Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha (Episode 03)

Kismat Ka Likha by Khanzadi

وہاج کمرے میں آ کر سٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا۔

کمرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

درمیان میں بڑا سا پردہ لگا کر ایک طرف سٹڈی روم بنایا ہوا تھا۔اور دوسری طرف بیڈ روم۔

وہی الماریاں،وہی بکس،ہر چیز اپنی جگہ پر تھی۔

وہاج کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ٹیبل پر سر رکھ کر سوچوں میں گم ہو گیا۔

“تم کہتی ہو مجھ سے محبت نہی کرتی’

یہ محبت نہی تو اور کیا ہے عمارہ؟

“یہ محبت نہی تو اور کیا ہے؟

“انسانیت!

وہاج مسکرایا۔

“نہی عمارہ اسے انسانیت نہی محبت کہتے ہیں”

“وہ محبت جو تمہارے دل میں میرے لیے ہے’جو تم کئی سالوں سے دل میں چھپائے بیٹھی ہو”

مجھے آج بھی یاد ہے تمہاری آنکھوں کی وہ خوشی جو میری محبت کا اظہار سن کر تمہاری آنکھوں میں اتری تھی۔

“عمارہ کا میٹرک کا آخری پریکٹیکل تھا آج’وہ جیسے ہی گھر آئی وہاج کے کمرے کی طرف بھاگی۔

وہاج بھائی۔۔۔!

وہاج بھائی۔۔!

وہی بات جس سے وہاج کو چڑ تھی وہ بولتی چلی جا رہی تھی۔

وہاج سٹڈی روم میں بیٹھا پڑھ رہا تھا۔

اس کے کانوں میں عمارہ کی آواز پڑھی تو سر تھام کر رہ گیا۔

“یہ لڑکی پتہ نہی کب مجھے بھاِئی بولنا چھوڑے گی!

نہی اب اور نہی!

“آج اس پاگل لڑکی کو بتا ہی دیتا ہوں کہ میں بھائی نہی ہوں اس کا۔

عمارہ سٹڈی روم میں داخل ہوئی۔

وہاج بھائی کیا بات ہے؟

میں کب سے آوازیں دے رہی ہوں آپ کو اور آپ یہاں بیٹھے ہیں۔

کم ازکم آواز ہی دے دیں آپ کہ یہاں بیٹھے ہیں۔

وہاج میز پر کہنی ٹکائے دایاں ہاتھ گال پر ٹکائے فرصت سے عمارہ کو دیکھنے میں مصروف تھا۔

وہاج بھائی۔۔۔!

عمارہ چلائی۔

وہاج مسکرا دیا۔

آو بیٹھو عمارہ!

عمارہ کو کرسی پر بیٹھنے کو بولا۔

عمارہ جلتی بھنتی کرسی پر بیٹھ گئی۔

کب سے آوازیں دے رہی ہوں آپ کو وہاج۔۔۔۔۔!

اس سے پہلے کہ عمارہ بھائی بولتی وہاج کرسی کھینچتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

عمارہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے وہاج کو دیکھنے لگی۔

“عمارہ ایک بات آج میری کان کھول کر سُن لو میں تمہارا بھائی نہی ہوں۔

“آج کے بعد مجھے بھائی نہی بولنا تم!

مسکراتے ہوئے وہاج نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔

بھائِی نہی ہیں آپ میرے تو اور کیا ہیں؟

عمارہ وہاج کی طرف نا سمجھی سے دیکھتے ہوئے بولی۔

“میں تمہارا ہونے والا شوہر ہوں اور شوہر کو بھائی نہی بولتے”

عمارہ منہ پر ہاتھ رکھ کر وہاج کی طرف دیکھنے لگی۔

وہاج مسکرا دیا۔

“اب سمجھ آ گئی کیوں برا لگتا ہے مجھے تمہارا مجھے وہاج بھائی کہنا۔

آپ بہت برے ہیں وہاج بھ۔۔۔!

عمارہ پھر سے وہاج بھائی بولنے لگی تھی۔

وہاج کے گھورنے پر رک گئی۔

بھاڑ میں جائیں آپ!

عمارہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی۔

وہاج نے اسے دوبارہ کرسی پر بٹھا دیا۔

دونوں ہاتھ کرسی پر جمائے عمارہ کی طرف جھکا۔

“بھاڑ میں بھی چلا جاوں گا مگر شرط یہ ہے کہ تم وہاں بھی میرے ساتھ چلو گی’ عمارہ وہاج بن کر۔

عمارہ وہاج کی نظروں کا سامنا نہی کر سکی۔وہ نظریں جھکا گئی۔

عمارہ!

وہاج نے بہت پیار سے دھیمے لہجے میں عمارہ کا نام پکارا۔

عمارہ نے نظریں اٹھا کر وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج کی آنکھوں میں کچھ عجیب سی چمک تھی آج۔

عمارہ کو اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہوئی۔

“آئی لو یو “

مجھ سے شادی کرو گی؟

بنو گی”عمارہ وہاج؟

عمارہ حیرت بھری نگاہوں سے وہاج کو بولتے ہوئے سُن رہی تھی۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے سب کچھ خاموش ہو گیا ہو۔

عمارہ کے کانوں میں بس وہاج کی آواز گونج رہی تھی۔

عمارہ شرما کر نظریں جھکا گئی۔

وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

شرما رہی ہو تو اس کا مطلب میں ہاں سمجھوں؟

عمارہ مسکرا دی اور مسکراتے ہوئے وہاج کی طرف دیکھا۔

وہاج کو اس کا جواب مل گیا۔

عمارہ نے دونوں ہاتھ وہاج کے سینے پر رکھتے ہوئے زور سے دھکا دیا اسے۔

وہاج واپس اپنی کرسی پر جا گرا۔

عمارہ جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی۔

پھر رُک کر پلٹی۔

“بہت برے ہیں آپ وہاج!

عمارہ بھائی نہی بولی اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔

وہاج مسکرا دیا۔

“پاگل لڑکی!

مسکراتے ہوئے پھر سے پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔

آج بھی یہ سب یاد کرتے ہوئے وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

وہاج وہی ٹیبل پر آنکھیں بند کیے سو گیا۔

کچھ دیر بعد اس کے کانوں میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

وہاج اٹھ کر بیڈ روم کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا پھر رُک گیا۔

اس نے تھوڑا سا پردہ ہٹا کر دیکھا تو سامنے عمارہ تھی۔

وہ ناشتہ بنا کر لائی تھی۔ٹرے کو بڑے آرام سے ٹیبل پر رکھا اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی باہر کی طرف بڑھنے لگی۔

عمارہ۔۔۔!

وہاج کی آواز سن کر اس کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔

وہ گھبراتی ہوئی واپس پلٹی۔

وہاج چلتے ہوئے اس کے سامنے آ رکا۔

“یہ ناشتہ بھی انسانیت کے ناطے لے کر آئی ہو کیا؟

عمارہ نے حیرانگی سے وہاج کی طرف دیکھا۔

آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟

انسانیت کے علاوہ بھی ہمارے درمیان ایک رشتہ ہے۔

اچھا۔۔۔۔۔کون سا رشتہ ہے ہمارے درمیان مجھے تو لگا تھا تم سارے رشتے ختم کر چکی ہو۔

وہاج کے چہرے پر ایک غم سا تھا۔

آپ بھول رہے ہیں مگر مجھے یاد ہے۔

ہمارے درمیان مہمان اور میزبان کا رشتہ ہے۔

آپ اس گھر کے مہمان ہیں اور میں اس گھر کی بہو۔

میرا فرض بنتا ہے ہر مہمان کا خیال رکھنا۔

اگر ہمارے درمیان بس یہی رشتہ ہے تو میں اس رشتے کو ابھی ختم کر دیتا ہوں۔

مجھے نہی رکھنا ایسا رشتہ!

“ابھی کے ابھی جا رہا ہوں میں یہاں سے’

وہاج الماری کی طرف بڑھ کر اپنا بیگ پیک کرنے لگا۔

“میری ہی غلطی تھی جو میں واپس آیا’تم خوش ہو اپنے گھر میں تو خوش رہو۔

میرا یہاں کیا کام؟

آپ کا یہاں بہت کام ہے۔سب کو آپ کی ضرورت ہے!

عمارہ پریشان ہوتے ہوئے بولی۔

میں یہاں سب کے لیے نہی صرف تمہارے لیے آیا تھا۔

لیکن اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں نے یہاں آ کر غلطی کر دی ہے۔

کیونکہ جس کے لیے میں آیا ہوں اسے تو میری ضرورت ہی نہی ہے۔

آپ یہاں سے نہی جا سکتے!

عمارہ وہاج کے ہاتھ سے کپڑے کھینچتے ہوئے دوبارہ الماری میں ہینگ کرنے لگی۔

بس کر دیں اب آپ یہ سب کچھ!

آپ کیوں نہی سمجھ رہے کہ اب کچھ نہی ہو سکتا۔

وقت گزر چکا ہے!

آپ اس بے نام رشتے سے خود کو آزاد کیوں نہی کر دیتے۔

ایک پرچھائی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں آپ!

وہ پرچھائی جس کی کوئی منزل ہی نہی ہے۔

عمارہ کپڑے ہینگ کرتے ہوئے مصروف سی بولی۔

“گزرا ہوا وقت پھر سے لوٹ سکتا ہے عمارہ!

اگر تم میرا ساتھ دو۔

“تمہاری زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا میں!

وہ ساری خوشیاں جو میں نے اپنے دل میں تمہارے لیے سجائی تھیں۔

بچپن سے لے کر اب تک میرے دل میں بس تمہارا ہی عکس ہے۔

“یہ عکس تب ہی مٹ سکتا ہے جب یہ دل بند ہو گا”

عمارہ تیزی سے وہاج کی طرف پلٹی۔

۔”اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو۔

میری زندگی بھی آپ کو لگ جائے۔

عمارہ وہاج کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

وہاج مسکرا دیا۔

عمارہ حوش میں آئی۔

تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

آپ ناشتہ کر لیں میں یہ کپڑے ہینگ کر دیتی ہوں۔

عمارہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔

“جانتی ہو عمارہ تم محبت کرتی ہو مجھ سے مگر اظہار نہی کرتی۔

مگر میں جان گیا ہوں تمہارے دل میں میری محبت زندہ ہے۔

اس محبت کو منزل تک پہنچاوں گا میں۔

بہت کھیل کھیلے ہیں سب نے ہمارے ساتھ اب مزید کسی کو کوئی کھیل نہی کھیلنے دوں گا میں۔

وہاج دل ہی دل میں سوچتے عمارہ کو دیکھتے ہوئے ناشتہ کرنے صوفے کی طرف بڑھ گیا۔

ناشتے میں اس کے پسندیدہ آلو کے پراٹھے دیکھ کر وہاج ایک نظر عمارہ پر ڈالتے ہوئے مسکرا دیا۔

“پاگل لڑکی!

عمارہ نے مڑ کر وہاج کی طرف دیکھا۔

کچھ کہا آپ نے؟

عمارہ نے شاید سن لیا۔

نہی۔۔۔وہاج مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔

عمارہ نے سارے کپڑے پھر سے سیٹ کر کے ہینگ کر دئیے۔

دوبارہ ایسا مت کرنا آپ۔۔۔میں دوبارہ الماری نہی سیٹ کرنے والی آپ کی۔

خود ہی کرنی پڑے گی آپ کو۔

عمارہ مسکراتے ہوئے بولی۔

وہاج بھی مسکرا دیا۔

منیبہ الجھے بال لیے،نائٹ ڈریس پہنے کمرے میں داخل ہوئی۔

ہائے ہینڈسم!

ہاتھ ہلاتے ہوئے وہاج کے ساتھ آ بیٹھی۔

وہاج کے چہرے پر غصے کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔

تم یہاں کیا کر رہی وہاج کے کمرے میں؟

جیسے ہی اس کی نظر عمارہ پر پڑی غصے سے چلائی۔

وہاج کے لیے ناشتہ لائی تھی میں تو سوچا ان کی الماری بھی سیٹ کر دوں۔

عمارہ گھبراتے ہوئے بولی۔

کر لی الماری سیٹ؟

منیبہ کڑوے تیور لیے عمارہ کی طرف بڑھی۔

جی۔۔۔عمارہ نے مختصر جواب دیا۔

تو جاو یہاں سے میرے سر پر کیوں سوار کھڑی ہو۔

عمارہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔

وہاج ناشتہ ختم کر چکا تھا۔ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے منیبہ کی طرف بڑھا۔

منیبہ یہ کون سا طریقہ تھا بات کرنے کا؟

وہاج غصے سے اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولا۔

کیوں کیا ہوا؟

یہ اسی لائق ہے!

مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہے ہمارے سر پر بیٹھ کر۔

عمارہ تمہاری بڑی بھابی ہے منیبہ!

تم کس لہجے میں بات کر رہی تھی اس سے۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔منیبہ بے باقی سے ہنسنے لگی۔

بھابی۔۔مائی فٹ!

جب شاہزیب بھائی نے ہی اس کو کبھی بیوی کا درجہ نہی دیا تو ہم کیسے بھابی مان لیں اس کو۔

اس کی اہمیت اس گھر میں کسی پرانی،گھسی پٹی چیز سے کم نہی ہے۔

تم بھی زیادہ ترس مت کھاو اس پر شادی پر آئے ہو شادی انجوائے کرو۔

منبہ آگے بڑھ کر وہاج کا بازو تھامنے ہی لگی تھی کہ وہاج نے اس کا ہاتھ پیچھے کر دیا۔

دور رہو مجھ سے!

نکل جاو میرے کمرے سے!

وہاج نے اسے باہر جانے کا راستہ دکھایا۔

تم مجھے باہر جانے کو کہہ رہے ہو مجھے؟

منیبہ کو جیسے صدمہ لگا۔

لڑکٙے مرتے ہیں مجھ پر اور تم مجھے کمرے سے نکال رہے ہو۔

خوش قسمت ہو تم جو میں خود چل کر آئی ہوں تمہارے پاس۔۔ورنہ جہاں سے میں گزر جاوں لڑکے پیچھے پیچھے چلتے ہیں دل تھام کر۔

شٹ اپ۔۔۔اینڈ گیٹ آوٹ!

وہاج اس کی طرف دیکھے بنا غصے سے چلایا۔

“مجھے ایسی خوش قسمتی نہی چاہیے۔

اور گندگی کو دیکھ کر مکھیاں تو منڈلاتی ہی ہیں۔

تمہاری مثال اس گندگی جیسی ہی ہے۔

تم اپنا جسم ظاہر کر کے غیر مردوں کے سامنے جاتی ہو۔

اور وہ سارے مرد تمہارے حسن کے نہی تمہارے جسم کے بھوکے ہیں۔

یہ باتیں تمہاری سمجھ میں نہی آنے والیں۔

کیونکہ تم ان مکھیوں کی عادی بن چکی ہو۔،،

“چلی جاو یہاں سے!

“تم یہ سب اس عمارہ کی وجہ سے کہہ رہے ہو نا وہاج؟

ہر وقت سر پر ڈوپٹا۔۔بہن جی بن کر گھومتی پھرتی ہے ہر وقت اسی لیے تو بھائی نے اس کو آج تک نہی اپنایا۔

بس۔۔۔۔۔اب ایک اور لفظ نہی سنوں گا میں عمارہ کے بارے میں۔

کمی عمارہ میں نہی تمہارے بھائی میں ہے جو آج تک عمارہ کی خوبیوں کو پہچان نہی سکا۔

وہ عمارہ کے لائق ہی نہی ہے۔

وہ ایک گھٹیا اور بزدل انسان ہے۔

مگر اب اور نہی میں عمارہ کے ساتھ مزید نا انصافیاں نہی ہونے دوں گا۔

اوہ۔۔کیا کر لو گے تم؟

منیبہ بے باقی سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔

کیا کر لو گے تم؟

شادی کرو گے عمارہ سے۔۔۔چچچچچچ۔

مگر شادی کیسے کرو گے تم وہ تو میرے بھائی کے نکاح میں ہے۔

وہاج غصے سے منیبہ کی طرف بڑھا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے دروازے کے باہر لا کر اس کا بازو چھوڑ دیا۔

غصے سے دروازہ بند کر دیا۔

منیبہ غصے سے پیر پٹختے ہوئے وہاں سے چل پڑی۔

دوپہر کو گھر میں پھر سے شور شرابہ ہونا شروع ہو گیا۔

سوئے ہوئے مہمان جاگنے لگے۔

وہاج کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔

وہاج لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا۔

لیپ ٹاپ ٹیبل پر چھوڑتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔

سامنے وہاج کے بابا کھڑے تھے۔

وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

جلدی سے ان کے گلے لگ گیا۔

اوہ ڈیڈ۔۔آئی مس یو سو مچ۔

آئی مس یو ٹو سویٹ ہارٹ۔انہوں نے وہاج کا ماتھا چوم لیا۔

آٹھ سال بعد ان کا لختِ جگر ان کے سامنے تھا۔

دونوں کمرے میں آ کر بیٹھ گئے۔

وہاج کی ماما بھی وہی آ گئیں۔

آتے ہی بیٹے کے پاس بیٹھ گئے۔میری تو کوئی فکر ہی نہی ہے۔

وہ ناراض ہوتے ہوئے بولیں۔

ڈیڈ آئی تھنک مام جیلس ہو رہی ہیں۔

وہاج مسکراتے ہوئے بولا۔

ڈونٹ وری پھوپھو جان میں ہوں ناں آپ کے ساتھ عمارہ اچانک سے وہاں آ گئی۔

ہاں لگے رہو تم دونوں باپ بیٹا میری بیٹی آ گئی ہے۔

پھر چاروں ایک ساتھ ہنس دئیے۔

عمارہ پھوپھو کے کندھے پر سر رکھ کر مسکرا دی۔

انہوں نے پیار سے عمارہ کا ماتھا چوم لیا۔

پرفیکٹ۔۔۔!!

ہے ناں ڈیڈ۔۔؟

ہممم۔۔انشااللہ۔

وہ بھی مسکراتے ہوئے وہاج کے کندھے سے کندھا ٹکراتے ہوئے بولے۔

وہاج بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا دیا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *