Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 07)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

اگلے دن وہاح صبح صبح ہی گھر سے نکل گیا۔

عمارہ پورا دن وہاج کے کمرے سے نکلنے کا انتظار کرتی رہی۔مگر وہ باہر نہی آیا۔

اس نے پھوپھو کو وہاج سے فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا۔

تو پتہ چلا کہ وہاج صبح سے گھر میں نہی ہے۔

وہ اسے گھر بلا رہی تھیں۔ولیمے کے فنکشن کے لیے۔

مگر وہاج انکار کر رہا تھا۔

آخر تھک ہار کر انہوں نے فون بند کر دیا۔

کیا ہوا پھوپھو سب خیریت ہے ناں؟

عمارہ ان کے پاس آ بیٹھی!

ہاں بیٹا سب خیریت ہے۔بس یہ وہاج نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔

صبح سے باہر نکلا ہوا ہے دوستوں کے ساتھ۔

اب فون کر کے گھر بلا رہی ہوں تو کہہ رہا ہے۔آج کا فنکشن اٹینڈ نہی کر سکے گا۔

بھائی صاحب پوچھ رہے ہیں کب سے وہاج کا۔

اب ان کو کیا جواب دوں میں؟

پھوپھو آپ پریشان نا ہو۔

وہاج آ جائیں گے۔ کوئی ضروری کام ہو گا۔

آپ جا کر تیار ہو جائیں پھوپھو۔

سب تیار ہو چکے ہیں۔بس ہم دونوں ہی رہ گئی ہیں۔

ہاں میں جاتی ہوں!

تم بھی آ جاو تیار ہو کر میرے بچی۔

وہ عمارہ کو پیار کرتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔

عمارہ کی نظر پھوپھو کے فون پر پڑی!

عمارہ نے فون اٹھا لیا۔

لاسٹ ڈائیلنگ وہاج کی تھی۔

عمارہ نے وہاج کا نمبر ڈائل کیا۔

مام۔۔۔میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں میں نہی آ رہا۔پھر کیوں آپ بار بار فون کر رہی ہیں۔

آپ پلیز بابا اور اپنی چہیتی عمارہ کے ساتھ چلی جائیں۔

“میں ان کی چہیتی عمارہ ہی بات کر رہی ہوں!

عمارہ کی آواز پر وہاج چونک گیا۔

عمارہ۔۔۔۔!

تم نے مجھے کال کی۔۔؟

وہاج کو یقین نہی آ رہا تھا کہ عمارہ نے اسے کال کی ہے۔

جی میں نے آپ ہی کو کال کی ہے وہاج!

کہاں ہیں آپ صبح سے؟

میں تو سمجھ رہی تھی آپ اپنے کمرے میں ہیں صبح سے۔

مگر ابھی پتہ چلا آپ گھر پر ہی نہی ہیں۔

کب تک آ رہے ہیں آپ۔۔۔؟

عمارہ سوال پر سوال کر رہی تھی۔

وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

“تم مجھے مِس کر رہی تھی ناں؟

وہاج کی آواز پر عمارہ کو چپ لگ گئی۔

نہی۔۔میں آپ کو کیوں یاد کروں گی!

وہ تو پھوپھو پریشان ہو رہی تھی اسی لیے میں نے سوچا میں فون کر کہ کہہ دوں آپ کو آنے کے لیے۔شاید میری بات مان لیں آپ۔

وہاج لمبی ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا عمارہ کے جواب پر۔

ٹھیک ہے تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا؟

میرا جواب اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔

خدا حافظ!

وہاج۔۔!

وہاج کال کاٹنے ہی لگا تھا کہ عمارہ بول پڑی۔

پلیز آپ آ جائیں ناں!

پھوپھو بہت پریشان ہیں۔

عمارہ نے پھر سے کوشش کی۔

اور تم عمارہ۔۔۔۔؟

کیا تم پریشان نہی ہو میرے لیے؟

وہاج نے عمارہ کو پھر سے کشمکش میں ڈال دیا۔

عمارہ سوچ میں پڑ گئی۔

پھوپھو پریشان ہیں تو میں بھی پریشان ہوں۔

آپ تو جانتے ہی ہیں پھوپھو کو پریشان نہی دیکھ سکتی میں۔

“اس کا مطلب تم پھوپھو کے لیے پریشان ہو میرے لیے نہی؟

وہاج نے پھر سے سوال کر ڈالا۔

سوری عمارہ!

میں نہی آ سکتا۔۔۔تم مام کے ساتھ چلی جانا۔

وہاج نے عمارہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کال کاٹ دی۔

عمارہ نے دوبارہ کال ملائی تو وہاج کا نمبر بند تھا۔

عمارہ مایوس ہوتے ہوئے تیار ہونے میں مصروف ہو گئی۔

کچھ دیر بعد عمارہ تیار ہو کر نیچے پہنچ گئی۔

وہاج کا لایا ہوا گرے ڈریس پہنے۔

بالوں کا خوبصورت جوڑا بنایا ہوا۔۔ساتھ میں ماتھے پر ماتھا پٹی۔

کانوں میں جھمکے اور گلے میں خوبصورت ہار،ہاتھوں میں چوڑیاں۔

پاوں میں پائلز اور ہیلز!

ہلکے سے میک اپ میں بھی اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔

وہ تھی ہی اتنی پیاری اسے زیادہ میک اپ لگانے کی ضرورت ہی نہی پڑتی تھی۔

سفید رنگت،لمبی گھنی پلکیں،بڑی بڑی آنکھیں،اور اس کے ہونٹ کے پاس بنا تِِِِل،اسے سب سے نمایاں بناتا تھا۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ سادگی میں بھی اپنی مثال آپ لگ رہی تھی۔

دوسری طرف منیبہ تھی۔جس کے لمبے بال کھلے ہوئے۔

سلیو لیس ڈریس،ڈوپٹے کا تو کوئی نام و نشان ہی نہی تھا۔

حیا نام کی کوئی چیز ہی نہی تھی اس میں۔

بات سن اے لڑکی!

مسز حسن نے عمارہ کو مخاطب کیا۔

جی چچی جان!

عمارہ بہت ادب سے ان کی طرف مڑی۔

وہ عمارہ کو لے کر مہمانوں سے زرا دور جا رکیں۔

یہ اتنے مہنگے کپڑے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟

کل بھی تم نے جو جوڑا پہنا تھا وہ بھی بہت مہنگا تھا۔

جو میں نے تمہیں انیسہ کا جوڑا دیا تھا وہ تو نہی پہنا تم نے!

یہ دو نئے جوڑے کیسے خریدے تم نے؟

اتنے سارے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟

ان کے سوالات پر زرتشہ گھبرا گئی۔

چچی جان وہ میں سلیو لیس کپڑے نہی پہنتی آپ تو جانتی ہیں ناں!

ہاں ہاں وہ تو میں جانتی ہوں’تم بات کو گول مول مت کرو۔

یہ کپڑے کہاں سے آئے تمہارے پاس یہ بتاو مجھے!

“میں نے گفٹ کیے ہیں یہ ڈریس عمارہ کو!

پیچھے سے آنے والی آواز پر عمارہ چونک کر پلٹی!

وہاج گرے پینٹ کوٹ،وائٹ شرٹ پر گرے واسکٹ اور گرے ہی ٹائی پہنے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے عمارہ کے برابر آ رکا۔

دونوں کے ڈریسز کلر آج بھی میچنگ تھے۔

عمارہ حیران رہ گئی وہاج کو اپنے ساتھ کھڑے دیکھ کر۔

مسز حسن کے چہرے کے تیور بدلے وہاج کو سامنے دیکھ کر۔

ان کو منیبہ کی رات والی حالت یاد آ گئی۔

وہ بنا کچھ بولے آگے بڑھ گئیں۔

پھر واپس پلٹیں۔

آ جاو تم دیر ہو رہی ہے’بیٹھو جا کر گاڑی میں!

ان کا رخ عمارہ کی طرف تھا۔

“ممانی جان آپ پریشان مت ہو!

“عمارہ میرے ساتھ جائے گی میری گاڑی میں!

آپ کو کوئی پریشانی تو نہی؟

وہاج کی بات وہ چونکی!

نہی۔۔۔کوئی پریشانی نہی ہے۔

لے جاو اپنے ساتھ اسے۔

وہ بگڑے تیوڑ لیے آگے بڑھ گئیں۔

وہاج عمارہ کی طرف پلٹا،چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔

چلیں مسز!

میرا مطلب مسز شاہزیب۔۔۔

عمارہ نے ناراضگی سے وہاج کی طرف دیکھا۔

آپ تو کہہ رہے تھے کہ نہی آنا آپ نے؟

عمارہ ناراضگی سے بولی۔

واپس چلا جاوں’اگر میرا آنا اچھا نہی لگا تمہیں؟

وہاج بدمزہ ہوتے ہوئے بولا۔

نہی۔۔۔میرا وہ مطلب نہی تھا!

ویسے میں حیران ہوں۔آپ نے بھی جھوٹ بولنا سیکھ لیا ہے۔

عمارہ کا لہجہ تھوڑا طنزیہ تھا۔

“وقت بہت کچھ سکھا دیتا ہے عمارہ!

تم بھی تو جھوٹ بولتی ہو مجھ سے!

کیا جھوٹ بولتی ہوں میں؟

عمارہ کو تو جیسے صدمہ لگا وہاج کی بات پر۔

نہی کچھ نہی پھر کبھی بتاوں گا۔چھوڑو یہ سب!

بہت پیاری لگ رہی ہو!

وہاج عمارہ کی تعریف کرنے لگ پڑا۔

ہاں وہ تو میں جانتی ہوں!

آپ بات کو پلٹنے کی کوشش مت کریں۔

یہ بتائیں میں نے کیا جھوٹ بولا ہے آپ سے؟

یہی کہ تم مجھے مِس کر رہی تھی صبح سے!

وہاج کی بات پر عمارہ نظریں چرا گئی۔

چلیں ہمیں دیر ہو رہی ہے وہاج!

عمارہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔

وہاج نے کندھے اچکا دئیے۔

وہاج کی ماما اور بابا بھی وہیں آ گئے۔

ماشااللہ۔۔۔دونوں کتنے اچھے لگ رہے ہیں ایک ساتھ!

وہاج کی ماما اس کے بابا کے کان میں آہستہ سے بولیں۔

ہاں جی۔۔۔وہ بھی مسکرا دئیے۔

وہ آگے بڑھیں اور باری باری دونوں کا ماتھا چوم لیا۔

اللہ میرے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہر بری نظر سے بچائے۔۔آمین

آمین۔۔۔وہاج کے آمین کہنے پر عمارہ نے چونک کر وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج مسکرا دیا۔

پھوپھو نے ایسا کیوں کہاں عمارہ کچھ سمجھ نہی سکی۔

مگر پھوپھو کی آنکھوں کی چمک عمارہ کو کچھ اور ہی سمجھانا چاہ رہی تھی۔

وہی جو وہ سمجھنا نہی چاہتی تھی۔

پتہ نہی آجکل پھوپھو کو بھی کیا ہو گیا ہے!

عمارہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔

ارے چلو بھئی دیر ہو رہی ہے سب ہال کے لیے نکل چکے ہیں۔

وہاج کے بابا کی آواز پر سب مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔

وہاج نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور وہاج کے بابا اس کے ساتھ بیٹھ گئے فرنٹ سیٹ پر۔

عمارہ اور وہاج کی ماما پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔

وہاج کی نظر بار بیک ویو مرر سے نظر آتے عمارہ کے مسکراتے چہرے پر بھٹک رہی تھی۔

وہ مسکراتے ہوئے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔

“اسے لگتا ہوں میں اِک افسانہ سا۔

“اس کی آنکھوں کی مستی۔

آنکھیں بولتی ہیں اِک افسانہ سا۔

اس کی آنکھوں میں سمایا میں۔

وہ جو ہنستی ہے تو ہنستا ہوں میں۔

میں لگتا ہوں اب دیوانہ سا ۔

کہتی ہے وہ مجھے پاگل ہوں میں!

مگر نہی سمجھتی پاگل کیوں ہوں میں۔۔

اس کی آنکھوں کہتی ہیں اِک افسانہ سا۔

اسے لگتا ہوں میں اِک افسانہ سا۔

وہاج گاڑی پارک کر کے واپس آیا تو وہ سب اندر کی طرف بڑھ گئے۔

ہال میں اونچی آواز میں بجتے سپیکرز کا شور پھیلا ہوا تھا۔

وہ لوگ ایک خالی ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔

ولی اور حمزہ بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔

ہم چلتے ہیں کہی اور بچوں کے درمیان ہمارا کیا کام!

مسز احمد مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑِی ہوئی۔

احمد صاحب بھی ان کے ساتھ چل پڑے۔

کہاں تھے آپ صبح سے؟

حمزہ کال ڈرنک کا گلاس بھرتے ہوئے بولا۔

بس ایسے ہی دوستوں کو ساتھ مصروف تھا۔

وہاج نے مختصر جواب دیا۔

آو نا وہاج بھائی سٹیج پر چلتے ہیں۔ولی وہاج کا بازو تھامتے ہوئے بولا۔

نہی نہی۔۔۔میں یہی ٹھیک ہوں بڈیز تم لوگ انجوائے کرو۔

مجھے عمارہ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے اکیلے میں۔۔!

اوکے برو۔۔۔وہ دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

عمارہ گھبرا گئی۔

مجھ سے کیا بات کرنی ہے وہاج آپ کو؟

عمارہ گھبراتے ہوئے بولی۔

یہاں نہی۔۔۔!

آو باہر چل کر بات کرتے ہیں یہاں بہت شور ہے۔

وہاج عمارہ کا ہاتھ تھامے اسے ہال کے ساتھ بنے گارڈن میں لے گیا۔

دور ایک درخت کے پاس لگے بینچ پر دونوں بیٹھ گئے۔

وہاج آپ کیا کر رہے ہیں یہ سب؟

اگر کسی نے دیکھ لیا تو خوامخواہ کوئی ایشو بن جائے گا۔

عمارہ گھبراتے ہوئے بولی۔

تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے عمارہ!

تم سے زیادہ فکر ہے مجھے تمہاری عزت کی۔

سب کا دھیان سٹیج کی طرف ہی تھا جب ہم یہاں آئے ہیں۔

عمارہ مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ممانی جان کے بارے میں!

چچی جان کے بارے میں؟

عمارہ نے سوچ بھری نگاہوں سے وہاج کی طرف دیکھا۔

ہاں عمارہ ممانی جان کے بارے میں اور شاہزیب کے بارے میں۔

لیکن اس سے پہلے تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا۔

وہاج نے اپنا ہاتھ عمارہ کی طرف بڑھایا۔

کیا وعدہ۔۔؟

عمارہ نے سوالیہ نظروں سے وہاج کی طرف دیکھا۔

عمارہ تمہیں مجھ پر یقین کرنا ہو گا!

میری کہی ہر بات پر یقین کرنا پڑے گا تمہیں۔

تو بولو کرو گی میرا یقین؟

وعدہ کرتی ہو مجھ سے؟

عمارہ حیران و پریشان سی وہاج کو دیکھنے لگی۔

وہاج آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟

آپ جانتے ہیں میں خود سے زیادہ یقین کرتی ہوں آپ پر۔۔۔!

تو پھر اس سوال کا کیا مطلب ہوا؟

عمارہ نے وہاج کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

وہاج نے عمارہ کا ہاتھ مظبوطی سے تھام کر چھوڑ دیا۔

عمارہ کل رات تم نے کمرے میں جو کچھ دیکھا حقیقت اس کے برعکس ہے۔

منیبہ خوامخواہ میرے گلے پڑ رہی تھی۔

جو تم نے دیکھا ویسا بلکل نہی تھا۔

میں نے منیبہ کے کندھوں پر ہاتھ اس لیے رکھے تا کہ اسے خود سے دور ہٹا سکوں!

اسی وقت تم کمرے میں آ گئی۔۔اور تمہیں لگا کہ ہم دونوں۔۔۔۔اس سے آگے وہاج کچھ نہی بول سکا۔

جب سے میں واپس آیا ہوں تب سے ہی اس کی یہی حرکتیں رہی ہیں۔

اب تو وہ اپنی حدیں بھولنے لگی ہے۔

اسی لیے میں اب مزید یہاں رکنا نہی چاہتا۔

میں کل صبح ہی واپس جا رہا ہوں گھر!

مگر اکیلا نہی!

تم ساتھ چل رہی ہو میرے۔

“بس اب بہت ہو گیا عمارہ!

میں تمہیں مزید اس حال میں نہی دیکھ سکتا۔

میں آپ کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں،یہ میرا گھر ہے۔

“اپنے گھر اور گھر والوں کو چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں میں۔

ہاں میں مانتی ہوں شاہزیب کو میری فکر نہی ہے!

وہ تھوڑے لا پرواہ ہیں!

مگر آخر کار انہیں میرے پاس ہی واپس آنا ہے۔

“شاہزیب اب کبھی واپس نہی آنے والا عمارہ!

یہ گھر والے جن کو تم اپنا سمجھتی ہو۔

ان لوگوں نے بس ہمیشہ تمہں اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔

“تمہاری خوشی یا غم سے کوئی فرق نہی پڑتا ان سب کو۔

“عمارہ آنکھیں کھولو!

اپنے اردگرد دھیان دو۔۔کون اپنا ہے کون پرایا سب سمجھ آ جائے گی تمہیں۔

کیا مطلب شاہزیب واپس نہی آئے گا؟

ہمارا نکاح ہوا ہے’میرے لیے واپس آنا ہو گا اسے۔

عمارہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

وہ کبھی واپس نہی آئے گا عمارہ!

“شاہزیب تمہیں طلاق دے چکا ہے!

ختم کر چکا ہے وہ اس رشتے کو!

اس نکاح کو ختم کر چکا ہے وہ۔۔۔آج سے سات سال پہلے۔

عمارہ بے یقینی سے وہاج کی طرف دیکھنے لگی۔

اس نے سر نفی میں ہلایا۔

نہی۔۔۔ایسا نہی ہو سکتا!

عمارہ نے وہاج کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ دے مارا۔اور وہاج کا گریبان تھام لیا۔

جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں آپ!

وہاج آپ کو کوئی حق نہی ہے کہ آپ میری زندگی میں دخل اندازی کریں۔

“آپ چلے جائیں میری زندگی سے!

سکون سے جینے دیں مجھے۔

میرے شوہر کو مجھ سے مت چھینیں آپ!

آپ اپنے مفاد کی خاطر شاہزیب پر الزامات لگا کر بدگمان کرنا چاہتے ہیں مجھ سے۔

آپ بس ہر حال میں مجھے حاصل کرنا چاہتے ہیں!

بس وہاج اب اور نہی!

چلے جائیں میری زندگی سے!

عمارہ وہاج کا گریبان چھوڑتی ہوئی تیزی سے وہاں سے نکل گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *