Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

آفس میں قدم رکھتے ہیں احمر نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ نا ہی زویا ریسیپشن پر موجود تھی اور نہ اس نے صبح ساتھ جانے کے لئے ضد کی تھی مگر جس بات سے وہ پریشان ہو رہا تھا وہ یہ تھی کہ آج وہ حسب معمول بہت خاموش تھی۔کچھ سوچتے ہوئے اس نے تراب کے آفس کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔
دل تو نہیں کر رہا پر چل احمر ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صبح اس جنگیز خان کا دیدار کر لے کیونکہ اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔احمر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کلامی کی۔
تراب نے ایک نظر دروازے سے اندر آتے احمر کو دیکھا اور دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا ۔
مجھے آج اپنا صدقہ اتارنا چاہیے کوئی مجھے کچھ کہہ ہی نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟ ؟ احمر نے کن اکھیوں سے تراب کی طرف دیکھا
میرے خیال سے آپ “بےعزتی” کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر ہم چاہیں بھی آپ کی صبح اچھی ہو تو یہ بات آپ کو پسند نہیں آتی دوسرے الفاظ میں آپ کو عزت “مافق” نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تراب کی نظر ابھی بھی لیپ ٹاپ پر تھی۔
یار باس کبھی تو نارمل لوگوں کی طرح بات کر لیا کریں ہر وقت ڈانٹتے یا طنز کرتے رہتے ہیں۔کبھی آپ کو بھی میری مدد کی ضرورت بھی پڑھ سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا اتنے تعلقات تو رکھیں نااااا بقول شاعر
“ورنہ اتنے مراسم تو تھے کہ آتے جاتے”
احمر کی بات پر تراب نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسے گھور کر دیکھا۔
تم اکیلے کیوں آئے ہو۔۔۔۔۔۔ زویا کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے کیوں نہیں ساتھ لائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب کے پوچھنے پر احمر نے کندھے اچکا دیے ۔
مطلب ۔۔۔۔۔؟ ویسے تو مجھے معلوم ہے کہ تمہاری گھر میں کتنی “عزت” ہے مگر پھر بھی کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ اس کے نہ آنے میں آپ کا کتنا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔۔؟
تراپ نے بظاہر سنجیدگی سے پوچھا مگر اس کی بات میں چھپے طنز کو احمر نے بخوبی محسوس کیا ۔
“ہمارا گھر ایک جمہوری حکومت رکھتا ہے اس لیے وہاں ہر کسی کو اپنی بات کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے جس کے دل میں جو آتا ہے وہی کرتا ہے۔ آپ کے “میرلاج” کی طرح “مارشل لاء” نہیں لگایا ہوا جہاں سانس لینے کے لیے بھی پوچھا جاتا ہے اور مرضی کے خلاف کام کرنے والوں کو سزا سنا دی جاتی ہے۔ “
تراب نے احمر کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔ یہ عورتوں والی حرکتیں نہ کیا کرو تمہیں زیب نہیں دیتیں۔ یہ لگائی بجھائی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور نہ ہی میں غصے میں آ کر تمہیں نوکری سے نکالنے والا ہوں ۔لہذا اپنا سارا دھیان کام پر دو ۔میں سوچ رہا ہوں اس ماہ کے آخر میں آغا جان کو تمہاری رپورٹ دوں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح تراب نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔
تراب نے جملہ ادھورا چھوڑ کر احمر کے چہرے کے تاثرات دیکھے جو پل پل بدل رہے تھے۔
یار باس مجھے تیرے منہ سے جو لفظ سب سے برا لگتا ہے وہ “مگر” ہے ۔ستیاناس ہو اس لفظ کے بنانے والے کا اور کہنے ۔۔۔۔۔۔ احمر نے اپنی بات کے آخر میں شرارت سے تراب کی طرف دیکھا
ہمممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ تم نے ابھی ابھی اپنے باس کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس لیے اب تمہاری رپورٹ اگلے مہینے دی جائے گی ،چلو جاؤ اور اب اچھے بچوں کی طرح کام کرو۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ تراب نے انتہائی سنجیدگی سے روک دیا ۔
میرا بہت اچھا دوست کہتا ہے “ستیاناس” ہو اس لفظ اور اس کے بولنے والے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے تراب کی بات سن کر نفی میں سر ہلایا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔
لحاظ تو تمہیں چھو کر نہیں گزرا ۔اللہ پوچھے گا دیکھ لینا میرے بارے میں بھی اللہ تم سے پوچھے گا ۔۔۔۔۔۔؟ یہ جو تم مجھ پر اتنا ظلم کرتے ہو ناااا تمہیں جواب دینا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔احمر بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ نا چاہتے ہوئے بھی تراب نے موبائل کو اٹھا کر دیکھا جہاں فی الحال نہ تو کوئی مس کال تھی اور نہ ہی میسج ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے رسیور اٹھا کر ہمدانی کو کال کی ۔
ہیلو سر۔۔۔۔۔۔۔ ہمدانی کی آواز ایئر پیس سے ابھری ۔
ہمدانی میں ایک نمبر سینڈ کر رہا ہوں۔ مجھے اس کی مکمل تفصیل چاہیے۔ وہ بھی آج ہی نمبر کہاں کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کس کے نام پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ تراب نے کہتے ساتھ ہی ہمدانی کا جواب سنے بغیر ہی رسیور پٹخ دیا ۔
دیکھتے ہیں کہ مس کون ہے جنہیں ہماری آواز بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تراب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی ہے کچھ سوچتے ہوئے اس نے نمبر ڈائل کیا ۔
عنزہ آج صبح سے پیکنگ میں بہت مصروف تھی۔ کہنے کو گھر کا سامان اتنا نہیں تھا۔مگر پھر بھی اسے سمیٹنے میں کل سارا دن لگ گیا تھا اور جو رہ گیا تھا وہ بوا نے اسے سمیٹنے کا کہا تھا۔
آج بوا کو میر لاج جانا تھا اس لیے وہ عنزہ کو کہہ گئی تھی کہ میرے آنے تک گھر کا سارا سامان اکٹھا کر کے کمرے میں رکھ دینا۔
کمرے کے ایک کونے میں سارا سامان باندھ کر رکھتے ہوئے عنزہ نے ہاتھ جھاڑ کر خود کو شاباش دی اتنی دیر میں موبائل بجا ۔
بغیر نمبر دیکھے عنزہ نے کال اٹینڈ کی مگر دوسری طرف کی آواز سن کے اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
“آپ ایک انتہائی بدتمیز انسان ہیں ۔اس لئے میں صرف خوبصورت آواز کے صدقے اپنی بےعزتی نہیں کرواسکتی۔ میں نے آپ کو تنگ کیا جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں ۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ آپ بھی مجھے دوبارہ کال نہ کرکے اپنے اعلی ذوق ہونے کا ثبوت دیں شکریہ “
ایک ہی سانس میں بغیر تراب کی بات سنے عنزہ نے اپنی کہہ کر کال کاٹ دی جب کہ تراب فون بند ہونے کے باوجود ابھی تک سکتہ میں تھا ۔
🍂🍃🍂🍃🍂🍃
جیسے ہی عنزہ نے بوا کے ساتھ میر لاج کا گیٹ عبور کیا اس کی ہوش ہی اڑ گیا ۔دور دور تک رنگ برنگے پودے ، ہری بھری گھاس گھاس کے درمیان ایک خوبصورت اور دلکش عمارت پوری شان و شوکت سے کھڑی تھی۔
بوا اِسے گھر نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو Disney land کی موویز میں آنے والا محل ہے ایک ظالم جادوگرنی کا محل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کی سرگوشی پر بوا نے اسے گھور کر دیکھا اور چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔
شفقت بواا میرے خیال سے آپ نے اچھا فیصلہ نہیں کیا ۔کم از کم آپ اور میں یہاں کے رہنے والوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔ان کے بچوں کی خاطر اپنے بچوں کی جان خطرے میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟؟
کرمو بابا نے عنزہ کو بوا کے ساتھ اندر آتا دیکھ کر افسوس سے کہا جس پر ڈرائیور اور مالی بابا نے بھی ایک دوسرے کی طرف تاسف سے دیکھا ۔
کرم بابا کم از کم آپ تو بچوں کے لیے “دوسروں” کا لفظ استعمال نہ کریں۔ وہ آپ کے اپنے نواسے اور نواسی ہیں۔ شفقت ہوا کے جواب پر کرمو بابا ہنس پڑے ۔
جب بیٹی ہی نہیں رہی تو کہاں کا نانا۔۔۔۔۔ کیسا نانا ۔۔۔۔۔۔؟ دکھ جملوں میں بول رہا تھا ۔
عنزہ اپنے اردگرد ہونے والی گفتگو سن تو رہی تھی مگر کئی کنال پر پھیلا یہ میر لاج اس کو اپنے سحر میں لیے ہوئے تھا۔کیونکہ یہ میں رلاج اندھا کی سوچ سے زیادہ بڑا اور خوبصورت تھا ۔رنگ برنگے پھولوں کی لمبی لمبی قطاریں اور ہرا بھرا سبزہ اس کے درمیان ماربل سے بنی وہ خوبصورت عمارت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرلاج کے سحر میں ایسی کھوئی کے بوا کے بار بار بلانے پر بھی جواب نہ دے سکی ۔
ارے لڑکی ۔۔۔۔۔ ہوش کر بوا نے اندھا کا بازو زور سے پکڑ کر ہلایا اور اسے اپنے ساتھ کوارٹر کی طرف چلنے کا کہا
ہوا زندگی تو یہ لوگ جیتے ہیں اور زندگی کی سب چیزوں سے یہی لطف اندوز ہوتے ہیں مجھے آج ایسا لگ رہا ہے کہ ہم تو “گدھے” تھے اور ساری زندگی ایک “چھپڑ “میں گزار دی۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کے تبصرے پہ بوا نے کوئی جواب نہیں دیا صرف افسوس سے اس کی طرف دیکھا
میر لاج کے پچھلے حصے میں لگاتار نوکروں کے لئے کوارٹرز بنائے گئے تھے جس میں مالی ۔۔۔۔ ڈرائیور۔۔۔۔۔۔۔ گارڈز۔۔۔۔۔کک ۔۔۔۔۔۔۔اور یہاں پہ کام کرنے والے ملازموں کو جو کہ جہاں آرا بیگم کے منظور نظر بھی ہوتے تھے انہیں رہائش دی جاتی تھی ۔
آخری کوارٹر بڑا اور زیادہ صاف ستھرا تھا اسی لئے بوانے اس کا انتخاب اپنے لیے کیا ۔
کوارٹر کا دروازہ کھلتے ہی آگے چھوٹا سا برآمدہ اور پیچھے دو کمرے جن کے ساتھ اٹیچ باتھ بھی تھا اور برآمدے میں ہی اوپن امریکن سٹائل کچن موجود تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے درواذے میں کھڑے پورے کوارٹر کا جائزہ لیا جب کہ بوا باری باری کمروں کے دروازے کھول کر دیکھ رہی تھی۔
لڑکی اب اندر آبھی جا ۔۔۔۔۔۔۔ تجھے یہاں آکر کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ہر جگہ بت بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔ بوا خاصی بیزار لگ رہی تھی جبکہ اس کے برعکس عنزہ کی حالت تھی ۔
بوا ہمارے محلے میں کوئی ایک گھر بھی ایسا نہیں ہے جو اس کوارٹر جیسا بھی ہو تو پھر وہ محل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ ابھی مزید کچھ کہتی کہ بوا نے اسے ٹوک دیا ۔
ہمارے محلے میں جتنی محبت اور پیار لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں اور جتنا ہمسایوں کا احساس دل میں رکھتے ہیں وہ یہاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ انتہائی بے حس ہیں ۔ یہاں چمک دھمک کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
اس لیے بہتر ہے کہ ان چیزوں پر توجہ مت دو اور دوسری بات تم کوشش کرنا کہ جہاں آرا بیگم کے سامنے مت آنا جب تک تمہیں میں نہ کہوں۔
میں صبح تمہیں بچوں کے کمرے میں چھوڑ دیا کروں گی اور جب میری چھٹی ہوا کرے گی۔ تمہیں واپس ساتھ کوارٹر لے آیا کروں گی۔ تم کمرے میں ہی رہا کرنا بچوں کے پاس سمجھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات کے آخر میں بوا نے عنزہ کی طرف دیکھا جو بالکل توجہ سے بات نہیں سن رہی تھی ۔
ہوا اس کوارٹر میں جو فرنیچر پڑا ہوا ہے میرا مطلب ہے یہ بیڈ کرسیاں وغیرہ یہ بھی انہیں لوگوں نے اپنے ملازموں کو دیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ان کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ انہیں ہر سال اپنا سارا فرنیچر بدلنے کا دورہ پڑتا ہے۔ کچھ تو وہ لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ کچھ کباڑ خانے میں رکھ دیتے ہیں اور کچھ ملازموں کو دے دیتے ہیں یہ سارا سامان ان کے لئے بالکل فالتو ہے ۔۔۔۔۔۔۔بوا اب الماری میں اپنے اور عنزہ کے کپڑے رکھ رہی تھیں۔
پھر تو برے لوگ نہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ غریبوں کا بھی خیال رکھتے ہیں اور جب اللہ نے اتنا پیسہ دیا ہوا ہے تو اپنے اوپر ہی خرچ کریں گے نااااا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی تھی۔
تجھے اب میں کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔؟ تجھے ابھی میری بات سمجھ نہیں آئے گی ۔جیسے جیسے تو ان لوگوں ساتھ رہے گی ۔تجھے ساری باتیں خود بخود سمجھ آنے لگ جائیں گی۔
مگر میری ایک بات یاد رکھنا ان لوگوں سے جتنا دور رہے گی اور اپنے کام سے کام رکھے گی۔ اتنا ہی تو سکون میں رہے گی ۔
اچھا تو اب ذرا آرام کر میں بیگم صاحبہ کو اپنے شفٹ ہونے کی اطلاع دے دوں۔ اگر کسی اور ملازم نے بتایا تو وہ مجھ سے ناراض ہوں گئی بوا کہتی ہوئی باہر نکل گئیں ۔
بوا تم نے تو جہاں آرا بیگم کو پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں آخر کیا چیز ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عنزہ کہتی ہوئی بوا کے پیچھے دروازہ بند کرنے چل پڑی۔
🍃🍂🍃🍂🍃🍂
تم آج آفس کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔ تراب تمہارا بار بار پوچھ رہا تھا۔ زویا نے پلٹ کر دیکھا تو احمر فرج سے پانی کی بوتل نکال رہا تھا ۔
کافی پیو گے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں اپنے لیے بنا رہی تھی کہو تو تمہیں بھی ایک کپ بنا دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا کی بات پر احمر کے منہ سے پانی باہر آتے آتے رکا۔
سب سے پہلے تو مجھے اپنی “نظر” اتار لینے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے آگے بڑھ کر چینی کے ڈبے سے تھوڑی سی چینی نکالی اور اپنے سر کے اوپر سے گھما کر سنک میں پھینک کر نل کھول دیا ۔
آج صبح سے وہ لوگ جو میرے پے 24 گھنٹے آگ برساتے تھے۔ بڑی مہربانیاں کر رہے ہیں اللہ خیر کرے ۔۔۔۔۔۔۔ احمر اب پانی کا نل بند کر رہا تھا ۔
دیکھو تم پریشان مت ہو۔ میں آفس جوائن نہیں کر رہی ۔میں نہیں چاہتی کہ تمہیں میری وجہ سے اب کوئی بھی پریشانی ہو۔ ویسے بھی میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کیونکہ اب ہم دونوں بڑے ہو گئے ہیں تو ہمیں لڑنا نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زویا نے مسکراتے ہوئے دوستی بھرے لہجے میں کہا اور خود تیز تیز کپ میں چمچ چلانے لگی
تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناااااا ۔۔۔۔۔۔ دیکھو ایسی باتیں نہیں کرو۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں دل کا “کمزور” نہیں ہوں ۔مگر اس طرح کی باتوں سے تو مجھے “ہارٹ اٹیک” کا خطرہ ہے ۔
میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور آج سے ہماری دوستی ۔لڑنا جھگڑنا ختم کسی قسم کی کوئی لڑائی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔زویا کے جواب پر احمر نے سوچتے ہوئے شیلف سے ٹیک لگا لی
سنو تم مجھے کہیں کوئی ” چونا “تو نہیں لگانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ احمر نے زویا کی طرف جھک کے سرگوشی کی جس پر اس نے ہنستے ہوئے نہ میں سر ہلایا
پھر ایک دن میں اتنی بڑی تبدیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا دل نہیں مانتا زویا بی بی جو سچ ہے وہ بتا دو۔ اس سے پہلے کہ تمہارا اکلوتا کزن اس جہان فانی سے پردو فرما جائے ۔
اتنے بے صبرے انسان ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے سوچا تھا کہ زبردست کافی کے ساتھ لان میں بیٹھ کر میں تمہیں یہ “خوشخبری” سناؤں گی مگر نہیں تم نے یہیں کھڑے کھڑے کیچن میں سننی ہے تو سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغاجان نے میرا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے سے کر دیا ہے وہی جو لندن والے ہیں نااااا ۔۔۔۔۔۔۔ میں اب لندن جاؤں گی کتنا مزا آئے گا ۔۔۔۔۔۔ زویا نے لہراتے ہوئے بتایا۔
کھاؤ قسم کے تم بالکل سچ کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔تم اس گھر سے چلی جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔ اس گھر پہ اکیلا میرا راج ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔افففففف میں اتنا خوش ہوں کہ تمہیں بتا بھی نہیں سکتا اور اپنی خوشی کو چھپا بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ جلدی سے شادی کرو اور رخصت ہو جائے اس گھر سے ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ مجھے تو لگتا تھا کہ تم مرتے دم تک میرے ساتھ ہی چپکی رہو گی جب سے ہوش سنبھالا ہے تمہیں دیکھا اور سنا ہے ۔
اب لگتا ہے کہ کسی اور کو دیکھنے اور سننے کے دن آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ احمر نے شرارت سے زویا کی طرف دیکھا اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے زویا مسکرا دی۔