Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 15)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 15)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو سکتی بھلا۔وہاج ہمیں تم سے یہی امید تھی۔مسز حسن نے آگے بڑھ کر وہاج کے سر پر ہاتھ رکھا۔
وہاج بس پھیکا سا مسکرا دیا۔
اس کی نظریں تو وہاں جمی تھیں۔جہاں کچھ دیر پہلے عمارہ بیٹھی تھی۔اس کی نظروں کے سامنے۔
وہاج کے بابا اور ماما بس وہاج کو دیکھتے ہی رہ گئے۔وہاج ان سے نظریں چراتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
مسز حسن سب کو مبارک باد دینے لگیں۔
تو پھر ہم ہم کل ایک چھوٹا سا فنکشن ارینج کر لیں؟
منگنی کی چھوٹی سی رسم!
حسن صاحب بہن اور بہنوئی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
جیسے آپ سب کو مناسب لگے بھائی صاحب!
مسز احمد نا چاہتے ہوئے بھی مسکراتی ہوئی بولیں۔
مسز حسن کو ان کا لہجہ تھوڑا عجیب لگا۔مگر جب ان کی نظر اپنی مسکراتی ہوِئی بیٹی پر پڑی تو اگنور کر دیا۔
اس میں ان کی بیٹی کی خوشی تھی۔تو کوئی راضی ہو یا نہ ہو ان کو کوئی فرق نہی پڑتا۔
“ایسے ہی ہوتے ہیں خود غرض لوگ!
“اپنی خوشیوں کی خاطر دوسروں کی خوشیوں کو روندنے والے,,
“کسی کی خوشی یا غم سے ان کو کوئی فرق نہی پڑتا،ان کو اگر کسی چیز کی پرواہ ہوتی ہے تو وہ ہے ان کی اپنی ذات”
“اپنی خوشی!
“ہر حال میں بس اپنی خوشنودگی حاصل کرنا جانتے ہیں ایسے لوگ,,
مسز احمد اٹھ کر وہاج کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
وہاج کیا ہے یہ سب؟
اس رشتے کے لیے ہاں کیوں بولا تم نے؟
تم تو عمارہ سے شادی۔۔۔۔!
عمارہ سے شادی کرنا چاہتا تھا ماما،مگر اب نہی!
وہاج ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
اسے میری کسی بات پر یقین نہی ہے!
اسے یقین ہے تو بس اپنے اور شاہزیب کے جھوٹے نکاح پر۔
وہ نکاح جس کا وجود سات سال پہلے ختم ہو چکا ہے۔
مگر وہ میری باتوں پر یقین ہی نہی کرنا چاہتی۔اسی لیے میں نے سوچ لیا ہے کہ اب میں وہی کروں گا۔جو عمارہ چاہتی لے۔
“وہ چاہتی ہے میں اس سے دور چلا جاوں،اب ایسا ہی ہو گا۔
“میں دور چلا جاوں گا اس کی زندگی سے!
آپ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں مام!
وہ یہی چاہتی ہے!
نہی وہاج!
وہ یہ نہی چاہتی۔۔۔تم غلط سمجھ رہے ہو عمارہ کو،وہ بھابی اور شاہزیب کی ساری سچائی جان چکی ہے۔
تمہاری ہر بات پر یقین ہو گیا ہے اس کو،اب تم اس طرح سے اس کا ساتھ مت چھوڑو۔
“اب مجھے فرق نہی پڑتا!
آئی ایم سوری۔۔۔۔
“عمارہ کی زندگی ہے یہ،کیسے جینا ہے اسے وہ بہتر جانتی ہے۔اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
وہاج تم غلط کر رہے ہو عمارہ کے ساتھ!
مسز احمد نے اسے سمجھانا چاہا،مگر وہاج کوئی بات سننے کو تیار نہی تھا۔
غلط میں نہی،وہ خود کر رہی ہے اپنے ساتھ!
اگر وہ سب جان چکی ہے۔تو مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی اسے۔
مگر نہی!
وہ بات نہی کرے گی میں جانتا ہوں۔
پتہ ہے کیوں ماما؟
اسے عادت ہو چکی ہے غلامی کی زندگی بسر کرنے کی،سر اٹھا کر جینا چاہتی ہی نہی وہ۔
“جس عمارہ سے میں نے محبت کی تھی۔وہ بہت بہادر تھی۔
بنا ڈرے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والی تھی وہ عمارہ۔
مگر اب عمارہ نے مظلومیت کی چادر اوڑھ لی ہے۔
جب تک وہ خود نہی چاہے گی،خود کو اس ازیت بھری زندگی سے باہر نہی نکال سکتی۔
اسی لیے میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ اس کی خاطر اب لڑنا چھوڑ دوں گا!
“اگر میرے پاس لوٹ آئی وہ تو میں اسے اپنا لوں گا،ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر یہاں سے دور چلا جاوں گا,,
آخر کب تک میں اس کے لیے لڑتا رہوں گا،اسے اپنے لیے اب خود لڑنا ہو گا۔
“اپنے لیے جنگ اسے خود ہی لڑنی ہو گی!
آپ فکر مت کریں۔جو ہو گا اچھا ہی ہو گا۔
آپ منگنی کی تیاریاں شروع کریں،آپ کے اکلوتے بیٹے کی منگنی ہے۔آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔
وہاج چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ سجائے،ماں کو حیران کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
مسز احمد سوچوں میں گُم وہی بیٹھ گئیں۔
وہاج تم یہ ٹھیک نہی کر رہے بیٹا،تم جانتے ہو عمارہ کو وہ تم سے محبت کرتی ہے۔
نکاح کا بندھن اس کے لیے وبالِ جان بن چکا ہے۔اس کا کوئی قصور نہی اس میں،ہر لڑکی کے لیے ہی یہ بندھن بہت خاص ہوتا ہے۔
“نکاح کا رشتہ بہت خالص ہوتا ہے،عورت اس رشتے میں ملاوٹ پسند نہی کرتی،پوری زندگی اس رشتے کے نام کر دیتی ہے,,
ایسا ہی عمارہ کے ساتھ ہوا ہے۔وہ پچھلے آٹھ سال سے اس بندھن کو نبھاتی آئی ہے۔
اس رشتے کو خالص بنایا ہے اس نے،کبھی ملاوٹ نہی ہونے دی۔
سچے دل سے نبھایا ہر رشتہ!
مگر عمارہ کے ساتھ کوئی مخلص نہی ہوا،سب نے اپنے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے اسے،
آج جب سب کی سچائی اس کے سامنے آ چکی ہے تو ہمیں اس کا ساتھ نہی چھوڑنا چاہیے۔
اس کے ساتھ مخلص ہونا ہو گا ہمیں،اسے یقین دلانا ہو گا کہ ہم ہر حال میں اس کے ساتھ ہیں۔
نہیِ وہاج!
میں یہ بے وقوفی نہی کرنے دوں گی تمہیں۔تم عمارہ کا ساتھ دو گے۔
وہ سوچوں میں ڈوبیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
عمارہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کیے آنسو بہانے لگی۔
وہاج آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ؟
“آپ تو مجھ سے محبت کرتے ہیں،تو پھر منیبہ سے شادی کیوں؟
آپ تو کہہ رہے تھے کہ آپ میرے لیے واپس آئے ہیں,تو پھر ایسا کیوں کر رہے ہیں آپ؟
میں مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی،آپ پر یقین نہی کیا میں نے!
مگر اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔
ایسا مت کریں میرے ساتھ وہاج!
“مجھے آپ کی ضرورت ہے،آپ اتنی بڑی سزا نا دیں،،
کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔
عمارہ آنسو پونچھتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔
سامنے حمزہ کھڑا تھا۔
تم رو رہی تھی؟
ننہی۔۔۔عمارہ نے سر نفی میں ہلایا۔
تو پھر رونے کی تیاری کر لو!
حمزہ کی بات پر عمارہ چونک سی گئی۔
ہاں سہی کہہ رہا ہوں۔
کل وہاج بھائی اور منیبہ کی منگنی ہے۔
تم نے رونا ہی تو ہے اس کے بعد،کیونکہ وہاج بھائی سے بات کرنے کی ہمت تو ہے نہی تم میں۔
بس روتی رہو بیٹھ کر!
حمزہ غصے سے بول رہا تھا۔
پتہ نہی کب عقل آئے گی تمہیں عمارہ!
اتنے دن ہو گئے وہاج بھائی کو گھر آئے ہوئے اور تم ابھی تک ان سے شاہزیب بھائی اور مام کے بارے میں بات نہی کر سکی۔
آخر کب تک؟
آخر کب تک تم چپ چاپ ظلم سہتی رہو گی؟
اپنے لیے آواز اٹھانا سیکھو عمارہ!
چپ چاپ ظلم سہنے والے کو بزدل کہتے ہیں اور تم بزدلی کے آخری مقام تک پہنچ چکی ہو۔
اب نہی تو کب؟
میں آج بات کرنے ہی والی تھی وہاج سے مگر!
کیا مگر عمارہ؟
آج گزر جائے گا،کل ان کی منگنی ہو جائے گی اور پھر شادی!
تم بس دیکھتی رہو چپ چاپ!
اس اگر،مگر کو چھوڑ کر آگے بڑھو،بتا دو بھائی کو سب کچھ۔
“اپنی محبت کا اقرار کر دو۔
ہو سکتا وہاج بھائی تمہارے منتظر ہو!
ہر بار وہ ہی کیوں عمارہ؟
اس بار تم پہل کرو،ورنہ دیر ہو جائے گی۔
ساری زندگی کے لیے اس گھر میں قید ہو کر رہ جاوں گی۔
مام کو کبھی تمہارا احساس نہی ہو گا،
ان کو بس جائیداد سے مطلب ہے،وہ کسی بھی حال میں تمہیں اس گھر سے جانے نہی دیں گی۔
شاہزیب بھائی کبھی واپس نہی آنے والے،کیونکہ بابا نے یہ شرط رکھی ہے کہ اس لڑکی کو طلاق دے کر ہی وہ اس گھر میں واپس آ سکتے ہیں۔
شاہزیب بھائی ایسا کرنے کو تیار ہی نہی ہیں۔
تو کیا ساری زندگی ان کے جھوٹے رشتے کے نام گزار دو گی۔
وہ رشتہ جو سات سال پہلے ہی ختم ہو چکا ہے!
خدا کے لیے عمارہ!
ترس کھاو خود پر،وہاج بھائی پر ترس کھاو۔
تمہاری خاطر آٹھ سال تک وہ اپنوں سے دور رہے،چاہتے تو اپنا گھر بسا سکتے تھے۔مگر انہوں نے ایسا نہی کیا۔
جانتی ہو کیوں؟
کیونکہ آج بھی وہ تم سے محبت کرتے ہیں,تھک چکے ہیں تمہارے لیے خود سے لڑتے لڑتے۔
یہ منگنی وہ بس ضد میں آ کر کر رہے ہیں،یا پھر شاید تمہیں احساس دلانا چاہتے ہیں۔اپنی محبت کا!
مگر تم نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے،ان کی محبت کو نظر انداز کر رہی ہو تم!
“میں سب جانتی ہوں حمزہ!
مگر میں چاہ کر بھی کچھ نہی کر پاوں گی۔
میرے پاس اس طلاق کا کوئی ثبوت نہی ہے،تو میں کیسے وہاج کی طرف قدم بڑھاوں؟
چاچو جان کیا سوچیں گے میرے بارے میں؟
شاہزیب نے اگر انکار کر دیا کہ انہوں نے مجھے طلاق دی ہی نہی تو؟
کیا جواب دوں گی میں چاچو جان کو؟
وہ تو یہی سمجھیں گے کہ میں اس رشتے سے اکتا گئی ہوں۔
جان چھڑانا چاہتی ہوں شاہزیب سے!
ان کو کیسے مطمئن کروں گی میں؟
اس بات کی فکر تم مت کرو عمارہ!
ہم سب تمہارے ساتھ ہیں،شاہزیب بھائی سے سچ اگلوانا جانتے ہیں ہم۔۔۔
تم پلیز وہاج بھائی سے بات کرو۔
میں تم دونوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں بس!
شاہزیب بھائی کی فکر تم مت کرو،بابا پہلے ہی ان کے خلاف ہیں۔
بس ایک بار ان کے منہ سے یہ سچ بابا کو سنوانا ہے،اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔
مام کی ساری سازشیں ناکام ہو جائیں گی۔
تم ایک بار ہمت کر کے تو دیکھو۔
بس آج کی رات!
آج کی رات ہے تمہارے پاس سوچنے کے لیے،جو کرنا ہے آج ہی کرو۔
ورنہ ساری زندگی پچھتاوا رہ جائے گا!
چلتا ہوں۔۔۔۔حمزہ پریشان سا کمرے سے باہر نکل گیا۔
حمزہ کے باہر جاتے ہی مسز حسن کمرے میں داخل ہوئیں۔
تم منہ اٹھا کر اوپر کیوں آ گئی؟
جانتی ہوں میری بیٹی کی خوشی برداشت نہی ہوئی تم سے!
مگر تم چاہے جو مرضی کر لو،یہ شادی نہی روک سکتی تم!
وہاج اور منیبہ کی شادی ہو کر رہے گی۔
کل منگنی ہے ان دونوں کی،ساری تیاریاں اچھی ہونی چاہیے۔
کسی بھی قسم کی کمی برداشت نہی کروں گی میں،یاد رکھنا تم!
عمارہ نے ان کی کسی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔
فون پر رنگ ٹون بجی!
ہاں انیسہ!
آ جاو جلدی سے عاصم کے ساتھ۔۔
ہاں ہاں اسی مارکیٹ میں۔
سب سے مہنگا جوڑا خریدنا ہے منیبہ کے لیے۔
کسی بھی چیز کی کمی نا ہو!
وہ بات تو فون پر کر رہی تھیں۔مگر نظریں عمارہ پر جمی تھیں۔
جیسے اسی کو سنا رہی ہو۔
یونہی بات کرتی ہوئی وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عمارہ کمرے کا دروازہ لاک کرتے ہوئے وہی دروازے سے ٹیک لگائے آنسو بہانے لگی۔
