پر بوا نے سکھ کا سانس لیا.
عنزہ نے جیسے ہی موبائل آن کیا سگنل بحال ہوتے ہی تراب کی کال آنے لگی.
کہاں تھی فون کیوں بند تھا یہ کوئی طریقہ ہے…… تراب کی غصے بھری آواز سپیکر سے ابھری.
صبر، حوصلہ کیا ہو گیا ہے میں مصروف تھی اور آپ کب سے اتنے فری ہو گئے….؟ عنزہ کے جواب پر تراب کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے.
کیسی ہیں…..؟ تراب کے پوچھنے پر عنزہ کو ہنسی آگئی.
جلدی خیال آگیا میں تو سمجھی آخر میں پوچھیں گے…… عنزہ ہنسی تراب جو اس کی کلاس لینے کے موڈ میں تھا اس کی بات پر مسکرا پڑا.
ویسے مجھے بلکل امید نہیں تھی کہ آپ مجھے کال کریں گے.
میں نے سوچا تھا جس دن آپ نے مجھے کال کی اس دن یقیناً فروری کی 30 ہو گی.
یہ “طنز” تھا یا “حسرت” – عنزہ کی بات پر تراب حیران رہ گیا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
جاری ہے.
