Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 10)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 10)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
حمزہ ناشتہ لے کر ہاسپٹل پہنچا تو سب نے ہی ناشتہ کرنے سے انکار کر دیا۔
مسز حسن زبردستی سب کو ناشتہ کرنے پر مجبور کرنے لگیں۔
کیونکہ ان کے اپنے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے بھوک کی وجہ سے۔
ان کی بلا سے۔۔۔چاہے وہاج مر بھی جائے انہیں کوئی پرواہ نہی تھی۔
وہ تو بڑے مزے سے ناشتہ انجوائے کرنے لگیں۔
عجیب پریشانی میں ڈال رکھا ہے اس لڑکے نے۔
نا جی رہا ہے نا مر رہا ہے!
مرے تو ہماری بھی جان چھوٹے۔۔۔گھر جائیں ہم اس کی میت لے کر۔
کل رات سے عذاب میں ڈال رکھا ہے اس نے۔
پوری رات نہی سو سکی میں۔۔۔صبح سے بھوکے پیٹ بیٹھی تھی۔
وہ تو شکر ہے خدا کا حمزہ ناشتہ لے آیا۔نہی تو پتہ نہی میرا کیا بنتا۔
مسز حسن دل ہی دل میں وہاج کو کوسنے لگیں۔
مسز احمد نے بہ مشکل تھوڑا سا پراٹھا کھایا۔
بیٹے کی پریشانی میں ان کے حلق سے نوالہ تک نہی اتر رہا تھا۔
جبکہ دوسری طرف مسز حسن نے پراٹھوں سے خوب انصاف کیا۔
“جس تن نوں لگدی،اوہی تن جانے”
بس یہی کہاوت چل رہی تھی یہاں۔
جس کی اولاد تکلیف میں ہے۔بس وہی تکلیف میں ہیں۔
دوسروں کو کوئی فکر نہی!
مسز حسن حمزہ کے ساتھ گھر آ گئیں۔کچھ دیر تک واپس آنے کا بہانہ کرتے ہوئے۔
وہ گھر آئیں تو عمارہ جلدی سے ان کی طرف آئی۔
چچی جان کیسی طبیعت ہے اب وہاج کی؟
ان کو ہوش آیا یا نہی؟
ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟
عمارہ سوال پر سوال پوچھتی گئی۔
اے لڑکی کیا ہو گیا ہے؟
ابھی تو گھر آئی ہوں۔سانس تو لینے دو۔
گھر میں داخل ہوتے ہی سوال پر سوال۔۔۔!
کیا سمجھ رکھا ہے مجھے؟
میں کیا جواب دینے کی مشین ہوں،جو سوال پر سوال کرے جا رہی ہو۔
چچی جان میں تو بس۔۔!
عمارہ نے کچھ بولنا چاہا مگر انہوں نے عمارہ کی ایک نا سنی۔
کیا میں تو بس۔۔؟
تمہیں تو بس وہاج کی فکر ہے۔
ہم چاہے مر جائیں!
وہاج کو کچھ نہی ہونا چاہیے۔
وہ غصے سے چلانے لگیں۔
چچی جان یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ!
اللہ نا کرے کہ آپ کو کچھ ہو۔
میری زندگی بھی آپ کو لگ جائے۔عمارہ شرمندہ سا منہ لیے وہاں سے چل پڑی۔
بڑی آئی میری زندگی بھی آپ کو لگ جائے۔مسز حسن منہ سکوڑتے ہوئے بولیں۔
منیبہ ماں کی آواز سن کر جلدی سے نیچے کی طرف دوڑی۔
ماں سے لپٹ کر جھوٹے آنسو بہانے لگی۔
مام کیسا ہے وہاج اب؟
بیٹی کی حالت دیکھ کر مسز حسن کا دل تڑپ اٹھا۔
نا میری بیٹی مت رو!
وہاج ٹھیک ہو جائے گا۔
ابھی اس کی حالت ٹھیک نہی ہے۔
بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہے کل رات سے ابھی تک۔
سر پر پٹیاں بندھی ہوئیں ہیں۔دنیا کی کوئی خبر نہی ہے اسے۔
اگر آج ہوش نہ آیا تو ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کوما میں جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
چوٹ سر میں دماغ کے آس پاس جو لگی ہے۔
یادداشت جانے کا بھی خطرہ ہے۔
ماں کی بات سن کر منیبہ اور زیادہ رونا شروع ہو گئی۔
وہ ماں کے گلے لگ کر جھوٹے آنسو بہاتی رہی۔
اوپر سیڑھیوں میں کھڑی عمارہ کے تو جیسے پاوں تلے سے کسی نے زمین ہی کھینچ لی ہو۔
وہ وہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔
وہاج کی حالت کا سن کر اس کا دل ڈوبنے سا لگا۔
نہی وہاج۔۔۔آپ کو کچھ نہی ہو گا۔
“آپ کو واپس آنا ہی ہو گا میرے لیے،اپنی دوست عمارہ کے لیے۔
ٹھیک ہونا پڑے گا آپ کو!
“آپ نے تو وعدہ کیا تھا مجھ سے کہ میرا ساتھ کبھی نہی چھوڑیں گے۔
عمارہ بہ مشکل خود کو سنبھالتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہاج کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔
پھر ذہن میں آیا چچی جان کو کھانے کا پوچھ لوں۔
وہ پہلے ہی مجھ پر بہت غصہ تھیں۔
کہی اور زیادہ غصہ نا ہو جائیں۔
عمارہ جائے نماز سمیٹ کر اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
اس کا رخ مسز حسن کے کمرے کی طرف تھا۔
مگر ان کے کمرے سے آتی آواز پر عمارہ ٹھٹک کر رہ گئی۔
اس کے قدم دروازے کی دہلیز پار نا کر سکے۔
“کیا واقعی وہاج کو پتہ چل گیا کہ تم عمارہ کو طلاق دے چکے ہو”
یہ تم نے کیا کر دیا شاہزیب!
میری برسوں کی محنت مٹی میں ملا دی۔
تب ہی تو میں سوچوں یہ وہاج اچانک واپس کیسے آ گیا۔
مجھے پہلے ہی شک سا ہو رہا تھا۔
بار بار تمہارے بارے میں ہی پوچھ رہا تھا۔
میں نے بہت مشک سے اس کو اگنور کیا تھا۔
اب مجھے سب سمجھ میں آ رہا ہے۔وہاج کیوں پہیلیاں بھجوا رہا تھا مجھ سے تمہارے بارے میں۔
تم نے یہ ٹھیک نہی کیا شاہزیب!
اس کو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتے۔
کیا ضرورت تھی اس کو ساری سچائی بتانے کی۔
کیا ہو گیا اگر اس نے تمہیں لیلی کے ساتھ دیکھ لیا تھا تو۔
بتا دیتے اس کو کہ تم نے دوسری شادی کر لی ہے۔مگر یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی کہ تم نے عمارہ کو طلاق دے دی ہے۔
عمارہ دھنگ سی کھڑی سب سنتی رہی۔
ایک سے بڑھ کر ایک نیا انکشاف آیا اس کے سامنے۔
شاہزیب اسے طلاق دے چکا ہے،دوسری شادی کر چکا ہے۔
نا جانے اور کیا کچھ چھپا رکھا تھا اس گھر کے مکینوں نے۔
وہاج یہی تو بتانا چاہتے تھے مجھے،مگر میں نے ان کی کسی بات پر یقین نہی کیا۔
بلکہ الٹا ان کو ہی برا بھلا بول دیا۔
وہاج کی کہی ایک ایک بات سچ ثابت ہو رہی تھی۔اور عمارہ افسوس کے دلدل میں خود کو دھنستی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔
دیکھنا وہ اب یہاں سے ایسے ہی واپس نہی جانے والا۔
پورے ارادوں کے ساتھ آیا ہے وہ واپس”
اگر اس نے تمہارے بابا کے سامنے زبان کھول دی ناں تو تم سے تو وہ پہلے ہی تعلق ختم کر چکے ہیں۔
مجھے بھی اس گھر سے رخصت کر دیں گے وہ۔اور برسوں سے تمہارے لیے جو عزت اور مقام قائم کر رکھا تھا میں سب رشتہ داروں اور گھر والوں کی نظروں میں۔وہ بھی تباہ ہو جائے گا۔
بس اب تم دعا کرو کہ گھر زندہ واپس نا آ سکے وہ!
مر کھپ جائے وہی۔۔۔اس کی میت ہی آئے گھر واپس۔
عمارہ کی برداشت بس یہیں تک ہی تھی۔
عمارہ غصے سے دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گئی۔
عمارہ کو سامنے دیکھ کر مسز حسن کے ہاتھ سے فون گرتے گرتے بچا۔
ان کے چہرے پر پریشانی کے سائے منڈلانے لگے۔
وہ جلدی سے کال کاٹ کر عمارہ کی طرف بڑھیں۔
یہ کونسا طریقہ ہے کمرے میں آنے کا؟
دروازہ ناک کر کے نہی آ سکتی تھی۔۔
بس چچی جان بس!
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتیں عمارہ نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو مزید بولنے سے روک دیا۔
بس کر دیں اب آپ!
“آپ کا اصل چہرہ میرے سامنے آ چکا ہے۔
وہاج کے لیے آپ کے دل میں اتنی نفرت کیوں ہے میں نہی جانتی!
آپ نے ہمیشہ وہاج کو اپنے بچوں سے کم تر سمجھا۔
بچپن سے آپ کے روئیے دیکھتی آئی ہوں میں۔
مگر میں یہ نہی جانتی تھی کہ آپ کی وہاج کو ناپسند کرنے کی عادت ایک دن آپ کو وہاج کی موت کی دعائیں کرنے پر مجبور کر دے گی۔
“چچی جان میں یہ نہی جانتی تھی کہ آپ کے اس چہرے کے پیچھے کئی اور بھک چہرے چھپے ہیں۔
وہاج نے ہمیشہ آپ کو اپنا مانا،آپ سے اتنی ہی محبت کی جتنی پھوپھو جان سے کی۔
مگر آپ نے کبھی ان سے ماں والا رویہ نہی رکھا۔
دل میں ان کے لیے ہمیشہ بغض اور نفرت ہی رکھی۔
اور میں۔۔۔!
میں نے ماما،بابا کے گزرنے کے بعد آپ کو ہی اپنی ماں سمجھا۔
آپ نے میرا نکاح شاہزیب سے کروا دیا۔میں کچھ نہی بولی۔
بس یہ سوچ کر نکاح نامے پر دستخط کر دئیے کہ آپ میری ماں ہے۔
آپ نے میرے لیے جو بھی فیصلہ کیا بہتر ہی کیا ہو گا۔
شاہزیب نے مجھے دل سے قبول نہی کیا۔ان کے لیے یہ رشتہ بس ایک مجبوری کا بندھن تھا۔
میں نے پھر بھی آپ سے کبھی کوئی شکایت نہی کی۔
دن رات آپ کی خدمت کے لیے وقف کر دئیے۔
آپ کی بیٹیوں کے زمے جو کام تھے وہ بھی میں نے سنبھال لیے۔
یہاں تک کہ اپنی پڑھائی بھی چھوڑ دی۔
اتنی قربانیوں کے بعد بھی آپ کے دل میں آج آٹھ سال بعد بھی آپ کے دل میں میرے لیے کوئی محبت پیدا نہی ہو سکی۔
“آپ کی یہ نفرت میری خوشیوں کو کھا گئی۔
آپ نے صرف میری ہی نہی وہاج کی بھی زندگی برباد کر دی۔
آخر کیوں۔۔۔؟
کیوں چچی جان۔۔۔؟
کیا کمی رہ گئی تھی میری خدمت میں؟
کہاں بھول ہو گئی مجھ سے جو آپ نے ہم دونوں کی زندگیوں کے ساتھ یہ کھیل کھیلا؟
بتائیں نا چچی جان اب چپ کیوں لگ گئی آپ کو؟
عمارہ روتے اور چلاتے ہوئے سوال پر سوال کرتی گئی۔
مسز حسن دھنگ رہ گئیں۔
عمارہ سے اتنی ہمت کی توقع نہی تھی ان کو۔
آخر کار وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بول پڑیں۔
اے لڑکی کیا ہو گیا ہے تمہیں؟
جو منہ میں آ رہا ہے بولتی ہی جا رہی ہو۔میری چپ کا نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہو تم!
میں تمہاری دشمن نہی ہوں۔
ضرور تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔
پتہ نہی کیا کیا بول رہی ہو۔
کاش۔۔۔!
کاش یہ میری غلط فہمی ہوتی چچی جان!
عمارہ چلائی۔
مگر یہ میری غلط فہمی نہی ہے۔۔۔۔
میں نے خود سنا ہے آپ کو شاہزیب سے باتیں کرتے ہوئے۔
بس کر دیں چچی جان!
جھوٹ پر جھوٹ۔۔۔۔
ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ۔۔!
اور کتنے جھوٹ بولیں گی آپ؟
وہاج نے مجھے بتانا چاہی تھی آپ کی سچائی کل رات!
عمارہ بولتے بولتے رک گئی۔
مگر میں نے یقین نہی کیا وہاج کی باتوں پر!
بہت افسوس ہو رہا ہے اب مجھے اپنے آپ پر۔۔۔اتنے سال آپ کے ساتھ گزار کر بھی میں آپ کی سچائی نہی جان سکی۔
مسز حسن ہنسنے لگیں۔
اب تو دیکھ لی نا میری سچائی!
ہاں دے دی ہے شاہزیب نے تمہیں طلاق آج سے سات سال پہلے امریکہ جانے کے بعد۔
دوسری شادی کر لی تھی شاہزیب نے!
ہاں چھپائی ہے میں نے یہ بات تم سے۔۔۔تو کیا کر لو گی تم؟
مقدمہ چلاوں گی مجھ پر؟
مگر کیسے مقدمہ چلاو گی تم؟
طلاق کے کاغذات جو شاہزیب نے بھیجے تھے وہ تو میں جلا چکی ہوں۔
اب امریکہ جاو گی تم اپنی طلاق کا مقدمہ دوبارہ کھلوانے۔
اگر شاہزیب نے ہی انکار کر دیا کہ اس نے تمہیں طلاق نہی دی۔اور نہ ہی وہاں کی عدالت کے پاس اس طلاق کا ثبوت نا ملا تو؟
تو کیا کرو گی تم؟
کس سے مدد مانگوں گی؟
وہاج سے!
چچچچچ۔۔۔بیچارہ وہاج!
وہاج تو تمہارے ساتھ ہے ہی نہی!
اپنی زندگی کی آخری سانسوں سے لڑ رہا ہے وہ تو۔
کیا پتہ کب اس کے مرنے کی خبر آ جائے،یا پھر زندہ بچ بھی جائے تو کیا پتہ اس کی یادداشت چلی جائے۔
دونوں ہی صورتوں میں نقصان تمہارا ہی ہے۔
تم ساری زندگی بھی ثبوت ڈھونڈتی رہو تو بھی تمہیں اس طلاق کے ثبوت نہی مل سکتے۔
بس اب بولتی ہو گئی بند؟
آئی بڑی باتیں کرنے والی۔
جاو جا کر رات کے کھانے کی تیاری کرو!
جو جیسا چل رہا ہے اسے ویسا ہی چلنے دو۔۔۔کہی ایسا نا ہو یہ چھت بھی اڑ جائے تمہارے سر سے!
وہ عمارہ کو دھکا دیتے ہوئے راستے سے ہٹا کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عمارہ وہی آنسو بہاتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی۔
