Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 13)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 13)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
عمارہ تم جاو کمرے میں آرام کرو۔میں یہی ہوں کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بلا لینا۔
وہاج اب سو جائے گا آرام سے۔تم بھی سو جاو کل سے جاگ رہی ہو۔
آنکھوں سوجھی ہوئیں ہیں تمہاری رو رو کر۔
ٹھیک ہے۔۔عمارہ مسکراتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
وہاج آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔
نرس آئی اور ڈرپ میں انجیکشن ملا کر چلی گئی۔
اب جب تک ڈرپ ختم نہی ہو جاتی عمارہ نہی سو سکتی تھی۔
وہ ڈرپ کے ختم ہونے کا انتظار کرتے کرتے صوفے پر ہی لیٹ گئی۔
اسے پتہ ہی نہی چلا کب اس کی آنکھ لگ گئی۔
وہاج کی آنکھ کھلی تو ڈرپ ختم ہو چکی تھی۔
وہاج نے ڈرپ کی وائر اتار دی۔
اس کی نظر سامنے صوفے پر لیٹی عمارہ پر پڑی۔
وہاج بہ مشکل خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کر عمارہ کی طرف بڑھا۔
پاس پڑا کمبل اٹھا کر عمارہ پر اوڑھا دیا۔
چند پل اس کے معصوم چہرے کو دیکھتا رہا۔
عمارہ بے حس و حرکت سو رہی تھی۔
وہاج کو بہت تھکی تھکی سی لگ رہی تھی وہ۔
اس کی سوجھی ہوئیں آنکھیں وہاج کو بتا رہی تھیں۔کہ یہ آنکھیں اس کے لیے کتنا روئی ہیں۔
“پاگل لڑکی!
“کہتی ہے مجھ سے محبت نہی کرتی!
آنکھیں سب بتا دیتی ہیں!
وہاج مسکراتے ہوئے اپنے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے ایک نظر اپنے زخمی ہاتھ پر ڈالی اور خود ہی مسکرا دیا۔
یہ زخم کچھ خاص نہی ہے۔یہ تو بس بہانہ ہے تمہیں اپنے قریب لانے کا۔
وہاج مسکراتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
رات کے آخری پہر عمارہ پر پڑی تو وہ تیزی سے وہاج کی طرف بڑھی۔
ڈرپ ختم ہو چکی تھی اور وائر زمین پر گری تھی۔
عمارہ کو شدید افسوس ہوا۔
میری آنکھ لگ گئی تھی اور وہاج نے خود ہی اپنے زخمی ہاتھ سے ڈرپ اتاری۔
اف۔۔۔میں کتنی لا پرواہ ہوں۔
عمارہ کو بہت افسوس ہوا اپنی لا پرواہی پر۔
وہ سائیڈ ٹیبل سے مرہم اٹھاتے ہوئے وہاج کی طرف بڑھی۔
وہاج کے ہاتھ پر مرہم لگا دی آرام سے۔
وہاج نیند میں تھا تو اسے پتہ ہی نہی چلا۔
عمارہ چپ چاپ واپس آ کر لیٹ گئی۔
عمارہ کی نظر خود پر اوڑھے کمبل پر پڑی تو دھنگ رہ گئی۔
پھر وہاج کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔
کچھ دیر بعد ہی اسے پھر سے نیند آ گئی۔
وہاج بھی گہری نیند سو رہا تھا۔
انجیکشن کا اثر تھا۔
ورنہ تکلیف میں نیند کہاں آنے والی تھی اسے۔
عمارہ کی صبح آنکھ کھلی تو آٹھ بج رہے تھے۔
گھر سے ابھی تک کوئی نہی آیا تھا۔
وہاج بھی سو رہا تھا ابھی تک۔
عمارہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو سامنے منیبہ اور چچی کی دیکھ کر عمارہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔
جتنی حیران عمارہ تھی۔اتنی ہی وہ دونوں بھی حیران تھیں۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
مسز حسن غصے سے چلائیں۔
چچی جان وہ!
میں لایا تھا عمارہ کو یہاں!
اس سے پہلے کہ عمارہ کچھ جواب دیتی حمزہ کمرے میں داخل ہوا۔
مسز حسن نے چونک کر حمزہ کی طرف دیکھا۔
وجہ؟
غصے سے پوچھا گیا۔
وجہ تھی پھوپھو اور پھوپھا جان۔۔وہ دونوں کل رات سے جاگ رہے تھے تو میں نے سوچا ان کو گھر بھیج دوں۔
اسی لیے میں عمارہ کو یہاں لے آیا رات کو۔
وہ بڑے آرام سے جواب دیتا گیا۔
وہ غصے سے حمزہ کی طرف بڑھیں۔
تم کب سے اتنے بڑے ہو گئے’جو سارے فیصلے خود ہی کرنے لگے!
ابھی میں زندہ ہوں یہ سب سوچنے کے لیے۔
میں نے کچھ غلط تو نہی کیا مام!
کسی اور کو تو فرصت ملی نہی اس بارے میں سوچنے کی۔تو میں نے سوچا میں ہی کوئی فیصلہ کر لوں۔
حمزہ جواب پر جواب دیتا چلا گیا۔
وہاج کمرے میں شور کی آواز سن کر اٹھ بیٹھا۔
وہاج بیٹا اٹھ گئے تم!
مسز حسن جلدی سے وہاج کی طرف بڑھیں۔
شکر ہے خدا کا تمہیں ہوش آ گیا۔میں تو پریشان ہی ہو گئی تھی۔
حمزہ ماں کی ایکٹنگ سے بور ہوتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
منیبہ کو تو دیکھو رو رو کر برا حال کر لیا اس نے اپنا۔
وہاج نے ایک نظر ان کے ساتھ کھڑی منیبہ پر ڈالی اور مسکرا دیا۔
ناشتہ لائی ہے منیبہ تمہارے لیے۔
جاو منیبہ ناشتہ لے کر آو وہاج کے لیے۔
منیبہ چپ چاپ سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
اب تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو؟
مسز حسن نے بت بنی کھڑی عمارہ پر اپنا غصہ نکالا۔
گھر جا کر ناشتہ بنا کر دو سب کو۔۔۔تمہاری وجہ سے سب بھوکے بیٹھے ہو گے۔
وہاج لب بھینچے سامنے کھڑی عمارہ کو دیکھنے لگا۔
جی چچی جان!
عمارہ آگے بڑھ کر رات کے کھانے والے برتن سمیٹنے لگی۔
منیبہ مجھے ایک گلاس پانی لا دو پلیز!
وہاج کی آواز پر منیبہ چونک گئی۔
جی جی ابھی لاتی ہوں۔
عمارہ حیرانگی سے وہاج کی طرف دیکھنے لگی۔
وہاج مجھے بھی تو کہہ سکتے تھے ناں!
عمارہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔مگر بولی کچھ نہی۔
عمارہ نے پانی کی بوتل منیبہ کی طرف بڑھائی۔
منیبہ اس کے ہاتھ سے بوتل کھینچتی ہوئی وہاج کی طرف بڑھی۔
پانی کا گلاس وہاج کی طرف بڑھایا۔
وہاج نے اپنا ہاتھ منیبہ کے سامنے کر دیا۔
میرا ہاتھ زخمی ہے۔تو کیا تم خود!
منیبہ نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا۔وہ مسکراتی ہوئیں عمارہ کی طرف بڑھ گئیں۔
عمارہ تو جیسے اپنی جگہ سن سی ہو کر رہ گئی۔
منیبہ نے مسکراتے ہوئے پانی کا گلاس وہاج کی طرف بڑھایا۔
وہاج پانی پی کر مسکرا دیا۔
تھینکس!
اس نے مسکراتے ہوئے منیبہ کا شکریہ ادا کیا۔
عمارہ بس دیکھتی ہی رہ گئی۔
حمزہ نے عمارہ کے ہاتھ سے بیگز لیے اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔
مسز حسن عمارہ کو گم سم بیٹھے دیکھ کر مسکرا دیں۔
اب جاو تم یہاں بیٹھی کیا سوچ رہی ہو؟
عمارہ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔
دروازے پر رک کر اس نے پھر سے ایک بار وہاج کی طرف دیکھا۔مگر وہاج اس کی طرف متوجہ نہی تھا۔
عمارہ اداس سا چہرہ لیے وہاں سے آگے بڑھ گئی۔
حمزہ اسی کا انتظار کر رہا تھا۔جیسے ہی عمارہ آئی حمزہ اسے ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
گھر پہنچ کر بھی عمارہ کا ذہن وہاج میں ہی اٹکا رہا۔
وہاج نے ایسا کیوں کیا وہ نہی جانتی تھی۔مگر اس سے برداشت نہی ہوا منیبہ کے ہاتھ سے وہاج کو پانی پیتے دیکھنا۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ گرم چائے اس کے ہاتھ پر گر گئی۔
عمارہ کو جلن کا احساس ہوا تو حوش میں آئی۔
میں بھی کیا فضول باتیں سوچ رہی ہوں۔
میری غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے۔
ہو سکتا ہے میں جو سمجھ رہی ہوں ویسا کچھ ہو ہی ناں۔
مگر وہاج مجھے بھی تو کہہ سکتے تھے!
عمارہ کی سوئی پھر سے وہی اٹک گئی۔
ہاتھ پر مرہم لگا کر پھر سے کام کرنے میں مصروف ہو گئی۔
“تو سنگ رہے یارا۔
بس اتنی آرزو ہے۔
توں دیکھے بس مجھ کو۔
توں چاہے بس کو۔
کرے توں میری آرزو۔
بس اتنی آرزو ہے۔
میں چاہوں بس تجھ کو۔
رہے توں بس دل میں۔
تیرے نام پے وار دوں جان یہ۔
بس اتنی آرزو ہے۔
تو سنگ رہے یارا۔
بس اتنی آرزو ہے,,
عمارہ نے ناشتہ پیک کر کے پھوپھو کو دے دیا۔وہ لوگ ہاسپٹل جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔
حسن صاحب صبح ہی آفس کے لیے نکل چکے تھے۔منیبہ اور مسز حسن کو ہاسپٹل چھوڑنے کے بعد۔
ولی ابھی تک سو رہا تھا۔
حمزہ بھی سونے چلا گیا ناشتہ کیے بغیر۔
عمارہ بھی ناشتہ کیے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
ایک عجیب سی بے چینی اس کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی۔
کچھ دیر کے لیے وہ لیٹ گئی۔
ابھی سوئے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ کسی نے اسے جھنجوڑا۔
عمارہ ہڑبڑاتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
واہ بھئی واہ!
آرام فرما رہی ہیں میڈم یہاں۔
کھانا کون بنائے گا۔
مسز حسن چلاتے ہوئے بولیں۔
چچی جان میری آنکھ لگ گئی تھی۔میں بس جا ہی رہی تھی۔
ہاں وہ تو میں دیکھ ہی رہی ہوں!
تم نے سوچا کہ کوئی روکنے ٹوکنے نہی ہے تو میں مزے سے سو جاتی ہوں۔
نہی چچی جان ایسا نہی ہے۔
آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
آپ اچھی طرح جانتی ہیں مجھے،ایسے فائدے اٹھانے کی عادت نہی ہے مجھے۔
باقی جو آپ کی مرضی آپ سوچتی رہیں!
مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔
بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری عمارہ!
وہ غصے سے چلائیں۔
لیکن جس کے سر پر تم اتنا اکڑ رہی ہو۔اسے تمہاری کوئی پرواہ نہی ہے۔
وہاج تم سے نہی منیبہ سے شادی کرے گا۔وہ بھی بہت جلد۔
تم بس دیکھتی رہ جاوں گی۔
اسی لیے بہتر ہے کہ اپنی اوقات یاد رکھو تم!
جیسے ہی وہاج کی طبیعت تھوڑی بہتر ہو گی۔میں منیبہ اور وہاج کی شادی کی بات شروع کروں گی گھر میں۔
تمہارے خواب سب ہوا میں اڑا دوں گی۔
بس کرو جتنا ہواوں میں اڑنا تھا اڑ لیا تم نے!
اب زمین پر واپس آ جاو۔
وہاج کا رویہ تو دیکھ ہی چکی ہو تم۔
مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہی شاید۔
اپنی اوقات میں واپس آ جاو اور کھانا بناو جا کر۔
تمہاری اہمیت اس گھر میں بس ایک نوکرانی کی تھی اور ہمیشہ رہے گی۔
مالکن بننے کی کوشش مت کرو!
ورنہ اس گھر سے بے گھر کر دوں گی میں تمہیں۔
بڑی آِئی مجھے دھمکیاں دینے والی!
چلو نکلو کمرے سے باہر۔کچن میں جا کر کھانا بناو۔
شام کو وہاج آ سکتا ہے گھر۔کسی چیز کی کمی نہی ہونی چاہیے۔
پہلے بات اور تھی۔اب وہاج اس گھر کا ہونے والا داماد ہے۔
عمارہ چپ چاپ ان کی باتیں سنتی رہ گئی۔
بولنے کی ہمت ہی نہی رہی اس میں۔
وہ عمارہ پر چلاتی ہوِئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
کچن میں جا رہی تھی کہ اچانک کسی سے ٹکرا گئی۔
اوہ۔۔۔۔آئی ایم سوری عاصم بھائی!
عاصم کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا۔سارا جوس اس کی شرٹ پر گر گیا۔
عمارہ اپنے ہی دھیان چلتی جا رہی تھی۔اس کی نظر ہی نہی پڑی اوپر آتے عاصم پر۔
اٹس اوکے بے بی ڈول!
عاصم کی بات پر عمارہ چونک گئی۔
میں ابھی چینج کر لیتا ہوں۔تم پریشان نہ ہو۔
پہلے ہی بہت پریشانیاں ہیں تمہارے سر پر۔سارے گھر والے بہت ظلم کرتے ہیں تم پر۔
لیکن تم فکر مت کرو۔میں ان جیسا نہی ہوں۔
بہت فکر کرتا ہوں میں تمہاری!
جی۔۔۔۔!
عمارہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
کچھ نہی تم جاو کہاں جا رہی تھی۔
میں چینج کرنے جا رہا ہوں۔
ابھی ہاسپٹل سے آیا ہوں۔آپ کے کزن کی خبر لے کر۔
عاصم اپنی بات مکمل کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
عمارہ بھی حیران سی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
کھانا بنا کر ظہر کی نماز پڑھنے چلی گئی۔
نماز پڑھ کر چچی کے کمرے میں چلی گئی۔
انیسہ ابھی تک یہی تھی۔تو عمارہ نے سوچا چچی سے پوچھ لے کھانا لگانے کے لیے۔
عمارہ دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گئی۔
چچی جان انیسہ آپی کھانا کھا کر جائیں گی ناں؟
تو میں کھانا لگا دوں؟
کیا مطلب ہے تمہارا؟
اب میری بیٹی اس گھر کا کھانا نہی کھا سکتی!
تمہاری مرضی چلے گی اب یہاں؟
تمہاری مرضی ہو گی تو کھانا دو گی ورنہ نہی!
نہی چچی جان میں تو بس اتنا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
عمارہ نے کچھ کہنا چاہا۔مگر انہوں نے کوئی بات نہی سنی۔
ہاں ہاں سب سمجھتی ہوں میں کیا کہنا چاہتی ہو تم!
میری بیٹی پرائی ہو گئی ہے اب۔
اس گھر پر اب اس کا کوئی حق نہی رہا!
تم مالکن بن گئی ہو اب اس گھر کی۔
وہ غصے سے تپ چکی تھیں۔
عاصم بھی سامنے بیٹھا چپ چاپ سب سن رہا تھا۔
نہی چچی جان میں تو بس اتنا پوچھنے آئی تھی کہ کھانا لگا دوں انیسہ آپی کے لیے۔
آپ نے غلط سمجھ لیا مجھے۔
عمارہ گال پر آیا آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
تو اس میں پوچھنے والی کون سی بات تھی۔سب سمجھتی ہوں میں۔
تم میری بیٹی کو نیچا دکھانا چاہتی ہو بس اور کوئی بات نہی!
جاو کھانا لگاو جا کر اب۔
کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو۔
عمارہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی۔
کچن میں جا کر کھانا ڈائیننگ ٹیبل پر لگانے لگی۔
آنکھوں سے آنسو چہرہ بھگو رہے تھے۔مگر زبان پر شکوہ نہی آنے دیا۔
عاصم اچانک ڈائیننگ ٹیبل کے پاس آ رکا۔
مت آنسو بہاو ان بے مروت لوگوں کے لیے۔
اپنے حق کے لیے آواز کیوں نہی اٹھاتی تم!
لڑو اپنے لیے۔۔۔۔
عاصم کی بات پر عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے مسکرا دی۔
“اپنوں سے کیسی جنگ عاصم بھائی؟
یہ تو ان سب کا پیار ہے۔مجھے کوئی گلہ نہی کسی سے۔
“یہ سب تو میرے اپنے ہیں!
چچی جان کا مجھ پر حق ہے۔وہ جتنا چاہے مجھے ڈانٹ لیں۔
بہت خوش فہمیاں پال رکھی ہیں تم نے!
اس سے پہلے کہ عمارہ کوئی جواب دیتی انیسہ اور چچی وہاں آ گئیں۔
عاصم کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔اور سب کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔
عمارہ بھی کچن میں آ کر کھانا کھانے لگی۔
