Kismat Ka Likha by Khanzadi NovelR50493 Kismat Ka Likha (Episode 21)
Rate this Novel
Kismat Ka Likha (Episode 21)
Kismat Ka Likha by Khanzadi
چھپ کر میری باتیں سن رہی تھی ناں تم؟
عمارہ کو کچن سے باہر جاتے دیکھ انیسہ بھی اس کے پیچھے چل دی۔
نہی انیسہ آپی،وہ تو میں گزر رہی تھی تو کانوں میں آواز پڑ گئی۔
آپ کو عاصم بھائی کی بات مان لینی چاہیے،وہ ناراض ہو کر چلے گئے آپ سے۔
آپ اپنے گھر کی اکلوتی بیٹی ہیں،آپ کا فرض بنتا ہے اپنے گھر والوں کا خیال رکھنا۔
“شادی کے بعد عورت کا اصل گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے،مائیکے سے زیادہ اپنے سسرال والوں کی فکر کرنی چاہیے عورت کو،،
تم مجھے مت سکھاو مجھے کیا کرنا چاہیے!
انیسہ غصے سے عمارہ کی طرف بڑھی۔
اچھی طرح جانتی ہوں مجھے کیا کرنا ہے۔میری زندگی میں دخل اندازی مت کرو تم۔
بڑی آئی مجھے سمجھانے والی،خود کو دیکھو کس موڑ پر کھڑی ہو تم۔
مجھے سمجھاو گی۔۔۔ہٹو راستے سے۔
انیسہ اسے دھکا دے کر راستے سے ہٹاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
عمارہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس فرش پر گر گیا۔
سارا کانچ بکھر گیا۔
انیسہ پھر سے واپس پلٹی۔
کیا کہا تم نے،مجھے اپنے سسرال کی زیادہ فکر کرنی شاہیے مائیکے کی بجائے۔
تمہارا مطلب ہے کہ اب میرا اس گھر سے رشتہ ختم ہو گیا ہے۔
پرائی ہو گئی ہوں میں!
تم مجھے گھر سے نکال دو گی۔
انیسہ زور زور سے چلاتے ہوئے بولی۔
نہی انیسہ آپی میں نے ایسا تو نہی کہا۔
آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے،میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ آپ کو عاصم بھائی کی بات مان لینی چاہیے۔
تم ہوتی کون ہو میری بیٹی کو یہ سب کہنے والی،تمہاری اتنی ہمت۔
مسز حسن بھی وہاں آ گئیں۔
نہی چچی جان میں تو بس!
کیا میں تو بس!
انیسہ نے آگے بڑھ کر عمارہ کا بازو دبوچا۔
انیسہ۔۔۔۔!
عاصم غصے سے اس کی طرف بڑھا۔
کیا بدتمیزی ہے یہ؟
چھوڑو عمارہ کو،عاصم غصے سے چلایا۔
کیوں تمہارا کیا رشتہ ہے اس سے؟
انیسہ کے سوال پر عمارہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیا مطلب ہے آپ کا انیسہ آپی؟
عمارہ اپنا بازو چھڑواتے ہوئے غصے سے بولی۔
بتاو عاصم کیا رشتہ ہے تمہارا اس سے؟
انیسہ غصے سے عاصم کی طرف بڑھی۔
کیا بول رہی ہو تم انیسہ؟
عاصم غصے سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
مام دیکھا آپ نے کیسے اس جادوگرنی نے میرے شوہر کو بھی اپنے قابو میں کر لیا ہے۔
کیسے یہ اس کی طرف داری کر رہا ہے۔
شٹ اپ۔۔۔!
انیسہ بند کرو یہ گھٹیا باتیں،عمارہ میری چھوٹی بہن جیسی ہے۔
عاصم غصے سے چلایا۔
مام دیکھ لیں آپ یہ مجھے چپ ہونے کو کہہ رہے ہیں۔وہ بھی اس بدچلن،گھٹیا عمارہ کی وجہ سے۔
چٹاخ۔۔۔۔!
بس اتنا ہی کہنا تھا کہ عاصم نے ایک زور دار تھپڑ انیسہ کے گال پر جڑ دیا۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئی فرش پر جا گری۔
مسز حسن جلدی سے آگے بڑھیں۔اس سارے معاملے کو سمجھنے سے قاصر تھیں وہ۔
عمارہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
کب سے کہہ رہا ہوں کہ چپ ہو جاو۔مگر تم الزام پر الزام لگا رہی ہو۔
عمارہ بد چلن نہی ہے،میری لیے میری چھوٹی بہن جیسی ہے وہ۔
حیرانگی ہوتی ہے مجھے یہ دیکھ کر کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے تم دونوں بہنوں میں اور عمارہ میں کتنا فرق ہے۔
اخلاق اور خلوص بھرا ہے اس کے لہجے میں،اور تم جب دیکھو زہر ہی اگلتی ہو۔
ایک ہی گھر میں تربیت ہوئی ہے تم سب کی،مگر عمارہ میں اور تم دونوں بہنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
جا رہا ہوں میں،جب دل چاہے آ جانا واپس۔
عاصم بیٹا رکو تو سہی!
مسز حسن اس کے پیچھے دوڑیں،مگر وہ نہی رکا۔
انیسہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
مسز حسن غصے سے عمارہ کے کمرے کی طرف بڑھیں۔
یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے،تمہاری وجہ سے عاصم نے ہاتھ اٹھایا انیسہ پر۔
آخر چاہتی کیا ہو تم میری بیٹیوں سے؟
ایک کی زندگی تو ویسے ہی عزاب بنا دی تم نے اور ایک کا بسا بسایا گھر اجاڑنے پر تلی ہو تم۔
مسز حسن غصے سے چلا رہی تھیں عمارہ پر۔
کیا ہوا عمارہ؟
مسز احمد جلدی سے عمارہ کی طرف بڑھیں۔
وہ اپنے کمرے میں نماز پڑھنے چلی گئی تھیں۔
شور کی آواز سن کر یہی چلی آئیں۔
پھوپھو جان میری کوئی غلطی نہی اس میں،میں تو بس انیسہ آپی کو یہ سمجھا رہی تھی کہ عاصم بھائی کی بات مان کر اپنے گھر چلی جاِئیں۔مگر وہ میری بات کا برا مان گئی اور الٹا میرے اور عاصم بھائی کے کردار پر انگلی اٹھانے لگیں۔
عاصم بھائی کو یہ بات نا پسند لگی تو انہوں نے ہاتھ اٹھایا انیسہ آپی پر۔
پھوپھو جان اب آپ ہی بتائیں اس میں میری کیا غلطی تھی۔
عمارہ سہی تو کہہ رہی ہے بھابی!
انیسہ کو عاصم کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں ان کی شادی کو۔
انیسہ کو اپنے گھر چلی جانا چاہیے،اس کے ساس سسر اکیلے ہیں گھر پر۔
اب انیسہ کا فرض بنتا ہے ان کا خیال رکھنا۔
مسز احمد نے بھی عمارہ کا ساتھ دیا۔
تم دونوں کا مطلب ہے کہ اب میری بیٹی کا اس گھر سے کوئی رشتہ نہی رہا۔
شادی ہو گئی ہے تو غلام بن گئی ہے وہ اپنے سسرال والوں کی۔
نہی بھابی میرا یہ مطلب تو نہی تھا!
بس بس رہنے دو سب جانتی ہوں میں تمہارا کیا مطلب تھا۔
مگر ایک بات کان کھول کر سن لو تم عمارہ!
آج کے بعد میری بیٹیوں سے دور رہنا تم۔۔۔وہ غصے سے بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عمارہ چھوڑو بیٹا،بھابی کی تو عادت ہے۔
آو تمہیں شاپنگ دکھاوں۔۔۔تمہارے لیے تھوڑی شاپنگ کی ہے اور کچھ زیورات کا آرڈر دے کر آئی ہوں۔
پھوپھو جان ان سب کی کیا ضرورت تھی۔
ضرورت ہے،آئیندہ ایسا مت کہنا۔
تم میری اکلوتی بہو ہو،یہ سب تمہارا حق ہے۔اب سب کچھ تمہارا ہی تو ہے۔
مطلب میں آپ کی بیٹی نہی ہوں؟
عمارہ ناراضگی سے بولی۔
نہی میں نےایسا تو نہی کہا،تم پہلے میری لاڈلی بیٹی ہو پھر بہو!
مسز احمد کی بات پر عمارہ مسکرا دی۔
پھوپھو جان وہاج کی کال آئی تھی۔وہ لوگ خیریت سے پہنچ گئے ہیں۔
آپ کا پوچھ رہے تھے،میں نے بتا دیا کہ آپ بازار گئی ہیں۔
وہ کہہ رہے تھے کہ کچھ دیر بعد کال کریں گے۔
ٹھیک ہے۔۔آ جاو اب شاپنگ دکھاوں۔
مسز احمد عمارہ کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
“وہاج کی آنکھ کھلی تو صبح کے دس بج رہے تھے۔وہ فریش ہو کر کمرے سے باہر آیا تو احمد صاحب اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
آ گئے صاحبزادے؟
آو ناشتہ کرنے چلیں نیچے۔۔۔اس بند کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر میرا تو دم گھٹنے لگا ہے۔
اوکے ڈیڈ چلیں!
وہاج مسکراتے ہوئے بولا تو وہ دونوں نیچے کی طرف چل پڑے۔
وہاج ناشتہ آرڈر کرنے کے بعد باتیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔
ایکسکیوزمی؟
اس آواز پر احمد صاحب اور وہاج دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔
وہاج سر آپ یہاں؟
وہی رات والا لڑکا۔
وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
جی میں یہاں۔۔۔وہاج مسکراتے ہوئے بولا۔
یہ میرے ڈیڈ ہیں۔ان سے ملو۔
ڈیڈ یہ۔۔۔،وہاج کو اس کا نام پتہ ہوتا تو تعارف کرواتا ناں۔
مائی سیلف”ملک حنان!
اس نے مسکراتے ہوئے احمد صاحب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اوہ۔۔نائیس ٹو میٹ یو مسٹر حنان۔
احمد صاحب نے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔
حنان۔۔۔بیٹھو ناشتہ کرو ہمارے ساتھ۔
احمد صاحب نے اسے آفر کی۔
نو سر تھینکس۔۔۔میں تو وائف کے ہاتھوں سے بنے آلو کے پراٹھے کھاوں گا۔
آلو کے پراٹھے وہ بھی یہاں؟
احمد صاحب کو حیرت ہوئی۔
جی یہاں۔۔۔آپ لوگ بھی چلیں میرے ساتھ،پلیز ناں نہی کہنا آپ لوگ۔
پاکستانی ہیں آپ لوگ تو ہمارے مہمان ہوئے۔
چلیں میرے ساتھ!
حنان ان دونوں کو فورس کرنے لگا۔
احمد صاحب نے وہاج کی طرف دیکھا اور وہاج نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔
مگر ایک شرط پر؟
وہاج مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
کیا شرط؟
حنان تھوڑا حیران ہوتے ہوئے بولا۔
وہ یہ کہ اب تم مجھے وہاج سر نہی بس وہاج بولو گے۔
نہی آپ مجھ سے بڑے ہیں تو آپ کا نام کیسے لے سکتا ہوں میں۔
اب تم اتنے بھی چھوٹے نہی ہو حنان،شادی شدہ بندے ہو۔
وہاج کی بات پر حنان مسکرا دیا۔
صرف شادی شدہ ہی نہی،ایک بیٹی کا باپ بھی ہوں جناب۔
واہ۔۔۔احمد صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔
اوہ رئیلی۔۔۔؟
وہاج حیران ہوتے ہوئے بولا۔
اب آپ کی شادی بڑھاپے میں ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور،حنان آنکھ دباتے ہوئے بولا۔
وہاج نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا،میں بس ستائیس سال کا ہوں اور تمہیں بوڑھا دکھائی دیتا ہوں۔
وہاج حیرت انگیز نگاہوں سے حنان کو دیکھتے ہوئے بولا۔
حنان مسکرا دیا۔۔۔تو اور کیا جناب جو پچیس سے اوپر ہو جائے وہ بوڑھا ہی کہلاتا ہے۔میں تو ابھی پچیس کا ہونے والا ہوں۔اس کا مطلب میں ابھی چھوٹا ہوں۔
ہاں بھئی تم چھوٹے ہو۔۔واہ کیا مثال دی ہے،احمد صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔
وہاج بھی مسکرا دیا۔ویسے میں تو سمجھا تھا کہ تم بائیس برس کے ہو۔
لیکن تم نے یہ کیسے کہا کہ میری شادی بڑھاپے میں ہوئی ہے۔میں نے تو اس بارے میں کوئی بات ہی نہی کی ابھی تک؟
یہ اندازہ میں نے آپ کے بالوں سے لگایا ہے۔اگر اس عمر میں بھی آپ کے بال سفید نہی ہوئے تو اس کا مطلب ہے ابھی آپ کی شادی کو زیادہ وقت نہی ہوا۔
ورنہ آج کل تو اس عمر تک پہنچنے والوں کے بال پک جاتے ہیں،وجہ جلدی شادی۔
کیوں انکل جی،سہی کہا ناں میں نے؟
ہاں ہاں بلکل ٹھیک کہا،اب مجھے ہی دیکھ لو۔
احمد صاحب کی بات پر وہاج اور حنان دونوں کا قہقہ گونجا۔
وہاج بھائی کہہ لو تم،احمد صاحب نے حنان کو صلاح دی۔
ہاں کیوں نہی یہ ٹھیک ہے!
تو چلیں وہاج بھائی۔۔۔؟
وہاج مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
لیکن آرڈر کا کیا ہو گا؟
ڈونٹ وری۔۔!
میں کینسل کروا دیتا ہوں،حنان کاونٹر کی طرف بڑھ گیا۔
ڈیڈ آپ کو نہی لگتا ہم نے کچھ زیادہ ہی بھروسہ کر لیا ہے اس لڑکے پر،وہاج راز داری کے انداز میں بولا۔
تم اس سے ملے کیسے؟
احمد صاحب نے وہاج سے سوال کیا۔
وہاج سوچ میں پڑ گیا،اگر میں نے ڈیڈ کو بتایا تو وہ پریشان ہو جائیں گے۔
نہی مجھے نہی بتانا چاہیے!
وہ ڈیڈ کل رات یونہی کافی پینے آیا تھا نیچے تو ملاقات ہو گئی۔
ٹھیک ہے۔۔۔دیکھنے میں تو اچھا انسان لگتا ہے،فیملی کے ساتھ ہے۔ایسا انسان غلط نہی ہو سکتا۔
اوکے ڈیڈ۔۔۔اگر آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔
حنان آیا تو وہ دونوں مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ چل دئیے۔
