Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

آپ کو یہ کیوں لگا کہ میں کبھی کال نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ ؟ تراب نے تجسس سے پوچھا
کیونکہ آپ خود پسند ہیں. اپنے آپ سے محبت کرنے والے _ اور جو خود سے محبت کرتے ہیں. انہیں اپنے سوا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا پھر وہ بھلا کیوں کسی کی پرواہ کریں گے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عنزہ نے صاف گوئی سے کام لیا. کچھ زیادہ ہی سچ نہیں بول دیا۔۔۔۔۔؟ ترات کو برا لگا نہیں جو محسوس کیا کہہ دیا۔ میرے خیال سے آپ کی پرسنلٹی ایسی ہی ہے مگر یہ ضروری تو نہیں کہ جیسا مجھے لگے ویسا ہی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ اس سب سے بلکل مختلف ہوں عنزہ نے غصہ محسوس کر لیا تھا اس لیے بات بنائی۔
انسان کی بھی عجیب فطرت ہے اگر کوئی تعریف کریں اور تعریف کرنے میں زمین آسمان کے قلابے ملا دے تو وہ کبھی بھی سوال نہیں کرتا الٹا خوش ہوتا ہے ۔
لیکن اگر ذرا سا بھی منفی پہلو سامنے لانے کی کوشش کی جائے۔ تو ہمارا منہ پھول جاتا ہے _ موڈ ایک دم خراب ہو جاتا ہے سامنے والا بلکل زہر لگنے لگتا ہے اور ہم دل میں سوچتے ہیں کہ کیوں اس سے بات کرکے اپنا وقت ضائع کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ وغیرہ وغیرہ تراب جو خود کو کوسنے میں مصروف تھا کہ خوامخواہ ایک لڑکی کے ہاتھوں اپنی بےعزتی کروائی۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کی بات پر سچ مچ چونک پڑا ۔ نجومی ہو۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ترات کے پوچھنے پر عنزہ حیران ہوئی۔ میں نے ایسا کیا کہہ دیا کہ آپ نے مجھے دائرہ اسلام سے ہی خارج کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ بات سمجھتے ہوئے نا سمجھ بن گئی۔ نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ آپ نے شاید نفسیات پڑھی ہوئی ہے تبھی تو اتنا اچھا تجزیہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے اپنی اصلاح کی۔ نہیں میں نے نفسیات نہیں پڑھی کیونکہ جب میں نے پہلی بار نفسیات کا مطالعہ کیا تو صرف اس ڈر کی وجہ سے کتاب بند کردی تھی کہ پاگل ہونے کی ساری علامات میرے اندر تھی۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کے جواب پر توراب ہنس پڑا ۔ ایک بات پوچھنی تھی بلکہ کہنی تھی کیا ہم کہیں مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے ڈرتے ہوئے کہا کہیں منع ہی نہ کر دے۔ کیوں کل عید ہے۔۔۔۔۔ ؟؟؟ عنزہ کا ہر جواب تورات کی توقع کے برخلاف ہوتا تھا ۔ آپ کی حسہ مزاح بہت اچھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے سراہا۔ کیونکہ میرے پاس اس کے سوا کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ چلیں پھر بات ہوتی ہے۔ ابھی مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے “شب بخیر” کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔ بات کرنے سے لگتا تو نہیں ہے کہ یہ لڑکی مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے مگر پھر بھی احتیاط اچھی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب نے کچھ سوچتے ہوئے احمر کو کال کی۔ 🍃🍂🍃🍂🍃🍂 احمر کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس وقت کن الفاظ میں زویا کو تسلی دی جب کہ زویا اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی ۔ کچھ دیر احمر اپنے کمرے میں ٹہلتا رہا پھر کچھ سوچ کر زویا کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ دروازے پر دستک دے کر رکا۔ زیادہ مہذب بننے کی ضرورت نہیں ہے جیسے پہلے منہ اٹھا کر اندر آ جاتے تھے ویسے ہی آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔ زویا کی بات پر احمر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔ میں سمجھا تم رو رہی ہوگی۔۔۔۔۔؟؟؟ احمر نے اندر آتے ہوئے کہا تمہیں کیوں لگا کہ میں رو رہی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زویا بیڈ پر اپنے بازو اپنے گھٹنوں کے گرد حائل کر کے بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ تم نے آغاجان کی باتیں جو سنی لی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر کو سمجھ نہیں آئی کہ کیسے بعد شروع کرے ۔ تو ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ یک لفظی سوال تھا۔ تو کیا تم سب جان کر اداس ہو گئی ہو گی ۔دیکھو زندگی میں ایسا ہو جاتا ہے ۔پلیز اداس مت ہو ۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھتے ہوئے تسلی دی۔ تمہیں کس نے کہا کہ میں اداس ہوں دیکھو میں تمہیں کہیں سے بھی اداس لگ رہی ہوں نہیں ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں تم تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اب کی بار احمر نے غور سے زویا کو دیکھا ۔
مجھے صرف آغا جان کی معصومیت پر رونا آگیا تھا۔ بیچارے کیسے اس ظفر صاحب کے بیٹے کی وجہ سے ڈر ڈر کر بول رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ مرد بنتے اور فوجی رعب دار لہجے میں بتاتے اور کہتے ۔۔۔۔۔
“میاں بیاہ کر لے جانا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نکلو یہاں سے”
زویا کی بات پر احمر نے اسے حیرانگی سے دیکھا ۔۔
تم ٹھیک تو ہو ناااااا ۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر کو لگا صدمے سے زویا کا دماغ چل گیا ہے ۔
کیا مطلب ہے تمہاری بات کا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ زویا نے قدرے اونچی آواز میں پوچھا
ناراض کیوں ہو رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ ؟ جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک بات کا جواب دے دو ۔کیا تمہیں اپنے والدین کے بارے میں جاننے کی خواہش نہیں ہو رہی ۔۔۔؟
بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے ان کو جان کر کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں یہاں بہت مزے میں ہوں۔اتنے پیار کرنے والے آغا جان ہیں۔ اوپر سے میرے نام انہوں نے آدھی جائیداد بھی کر دی ہے۔ تو کون پاگل یہاں سے جانے کا سوچے گا۔۔۔۔۔۔۔؟ احمر کے سوال پر زویا نے جواب دیا
اور ہاں ایک بات اور تم کسی غلط فہمی کا شکار مت ہونا کہ میں ڈپریشن میں چلی جاؤں گی یا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مری کے جنگلوں میں نکل جاؤں گی اور تم پیچھے عیاشی کرو گے ۔۔۔۔۔ زویا کی باتوں پر احمر سر نفی میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت ۔۔۔۔۔ ویسے تمہاری جگہ پر اگر کوئی عام لڑکی ہوتی تو اب تک رو رو کر مر رہی ہوتی مگر تم تو اپنی نوعیت کا آخری پیس ہے جو انتہائی “ڈھیٹ” ہے۔ میں تو خواہ مخواہ تمہاری ہمدردی میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔ احمد نے اپنا غصہ نکالا
صرف میں ہی نہیں بلکہ تم بھی یعنی ہم دونوں کزن رجسٹرڈ ڈھیٹ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے احمر کو اس کا جملہ لوٹایا۔
وہ کیا ہے نااااا ڈئیر کزن ۔۔۔۔۔۔ !!! میں کسی کا ادھار نہیں رکھتی اور تمہارا تو بالکل بھی نہیں رکھ سکتی ۔ زویا چڑانے والی مسکراہٹ سے احمر کو دیکھ رہی تھی جب اس کے موبائل پر تراب کی کال آئی۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
نہ گھر میں عزت ہے اور نہ ہی باہر
نہ گھر والے مجھے خوش دیکھ سکتے ہیں اور نہ باہر والے _ ہائے احمر پتہ نہیں کون پیاری لڑکی کہاں بیٹھ کر اللہ سے تیرے لیے دعا کر رہی ہو گی کہ مجھے احمر دے دیں۔ تب میرے بھی دن پھریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احم نے کال اٹینڈ کرتے ہی حسرت سے کہا یہ میں ہوں میر تراب علی ۔۔۔۔۔۔۔احمر کے اتنے بڑے لیکچر پر تراب نے اپنا تعارف کروایا ۔ بہت شکریہ
بتانے کا ورنہ میں سمجھا تھا کہ کوئی خاتون ہیں۔
احمر یہ کیا بکواس کر رہے ہو _ توجہ کہاں ہے تمہاری دماغ تو جگہ پر ہے۔۔۔۔۔؟ تراب نے اب اپنے مخصوص سنجیدہ لہجے میں پوچھا تم سب مل کر میرا دماغ جگہ پر کہاں رہنے دیتے ہو۔ ابھی ابھی مجھے دو جھٹکے لگے ہیں۔ ایک آغاجان کی طرف سے دوسرا زویا کی اور اب تیسرا تمہاری طرف سے ملنے کے سو فیصد چانسس ہیں۔ احمر کی بات پر تراب مسکرا۔ اندازہ تو بالکل درست ہے چل پھر سن میری اس لڑکی سے ابھی ابھی بات ہوئی ہے مگر خلاف معمول مجھے اس پر زرا بھی غصہ نہیں آیا۔
بلکہ اس سے بات کرنے کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ وہ کوئی خطرناک لڑکی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اب تو بتا میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔ ؟تراب نے مشورہ مانگا
“جب اپنے سے ذیادہ کسی اور کی فکر ہونے لگے، تو سمجھ جائیں آپ کے ذلیل ہونے کے دن آگئے ہیں”
کیا مطلب ۔۔۔۔۔ ؟ تراب نے احمر کی بات پر قدرے برہم لہجے میں پوچھا
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ کرنا کیا ہے ۔۔۔۔۔ ؟ چپ کرکے شادی کرلے۔ ویسے بھی اب مجھے اپنی ہوتی ہوئی تو نظر نہیں آرہی ۔چل تیری ہی انجوائے کر لونگا ۔۔۔۔۔۔ اب کی بار احمر نے دکھ بھرے لہجے میں کہا
ویسے آئیڈیا اچھا ہے لیکن اگر وہ “شادی شدہ “ہیں یا “منگنی شدہ” نکلی تو تراب نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔
منگنی شدہ کی تو خیر ہے لیکن اگر شادی شدہ ہوئی تو مسئلہ ہے لیکن __
پہلے تو اسے کہیں بلا کر مل لے ۔پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر نے کچھ سوچتے ہوئے مشورہ دیا ۔
خیر فی الحال تو مجھے ہمدانی کی کال کا انتظار ہے باقی باتیں بعد کی ہیں ۔۔۔۔۔ تو بتا آغا جان اور زویا نے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟ تراب کے پوچھنے پر احمر نے ہوش کے ناخن لیے۔
وہ تو کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو چھوڑ ان باتوں کو اور آرام کر میں بھی لیٹنے لگا ہوں ۔۔۔۔۔۔ احمر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
اچھا تو تم ہو عنزہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم نے سر سے لے کر پاؤں تک اس کا جائزہ لیا جو پرنٹ سوٹ پہ سادہ دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے ہوئی تھی۔
ایف ایس سی میں تو بہت ہی اچھے نمبر لیے ہیں۔ چیٹنگ کی تھی یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ جہاں آرا بیگم نے طنزاً پوچھا
بیگم صاحبہ کچھ اور کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی پیپرز بہت آسان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہجہ نہایت عاجزانہ اور جملہ تیز تھا جسے جہاں آرا بیگم نے محسوس کیا۔
ہمارا گھر کیسا لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ جہاں آرا بیگم کے پوچھنے پر عنزہ مسکرا دی۔
میرے خیال سے اسے “گھر” کہنا اس عمارت کی شان میں گستاخی ہوگی۔ یہ تو بالکل جادونگری کے محل جیسا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ظالم جادوگرنی” کا لفظ وہ جان بجھ کر کھا گئی۔
ہممممم ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم مسکرائیں ۔
باتیں اچھی کر لیتی ہو۔ لیکن سنو بچوں کے علاوہ میں تمہیں کسی سے بات کرتا نہ دیکھو اور نہ ہی تم کوارٹر سے میر لاج میں گھومتی پھرتی نظر آؤ۔
جب تم کوارٹر سے نکل کر میر لاج میں قدم رکھتی ہو تو اپنے کان اور منہ کو بند کر لیا کرو۔ یہاں کی کوئی بات باہر نہیں کرنی سمجھی۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم نے اسے دیکھتے ہوئے اب کی بار سختی سے کہا
جی بہتر میں ایسا ہی کروں گی۔۔۔۔۔۔۔ اب میں جاؤں جی نظریں جھکا کر تابعداری دکھائی۔
ہاں اب تم جا سکتی ہو۔ ویسے مجھے بہت کم لوگ اچھے لگتے ہیں مگر تم مجھے پسند آئی ہو صرف اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آرا بیگم کے کہنے پر زویا نے دل میں سوچا (مگر آپ مجھے بلکل بھی پسند نہیں آئیں صرف اپنے غرور کی وجہ سے ) اور شکریہ ادا کرتی باہر چلی گئی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے.