Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 17)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

وہاج۔۔۔۔۔۔!

حسن صاحب چلائے۔

یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟

عمارہ شاہزیب کے نکاح میں ہے۔تم اچھی طرح جانتے ہو۔

نکاح پر نکاح کیسے کر سکتے ہو تم؟

وہاج مسکرا دیا۔

نہی ماموں جان میں نے نکاح پر نکاح نہی کیا۔

آپ کو بتایا نہی ممانی جان نے ابھی تک؟

شاہزیب طلاق دے چکا ہے عمارہ کو,وہ بھی سات سال پہلے۔

وہاج کے جواب پر حسن صاحب اپنی بیگم کی طرف پلٹے۔

مسز حسن گھبرا گئیں,وہاج عمارہ سے نکاح کر لے گا یہ تو وہ سوچ بھی نہی سکتی تھیں۔

جھوٹ بول رہے ہو تم وہاج!

مسز حسن غصے سے وہاج کی طرف بڑھیں۔

اپنے گناہ کا بوجھ میرے بیٹے کے سر ڈال رہے ہو۔

حسن صاحب آپ نہی جانتے اس کی شروع سے نظر تھی ہماری عمارہ پر۔

یاد ہے آپ کو جس دن شاہزیب اور عمارہ کا نکاح ہوا تھا یہ اچانک گھر سے چلا گیا تھا۔

وہ اس لیے کہ اس سے برداشت نہی ہو سکا۔

یہ دل برداشتہ ہو کر یہاں سے چلا گیا تھا اور اب جب اس نے دیکھا کہ شاہزیب اتنے عرصے سے پاکستان نہی آ رہا۔تو یہ واپس چلا آیا۔

عمارہ کو پتہ نہی اس نے کیا کہا ہے۔۔۔کوئی نکاح نہی ہوا ان دونوں کا۔

سب جھوٹ ہے!

مسز حسن جھوٹ پر جھوٹ بولتی گئیں۔

عمارہ نے چونک کر وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج نے نکاح نامے کی کاپی حسن صاحب کی طرف بڑھا دی۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے میری سمجھ سے باہر ہے!

وہ نکاح نامہ دیکھ کر سر تھام کر صوفے پر بیٹھ گئے۔

میں سب بتاتا ہوں آپ کو ماموں جان،وہاج ان کے پاس آیا۔

آج سے سات سال پہلے شاہزیب نے دوسری شادی کر لی تھی۔یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے؟

مگر ایک اور سچ جس سے آپ آج تک انجان تھے۔شاہزیب نے عمارہ کو طلاق بھی دی تھی دوسری شادی کرنے کے بعد۔

اس طلاق کی خبر بس ممانی جان کو تھی,انہوں نے بڑے احسن طریقے سے یہ راز ہم سب سے اب تک چھپائے رکھا۔

شاید یہ سچائی ہمارے سامنے کبھی آتی بھی ناں اگر میری ملاقات اچانک شاہزیب اور اس کی بیوی سے نا ہوتی۔

شاہزیب کے ساتھ لڑکی کو دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا۔

پہلے مجھے لگا شاید میرا وہم تھا،کسی اور کو دیکھا میں نے۔مگر جب دوسری دفعہ میں نے ان دونوں کو دوبارہ دیکھا تو یقین ہوا کہ یہ شاہزیب ہی ہے۔

جس فلیٹ میں میری رہائش تھی اس کے پاس ہی ایک ہوٹل میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ ٹہرا ہوا تھا۔

میں اچانک اس کے سامنے گیا تو وہ ڈر گیا اور مجھے سائیڈ پر لے گیا۔

میری منتیں کرنے لگا کہ اس لڑکی کے سامنے عمارہ کا ذکر مت کرنا۔

یہ میری بیوی ہے،اگر اسے میری پاکستان میں ہوئی شادی کا پتہ چل گیا تو مجھے جیل بھیج دے گی۔

لیکن عمارہ کا کیا جس سے تم نکاح کر کے اپنے نام پر آٹھ سال سے تنہا چھوڑے ہوئے ہو؟

میرے سوال پر شاہزیب کا جواب نے میرے ہوش اڑا دئیے۔

کونسا نکاح وہاج؟

کیا تم نہی جانتے کہ میں عمارہ کو طلاق دے چکا ہوں؟

مام نے بتایا نہی آپ سب کو’میں نے سات سات پہلے ہی طلاق دے دی تھی عمارہ کو۔

شاہزیب کے انکشافات پر میں حیران رہ گیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ واپس جا کر عمارہ کو اس بے نام رشتے سے نجات دلاوں گا۔

سچ کیا ہے بتاو مجھے؟

حسن صاحب غصے سے مسز حسن کی طرف بڑھے۔

کککونسا سچ؟

مسز حسن ہکلاتی ہوِئی بولیں۔

سچ یہ ہے کہ وہاج نے عمارہ سے نکاح پر نکاح کیا ہے،آپ پولیس بلوائیں اور جیل بھیجیں اسے ابھی۔

اگر یہ سچ ہوا تو میں خود وہاج کو جیل بھجواوں گا۔

تم مجھے یہ بتاو شاہزیب نے عمارہ کو طلاق دی ہے یا نہی؟

حسن صاحب غصے سے چلائے۔

کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ حسن صاحب؟

آپ کو اپنی شریکِ حیات سے زیادہ اپنے بھانجے پر یقین ہے۔

میں کیوں چھپاوں گی اتنی بڑی بات؟

یہ سب وہاج جھوٹ بول رہا ہے،یہ بس عمارہ کو حاصل کرنا چاہتا ہے کسی بھی طرح سے۔

آپ پوچھیں اس کے پاس کیا ثبوت ہے کہ شاہزیب طلاق دے چکا ہے عمارہ کو۔

بتاو وہاج کیا ثبوت ہے تمہارے پاس اس طلاق کا؟

مسز حسن غصے سے وہاج کی طرف بڑھے۔

طلاق نامہ تو آپ کے پاس ہے ممانی جان!

آپ دکھائیں سب کو شاہزیب کا سات سال پہلے بھیجا ہوا طلاق نامہ۔

کونسا طلاق نامہ؟

تم جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہو وہاج!

نکل جاو میرے گھر سے’تم جیسے دھوکے باز لوگوں کے لیے میرے گھر میں کوئی جگہ نہی ہے۔

جا رہے ہیں ہم یہاں سے بھابی آپ فکر مت کریں!

ہم دوبارہ اس گھر میں کبھی قدم نہی رکھیں گے۔اس گھر سے میرے بیٹے کو دکھوں کے سوا کچھ نہی ملا۔

مسز احمد بھی اپنے دل کا غبار نکالنے لگیں۔

چلو عمارہ!

وہاج اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔

عمارہ کہی نہی جائے گی!

مسز حسن ان دونوں کے راستے میں آ گئیں۔

عمارہ میری بیوی ہے ممانی جان،یہ میرے ساتھ ہی جائے گی۔

وہاج غصے سے بولا۔

رک جاو وہاج!

حسن صاحب بھی وہی آ گئے۔

تم عمارہ کو ایسے نہی لے کر جا سکتے!

مجھے ثبوت چاہیے شاہزیب اور عمارہ کی طلاق کا!

شاہزیب سے خود کیوں نہی بات کر لیتے آپ بھائی صاحب!

وہاج کے بابا نے ان کو متوجہ کیا۔

حسن صاحب نے مسز حسن کی طرف دیکھا،جس کا مطلب تھا کہ شاہزیب کو کال کرو۔

مسز حسن ان کا اشارہ سمجھ گئیں اور کانپتے ہاتھوں سے شاہزیب کا نمبر ڈائل کر کے حسن صاحب کی طرف بڑھایا۔

جی مام!

شاہزیب کی خوش باش سی آواز سب کے کانوں میں پڑی۔

فون کا سپیکر آن تھا۔

مام کے بچے!

میں بات کر رہا ہوں تیرا باپ!

حسن صاحب غصے سے بولے۔

ججججی ڈیڈ!

شاہزیب ہکلاتے ہوئے بولا۔

کیسے ہیں آپ ڈیڈ؟

آپ نے مجھے خود کال کی میں بتا نہی سکتا میں کتنا خوش ہوں۔

ہاں وہ تو تمہاری آواز کی گھبراہٹ سے ہی پتہ چل رہا ہے۔

اب میری بات کان کھول کر سنو!

جو پوچھوں گا۔اس کا سچ سچ جواب چاہیے مجھے،اگر جھوٹ بولا تو مجھ سے برا کوئی نہی ہو گا۔

جی ڈیڈ۔۔۔آپ پوچھیں جو بھی پوچھنا ہے۔

کیا تم عمارہ کو طلاق دے چکے ہو؟

حسن صاحب کی آواز غصے بھری تھی۔

مسز حسن کو اپنے پاوں تلے زمین سرکتی محسوس ہونے لگی۔

سب دم سادھے شاہزیب کے جواب کا انتظار کرنے لگے۔

آپ سے کس نے کہہ دیا ڈیڈ؟

شاہزیب کے جواب پر مسز حسن کو امید کی ایک کرن سی دکھائی دی۔

ڈیڈ میں عمارہ کو طلاق کیوں دوں گا،میری بیوی ہے وہ۔

پچھلے آٹھ سال سے میں اس رشتے میں بندھا ہوا ہوں۔اگر مجھے طلاق ہی دینی ہوتی تو میں یہ نکاح ہی نہ کرتا۔

مانتا ہوں یہ نکاح میری مرضی کے خلاف ہوا تھا۔مگر عمارہ کو طلاق دینے کا میں سوچ بھی نہی سکتا۔

بہت جلد واپس آنے والا ہوں میں،شادی کر کے عمارہ کو اپنے ساتھ لے جانے۔

عمارہ بہت اچھی لڑکی ہے،مجھے یقین ہے وہ مجھے دوسری شادی کے لیے معاف کر دے گی۔

جو بھی ہو وہ میری بیوی ہے،اس کا حق ہے مجھ پر۔اب اور اپنے انتظار میں نہی بٹھا سکتا میں۔

تو تمہارا کہنا ہے کہ تم نے عمارہ کو طلاق نہی دی؟

حسن صاحب وہاج کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

وہاج غصے سے مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا۔شاہزیب اس طرح انکار کر دے گا اس کے وہم و گمان میں بھی نہی تھا۔

جی ڈیڈ میں نے عمارہ کو طلاق نہی دی۔۔۔شاہزیب نے بڑے اطمیننان سے جواب دیا۔

مسز حسن نے گردن اکڑاتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج غصے سےحسن صاحب کی طرف بڑھا۔ان کے ہاتھ سے فون لے لیا۔

“شاہزیب سچ کیا ہے بتاو ماموں جان کو؟

وہاج کی آواز پر شاہزیب چونک گیا۔مگر اگلے ہی پل خود کو سنبھال لیا۔

کیسا سچ وہاج؟

الٹا اس نے وہاج سے ہی سوال کر ڈالا۔

“تم عمارہ کو طلاق دے چکے ہو,بتاو ماموں جان کو۔

وہاج غصے سے چلایا۔

کیسی باتیں کر رہے ہو تم وہاج؟

کس نے کہہ دیا تم سب سے کہ میں عمارہ کو طلاق دے چکا ہوں۔

کسی نے کہا اور تم سب نے مان لیا؟

حیرت ہو رہی ہے مجھے سب گھر والوں پر!

شاہزیب کمال مہارت سے جھوٹ پر جھوٹ بولتا چلا گیا۔

شاہزیب تم ٹھیک نہی کر رہے!

سب جانتا ہوں میں،کس کے کہنے پر تم جھوٹ بول رہے ہو۔

مگر ایک بات میری کان کھول کر سن لو۔

“عمارہ اب میری بیوی ہے!

“عمارہ کا نام بھی دوبارہ تمہاری زبان پر آیا تو زبان کاٹ دوں گا میں تمہاری,,

کیا بکواس ہے یہ؟

شاہزیب غصے سے چلایا۔

عمارہ میرے نکاح میں ہے۔تم اسے اپنی بیوی کیسے کہہ سکتے ہو؟

“شوہر ہونے کی حیثیت سے!

وہاج نے مختصر جواب دیا۔

حسن صاحب نے آگے بڑھ کر وہاج کے ہاتھ سے فون لے کر کال کاٹ دی۔

اب کیا جواب دو گے وہاج؟

ان کا لہجہ طنزیہ تھا۔

“میں اپنی بات سے پیچھے نہی ہٹو گا ماموں جان,عمارہ میری بیوی ہے۔یہی سچ ہے۔

حسن صاحب نے ایک زور دار تھپڑ وہاج کے گال پر لگایا۔

احمد صاحب،حمزہ،ولی اور عاصم سب تیزی سے آگے بڑھے۔

بھائی صاحب!

احمد صاحب غصے سے چلائے۔

تم اب بھی مجھ پر چلا رہے ہو احمد؟

حسن صاحب بھی غصے سے چلائے۔

واہ کیا تربیت کی ہے تم نے اپنے بیٹے کی’بلکل اپنے جیسی!

جیسا باپ،ویسا بیٹا!

تم نے بھی تو ایسا ہی کیا تھا ناں،چپ چاپ میری بہن سے نکاح کر لیا۔

نکاح کرنے کے بعد اسے گھر لے آئے۔۔۔اگر اس نکاح میں بابا کی رضا مندی شامل نہ ہوتی تو میں اسی دن تم دونوں کے دھکے دے کر اس گھر سے بے دخل کر دیتا۔

مگر بابا کی رضا مندی نے میرے ہاتھ باندھ دئیے تھے۔اور حسین بھائی صاحب۔۔۔وہ تو تمہارے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہی تھے۔

مجھ سے ہی غلطی ہوئی،جو تمہارے بیٹے کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دی۔

میں نہی جانتا تھا کہ یہ آستین کا سانپ نکلے گا بلکل تمہاری طرح۔

ہماری نکاح بابا جان کی مرضی سے ہوا تھا حسن صاحب!

کیونکہ آپ اپنی بہن کو اپنے شرابی اور جواری سالے سے کے گلے باندھنا چاہتے تھے۔

ان سب باتوں کو میرے بیٹے کی زندگی سے جوڑنے کی کوشش مت کریں آپ!

سچ کیا تھا سب جانتے تھے۔

میری تربیت پر انگلی اٹھانے سے پہلے اگر آپ ایک نظر اپنے بیٹے کی تربیت پر ڈال لیں تو اچھا ہو گا۔

آپ کا بیٹا تو بس ایک سال ہی اس نکاح کا بوجھ برداشت کر سکا۔

ایک بے دین لڑکی سے شادی رچا لی!

مگر میرے بیٹے نے اپنی محبت کی خاطر زندگی کے آٹھ سال گنوا دئیے۔

واپس آیا بھی تو اپنی محبت کی خاطر!

اپنی محبت کا ساتھ نہی چھوڑا۔اور آپ کا بیٹا شوہر ہونے کا حق بھی ادا نہی کر سکا۔

دیکھ لیں آج قسمت بھی میرے بیٹے کے ساتھ ہے۔

عمارہ اس کی بیوی ہے اب!

جھوٹ کی زیادہ عمر نہی ہوتی۔

احمد صاحب مسز حسن کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

ثبوت چاہیے ناں آپ سب کو شاہزیب کی طلاق کا؟

“ثبوت ملے گا!

بس دس دن کا وقت چاہیے وہاج کو!

دسویں دن ثبوت آپ کے سامنے ہو گا۔

میرا وعدہ ہے آپ سب سے!

حسن صاحب غصے سے عمارہ کی طرف بڑھے۔

عمارہ اپنے کمرے میں جاو!

وہ غصے سے چلائے۔

عمارہ ڈر کر پیچھے ہٹی اور وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج نے سر نفی میں ہلایا اور عمارہ اور حسن صاحب کے درمیان آ رکا۔

“عمارہ میرے ساتھ جائے گی ماموں جان۔

جب تک تم یہ بات ثابت نہی کر دیتے کہ شاہزہب عمارہ کو طلاق دے چکا ہے۔

عمارہ کہی نہی جا سکتی تب تک!

دس دن کا وقت ہے تمہارے پاس,اس کے بعد تم تا عمر جیل میں رہو گے۔

اس کی نوبت نہی آئے گی ماموں جان!

دس دن بہت ہیں میرے لیے۔

مگر میری بھی ایک شرط ہے؟

“میری بیوی کی حفاظت آپ کے زمے ہے,جس طرح میں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔مجھے اسی حال میں واپس چاہیے۔

کسی بھی طرح کی نا انصافی برداشت نہی کروں گا میں,ورنہ انجام کے زمہ دار آپ سب ہو گے,,

عمارہ چلو اپنے کمرے میں،وہاج اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔

عمارہ کے کمرے میں پہنچ کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

عمارہ آنسو بہا رہی تھی۔

وہاج آپ مجھے چھوڑ کر مت جائیں,مجھے چچی جان سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔

عمارہ وہاج کے ہاتھ تھامے بولی۔

وہاج نے ہاتھ بڑھا کر عمارہ کے آنسو صاف کیے۔

ان آنکھوں میں آنسو مت آنے دینا دوبارہ۔

بس دس دن کی بات ہے عمارہ!

پھر سچ سب کے سامنے ہو گا۔

کچھ بھی ہو،تم ہمت مت ہارنا۔

“میرا انتظار کرنا،میں واپس آوں گا۔

وہاج چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا۔

ازیت کے ان لمحات میں بھی یہ شخص مسکرا رہا تھا،عمارہ آنسو بہاتی ہوئی وہاج کے کندھے پر سر ٹکا گئی۔

وہاج نے اس کے گرد بازو پھیلا دئیے اور آنکھیں بند کیے ان لمحوں کو محسوس کرنے لگا۔

عمارہ کے پیشانی پر ہونٹ رکھ دئیے۔عمارہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔

ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے،مام یہی ہیں تمہارے پاس۔

اب مجھے چلنا ہو گا!

وہاج عمارہ کو خود سے الگ کرتے ہوئے تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

مام آپ یہی رکیں عمارہ کے ساتھ،میں اور ڈیڈ جلدی واپس آئیں گے۔

ماں کے گلے لگتے ہوئے وہاج ایک آخری نظر مسز حسن پر ڈالتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا تو نظر ٹیرس پر کھڑی عمارہ پر پڑی۔

عمارہ آنسو بہاتی ہوئی وہاج کوجاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

وہاج ظبط سے مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔

احمد صاحب گاڑی میں بیٹھے تو وہاج نے گاڑی سٹارٹ کر دی اور گیٹ پار کر گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *