Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Last Episode)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Last Episode)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
حنان کچھ دیر بعد ہی اپنے فلیٹ واپس پہنچ گیا۔
ڈور بیل بجی تو شاہزیب نے دروازہ کھولا۔
حنان اندر داخل ہو گیا۔
منال اور جنت کہاں ہیں؟
اندر آتے ہی حنان نے پہلا سوال منال اور جنت کے بارے میں کیا۔
تم یہ بتاو پیپرز لائے ہو کہ نہی؟
شاہزیب اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئٙے بولا۔
وہ پیپرز میں اپنے ساتھ لایا ہوں،پہلے مجھے میری بیوی اور بیٹی کو دیکھنا ہے۔
حنان کے جواب پر شاہزیب کے چہرے کے تیور بگڑے مگر اگلے ہی پل وہ مسکرا دیا۔
ٹھیک ہے جاو دیکھ لو مگر دور سے!
حنان نے بہت مشکل سے اپنا غصہ ظبط کیا۔
جیسے ہی شاہزیب نے کمرے کا دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر حنان کا خون کھول اٹھا۔
منال فرش پر بے ترتیب گری ہوئی تھی اور جنت بھی اس کے پاس لیٹی تھی۔
حنان تڑپ کر ان کی طرف بڑھا مگر شاہزیب اس سے پہلے ہی راستے میں آ گیا اور گن کا رخ منال کی طرف موڑ دیا۔
نہی ملک حنان۔۔۔کہا تھا نہ بس دور سے!
پہلے مجھے وہ پیپرز دو!
حنان اس وقت ظبط کی انتہاوں پر تھا،اس نے اپنے بڑھتے قدم وہی روک دئیے۔
جیب سے پیپرز نکال کر شاہزیب کی طرف اچھال دئیے۔
شاہزیب نے بے چینی سے وہ پیپرز اٹھائے اور جلدی سے کچن کی طرف بڑھا کیبن سے لائیٹر نکال کر وہ پیپرز جلا دئیے۔
یہ کیا کر دیا تم نے شاہزیب؟
حنان غصے سے چلایا۔اس کے کمرے سے باہر آنے پر حنان بھی اس کے پیچھے چلا آیا۔
تم چپ رہو یہ تمہارا معاملہ نہی ہے ملک حنان۔۔۔
یہ میرا اور میری فیملی کا مسلہ ہے۔تم اس معاملے سے دور ہی رہو تو بہتر ہے۔
بہت کر لی تم نے وہاج کی مدد،اب اس معاملے کو یہی بھول جاو۔
اپنی بیوی اور بیٹی کو سنبھالو!
یہی تمہارے لیے بہتر ہو گا۔
ویسے تم نے میری اتنی مدد کی ہے تمہیں انعام تو ملنا چاہیے ملک حنان۔۔۔
کیا خیال ہے؟
شاہزیب آنکھ دباتے ہوئے بولا۔
تمہیں پیپرز چاہیے تھے وہ میں دے چکا ہوں،حساب برابر۔
اب جاو یہاں سے شاہزیب!
حنان دبی دبی سی آواز میں بولا۔
ایسے کیسے ابھی تو بہت سے حساب باقی ہیں تمہارے ساتھ،شاہزیب نے مسکراتے ہوئے گن کا رخ حنان کی طرف موڑا۔
بہت ستایا ہے تم نے مجھے،ہر بار،ہر بار!
ہر بار جب بھی میں نے وہاج کو راستے سے سے ہٹانا چاہا تم راستے میں آ گئے۔
جب راستے کا پتھر بار بار راستے میں چلنے والوں کے لیے رکاوٹ بننے لگے تو اسے راستے سے ہٹانے میں ہی بہتری ہوتی ہے۔
تم میرے راستے کا پتھر بن چکے ہو،تمہیں راستے سے ہٹانا بہت ضروری ہو چکا ہے۔
میں جانتا ہوں یہ کہانی یہی ختم نہی ہونے دے گا وہاج۔
مجھ پر مقدمہ چلائے گا وہ،کسی نا کسی طرح وہ اس طلاق کا ثبوت ڈھونڈ ہی نکالے گا۔
یہ سب بعد کی باتیں ہیں،وہاج سے تو میں نمٹ لوں گا مگر اس سے پہلے میں تم سے نمٹ لوں زرا۔
بس اتنا ہی کہنا تھا اور شاہزیب نے حنان پر گولی چلا دی۔
ایک,دو اور تین۔۔۔۔
تین گولیاں ایک ساتھ!
مگر حنان کو تو ایک بھی گولی نہی لگی،وہ سینے پر دونوں بازو فولڈ کیے شاہزیب پر کڑی نگاہیں گاڑے کھڑا تھا۔
چہرے پر گہری سنجیدگی اور غصہ چھایا ہوا تھا۔
گولی نا چلنے پر شاہزیب کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک گیا۔
شاہزیب کے ہاتھ کانپنے لگے،اس نے اچھی طرح گن دیکھی تو وہ خالی تھی۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
شاہزیب کا سر چکرانے لگا۔
جس وقت شاہزیب کیبنز سے لیٹر ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔بے وقوفی میں اس نے گن شیلف پر رکھ دی اور اس موقع کا فائدہ حنان نے بھر پور انداز میں اٹھایا۔
“Game Over!
حنان غصے سے بولتے ہوئے شاہزیب کی طرف بڑھا اور اسے گریبان سے کھینچتے ہوئے کچن سے باہر لے گیا۔
حنان کے اس طرح اچانک حملہ کرنے پر شاہزیب سنبھل نہ سکا اور اس کے ساتھ کھینچتا چلا گیا۔
حنان نے اس کے منہ پر پوری قوت سے زور دار گھونسا رسید کیا۔
شاہزیب کا سر دیوار میں جا لگا۔
حنان اس پر ایک کے بعد ایک وار کرتا چلا گیا۔
شاہزیب کی حالت بری ہو رہی تھی مگر حنان رکنے کا نام ہی نہی لے رہا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری منال کو ہاتھ لگانے کی،تمہاری ہمت کیسے ہوئے میری پھول سی جنت کے ساتھ ایسا گھٹیا سلوک کرنے کی،،
بس یہی الفاظ بولے جا رہا تھا حنان اور شاہزیب کو پیٹ رہا تھا۔
شاہزیب کے ماتھا دیوار سے ٹکرانے پر زخمی ہو چکا تھا اور خون نکل رہا تھا مگر حنان کو اس پر ترس نہی آیا۔
حنان بس کسی جنون کے تخت اس پر وار وار کرتا جا رہا رہا تھا۔
شاید وہ شاہزیب کو آج مار ہی ڈالتا اگر آچانک پولیس سیڑھیوں کا دروازہ توڑ کر گھر میں داخل نہ ہوتی۔
حنان چھوڑ دو اسے جان سے مارو گے کیا؟
وہاج کی آواز پر بھی حنان نہی رکا۔
ہاں میں اسے جان سے مار دو گا آج،اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔
اس نے ملک حنان کی بیوی اور بیٹی کو ٹارچر کیا ہے اگر میں اسے جان سے بھی مار دوں تب بھی مجھے چین نہی ملے گا۔
حنان کسی صورت شاہزیب کو معاف کرنے والا نہی تھا۔
آخر کار دو پولیس آفیسرز نے آگے بڑھ کر بے قابو ہوتے حنان کو تھام لیا۔
وہاج نے آگے بڑھ کر حنان کو بازو سے تھام کر اپنی طرف متوجہ کیا۔
حنان پولیس آ گئی ہے اسے دیکھ لے گی تم ریلیکس ہو جاو پلیز۔
وہاج نے اس کا کندھا تھپتپایا۔۔
پولیس شاہزیب کو ہتھ کڑی پہناتے ہوئے سہارا دے کر گھر سے باہر نکل گئی۔
حنان کچھ یاد آنے پر تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا۔
جنت کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا اس کا ماتھا چوما اور اسے جھولے میں لٹا کر منال کی طرف بڑھا۔
منال کو بازووں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹا دیا اور منال کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہاج پانی کا گلاس لے کر حنان کی کی طرف بڑھا۔
یہ پانی پی لو تھک گئے ہو لڑائی کر کے۔
اگر آپ نہ آتے تو میں اس کی جان لے لیتا،حنان پانی کا گلاس تھام کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
لیکن آپ یہاں آئے کیسے؟
میرا مطلب آپ کو کیسے پتہ چلا شاہزیب یہاں ہے؟حنان یاد آنے پر چونک کر بولا۔
وہاج مسکرا دیا۔
جب تم مجھے ہوٹل ڈراپ کر گاڑی سے باہر نکل کر فون پر مصروف تھے۔تب ہی میں سمجھ گیا ضرور کوئی پریشانی ہے۔
میں نے شاہزیب کو کال ملائی تو اس کا فون گھر پر ہی تھا۔اس کی بیوی نے کال پک کی اور مجھے بتایا کہ شاہزیب حنان کے گھر گیا ہے۔تب ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ تم کیوں پریشان ہو گے۔
میں سب سے پہلے پولیس سٹیشن پہنچا،پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کیا اور مدد کی التجا کی۔
پھر پولیس کو ساتھ لیے سیڑھیوں کے راستے تمہارے فلیٹ میں داخل ہو گیا۔
لیکن ایک بات مجھے سمجھ نہی آئی حنان؟
کیا۔۔۔؟
حنان حیرانگی سے بولا۔
وہ یہ کہ اگر شاہزیب کو وہ پیپرز چاہیے تھے تو تم نے مجھ سے بات کرنا بھی ضروری نہی سمجھا،اگر کچھ ہو جاتا تو؟
کچھ ہوا تو نہی ناں!
میں نے ویسے ہی کوئی پیپرز انویلپ میں ڈال کر شاہزیب کی طرف بڑھائے اور اس بے وقوف نے بنا دیکھے ہی وہ پیپرز جلا دئیے۔
اگر وہ پیپر کھول کر دیکھ لیتا تو؟
تو بھی میں اس سے نمٹ لیتا،بہت محنت سے وہ پیپرز آپ کو ملیں ہیں۔میں کسی بھی قیمت پر انہیں کھونا نہی چاہتا تھا۔
کیا وہ پیپرز تمہاری فیملی کی جان سے زیادہ قیمتی تھے حنان؟
جو تم نے اتنا بڑا قدم بڑھایا۔
نہی۔۔۔۔لیکن میں کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہی جانے دینا چاہتا تھا۔اسی لیے میں نے سوچا کوشش کرنے میں کیا حرج ہے اور میری کوشش نا کام نہی ہوئی۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔حنان لا پرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
“میری سمجھ سے باہر ہو تم!
وہاج مسکرا کر بولتے ہوئے فون کان سے لگاتے ہوئے ٹیرس کی طرف بڑھ گیا۔
جی ڈیڈ بس آ رہا ہوں کچھ دیر تک کہتے ہوئے وہاج واپس حنان کے پاس آیا۔
کیا اب بھی نہی بتاو گے کہ میری مدد کیوں کی تم نے؟
وہاج کے سوال پر حنان مسکرا دیا۔
جب پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہیں۔میرا جواب اب بھی ناں ہی ہے۔
وہاج فون جیب میں رکھتے ہوئے مسکرا دیا۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی!
اب مجھے چلنا ہو گا چند گھنٹوں بعد میری فلائٹ ہے پاکستان کے لیے۔
بیسٹ آف لک۔۔۔خیریت سے جائیں،حنان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
کیا ہم دوبارہ ملیں گے؟
وہاج کے سوال پر حنان کو حیرت ہوئی۔
“اگر قسمت میں لکھا ہوا تو ضرور ملیں گے وہاج بھائی،،
وہاج مسکرا دیا،اسے حنان کا وہاج بھائی کہنا بہت اچھا لگا۔
تو ٹھیک ہے میں اس پل کا انتظار رہے گا۔
مجھے بھی!
حنان اٹھ کر وہاج کے گلے لگ گیا۔خدا حافظ
وہاج نے پہلے حیرت سے حنان کو دیکھا پھر مسکراتے ہوئے خدا حافظ بول کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“میرا وعدہ مکمل ہوا”
حنان گہری سانس لیتے ہوئے صوفے پر گر سا گیا۔
فون پر کسی کا نمبر ڈائل کیا۔
ہو گیا بھئی تمہارا کام،اب تو خوش ہو ناں؟
دوسری طرف کسی کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔
بہت بہت شکریہ جناب کا!
اگر تم ساتھ نہ دیتے تو پتہ نہی کیا ہوتا،دوسری طرف سے بہت مودبانہ میں شکریہ ادا کیا گیا۔
دوست بھی کہتے ہو اور شکریہ بھی ادا کرتے ہو بھاڑ میں جاو تم!
حنان غصے سے بولا۔
اچھا بابا سوری۔۔۔۔کوئی احسان نہی کیا مجھ پر دوستی کا فرض نبھایا ہے تم نے گھٹیا انسان،اب ٹھیک ہے؟
حنان نے فون کان سے ہٹا کر گہری سانس لی اور ساتھ ہی دونوں کا قہقہ گونجا۔
ہاں اب ٹھیک ہے،حنان ہنستے ہوئے بولا۔
ٹھیک ہے میں اب تھک گیا ہوں تھوڑا آرام کر لوں پھر بات کرتا ہوں۔
اوکے۔۔۔دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔
(یہ حنان کس سے بات کر رہا تھا؟’کون ہو سکتا ہے یہ؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا![]()
ارے نہی نہی گھبرائیے مت![]()
اسی ایپیسوڈ میں آپ ملیں گے اس شخص سے جو حنان کا دوست ہے۔جس کے کہنے پر حنان سائے کی طرح وہاج کے ساتھ رہا،اس کی مدد کی۔تو جاننے کے لیے پڑھیں بقیہ قسط
)
حنان کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
رات کے آخری پہر اس کی آنکھ کھلی جنت اس کے گال پر تھپتھپاتے ہوئے بابا،بابا بول رہی تھی۔
حنان تیزی سے اٹھ بیٹھا اور جنت کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگائے اور اسے سینے سے لگا لیا۔
میری ننھی سی معصوم جان،حنان کے ایسا بولنے پر جنت کھلکھلا اٹھی۔
حنان کی نظر منال پر پڑی جو سر پر ہاتھ رکھے ہوش میں آ رہی تھی۔
حنان نے آگے بڑھ کر منال کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو منال ڈر کر اٹھ بیٹھی اور حنان سے لپٹ گئی۔
حنان آپ کہاں چلے گئے تھے؟
آپ کو پتہ ہے اس نے ہماری جنت کے ساتھ کیا کیا؟
شششش۔۔۔۔منال اب سب ٹھیک ہے میری جان پلیز ریلیکس ہو جاو،حنان اس کا بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے تسلی دینے لگا۔
یہ دیکھو جنت بلکل ٹھیک ہے ادھر دیکھو۔
حنان نے اسے خود سے الگ کیا تو منال کی نظر گم سم سی جنت پر پڑی۔یقیناً وہ ماں کو روتے دیکھ گھبرا گئی تھی۔
منال نے آگے بڑھ کر اسے گود میں لیا اور آنسو بہانے لگی۔
حنان نے منال کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے اور مسکرا دیا۔
منال اب سب ٹھیک ہے۔گھبرانے کی ضرورت نہی ہے۔اب وہ گھٹیا انسان جیل کی سلاخوں میں ہے۔
میں ہوں تمہارے پاس!
چلو جا کر تیار ہو جاو باہر چلتے ہیں کھانا کھانے،بہت بھوک لگی ہے یار صبح ناشتہ کیا تھا بس۔
ٹھیک ہے۔۔۔منال مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
تینوں تیار ہو کر باہر کی طرف بڑھے گاڑی میں بیٹھ کر ریسٹورنٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔
اب سے سارا ٹائم میری فیملی کے نام،حنان گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے باہر روکتے ہوئے بولا اور تینوں اندر کی طرف بڑھ گئے۔
******،***********************************
وہاج نے ہوٹل پہنچ کر ساری بات احمد صاحب کو بتا دی۔ان کو شدید افسوس ہوا شاہزیب کی حرکت اور گرفتاری پر۔
بس تھوڑی دیر کے لیے!
وہ اب بیٹے کی آنے والی خوشیوں کی دعا مانگنے لگے۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ لوگ شکاگو ائیر پورٹ کے لیے نکل پڑے۔
چند گھنٹوں بعد ان کی فلائٹ پاکستان کے لیے روانہ ہو گئی۔
لمبے سفر کے بعد آخر کار وہ لوگ پاکستان پہنچ ہی گئے۔
وہاج کے چہرے پر خوشی کے تاثرات تو تھے ہی مگر دوسری طرف عمارہ کو ہاسپٹل میں دیکھنا اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔
ائیر پورٹ سے ہاسپٹل پہنچنے تک کا ایک ایک لمحہ وہاج کو بھاری محسوس ہو رہا تھا۔وہ جلد ازجلد عمارہ تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔
جیسے ہی گاڑی ہاسپٹل کے باہر رکی وہاج تیزی سے اندر کی طرف بڑھا جبکہ احمد صاحب گاڑی سے بیگز باہر نکال کر کرایہ ادا کرنے لگے تب ہی حمزہ وہاں آ گیا اور ان سے بیگز لے کر اندر کی طرف بڑھا۔
وہاج دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔
وہاج کو آتے دیکھ عمارہ کا چہرہ کھل اٹھا۔وہاج کو آتے دیکھ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
مسز احمد کی بھی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اچانک بیٹے کو دیکھ کر۔
وہاج ان سے لپٹ گیا،مسز احمد کی آنکھیں خوشی سے جھلک اٹھیں۔
بہت اچھا ہوا تم آ گئے وہاج لیکن وہ پیپرز؟
وہ وہاج کو خود سے الگ کرتی ہوئی پریشانی میں بولیں۔
وہ پیپرز میرے پاس ہیں مام آپ فکر مت کریں سب ٹھیک ہے اب۔
وہاج مسکراتے ہوئے عمارہ کی بڑھا۔
کیسی طبیعت ہے اب میری وائف کی؟
عمارہ مسکرا دی۔
آپ آ گئے ہیں تو اب جلدی ٹھیک ہو جاوں گی۔
اسلام و علیکم!
احمد صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔
سب نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور سلام کا جواب دیا۔
وہ آگے بڑھے اور عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھا،کیسی طبیعت ہے اب میری بیٹی کی؟
پہلے سے بہتر ہوں پھوپھا جان، عمارہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
بیٹا اب پھوپھو جان کہنے کی عادت چھوڑ کر بابا جان کہنے کی عادت ڈال لو۔
جی بابا جان۔۔۔عمارہ مسکراتے ہوئے بولی۔
بیگم صاحبہ آپ کیسی ہیں؟
احمد صاحب مسز احمد کی طرف بڑھے وہ صوفے پر بیٹھی سب دیکھ رہی تھیں۔
احمد صاحب بھی وہی آ کر بیٹھ گئے۔
شکر ہے اللہ کا آپ لوگ خیریت سے واپس آ گئے اب میں ٹھیک ہوں۔
میرا خیال ہے ہمیں باہر چلنا چاہیے بچوں کو اکیلا چھوڑ دینا چاہیے کچھ دیر کے لیے،احمد صاحب سرگوشی کے انداز میں بولے تو مسز احمد مسکرا دیں۔
وہاج تم بیٹھو عمارہ کے پاس ہم لوگ ڈاکٹر سے مل کر آتے ہیں مسز احمد بول کر باہر کی طرف بڑھ گئیں اور احمد صاحب بھی۔
عمارہ یہ سب ہوا کیسے,کچھ یاد ہے تمہیں؟
نہی وہاج مجھے کچھ یاد نہی،کمرے میں اندھیرا تھا میں سو رہی تھی جب مجھ پر اچانک حملہ ہوا۔اس کے بعد میری ہاسپٹل میں آنکھ کھلی۔
لیکن مجھے پتہ چل چکا ہے وہ کون ہے!
کون؟
عمارہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
وہ منیبہ تھی جس نے تم پر حملہ کیا”
نہی وہاج آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے منیبہ ایسا کیوں کرے گی۔
عمارہ تم بہت بھولی ہو،وہاج اس کے دائیں گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
“حسد،جلن اور بدلے کی آگ میں منیبہ نے یہ سب کچھ کیا ہے،ایسے لوگ اپنے مقصد کے لیے کسی کی جان لینے سے بھی گریز نہی کرتے،،
میں منیبہ کو کسی صورت معاف نہی کروں گا،اسے جیل جانا ہو گا اور وہ بھی آج۔
نہی وہاج آپ ایسا کچھ نہی کریں گے آپ کو میری قسم!
چاچو جان کے دل پر کیا گزرے گی جب منیبہ جیل جائے گی۔سارا خاندان اور محلے کے لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔اس کی تو زندگی تباہ ہو جائے گی۔
دیکھو تمہیں ابھی بھی منیبہ کی فکر ہے جبکہ اس نے تمہیں جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔وہاج افسوس میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
رہنے دیں ناں آپ،میری خاطر!
اور کوئی چارہ بھی نہی ہے میرے پاس،وہاج ناراضگی سے بولا۔
“جب آپ میرے ساتھ ہیں تو مجھے اب کوئی فرق نہی پڑتا کوئی مجھ سے نفرت کرے یا محبت،میری ذات کی ساری خوشیاں بس آپ سے جڑی ہیں اب”
“میرے لیے بس آپ کی محبت ہی کافی ہے”
عمارہ کے اقرار پر وہاج مسکرا دیا۔
یہاں سے اب ہم اپنے گھر جائیں گے اس گھر سے اب ہمارا کوئی رشتہ نہی ہے،اب میں مزید اس بارے میں کچھ نہی سنوں گا بس۔
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی،مجھے آپ کے حکم کی پاسداری کرنی ہے۔عمارہ مسکراتے ہوئے بولی۔
کمرے کا دروازہ ناک ہوا،حمزہ مسکراتے ہوئے اندر آیا۔
کیسے ہیں بھائی؟
وہ مسکراتے ہوئے وہاج کی طرف بڑھا۔
وہ دونوں گلے ملتے ہوئے مسکرا دئیے۔
میں ٹھیک ہوں حمزہ تم کیسے ہو اور بہت شکریہ تمہارا،تم نے مام اور عمارہ کا اتنا خیال رکھا۔
کیا بات کر رہے ہیں آپ وہاج بھائی میرا بھی ان سے کوئی رشتہ ہے۔ایسا بول کر مجھے شرمندہ تو نا کریں۔
میں کھانا لایا ہوں آپ سب کے لیے،آپ فریش ہو جائیں تب تک پھوپھو اور پھوپھا جان بھی آ جائیں گے۔
وہاج اٹھ کر ہاتھ منہ دھونے چلا گیا۔
واپس آیا تو مسز احمد کھانا لگا چکی تھیں۔
سب مل کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔
*****************************************
کھانا کھا کر تیار ہو جاو ہمیں ہاسپٹل جانا ہے عمارہ کی خبر لینے اور حمزہ کا فون آیا تھا وہاج اور احمد واپس آ گئے ہیں امریکہ سے۔
حسن صاحب کی آواز پر مسز حسن کے ہاتھ سے چمچ پلیٹ میں گر گیا۔
ککککیا۔۔۔۔۔؟
اتنی جلدی!
ہاں وہ لوگ واپس آ گئے ہیں،تم کیوں پریشان ہو رہی ہو؟
تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تمہارے بیٹے کی بے گناہی کا ثبوت نہی ملا ان کو۔
کککیا مطلب حسن صاحب؟
مسز حسن بہت گھبرائی ہوئی لگ رہی تھیں۔
مطلب یہ کہ ان کو وہ طلاق کے پیپرز نہی ملے وہ لوگ ہار مان چکے ہیں۔
اچھا۔۔۔۔ہاں وہ تو ہونا ہی تھا،میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے۔وہ غرور سے گردن اکڑاتے ہوئے بولیں۔
سہی کہا تم نے!
چلو اب جلدی سے تیار ہو جاو۔
ولی اور منیبہ چپ چاپ ان کی باتیں سن رہے تھے۔منیبہ دل ہی دل میں مسکرا دی۔
کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں ہاسپٹل کے لیے نکل گئے۔
جیسے ہی وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
وہاج نے بلند آواز ان کو سلام کیا۔مسز حسن وہاج کو دیکھ کر عجیب سے انداز میں مسکرائیں۔
کیسی ہو عمارہ بیٹا؟
حسن صاحب عمارہ کے پاس بیٹھتے ہوئے بولے۔
چاچو جان میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟
اپنی بیٹی کو دیکھ لیا اب میں ٹھیک ہوں۔انہوں نے مسکراتے ہوئے عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
وہاج کمرے سے باہر نکل گیا اور حمزہ بھی۔
کچھ دیر بعد وہاج کمرے سے باہر آیا اور وہ پیپرز حسن صاحب کی طرف بڑھائے۔
یہ لیں ماموں جان میری بے گناہی کا ثبوت!
انہوں نے وہ انویلپ تھامتے ہوئے مسز حسن کی طرف دیکھا۔مسز حسن کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔
حسن صاحب نے پیپر دیکھنے کے بعد مسز حسن کی طرف بڑھا دئیے۔
انہوں نے کانپرے ہاتھوں سے وہ پیپرز تھام لیے۔پیپرز دیکھتے ہی ان کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔
یہ جھوٹ ہے۔۔۔وہاج تم نے جھوٹے پیپرز بنوائے ہیں،وہ غصے سے وہاج کی طرف بڑھیں مگر حسن صاحب سامنے آ رکے اور ایک زور دار تھپڑ ان کے چہرے پر لگایا۔
ماموں جان!
وہاج تیزی سے آگے بڑھا۔
تم ایک انتہائی گھٹیا عورت ہو،سچ سامنے آنے پر بھی تم جھوٹ بول رہی ہو۔
سب جان چکا ہوں میں،تمہاریاور شاہزیب کی ساری باتیں سن چکا ہوں۔
اگر میں چاہتا تو اسی وقت تم سے جواب طلب کر لیتا مگر نہی۔۔۔مجھے انتظار تھا کہ شاید تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور تم خود مجھے سچ بتا دو۔
مگر نہی تم میں تو احساس نام کی کوئی چیز ہے ہی نہی،تم ایک مطلبی عورت ہو۔
صرف اور صرف دولت کی لالچ میں تم نے عمارہ کی زندگی کے آٹھ سال برباد کر دئیے اور اس کی باقی زندگی برباد کرنا چاہ رہی تھی۔
وہ تو شکر ہے اللہ کا کہ وقت پر تم دونوں کی سچائی سامنے آ گئی۔ورنہ میں بھی اس گناہ میں برابر کا شریک کہلاتا۔
دراصل غلطی میری بھی ہے میں بزنس چمکانے کے چکر میں اتنا مصروف ہو چکا تھا کہ گھر کی خبر ہی نہی رہی۔
بس یہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ میں نے اس عورت پر بھروسہ کیا۔
مسز حسن گال پر ہاتھ رکھے چپ چاپ سب سن رہی تھیں۔
حمزہ جاو وہ لے آو!
حسن صاحب کی آواز پر حمزہ کمرے سے باہر نکل گیا اور تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں ایک فائل اٹھائے اندر آیا۔
حسن صاحب وہ پیپرز لے کر عمارہ کی طرف بڑھے۔
بیٹا یہ رہی تمہاری امانت!
میرے بھائی کی بقیہ ساری جائیداد کی وارث تم ہو اور یہ رہی اس اکاونٹ کی چیک بک اور اے ٹی ایم۔۔جو میں نے تمہارے نام پر بنوایا تھا اور ہر مہینے منافع کی آدھی رقم تمہارے اکاونٹ میں کروا دیتا تھا۔سوچا تھا کہ جب شاہزیب سے تمہاری شادی ہو گی تو تمہیں یہ گفٹ دوں گا مگر قدرت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔
عمارہ نے سوالیہ نگاہوں سے وہاج کی طرف دیکھا۔وہاج نے سر نفی میں ہلا دیا۔
نہی ماموں جان اس کی ضرورت نہی ہے آپ یہ سب واپس رکھ لیں۔
تمہیں کون دے رہا ہے وہاج۔۔۔یہ سب عمارہ کا ہے تمہارا اس میں کوئی حصہ نہی ہے۔حسن صاحب مسکراتے ہوئے بسلے تو وہاج بھی مسکرا دیا۔
یہ عمارہ کا حق ہے اور حق حقدار تک پہنچانا بہت ضروری ہوتا ہے۔عمارہ اس جائیداد اور بزند دونوں میں برابر کی حقدار ہے۔حسن صاحب اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے جو عمارہ کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔
ہو سکے تو اپنے چاچو کو معاف کر دینا عمارہ بیٹا،میری غلطی تھی کہ تمہارے ساتھہونے والی نا انصافیوں پر غور نہی کیا کبھی۔اب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو چکا ہے۔
وہ عمارہ کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولے۔
نہی چاچو جان آپ ایسا مت بولیں،عمارہ آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
تو پھر ٹھیک ہے یہ سب قبول کرو ورنہ میں سمجھوں گا تم نے مجھے معاف نہی کیا۔
عمارہ نے پھر سے وہاج کی طرف دیکھا۔
وہاج نے ہاں کا اشارہ دیا تو عمارہ نے وہ فائلز تھام لیں۔
یہاں سائن بھی کر دو بیٹا،انہوں نے عمارہ کی طرف پین بڑھایا۔عمارہ نے پین تھام کر سائن کر دئیے۔
فائلز عمارہ کے حوالے کرتے ہوئے وہ وہاج کی طرف بڑھے اگر ہو سکے تو تم بھی مجھے معافکر دو بیٹا۔
نہی ماموں جان آپ ایسا مت بولیں،آپ بڑے ہیں اور بڑے بچوں سے معافی نہی مانگتے۔
وہاج ان کے گلے لگتے ہوئے بولا۔
اور تم دونوں بھی معاف کر دو گے مجھے،وہ بہن اور بہنوئی کی طرف بڑھے۔
وہ دونوں بھی مسکرا دئیے۔ہم تو آپ سے کبھی ناراض نہی تھے بھائی صاحب۔
مسز احمد آگے بڑھ کر بھائی کے گلے لگ گئیں۔
چلو اب سب گھر۔۔۔عمارہ کی طبیعت اب بہتر ہے ڈاکٹر سے بات ہو گئی ہے میری۔
ان کی بات پر سب سوچ میں پڑ گئے۔
کیا ہوا میں نے کچھ غلط بولا کیا؟
سب کو حیران ہوتے دیکھ حسن صاحب پریشانی سے بولے۔
میں چاہتا ہوں کہ عمارہ کی رخصتی اپنے ماں باپ کے گھر سے ہو۔بلکل ویسے ہی جیسے ایک بیٹی کو رخصت ہونے کا حق ہوتا ہے۔
لیکن ماموں جان!
لیکن ویکن کچھ نہی نہی وہاج۔۔۔جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔اب کیا میرا اپنی بیٹی پر اتنا بھی حق نہی ہے کہ اسے دھوم دھام سے رخصت کر سکوں؟
نہی ماموں جان آپ کو پورا حق ہے،جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔
تو پھر چلو سب گھر!
ٹھیک ہے بھائی صاحب جیسے آپ کی مرضی،مسز احمد باہر کی طرف بڑھ گئیں۔
عمارہ کو ہاسپٹل سے چھٹی ملی تو سب گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔
مسز حسن جلتی بھنتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
پورا گھر جگمگاتی روشنیوہور ں سے سجا دیا گیا۔ٹھیک تین دن بعد آج عمارہ اور وہاج کی مہندی کا فنکشن چل رہا ہے۔
گارڈن میں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا۔
وہاج وائٹ شلوار قمیض پہنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے سٹیج پر بیٹھا ہوا تھا۔عمارہ بھی وائٹ شلوار قمیض جس پر ملٹی شیڈ میں لیس اور شیشے جگمگا رہے تھے اور ساتھ ملٹی شیڈ میں شیشوں اور ستاروں سے جگمگاتا ڈوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا۔پھولوں سے بنے زیورات پہنے،ہلکے میک اپ میں وہ وہاج کے ساتھ بیٹھی تھی۔
دونوں ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے۔
دونوں کے چہرے پر خوشی کے تاثرات تھے۔رسم بہت اچھی چل رہی تھی کہ اچانک وہاں سناٹا چھا گیا۔
شاہزیب اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ وہاں آ پہنچا۔
مسز حسن تیزی سے اپنے بیٹے کی طرف بڑھیں۔
بہو اور بیٹے سے گلے ملیں جبکہ عبدللہ ان سے ملے بغیر ہی وہاج کی طرف بڑھ گیا۔
وہ وہاج سے لپک گیا،وہاج نے اسے پیار کیا اور اس کو ویلکم کیا۔
یہ آپ کی عمارہ آنٹی ہیں ان سے بھی ملو عبدللہ۔
وہاج کے کہنے پر وہ عمارہ کی طرف بڑھ گیا۔
کیوں آئے ہو تم یہاں؟
حسن صاحب غصے سے بولے۔
ڈیڈ میں آپ سب سے اور عمارہ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔
“پلیز مجھے معاف کر دیں آپ سب،شاہزیب سب کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔
مجھے نہی چاہیے تمہاری معافی،چلے جاو یہاں سے!
حسن صاحب نے رخ دوسری طرف موڑ لیا۔
نہی ڈیڈ پلیز ایسا مت بولیں آپ میں بہت امید سے آیا ہوں آپ کے پاس۔
عمارہ پلیز تم مجھے معاف کر دو اگر تم نے مجھے معاف کیا تو ڈیڈ بھی کر دیں گے،شاہزیب تیزی سے عمارہ کی طرف بڑھا۔
عمارہ وہاج کا بازو تھامتے ہوئے اس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔
وہاج نے عمارہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور اسے اپنے ہونے کا یقین دلایا۔
عمارہ کا فیصلہ ہے تمہارا؟
وہاج اسے بازو سے تھامتے ہوئے سامنے لے آیا۔
میں نے آپ کی خاطر اور سب گھر والوں کی خاطر ان کو معاف کیا۔
عمارہ کے جواب نے سب کو حیران کر دیا۔
مسز حسن سٹیج کی طرف بڑھیں اور عمارہ کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
کیا میری بیٹی مجھے بھی معاف کر دے گی؟
عمارہ نے ان کے ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لیے۔۔نہی چچی جان آپ ایسا مت بولیں۔
آپ سے جو کچھ بھی ہوا اس میں آپ کی کوئی غلطی نہی ہے۔۔۔میری قسمت میں ہی ایسا لکھا تھا۔
“قسمت کا لکھا تو صرف خدا جانتا ہے”
مسز حسن عمارہ کے گلے لگ کر آنسو بہانے لگیں۔
عمارہ کی آنکھیں بھی نم ہو چکی تھیں۔
حسن صاحب نے عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ دونوں مسکراتی ہوئی الگ ہوئیں۔
بھئی جب عمارہ نے تم دونوں کو معاف کر دیا ہے تو میں نے بھی معاف کیا۔
حسن صاحب کے جواب شاہزیب ان کے گلے لگ گیا۔
حسن صاحب نے اس کا کندھا سہلایا۔
لیکن وعدہ کرو کہ اب تم یہاں سے کہی نہی جاو گے یہی رہو گے ہمارے ساتھ۔
ٹھیک ہے ڈیڈ۔۔۔شاہزیب مسکراتے ہوئے ان سے الگ ہوا اور ولی،حمزہ اور بہنوں کی طرف بڑھا۔
وہ چاروں بھائی سے مل کر بہت خوش لگ رہے تھے۔
حسن صاحب پوتے کے ساتھ مصروف ہو چکے تھے۔رسمِ حنا پھر سے شروع ہو چکی تھی اور سب کے چہرے خوشی سے کھلکھلا اٹھے۔
مریم اسلام قبول کر چکی تھی تو کسی کو بھی اس سے کوئی شکایت نہی تھی اب۔وہ بھی سب ست مل کر خوش لگ رہی تھی۔
ابھی رسمِ حنا ختم ہوئی ہی تھی کہ مہمان اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے۔
تب ہی اچانک راہداری سے ایک اور جوڑا برآمد ہوا۔
سامنے سے آتے کپل کو دیکھ کر وہاج سٹین سے اتر کر ان کی طرف بڑھا۔
حنان تم یہاں؟
وہاج کے چہرے پر حیرت کے آثار تھے۔
جی میں یہاں وہاج بھائی!
مگر میں آپ کی شادی میں تو بلکل نہی آیا اپنے دوست سے ملنے آیا ہوں۔
تمہارا دوست؟
جی میرا دوست آئیے ابھی ملاتا ہوں آپ کو اپنے دوست سے۔
حنان تیزی سے آگے بڑھا اور حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو فون کان سے لگائے مصروف سا کھڑا تھا۔
حمزہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی حنان کو سامنے دیکھ کر۔
آ گئے تم!
وہ دونوں مسکراتے ہوئے گلے ملنے لگے۔
وہاج بھی وہاں آ گیا۔
یہ رہا میرا دوست!
حنان نے حمزہ کی طرف اشارہ کیا۔
وہاج حیرت سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
حمزہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرا،وہاج بھائی میں بس آپ کو بتانے ہی والا تھا۔
کب؟
کب بتانے والے تھے تم مجھے؟
چلیں چھوڑیں بھائی معاف کر دیں ویسے بھی آج معافی مانگنے کا دن ہے سب معاف کر رہے ہیں ایک دوسرے کو۔
آپ بھی مجھے معاف کر دیں۔
حمزہ کی معصومیت پر وہاج مسکرا دیا۔
چلو یہ سب چھوڑو آو حنان بھابی کو لے آو میں تمہیں سب سے ملاتا ہوں۔
ضرور۔۔۔حنان کندھے اچکاتے ہوئے منال کی طرف بڑھا جبکہ وہ پہلے سے ہی سٹیج پر جا چکی تھی اور عمارہ سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔
وہ تینوں بھی سٹیج کی طرف بڑھ گئے۔
جنت مسز احمد کے پاس تھی وہاج نے سب سے ان کا تعارف کروایا۔حنان سب سے ملا سوائے شاہزیب کے اور یوں ہنسی خوشی یہ رات ختم ہوئی۔
حمزہ کے کہنے پر حنان نے اسے معاف کر دیا اور شاہزیب نے خود بھی معافی مانگ لی ورنہ حنان اسے کبھی معاف نہی کرتا۔
حنان اور منال کو یہی روک لیا تھا وہاج نے۔
اگلے دن شادی کا فنکشن بہت اچھا گزرا۔
عمارہ سرخ عروسی جوڑا پہنے وہاج کے ساتھ رخصت ہو گئی۔
پلین کے زریعے وہ اپنے گھر پہنچے۔ائیرپورٹ پر سب اس جوڑے کو دیکھ رہے تھے۔
پورا گھر دلہن کی طرح سجایا گیا تھا،ولی،حمزہ،حنان اور منال یہ لوگ پہلے ہی یہاں آ چکے تھے۔
ان کا اسقبال گلاب کے پھولوں سے کیا گیا۔
عمارہ کو منال اس کے کمرے تک چھوڑ آئی اور کھانا لگا دیا ٹیبل پر لگا دیا۔
سب نے ان کے کمرے میں ایک ساتھ کھانا کھایا اور سونے کے لیے چلے گئے۔
اف۔۔۔کتنا رومانٹک ہی یہ سب کچھ میرا دل کر رہا ہے پھر سے شادی کراوں اپنی۔
حنان صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
ہاں تو کر لیں منع کس نے کیا ہےمنال کڑوے تیور لیے بیڈ کی طرف بڑھ گئی۔
ایک نہی میری طرف سے چار کر لیں،منال کمبل سر تک تانے لیٹ گئی۔
حنان مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا چہرے سے کمبل ہٹا کر منال کے تھوڑا قریب ہوا۔
ٹھیک ہے مگر میری ایک شرط ہے،ہر بار میری دلہن تم ہی بنو گی۔
منال مسکرا دی۔۔نہی نہی ایک دلہن ہو گی تو بورنگ سا لگے گا آپ کو،ہر بار دلہن بھی نئی ہونی چاہیے۔
منال بھی اتنی آسانی سے معاف کرنے کے موڈ میں نہی تھی۔
مذاق کر رہا تھا منال!
حنان پریشان ہو گیا۔منال ناراض ہو چکی تھی۔
“صرف تم!
“تم ہو میری زندگی،بس تمہارا حق ہے مجھ پر اور کسی کا نہی وہ پیار سے منال کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گیا۔
میں چینج کر کے آتا ہوں۔
منال سکون سے آنکھیں بند کیے لیٹ گئی۔
وہ جانتی تھی حنان مذاق کر رہا مگر جان بوجھ کر ناراض ہوئی تا کہ حنان محبت کا اظہار کر سکے اسے اچھا لگتا ہے حنان کا اظہار کرنا،اس کی محبت میں جینا۔
دونوں کی زندگی اسی طرح خوشیوں سے بھری رہے آمین۔
وہاج کمرے میں آیا تو مسز احمد نے اسے عمارہ کے لیے گفٹ دیا۔کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہاج نے کوئی تخفہ نہی خریدا مگر ایسا نہی تھا۔وہاج نے بھی اس کے لیے کچھ خریدا تھا۔
وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور عمارہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
عمارہ کا ہاتھ تھام کر ماں کے دئیے ہوئے کنگن اسے پہنا دئیے۔
عمارہ مسکرا کر وہاج کو دیکھنے لگی۔
وہاج بھی مسکرا دیا اور جیب سے دوسری ڈبیہ نکالی جس میں ایک خوبصورت نیکلس تھا۔
وہاج نے آگے بڑھ کر وہ نیکلس عمارہ کو پہنا دیا اور اٹھ کر الماری کی طرف بڑھا ایک فائل عمارہ کی طرف بڑھائی۔
عمارہ نے سوالیہ نظروں سے وہاج کی طرف دیکھا۔
منہ دکھائی کا تخفہ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
عمارہ نے کھول کر دیکھا تو اس میں عمرہ کے چار ٹکٹ اور ویزے تھے۔
ہم سب عمرے پر جا رہے ہیں ولیمے کے بعد اور صرف ہم نہی ماموں جان اور ممانی بھی۔
عمارہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔
شکریہ اتنے پیارے تخفے کے لیے عمارہ وہاج کے کندھے پر سر رکھے آنسو بہانے لگی۔
شکریہ میرا نہی اللہ کا ادا کرتے ہیں چلو آو دو رکعت نفل ادا کرتے ہیں شکرانے کے۔
عمارہ اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی دونوں وضو کرنے کے بعد دو رکعت شکرانے کے نفل ادا کرنے لگے۔
نفل ادا کرنے کے بعد دونوں نے اپنے اچھے مستقبل کے لیے دعا کی۔
اس طرح ایک خوبصورت رات نے تکمیل پائی۔
عمارہ وہاج کی چاہت میں پوری طرح نکھر چکی تھی،یہ “قسمت کا لکھا تھا۔
کون کب،کہاں،کیسے کس کے نصیب میں لکھ دیا جائے یہ سب تو قسمت کا لکھا ہوتا ہے۔
ولیمے کے دو دن وہ لوگ عمرہ ادا کرنے چلے گئے۔
عمارہ کو یہ سب ایک خواب سا لگ رہا تھا،وہاج کے ساتھ گزرتا ہر پل اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتا۔
دونوں ایک دوسرے کے لیے مکمل ہو چکے تھے۔
دو سال بعد اللہ نے انہیں چاند سے بیٹے سے نوازا اور ان کی زندگی کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔
عمارہ گھر کی اکلوتی اور لاڈلی بہو بن گئی۔بیٹے کی خوشی میں اس کی زندگی مزید نکھرتی گئی۔
وہاج کی محبت اس کے خدا کی رحمت ثابت ہوئی۔
اللہ پاک اسی طرح تمام شادی شدہ جوڑوں میں اپنی رحمت کا سایہ قائم رکھے آمین۔
ختم شدہ
