Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

میں نے زندگی میں پہلا بندہ دیکھا ہے جو اپنے نکاح کے بعد اتنا اداس دکھائی دے رہا ہے. عام طور پر آپ یہ جزبہ دوسروں کے لیے رکھتے ہیں _ احمر نے تراب کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا اگر کسی وقت بکواس نہ بھی کی جائے تو مجھے پتہ چل جائے گا کہ تم آئے ہو تراب کے اس قدر سنجیدہ جواب پر احمر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
میں تجھے صرف یہ اطلاع دینے آیا تھا کہ میں اور زویا شادی کرنے لگے ہیں. کیونکہ یہ آغا جان کا فیصلہ ہے. احمر کی بات پر تراب نے اسے غور سے دیکھا اور پھر ہنس پڑا.
میں نے لطیفہ نہیں سنایا اور دوسرا تُو پہلی فرصت میں اپنے آپ کو پاگلوں کے ڈاکٹر کو دکھا. ابھی اداس بیٹھا تھا اور اب کیسے دانت نکل رہے ہیں. یہ “میڈیکل” ایشو ہے یا بھابی سے “محبت” ہو گئی ہے احمر کی بات پر تراب نے آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں.
میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہے. میں تو تیری شادی اور اس کے بعد کے حالات کا سوچ کر ہنس رہا تھا. تراب نے ٹیبل سے موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوئے جواب دیا.
اچھا خاصا بیٹھا ہوا تھا اب کہاں جا رہا ہے …….. ؟ احمر نے اسے کھڑا ہوتے دیکھ کر پوچھا
بس زرا شوروم کا چکر لگانے جا رہا ہوں. تُو بھی چل تراب کے ساتھ ہی احمر بھی آفس سے باہر آگیا.
بھابی بہت اچھی ہیں زویا ان کی بہت تعریف کر رہی تھی. مجھے حیرت ہے ایک “رانگ نمبر” سے اتنی “رائٹ” لڑکی کیسے مل گئ ……. ؟ احمر نے ساتھ چلتے ہوئے کہا
اس لیے کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا. کچھ بھی حادثاتی طور پر نہیں ہوا. عنزہ بُوا کی بھتیجی ہے اور اُس نے میرا نمبر اُن سے لیا
تراب آرام سے بتاتے ہوئے اب نیچے والے آفس کا دروازہ کھل کر اندر داخل ہوا جبکہ احمر اس کی بات ہضم کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
اگر بھابی بُوا کی بھتیجی ہیں تو جہاں آرا آنٹی پھر اس رشتے کے لیے کیسے مانی …….. ؟ احمر نے سر کھجاتے ہوئے پوچھا
مجھے اس رشتے کے لیے کچھ بھی نہیں کرنا پڑا سب خودبخود ہی ہو گیا. ماما جانی کو وہ پسند آ گئی
تراب بظاہر سب سرسری انداز میں بتا رہا تھا مگر حقیقت میں وہ اپنا دل ہلکا کر رہا تھا جسے احمر بخوبی سمجھ سکتا تھا.
اچھا ویسے مجھے وہ دن یاد آ رہا ہے جس دن ایک مغرور شہزادہ گاڑی ساتھ ٹیک لگائے کسی کی محبت میں رو رہا تھا. شاید میں نے خواب میں دیکھا ہو گا. احمر نے سوچنے کی ایکٹنگ کی.
وہ رو نہیں رہا تھا بس اسے نمبر بند ملنے کی وجہ سے غصہ آ رہا تھا. خلافِ معمول تراب نے مسکرا کر تصحیح کی.
“کاش دلوں کی بھی مردم شماری ہوتی
پتا چلتا کس کے دل میں کتنی آبادی ہے”
کوئی مسکرا رہا ہے احمر نے حیرانگی سے پوچھا کوئی اب یہاں سے جا رہا ہے تراب کے کہنے پر احمر کرسی پر مزید پھیل گیا.
میں کہیں نہیں جا رہا ہوں اور نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے. چل اب جلدی سے کچھ کھانے پینے کو منگوا مجھے بہت بھوک لگی ہے احمر نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا یہ میرا شوروم ہے کوئی ریسٹورنٹ نہیں
تمہیں یہاں صرف چائے، کافی یا ڈرنکس ہی مل سکتیں ہیں. اس سے زیادہ کی امید مت رکھو. تراب کے جواب پر احمر نے سر نفی میں ہلایا.
اتنے بڑے “میر لاج” کا مالک اور اتنا چھوٹا دل احمر نے افسوس کا اظہار کیا.
“میر لاج” اب میرا نہیں رہا وہ میں نے اسے “حق مہر” میں دے دیا ہے تراب کی بات پر احمر اچھل پڑا. آنٹی کو پتہ ہے
؟ احمر بے یقین تھا
نہیں، میں نے اس کی ضرورت نہیں محسوس کی. تراب نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا.
ابھی جناب فرماتے ہیں کہ “مجھے محبت نہیں ہے” تو یہ حال ہے اگر ہوتی تو پھر پتہ نہیں کیا بنتا _ خیر میری دعا ہے کہ آنٹی کو پتہ نہ چلے ورنہ پھر مجھے تیرا کچھ پتہ نہیں چلے گا احمر کہتا ہوا آفس سے باہر جانے لگا مگر پھر کچھ سوچتا ہوا مڑا.
کیا محبت واقعی ہی ایک اچھے خاصے سمجھدار اور مغرور انسان کو ایک دم “گدھا” بنا دیتی ہے.
احمر کے آخری الفاظ سنتے ہی تراب نے اس کی طرف پیپر ویٹ مارا مگر وہ قہقہ مارتا ہوا گلاس ڈور کراس کر گیا.
گرھے کا تو پتہ نہیں مگر عقل ضرور کام کرنا چھوڑ دیتی ہے. سوچا تھا اسے ضرور ستاؤں گا. غربت کے طعنے دوں گا مگر مجھ سے ایسا کچھ بھی نہیں ہو پا رہا کہیں مجھے _ دفع کرو تراب تم کہاں احمر کی باتوں کو سیریس لے رہے ہو. تراب نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا. 🍂🍃🍂🍃🍂🍃 احمر نے لاؤنچ میں قدم رکھا تو زویا اور آغا جان کو ہنستے ہوئے دیکھا یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ……. ؟میرے سامنے آپ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور میری غیر موجودگی میں آپ اس چڑیل کے ساتھ مل کر ہنس رہے ہیں احمر کہتا ہوا صوفے پر آغا جان کے پاس بیٹھ گیا.
میں تو اس لیے خوش ہوں کہ زویا بیٹے نے تم جیسے “گدھے” سے شادی کے لیے “ہاں” کر دی ہے. اب دیکھنا میں کیسے دھوم دھام سے تم دونوں کی شادی کرتا ہوں
آغا جان کی بات پر احمر نے ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی زویا کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھا
خبردار جو تم نے میری بیٹی کو آنکھیں دکھا ئیں تو احمر کے یوں دیکھنے پر آغاجان نے اسے ڈانٹا.
اگر آپ دونوں نے مجھے اسی طرح ڈانٹنا ہے تو میری طرف سے “انکار” سمجھیں
احمر نے دھمکی لگائی.
تیری اتنی جرات کے تو شادی سے منع کرے ویلے، نکمے آغاجان نے فوراً احمر کی کلاس لی جبکہ زویا صوفے پر بیٹھی ہنس رہی تھی.
اتنی دیر میں آغا جان کا فون بجا جسے سننے کے لیے آغا جان لان کی طرف چل دیے.
زویا یہ آغا جان کی حرکتیں کچھ وقت مشکوک سی نہیں ہیں ……. ؟آغا جان کے باہر جاتے ہی احمر نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
ہاں یہ تو ہے
ہمارے سامنے پتہ نہیں کیوں بات نہیں کی کس کا فون ہے وہ کیا کہہ رہا ہوگا زویا نے بھی لان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی رائے دی.
خیر دفع کرو یہ بتاؤ کہ تم نے سچ مچ شادی کیلئے “ہاں” کی ہے یا یہ بھی تمہاری “چال” ہے.
احمر کے سوال پر زویا نے اسے اٹھا کر کشن مارا.
میں تمہیں “چالباز” لگتی ہوں گھٹیا انسان ہاں تو میں نے صرف آغاجان کی خوشی کے لئے کی ہے( اور تمہاری بےعزتی کرنے کے لیے زویا نے آدھا جملہ منہ میں ہی روک لیا) زویا کے جواب پر احمر نے سر ہاں میں ہلایا .
اس کا مطلب یہ ہوا کہ شادی سے پہلے اور بعد میری زندگی ایک جیسی ہی رہے گی. چلو ٹھیک ہے مگر تم مجھے کم از کم شادی کے بعد” آپ” تو کہو گی نا پلیز احمر نے التجا کی. اچھا میں کوشش کروں گی مگر مجھے ہنسی آجائے گی
زویا نے کہتے ہوئے ہنسنا شروع کر دیا جب کہ احمر غصے سے اٹھ کر اندر کی طرف چل دیا.
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
آج بہت دنوں کے بعد تراب نے لان میں قدم رکھا تھا. ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور پھولوں کی رنگ برنگی خوشبو، پاؤں تلے نرم و ملائم گھاس بے شک اسے سکون پہنچا رہی تھی.
عنزہ جو اپنے دھیان میں کوارٹر سے نکل کر ” میر لاج” کی طرف جا رہی تھی تراب کو لان میں کھڑا دیکھ کر رک گئی ۔
کالی شلوار قمیض پر براؤن شال پہنے، سفید دودھیا پاؤں ساتھ وہ گھاس پر چلتا اسے اپنے دل پر چلتا محسوس ہو رہا تھا ابھی وہ اس کے سحر میں گرفتار کھڑی تھی کہ کرمو بابا کی آواز پر اس کے ساتھ ساتھ تراب بھی چونک پڑا.
عنزہ بیٹا آپ کو بڑی بیگم صاحبہ اندر بلا رہی ہیں _ عنزہ سر ہاں میں ہلاتی اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ تراب اسے حیرانگی سے جاتے ہوئے دیکھنے لگا. یہ کب آئی مجھے کیوں نہیں پتہ چلا …….. ؟اور پھر کچھ سوچتے ہوئے کرمو بابا سے مخاطب ہوا. ماما جانی نے ان کو کیوں بلایا ہے کیا کام ہے …….. ؟ تراب کے پوچھنے پر کرمو بابا نے لا علمی کا اظہار کیا. ٹھیک ہے آپ جا سکتے ہیں میں خود ہی دیکھ لیتا ہوں. تراب نے کرم و بابا کو جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی اندر کی طرف بڑھ گیا. میں نے تمہیں اس دن بتا دیا تھا کہ تمہارا رشتہ تراب کے ساتھ صرف کاغذ کی حد تک ہے پھر کیوں لان میں اس سے بات کر رہی تھی …….. ؟جہاں آرا بیگم نے تقریبا چلاتے ہوئے پوچھا بیگم صاحبہ میں نے تراب سے کوئی بات نہیں کی عنزہ نے بغیر سوچے سمجھے یہ جملہ ادا کیا.
چٹاخ _ تمہاری جرأت بھی کیسے ہوئی میرے سامنے زبان چلانے اور تراب کا نام لینے کی. جہاں آرا بیگم اس وقت پھنکارتے ہوئے کہیں سے بھی پڑھی لکھی گھرانے کی سلجھی ہوئی خاتون دکھائی نہیں دے رہی تھیں. جبکہ عنزہ کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے “تھپڑ” کس بات پر پڑا ہے ؟ اتنے میں تراب نے لاؤنچ میں قدم رکھا
آو بیٹا آؤ دیکھو یہ مجھے جھوٹی کہہ رہی ہے حالانکہ میں نے اسے پیار سے ایک بات سمجھائی ہے کہ آئندہ یہ غلطی مت کرنا. تراب کو دیکھتے ہیں جہاں آرا بیگم کا لہجہ ایک دم نرم پڑ گیا.
تراب نے ناسمجھی سے پہلے جہاں آرا بیگم اور پھر عنزہ کی طرف دیکھا جس کی گال پر واضح تھپڑ کا نشان موجود تھا.
کیا بات ہوئی ہے اور آپ نے مارا ہے اسے ……… ؟تراب کی بات پہ جہاں آرا بیگم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے تیز تیز سانس لینا شروع کر دیا.
ماما جانی پلیز آپ غصہ مت کریں آپ کا Bp ہائی ہو جائے گا. تراب نے جہاں آرا بیگم کو پیار سے صوفے پر بٹھایا اور ملازم کو پانی لانے کے لئے کہا جبکہ وہ خود ان کے ہاتھ ملنے لگا
تم دفع ہو جاؤ یہاں سے آئندہ اپنی منحوس شکل دکھانے کی ضرورت نہیں ہے. اگر تمہاری وجہ سے میری ماما کو کچھ ہوا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا …….؟ تراب نے اپنا سارا غصہ عنزہ پر نکالا
تراب کی بات پر عنزہ کچھ دیر ان دونوں ماں بیٹے کے ڈرامے دیکھتی رہی پھر لاؤنچ سے نکل کر بچوں کے کمرے کی طرف چل پڑی جب کہ جہاں آرا بیگم نے ایک مکروہ ہنسی سے اسے جاتے ہوئے دیکھا.
تراب میری جان
پریشان مت ہو میں اب بالکل ٹھیک ہوں. جہاں آرا بیگم نے ایک گھونٹ پانی پینے کے بعد کہا جس پر تراب نے سکھ کا سانس لیا.
عنزہ نے جیسے ہی بچوں کے کمرے میں قدم رکھا عون اور حمنہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس آگئے
آج آپ اتنی دیر سے کیوں آئی ہیں میں کب سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں ج……؟ آپ کو یاد نہیں آج میرا اور آپ کا میچ تھا. عون اپنی روانی میں بولتا جا رہا تھا جب کہ عنزہ نے حمنہ کو اٹھا لیا.
ہاں یاد ہے مگر آج کا میچ آپ کی دادی کے” خراب موڈ” کی وجہ سے نہیں ہو پائے گا. عنزہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا
آپ کو کسی نے مارا ہے دادو نے _ ؟ عون نے عنزہ کی لال سرخ گال کو دیکھ کر پوچھا نہیں انہوں نے نہیں مارا. وہ بھلا مجھے کیوں ماریں گی …….. ؟عنزہ نے اپنی گال پر ہاتھ رکھا جو اس وقت حرارت دے رہی تھی. پھر چاچو نے مارا ہے ……. ؟ عون کے اگلے سوال نے عنزہ کو سچ مچ پریشان کر دیا. کیا تمہارے چاچو بھی مارتے ہیں …….. ؟ عنزہ کے سوال پر عون نے سر ہاں میں ہلایا. جب دادو کہتی ہیں تب مارتے ہیں ورنہ وہ کسی کو کچھ نہیں کہتے __ عون نے عام سے انداز میں بات کہی مگر عنزہ کو بہت خاص لگی. اتنی دیر میں آیا کمرے میں داخل ہوئی.
عنزہ بی بی _ بڑی بیگم صاحبہ کا حکم ہے کہ اگر آئندہ انہوں نے آپ کو تراب بابا کے قریب بھی دیکھا تو آپ اپنا بندوبست کر لیں. آپ کو صرف بچوں کی دیکھ بھال کے لئے رکھا گیا ہے تراب بابا کی نہیں _ آیا نے عنزہ کو دیکھتے ہوئے طنزاً مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی.
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جاری ہے