Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493

Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Last updated: 31 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kismat Ka Likha by Khanzadi

Novel Code :  NovelR50493

 اس گھر سے جانے نہی دیں گی۔

شاہزیب بھائی کبھی واپس نہی آنے والے،کیونکہ بابا نے یہ شرط رکھی ہے کہ اس لڑکی کو طلاق دے کر ہی وہ اس گھر میں واپس آ سکتے ہیں۔

شاہزیب بھائی ایسا کرنے کو تیار ہی نہی ہیں۔

تو کیا ساری زندگی ان کے جھوٹے رشتے کے نام گزار دو گی۔

وہ رشتہ جو سات سال پہلے ہی ختم ہو چکا ہے!

خدا کے لیے عمارہ!

ترس کھاو خود پر،وہاج بھائی پر ترس کھاو۔

تمہاری خاطر آٹھ سال تک وہ اپنوں سے دور رہے،چاہتے تو اپنا گھر بسا سکتے تھے۔مگر انہوں نے ایسا نہی کیا۔

جانتی ہو کیوں؟

کیونکہ آج بھی وہ تم سے محبت کرتے ہیں,تھک چکے ہیں تمہارے لیے خود سے لڑتے لڑتے۔

یہ منگنی وہ بس ضد میں آ کر کر رہے ہیں،یا پھر شاید تمہیں احساس دلانا چاہتے ہیں۔اپنی محبت کا!

مگر تم نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے،ان کی محبت کو نظر انداز کر رہی ہو تم!

"میں سب جانتی ہوں حمزہ!

مگر میں چاہ کر بھی کچھ نہی کر پاوں گی۔

میرے پاس اس طلاق کا کوئی ثبوت نہی ہے،تو میں کیسے وہاج کی طرف قدم بڑھاوں؟

چاچو جان کیا سوچیں گے میرے بارے میں؟

شاہزیب نے اگر انکار کر دیا کہ انہوں نے مجھے طلاق دی ہی نہی تو؟

کیا جواب دوں گی میں چاچو جان کو؟

وہ تو یہی سمجھیں گے کہ میں اس رشتے سے اکتا گئی ہوں۔

جان چھڑانا چاہتی ہوں شاہزیب سے!

ان کو کیسے مطمئن کروں گی میں؟

اس بات کی فکر تم مت کرو عمارہ!

ہم سب تمہارے ساتھ ہیں،شاہزیب بھائی سے سچ اگلوانا جانتے ہیں ہم۔۔۔

تم پلیز وہاج بھائی سے بات کرو۔

میں تم دونوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں بس!

شاہزیب بھائی کی فکر تم مت کرو،بابا پہلے ہی ان کے خلاف ہیں۔

بس ایک بار ان کے منہ سے یہ سچ بابا کو سنوانا ہے،اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔

مام کی ساری سازشیں ناکام ہو جائیں گی۔

تم ایک بار ہمت کر کے تو دیکھو۔

بس آج کی رات!

آج کی رات ہے تمہارے پاس سوچنے کے لیے،جو کرنا ہے آج ہی کرو۔

ورنہ ساری زندگی پچھتاوا رہ جائے گا

چلتا ہوں۔۔۔۔حمزہ پریشان سا کمرے سے باہر نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *